Wednesday , 17 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » نارتھ سنٹرل انڈیا زون » جموں کشمیر » 2017 ء نئے سال کیلئے کچھ مشورے
2017 ء نئے سال کیلئے کچھ مشورے

2017 ء نئے سال کیلئے کچھ مشورے

پچھلے ہفتے دور درشن والوں نے ہم سے خواہش کی تھی کہ ہم نئے سال کے موقع پر قوم کو کچھ ضروری مشورے دیں۔ دور درشن والے بڑے مروم شناس لوگ ہیں۔ بخوبی جانتے ہیں کہ یہی ایک چیز تو ہمارے پاس ہے جو ہم قوم کو دے سکتے ہیں اور دوسری طرف ہم بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس قوم کو آپ کتنا ہی اچھا مشورہ کیوں نہ دیں وہ اس پر عمل نہیں کرے گی چنانچہ کچھ مشورے ہم اپنے قارئین کو بھی دینا چاہتے ہیں۔ دوستو! نئے سال کے آنے میں ابھی پورا ایک گھنٹہ باقی ہے اور ایک گھنٹہ کا وقت بہت ہوتا ہے۔ اس ایک گھنٹے میں پرانا سال آخری ہچکی لے گا اور اس ایک گھنٹے میں آپ بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہی چھین سکتے ہیں۔ بھاگتے بھوت کی لنگوٹی چھین لینا ہمارا محبوب مشغلہ ہے آج ہم نے پلٹ کر دیکھا تو احساس ہوا کہ ہماری زندگی میں پورے 63 نئے سال آئے ہیں۔گویا لگ بھگ پورے دو مہینوں تک ہم نئے سال کا دن ہی مناتے رہے۔اتنا وقت یوں بھلا کس نے برباد کیا ہوگا۔جو آدمی اس دُنیا میں زیادہ وقت برباد کرتا ہے اُسے اور کچھ نہیں تو لوگوں کو مشورے دینے کا حق ہی مل جاتا ہے۔ اسی اختیار کی روشنی میں چند مشورے ملا حظہ فرمائیے:
دوستوں! ملک میں پولیوشن کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔آلودگی کس وجہ سے بڑھتی ہے اس بارے میں تو آپ سیاسی قائدین سے کہیں زیادہ جانتے ہیں لیکن آدمی کو آلودگی کا نقصان کس وجہ سے ہوتا ہے اس کی طرف آج تک کسی نے دھیان نہیں دیا۔ بھیا! آدمی کو آلودگی سے اسلئے نقصان پہنچتا ہے کہ وہ سانس لیتا ہے‘ساری خرابی کی جڑ یہی ہے۔آدمی سانس لینے میں احتیاط کرے تو اُسے آلودگی سے اتنا نقصان نہیں پہنچے گا وہ جتنی زیادہ سانسیں لیگا اُتنی ہی آلودگی اس کے اندر جائیگی اسلئے ہمارا مشورہ ہے کہ آنیوالے سال میں آپ دیکھ سمجھ کر سانس لیں۔ بلا وجہ فالتو جگہوں پر جا کر سانس لینے کا خطرہ مول نہ لیں۔جہاں زیادہ آلودگی ہو وہاں اپنی سانس روک لیں اور جہاں آلودگی کم ہو وہاں جا کر پھر سے سانس لینا شروع کردیں۔ اتنی آسان سی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی اس سے آدمی بھلے ہی ٹھیک نہ رہے اس کے پھیپھڑے تو ٹھیک رہیں گے اگر کوئی صاحب ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے سانس لینا ہی بند کردیں تو آلودگی سے سدا کیلئے محفوظ ہوجائیں گے۔
فلمی اداکاروں کو ہمارا مشورہ ہے کہ پچھلے سال کی طرح وہ اس سال بھی اپنی عمر کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ نیا سال تو ان سے پوچھے بغیر یوں ہی چلا آتا ہے۔ جب پچھلے دس برسوں میں ان کی عمریں اُنیس‘بیس سال سے آگے نہیں بڑھیں اور اب جبکہ ان کی ماؤں اور خود ان کی عمروں میں بھی چار‘پانچ برس کا ہی فرق رہ گیا ہے تو بھلا اب وہ اپنی عمر کیوں بڑھائیں‘بس اتنا خیال رہے کہ ماں کی عمر بیٹی سے کم نہ ہونے پائے۔سچ پوچھئے تو فلمی اداکاروں کو دیکھ کر ہی ہماری ڈھارس بندھتی ہے کہ وقت کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
