Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » ہندوستان اورمسلمان نورالدین محمد سلیم (جہانگیر) قسط 12
ہندوستان اورمسلمان نورالدین محمد سلیم (جہانگیر)  قسط 12

ہندوستان اورمسلمان نورالدین محمد سلیم (جہانگیر) قسط 12

نور الدین محمد سلیم چوتھے مغل حکمران تھے جو جہانگیر کے نام سے مشہور ہوئے جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ شہنشاہ اکبر نرینہ اولاد سے محروم تھا جو اولاد ہوئی تھی نو عمری میں ہی انتقال کر جاتی تھی۔اکبر نے شیخ سلیم الدین چشتی ؒ سے دعا کی درخواست کی اور شہزداہ سلیم ان کی ہی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔اکبر نے اس کا نام بھی شیخ سلیمؒ کے نام پر رکھا اور احتراماً شہزادہ کا نام نہیں لیتا تھا بلکہ اس کو شیخو کہتا تھا سلیم عرف جہانگیر 30 اگست1569 کو فتح پور سیکری میں پیدا ہوا۔ اس نے 1605 سے1627 تک حکومت کی کم عمری میں ہی اس کو اکبر کا جانشین قرار دیدیا تھا اسلئے اس کی پرورش خاص انداز سے ہوئی۔ کم عمری میں ہی جب وہ شراب نوشی کرنے لگا تو اکبر نے اس کی تربیت میں سختی کردی۔ اگرچہ اس کو ولی عہد قرار دیدیا گیا تھا لیکن1579میں اس نے اکبر اعظم کے خلاف اس وقت بغاوت کردی تھی جب اکبر دکن کی فتوحات میں مصروف تھا تا ہم اس لڑائی میں جہانگیر کو شکست ہوئی اپنے بیٹے کی بغاوت کا اکبر پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بیمار ہوگیا اور 1605 میں انتقال کر گیا۔اکبر کے کچھ وفادار جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے لیکن اکبر کی رانیوں کی مدد سے جہانگیر تخت و تاج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اس وقت اکبر کی والدہ اور جہانگیر کی دادی مریم مسکانی بھی بقید حیات تھیں۔اپنے باپ کی وفات کے8دن بعد جہانگیر تخت پر براجمان ہوا اس وقت اس کی عمر36 برس تھی۔ اس نے22سال کی حکو مت کی۔ جہانگیر کو اس کے عدل و انصاف کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے محل کے باہر60 گھنٹیاں لگائی تھیں تا کہ کسی کو انصاف کی ضرورت ہو تو وہ رسی کھینچ کر یہ گھنٹی بجائے ۔ جہانگیر لوگوں کی شکایات خود سماعت کرتا تھا۔ اس نے مغل حکومت کو اور بھی وسعت دی۔نصف درجن سے زیادہ بغاوتوں کو کچل دیا۔
جہانگیر کا بچپن فتح پور سیکری میں اپنی ماں مریم الزمانی بیگم عرف جودھا بائی کے پاس گذرا۔اس کی تعلیم کیلئے اکبر نے ہر زبان کے ماہر استاد کا تقرر کیا تھا لیکن وہ عبد الرحیم خاناں سے بہت زیادہ مانوس تھا۔ ان کی رہنمائی میں شہزادہ سلیم (جہانگیر) سیاست کے گرُ سیکھے اور فن حرب میں بھی کمال حاصل کیا۔ اکبر نے581 1میں اس کو کابل کی لڑائی کیلئے 12 ہزار سواروں کے ساتھ بھیجا اس مہم سے جہانگیر کامیاب لوٹا‘جہانگیر نے شبہ کی بنیاد پر اکبر کے نورتن میں شامل ابو الفضل کا قتل کرادیا۔اکبر پر اس واقعہ کا بھی بہت اثر ہوا3دن تک وہ درباریوں کے سامنے نہیں آیا۔یہ واقعہ1602 کا ہے۔جہانگیر کے تخت پر بیٹھنے کے بعد اسکے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی۔ خسرو کا کیا حشر ہوا آپ سابقہ شمارے میں پڑھ چکے ہیں۔جہاں تک سلطنت کو وسعت دینے کا سوال ہے جہانگیر نے اپنے دوسرے بیٹے کو 1605 میں ہی ایک ہندو راجہ رانا امر سنگھ کی سرکوبی کیلئے بھیجا۔