Thursday , 21 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

مکرمی!مدیر اعلیٰ’’ وقارِہند‘‘
السلام علیکم!’’وقارِہند‘‘ کا تازہ شمارہ ماہ ڈسمبر 2016 نظر سے گذرا تازہ شمارہ دیکھ کر جناب وقارؔ خلیل صاحب کی ملاقاتیں یاد آگئیں۔اُن کی سادگی‘محنت اور ملنساری ہی کی وجہ سے آج اُن کے فرزندان اپنے والد کے نام کو بلند و روشن کررہے ہیں۔ بڑی خوشی و مسرت کی بات تو یہ ہے کہ شمارہ ہر طرح سے رنگین اور دلکش دکھائی دیا محسوس تو ہوا کہ ہندوستان سے باہر کا شمارہ تو نہیں۔موجودہ حالات میں یہ ماہنامہ شائع کرنا بہت ہی ہمت و جوانمردی کی بات ہے۔ ایک ماہ کے تیس30دن کی خبریں شمارہ میں شامل کرنا بھی قابل قدر بات ہے ۔جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ شمارہ کے مطالعہ کے بعد اس کی اشاعت پر دیر سے ہی سہی مگرو قت اور حالات کے پیش نظر میں مدیر اعلیٰ جناب عظیم الرحمن کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ اپنے والد حضرت وقارؔ خلیل صاحب مرحوم کی یاد میں یہ شمارہ حیدرآباد ریاست تلنگانہ کا معیاری و لاجواب شمارہ ثابت ہوا۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شمارہ کامیابی کے اعلیٰ مدارج پر پہنچ جائے۔ ایک تجویز ہے کہ حضرت وقارؔ خلیل صاحب کی فوٹو اداریہ کے صفحہ پر ہمیشہ کیلئے شائع کریں تو اُن کیلئے بہترین خراج ہوگا۔
میر وقار الدین علیخاں بہادر صدیقی‘ حیدرآباد
مدیر اعلیٰ ’’ وقارِ ہند‘‘ حیدرآباد
مزاج گرامی بخیر ہوگا۔ میرے افسانوں اور غزلوں پر توجہ دے رہے ہیں اس کیلئے بصد شکریہ۔’’ وقارِہند‘‘ کا عید میلاد النبیؐ نمبر امید سے زیادہ پر کشش اور دیدہ زیب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور اس سے جڑے تما م لوگوں کی صلاحیتوں کو برقرار رکھے اور ہر ماہ’’ وقارِ ہند‘‘ کو عمدہ سے عمدہ بنائے (آمین)
قیصر واحدی۔کامٹی
محترمی جناب مدیر صاحب’’ وقارِہند‘‘ حیدرآباد
السلام علیکم! ’’ وقارِہند‘‘ رسالہ سے میرا تعارف ناگپور کامٹی کے قیصر واحدی نے کروایا اُنکے پاس جنوری 2016 کا ’’ وقارِہند‘‘ کا شمارہ تھا انہوں نے کامٹی سے مجھے پڑھنے اور ’’وقارِہند‘‘ کا لک دیکھنے کیلئے بھیجا ۔ یقین مانئیے میں نے جب یہ رسالہ دیکھا تو میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا‘میں کیا کہوں یکلخت میں ماضی کی سیر کرنے لگا ۔ ڈسمبر 2016 کا ’’وقارِہند‘‘ نظر کے سامنے ہے پہلی ہی بار آپ نے میری حوصلہ افزائی کی میری غزل کو زینت وقار بخشا ۔ رسالہ ورق ورق اپنی مثال آپ ہے ۔ ایڈیٹر عظیم الرحمن کا اداریہ ایک نباض کا اداریہ لگتا ہے بڑی چابکدستی سے انہوں نے حالات حاضرہ پر اپنی رائے دی اور لوگوں کے دکھ کو بھی موجودہ حکمرانوں کے سامنے نڈر اور بے باک الفاظ و خیالات کا اظہار کیا۔ دوسرے صفحہ پر مرارجی دیسائی کی تصویر کے ساتھ’’ کئی سال پہلے بھی!!‘‘ پڑھنے کو ملا اس طرح ورق ورق’’ وقارِہند‘‘ اپنی وقاریت بتا رہا تھا۔ مسلم دُنیا کی خبر پر بھی’’ وقارِہند‘‘ کی پکڑ اچھی ہے15 برس گذر گئے آج بھی افغانستان جہاں تھا وہاں نہیں ہے اور نچلی سطح پر آگیا عوام آج بھی جنگ و جدال والی زندگی جی رہے ہیں اور ملک غربت کی مار جھیل رہا ہے لیڈر تصویر اُترانے معاہدوں پر دستخط کرتے نظر آتے ہیں۔ تباہ حال مسلمان تباہ حال مشرق وسطیٰ پہلے جیسا تھا ویسا ہی خبروں سے لگ رہا ہے۔ محترم حضرت وقارؔ خلیل صاحب مرحوم کی نعت صلعم بہت اچھی لگی‘ مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر کا مضمون پڑھنے اور عمل کرنے کی سعادت نصیب ہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات ہر ہر حکایات پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے‘قیصر واحدی صاحب کا افسانہ بہت پسند آیا آسان سلیس زبان استعمال کی ہے۔حیدرآباد کا تاریخی نیشنل پارک کی’’ وقارِہند‘‘ نے اچھی سیر کرائی ماضی حال کی وہ باتیں ہمارے گوش گذار ہوئی جو ہم نہیں جانتے‘اکبرجودھا بائی تو اب صرف کہانیوں میں رہ گئے یہ الگ بات ہے کہ گاہے بگاہے اس وراثت کو ہم کسی نے کسی بہانے یاد کرتے ہیں۔کھیل کا میدان بھی جاندار رہا گوشہ نسواں بہت شاندار اور بزمِ اطفال بھی خوبصورتی اور مضامین کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ایسا اچھا لکھنے والوں کو میرا سلام‘میرا ایک شعر’’ وقارِہند‘‘ کی نذر ؂
جالب ہوں میری آہ میں واللہ اثر ہے
پہنچے گی فلک پر یہ کوئی دور نہیں ہے
اقبال احمد نذیر۔ممبئی
مکرمی ایڈیٹر صاحب ماہنامہ’’ وقارِہند‘‘ حیدرآباد۔
السلام علیکم! بفضل تعالیٰ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ماہ ڈسمبر کا’’ وقارِہند‘‘ پڑھا اور تمام مضامین بہت عمدہ ہیں‘اداریہ اچھا لگا‘ملک کو رشوت خوری اور کالا دھن سے پاک کرنے کی لڑائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے125کروڑ شہریوں کو شامل کر لیا لیکن آزاد ہندوستان کی تاریخ میں تیسری مرتبہ اُٹھائے گئے اس قدم کا فیصلہ اچانک راتوں رات کیا گیا اس کے نتائج ہم پچھلے دو ماہ سے دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ وسیاحت‘گوشہ نسواں بہت پسند آئے ہیں۔
سدرہ نشرح۔کریم نگر
معزز ایڈ یٹر صا حب
ماہنا مہ’ ’و قا ر ہند ‘‘ا لسلا م علیکم
ما ہ ڈ سمبر کا ’’وقار ہند‘‘ کا شما رہ پڑ ھنے کا مو قع ملا‘ تما م مضا مین بہت خو ب لگے۔میلا د ا لنبیؐ کے مو قع پر شا ئع کئے گئے تما م مضامین ایک سے بڑ ھ کر ایک تھے ا یسا لگ ر ہا ہے آپ کا ماہنا مہ ہند و ستا ن کا نمبر ایک میگز ین ہو جا ئے گا۔ میں یہ مرا سلہ ای۔میل سے روا نہ کر رہی ہو ں امید کر تی ہو ں کہ آپ اسے شامل ا شا عت کریں گے‘ تو شکریہ ہو گا۔ میر ی آپ سے ا دباً گذ ار ش ہے کہ ما ہنامہ’ ’وقارِ ہند‘‘میں قا ر ئین کی دلچسپی کیلئے معمہ کا ا نعا می مقا بلہ شر وع کریں اس سے قارئین میں مز ید دلچسپی بڑ ھے گی اور اُر دو کی بہت بڑ ی خدمت ہو گی۔ ا ب مجھے ’’وقار ہند‘‘ کے ا گلے شما رہ کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔
لئیقہ فا طمہ‘سلیم نگر کالونی‘حیدرآباد
ایڈیٹر ’’ وقارِہند‘‘ آداب!
اللہ سے امید ہے کہ آپ جملہ اسٹاف بخیر ہوں گے’’ وقارِہند‘‘ کا میلاد النبیؐ نمبر میرے ہاتھوں میں ہے یہ بہت ہی شاندار‘معلوماتی اور پر وقار میگزین ہے۔ گذشتہ ماہ کا بھی شمارہ دل کو بھا گیا تھا۔ مگر اس ماہ کا شمارہ لاجواب ہے۔ برما کے مسلمانوں پر مضمون پڑھ کر رونا آگیا ہے اللہ سے دعا ہے کہ خدارا ان بے یارو و مددگار روہنگیا کے مسلمانوں پر رحم فرما ۔ لعنت اُن پڑوسی مسلم ممالک پر جو‘ان ظلم کے شکار برما کے مسلمانوں سے آنکھیں بند کررہے ہیں۔خصوصی رپورٹ اچھی لگی۔ماہرین معاشیات کے تبصروں‘اُن کے خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے اس رپورٹ کو مزید دلچسپ بنایا جاسکتا تھا اسلامیات کے مضامین سب سے زیادہ پر اثر‘دل نشین اور معلوماتی رہے ہیں۔تاجدار مدینہ حضرت محمد صلعم کے مستعملہ اشیا اور نعل مبارک کی تصاویر یقیناًایک نایاب تحفہ سے کم نہیں ہے ان تصاویر والے چارٹ کو گھر میں بطور برکت رکھا جاسکتا ہے۔ ساجد احمد۔نظام آباد

Comments

comments