میونسپل کارپوریشن والوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ آنیوالے سال میں بھی ہمیشہ کی طرح مکھیوں اور مچھروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچائیں‘شہریوں کو سہولتیں پہنچانے کی بات اب پرانی ہوگئی یوں بھی اب شہریوں کو مکھیوں اور مچھروں کے ساتھ رہنے کی عادت سی ہوگئی ہے جس رات دس بارہ مچھر کاٹ نہیں لیتے اُس وقت تک ہمیں نیند نہیں آتی بلکہ کچھ کمزور مچھروں کے بارے میں تو یہاں تک دیکھا کہ ہمیں کاٹ لینے کے بعد اُن کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔ ہم جیسے شہری اب اتنے زہریلے ہوگئے ہیں کہ ہمیں کاٹنے کے بعد کچھ مچھروں کو ڈینگو بخار بھی آنے لگا ہے۔ میونسپل کارپوریشن والے یہ بھی نوٹ کر لیں کہ آنے والے سال میں ڈینگو بخار کی بیماری بھی ضرور پھیلنی چاہیئے کیونکہ یہ بیماری اب ایک سالانہ روایت بن چکی ہے۔ اور ہماری تہذیب میں روایتوں کو باقی رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
ہماری کیا مجال کہ ہم اس ملک کے رہنماؤں کو کوئی مشورے دے سکیں‘پھر بھی سیاسی رہنماؤں سے ہماری ایک گذارش یہ ہے کہ آنیوالے سال میں وہ پارٹیاں تو بدلیں لیکن سال بھرمیں بارہ سے زیادہ پارٹیاں نہ بدلیں۔ہر پارٹی میں وہ کم از کم ایک ماہ تو رہ لیں جس طرح اہم رہنماؤں کے دوروں کے پروگرام پہلے سے طے ہوجاتے ہیں کہ فلاں مہینے میں فلاں تاریخ کو فلاں بیرونی ملک جائیں گے اور فلاں مہینے میں واپس ہوجائیں گے اسی طرح اہم رہنما پارٹیاں بدلنے کا ایک نظام الاوقات پہلے سے طے کرلیں تا کہ ان کے چاہنے والوں کو پتہ چل سکے کہ کس مہینے میں وہ کونسی پارٹی میں رہیں گے۔ایک زمانہ تھا جب ملک میں دو چار ہی پارٹیاں ہوا کرتی تھیں جس کی وجہ سے لیڈروں کو مجبوراً ان میں زیادہ دنوں تک رہنا پڑتا تھا لیکن اب ملک میں جمہوریت نے ترقی کر لی ہے۔ اب تو سال کی365 پارٹیاں بھی آپ کو مل جائیں گی لیکن روز روز پارٹی بدلنا اچھا نہیں ہوتا۔لباس بدلنے اور پارٹی بدلنے میں کچھ تو فرق ہونا چاہیئے۔ رہنماؤں سے ہماری ایک اور گذارش ہے کہ وہ جس پارٹی میں بھی جائیں‘ جانے سے پہلے اپنی جیب میں اس پارٹی سے نکلنے کا استعفیٰ ضرور رکھ کر لے جائیں۔
گوالوں کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ آنیوالے سال میں بھی دودھ میں پانی ملاتے رہیں البتہ ایک گذارش یہ ضرور کرنی ہے کہ سرکاری نل سے جو پانی وہ لیتے ہیں اُسے اچھی طرح اُبال کر دودھ میں ملایا کریں‘ہم بھی سرکاری نل کے ہانی کو اُبال کر پیتے ہیں۔خالص پانی پینے سے ہماری صحت خراب ہوجاتی ہے۔ پانی کو اُبالنے میں جو بھی خرچہ آتا ہے وہ ہم سے لے لیں۔پانی کو اُبال لیں تو دودھ میں کیڑے مکوڑے شامل نہیں ہوں گے۔ایک بار تو ایک مینڈک بھی دودھ میں سے نکل آیا تھا۔مشورے تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ ان پر عمل نہ کرنے لگ جائیں۔

Comments

comments