چتور گڑھ کا قلعہ فتح کرنا آسان نہیں تھا۔1608 میں جہانگیر نے دوسری مرتبہ کوشش کی تا ہم کامیاب نہ ہوا۔1615 میں راجپوتوں کے ساتھ اس نے امن کا معاہدہ کر لیا ۔ میواڑ اور دہلی کے درمیان دوستی ہوئی۔ جہانگیر نے اپنے بیٹے خرم کو دکن کی بادشاہوں گولکنڈہ اور بیجا پور کی طرف 1613 میں بھیجا ۔ 1629 تک یہاں لڑائیاں ہوتی رہیں۔ کالنگا کا محاصرہ سب سے طویل تھا۔یہاں جہانگیر نے اپنی فتح کی یاد میں ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ احمد نگر کے سلطان ملک امبر نے مغلوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ شہزادہ خرم کی کامیابیوں پر شہنشاہ جہانگیر نے اس کو شاہجہاں کے خطاب سے نوازا تھا۔
جہانگیر کی شادی1585 میں ایک راجپوت رانی من بھاوتی سے کردی گئی تھی جس سے خسرو مرزا پیدا ہوا۔ اس کے بعد جہانگیر نے ایک اور راجپوت شہزادی جگت گوسیاں یا شہزادی من متی سے شادی کی جس سے خرم عرف شاہجہاں پیدا ہوا۔ من بھاوتی نے1605 میں ہی خود کشی کر لی تھی جب جہانگیر تخت پر بیٹھا تھا تا ہم جہانگیر کی زندگی اور تاریخ میں جو نام سب سے مہشور ہے وہ نور جہاں کا ہے ۔ نور جہاں مرزا غیاث بیگ اور عصمت بیگم کے گھر1577 کو قندھار میں پیدا ہوئی تھی غیاث بیگ مغل شہنشاہ اکبر کی فوج میں بھرتی ہونے دہلی آیا تھا نور جہاں کافی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھی نورجہاں کا اصلی نام’’ مہر النساء‘‘ تھا۔غیاث بیگ نے ایک مغل کمانڈر شیرافگن سے اس کی شادی کردی تھی جس کا اصلی نام علی قلی بیگ تھا۔ اس سے نورجہاں کو ایک بیٹی بھی ہوئی جب شیرا فگن مارا گیا تو نور جہاں اپنی9سالہ بیٹی کے ساتھ آگرہ منتقل ہوگئی بتایا جاتا ہے کہ1607 میں نور جہاں اور اس کی بیٹی لاڈلی کو جہانگیر نے محل میں طلب کیا اور اپنی سوتیلی ماں رقیہ بیگم کی خدمت پر لگا دیا جو اکبر کی پہلی بیوی تھی1611 میں نو روز کے ایک جشن میں رقیہ بیگم نے جہانگیر کونور جہاں سے ملایا اور جہانگیر نے فوراً شادی کیلئے حامی بھر لی۔ شادی کے بعد نور جہاں امور سلطنت میں دلچسپی لینے لگی وہ جہانگیر کو کئی مسائل حل کرنے میں مدد کرتی تھی اس طرح سرکاری امور میں نورجہاں کا عمل دخل بڑھ گیا۔کئی لوگ نورجہاں کو شاہجہاں کی ماں تصور کرتے ہیں جبکہ نور جہاں کو جہانگیر سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ شاہجہاں‘جہانگیر کی دوسری راجپوت بیوی کے بطن سے پیدا ہوا جسکا نام تاج بی بی بلقیس مسکانی رکھا گیا تھا۔ شادی کے بعد جہانگیر نے نور جہاں کے والد اور اپنے خسر کو اعتماد الدولہ کا خطاب دیا۔ نور جہاں کا اقتدار میں اس قدر عمل دخل تھا کہ سوائے جمعہ کے خطبہ کے مقام پر شہنشاہ کے بعد اس کا ہی نام لیا جاتا تھا۔ وہ شکار میں بھی بادشاہ کے ساتھ رہتی تھی۔ایک موقع پر اس نے ایک ہی فائر میں شیر کو ہلاک کردیا۔ایک اور موقع پر اس نے4شیروں کو مار گرایا ۔ اس کا تذکرہ خود جہانگیر نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ اس دلیرانہ کاروائی پر جہانگیر نے نور جہاں کو ایک لاکھ مہریں اور ایک ہزار اشرفیوں کا تحفہ دیا تھا۔جہانگیر اس کو اس قدر چاہتا تھا کہ اپنے نام نور الدین جہانگیر کی مناسبت سے اس کو نور جہاں کا نام دیا تھا۔
