Saturday , 20 January 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » حضرت غوث الاعظمؓ کے فکری خطبات

حضرت غوث الاعظمؓ کے فکری خطبات

حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ؓ کی سیرت طیبہ ، افکار و نظریات اور احوال و علم و حکمت کے حوالے سے دُنیا بھر کے مشاہیرِ اسلام ، سکالرز ، دانشورانِ اْمت مسلمہ اور اہلِ قلم نے اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی سوچ و فکر کے ذریعہ قلم اْٹھایا ہے۔ تا کہ اْمت مسلمہ آپ کے افکارِ عالیہ کو نقش پا بناکر اپنی کھوئی ہوئی منزل کا سْراغ پا سکے۔ رسولِ رحمت ؐ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے وہ خوبصورت الفاظ جن کو احادیث کا درجہ حاصل ہے ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی جمیع انسانیت کیلئے راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر آپ صاحب نہج البلاغہ حضرت علیؓ کے خطبات پر مشتمل ’’نہج البلاغہ ‘‘ کا مطالعہ کریں تو آپ کو ’’نہج البلاغہ ‘‘کا ہر باب کامل راہنما ئی دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح حضور غوث الاعظمؓ کے خطبات بھی انسانیت کو رہنمائی فراہم کرنے میں اپنا ایک اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔ریا کاری کے بارے میں آپ نے فر مایا ’’ریا کا ر کا ظاہر تو صاف مگر دل گندہ ہو تا ہے وہ شرعی مباح چیزوں سے بھی زْہد کرتا ہے کسبِ حلال سے اجتناب کرتا ہے ہاں مذہب کو اپنی روٹی کا ذریعہ بنا تا ہے اس کی حقیقت گو عوام کی نظروں سے پو شیدہ ہو تی ہے مگر خاص لوگ اس کو برا بر دیکھتے رہتے ہیں اسکی ساری اطاعت و زْہد بناوٹی ہو تا ہے اسکا با طن خراب ہو تا ہے ، ریا کار کیلئے ہدایت ہے کہ وہ اس لباسِ کاہلی کو اُتار دے اس لباس خوشامد و نفاق کو اْتار کر پھینک دے تاکہ اس کیلئے حقیقی محبت کا لباسِ فاخرہ حقیقی عظمت کا حْلہء بہشتی اس قادر مطلق کی طرف سے اُسے انعام میں مل جائے (بہ مقام مدرسہ معموریہ ، 19شوال المکرم ۵۴۵ھ روز شنبہ بوقت شام )ایک اور جگہ فر ماتے ہیں ۔ ’رسول اللہؐ نے فرمایا ’’مَن حسن الاسلام ترکہ مالا یقبیہ ‘‘اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑنا سکھاتا ہے جو بے مقصد و بے معنیٰ ہیں۔ جس شخص نے اپنے اچھے اسلام کا ثبوت دیا وہ مقصدی کام کرتا ہے اور غیر مقصدی کاموں سے دور ہوتا ہے کیو نکہ جن کاموں کا کوئی اصولی مقصد نہ ہو وہ بے کاروں اور بو الہوسوں کے کاروبار ہیں ، وہ شخص رضائے مولا سے محروم ہے جو ایسے کام نہیں کرتا جن کا حکم دیا گیا ہے اور وہ کام کرتا ہے جن کا حکم نہیں۔یہ یقیناََ محرومی ہے بلکہ یہ تو موت ہے اور ایک قسم کی رب کے در سے دوری ہے ، دُنیا کے کاموں میں مصروفیت کیلئے نیت صالح شرط ہے ورنہ تباہی ہے پہلے تو تم دل کی صفائی کا کام کرو کیونکہ یہ تو فرض ہے پھر کہیں معرفت کی طرف جا نا ،اگر تم جڑ ہی کھودو تو بھلا ڈا لیوں سے کیا ملے گا ؟دل اگر نجس ، اعضاء طاہر ہوں تو فائدہ ؟اعضاء بھی اس وقت پاک ہوں گے جبکہ تم کتاب و سنت پر عامل ہو گے دل محفوظ ہو تو اعضاء بھی محفوظ رہیں گے ، برتن میں جو ہو تا ہے وہی نکلتا ہے دل میں تمہارے جو ہو گا وہی تمہارے اعضاء سے صادر ہو گا ‘‘ آپ کی تعلیمات میں تصوف کے مو ضوع پر بحث میں یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ جملہ سلاسل کے مشائخِ صوفیاء قال اللہ و قال الرسولؐ اور محبت رسولؐ کا ہی سبق دے رہے تھے۔ مگرقبیلہ اولیاء کے سرِ خیل حضور شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کی سیرت کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو آپ ہمیں ایک نئے اور بالکل منفرد انداز سے شریعت محمدیہ ؐ کی بالادستی اور تما م معاملات میں رضائے الہیٰ کے حصول میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیں۔

Comments

comments