نور جہاں سے اپنے پہلے شوہر کی بیٹی لاڈلی بیگم کی شادی جہانگیر کے چھوٹے بیٹے شہزادہ شہریار سے کردی تھی وہ شہریار کو جہانگیر کا جانشین بنا نا چاہتی تھی اس کی خبر ملنے پر شہزادہ خرم عرف شاہجہاں نے بغاوت کردی وہ پہلے ہی اپنے باپ پر نور جہاں کے اثرات سے نالاں تھا۔جب ایرانیوں نے قندھار کا محاصرہ کر لیا تو نور جہاں نے موقع غنیمت جان کر شہزادہ خرم کو قندھار کے دفاع کیلئے بھیج دیا۔ شہزادہ کے پاس ملکہ نور جہاں کی بات ٹالنے کی ہمت نہیں تھی۔ قندھار کی لڑائی45 دن چلتی رہی اور ایرانیوں کو فتح ہوئی۔شہزادہ خرم کو خدشہ تھا کہ اس عرصہ میں نور جہاں اس کے باپ کو زہر دے کر ہلاک کردے گی اور اپنے داماد اور اس کے سوتیلے بھائی شہریار کو تخت پر بیٹھا دے گی۔ اسلئے اس نے ایرانیوں سے لڑائی پر توجہ نہیں دی اور قندھار ہاتھ سے نکل گیا۔1622 میں شہزادہ خرم نے مہابت خان کی مدد سے ایک فوج تیار کی اور جہانگیر کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔1626 میں جہانگیر کی فوج نے شہزادہ کی اس بغاوت کو کچل دیا اور شہزادہ خرم خود سپرد ہوگیااگرچہ جہانگیر نے اس کو معاف کردیا لیکن خرم اور نور جہاں کے درمیان دشمنی پکی ہوگئی ۔ نور جہاں نے مہابت خان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔اس نے جہانگیر سے کہہ کر مہابت خان کو بنگال کا گورنر بنایا ۔ اس نے جب مالگذاری ادا نہ کی تو جہانگیر کے دربار میں طلب کیا گیا۔نور جہاں کے بھائی آصف خان نے بادشاہ کے سامنے معاملے کو ایسا پیش کیا کہ بادشاہ کو مہابت خان پر شک ہوگیا اسی دوران مہابت خان نے اپنی بیٹی کی شادی بادشاہ کے مرضی کے بغیر کردی اس پر برہم بادشاہ نے اس کے داماد کو جیل میں ڈال دیا اور مہابت خان نے بغاوت کردی۔ایک مرتبہ جہانگیر کابل جاتے ہوئے دریائے جہلم کے کنارے خیمہ زن ہوا تو5ہزار راجپوت سپاہیوں کی مدد سے مہابت خان نے اس کیمپ کو گھیر لیا اور شہنشاہ جہانگیر کو قیدی بنا لیا۔تا ہم اس نے بادشاہ کے آگے گھٹنے ٹیک کر کہا کہ آصف خان نے اس کے خلاف بادشاہ کے کان بھرے ہیں۔ اگر بادشاہ اس کو واقعی قصور وار مانتا ہے تو اسی وقت اس کی گردن اُڑادے۔اس کے بعد جہانگیر نے اس کو معاف کردیا۔تا ہم اس دوران نور جہاں کو اطلاع ملی کہ مہابت خان نے جہانگیر کو قیدی بنا لیا ہے تو وہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ دریا میں اُتر گئی وہ ہاتھی پر سوار تھی اور اس کے دونوں ہاتھوں میں دو تلواریں تھیں لیکن جب وہ جہانگیر کے خیمے پر پہنچی تو جہانگیر نے اُس کو بتایا کہ مہابت خان کو اس نے معاف کردیا ہے۔
جہانگیر کا انتقال28اکتوبر1627 کو کشمیر میں58 سال کی عمر میں اس وقت ہوا جب وہ لاہور جارہا تھا۔اس وقت شہریار لاہور میں ہی تھا۔نور جہاں نے ایک خفیہ خط لکھ کر شہر یار کو جہانگیر کی موت کی اطلاع دی۔اس نے خود کو بادشاہ قرار دے کر سرکاری خزانے پر قبضہ کر لیا۔ شاہجہاں اس وقت دکن کی مہم پر تھا۔ تا ہم آصف خان نے بہن سے بغاوت کردی اور اس نے خسرو کے بیٹے کو داور بخش کا خطاب دے کر تخت بٹھا دیا۔اس نے جہانگیر کی موت کی اطلاع بھی شاہجہاں کو بھجوائی۔آصف خان نے شاہجہاں کے بیٹوں شہزادہ داراشکوہ اور اورنگ زیب کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا جو نور جہاں کے محل میں تھے۔ داور بخش نے آصف خان کی فوج کی مدد سے شہر یار کی فوج کو شکست دی۔شہر یار کو اندھا کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ شاہجہاں30 ڈسمبر1627 کو تخت پر بیٹھا اس وقت لاہور میں مغل حکومت کا اصل پایہ تخت تھا اس کے حکم سے شہریار اور دوسرے باغیوں کی گردنیں اُڑا دی گئیں۔شاہجہاں نے مہابت خان کو اجمیر کا گورنر مقرر کیا۔آصف خان نے داور بخشی کو ایران چلے جانے کا مشورہ دیا۔
جہانگیر کی موت کے ساتھ ہی نور جہاں کا اثر ختم ہوچکا تھا۔شہر یار قتل کروادیا گیا۔ تا ہم شاہجہاں نے نور جہاں کو ماہانہ دو لاکھ روپے وظیفہ مقرر کیا۔جہانگیر کی موت کے بعد اس نے خود کو لاہور کے قلعہ میں عملاً قید کر لیا تھا کسی تقریب میں نہیں جاتی تھی۔سفید لباس پہنتی تھی۔72 سال کی عمر میں1645 میں لاہور میں نور جہاں کا انتقال ہوگیا۔ لاہور کے شاہجہاں باغ میں آج بھی اس کا مقبرہ موجود ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ بھی لاہور میں ہی ہے۔ دونوں مقبرے ایک دوسرے سے قریب ہیں نور جہاں نے اپنے والد اعتماد الدولہ کا مقبرہ آگرہ میں سنگ مر مر سے بنوایا تھا جو آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے۔
انار کلی: یہ ایک افسانوی کردار ہے جو مغل شہنشاہ جہانگیر سے وابستہ ہے اس کردار کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے لیکن لاہور میں ایک شاندار مقبرہ اس نام سے موجود ہے۔ شہزادہ سلیم اور انارکلی کی داستان محبت پر کئی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ یہ مقبرہ لاہور میں اسٹیٹ سکریٹریٹ کے دفتر کے احاطے میں ہے۔ لاہور کے مال روڈ پر ایک انار کلی بازار بھی ہے جو کہا جاتا ہے کہ200برس قدیم ہے جو لوگ انار کلی کے کردار کے بارے میں تحقیق کر چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسکا اصل نام نادرا بیگم تھا وہ اکبر کے دربار میں رقص کرتی تھی اکبر اس کی خوبصورتی سے متاثر تھا اور اس نے اس کو انار کلی کا لقب دیا چونکہ اکبر انار کلی سے محبت کرتا تھا اسلئے وہ سلیم سے اس کی قربت کو برداشت نہ کرسکا اور اس کو لاہور کے قلعہ کی دیوار میں چنوا دیا۔ایک برطانوی سیاح ولیم فتچ نے جو1608 سے1611 کے درمیان لاہور کا دورہ کرچکا تھا لکھا ہے کہ انار کلی اکبر کی بیوی تھی اس سے ایک شہزادہ دانیال شاہ بھی تھا اکبر کو انار کلی اور سلیم کے رشتہ پر شک ہوا اور اس نے انار کلی کو دیوار میں چنوا دیا۔جب جہانگیر نے تخت سنبھالا تو اس نے لاہور میں انار کلی کی یاد میں مقبرہ تعمیر کرایا۔ نور احمد چشتی نے اپنی کتاب تحقیق چشتیہ (1860 )میں لکھا ہے کہ انار کلی اکبر کے محل کی ایک خوبصورت کنیز تھی اسکا اصل نام نادرا بیگم یا شرف النساء تھا ۔ اکبر کی دوسری رانیاں اس سے جلتی تھیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اکبر جب دکن میں مصروف تھا تو انار کلی بیمار ہوگئی اور فوت ہوگئی۔ اس کی دو رانیوں نے اس خوف سے کہ اکبر ان سے پوچھے گا خود کشی کر لی۔جب اکبر واپس آیا تو اس نے انار کلی کیلئے مقبرہ بنوایا۔ عبد الطیف نے اپنی کتاب تحقیق لاہور (1892 ) میں لکھا ہے کہ انار کلی اکبر کی کینز تھی۔سلیم اور انار کلی کے درمیان تعلقات کا اکبر کا شبہ ہوا تو اس نے انار کلی کو دیوار میں چنوا دیا۔ اس طرح انار کلی کا تذکرہ مختلف تاریخ دانوں نے مختلف طریقوں سے کیا ہے۔
(سلسلہ جاری ۔۔۔

Comments

comments