Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » طارق فتح نیا فتنہ
طارق فتح نیا فتنہ

طارق فتح نیا فتنہ

مودی حکومت سے قربت رکھنے والے سبھاش چندرا کی ملکیت والے زی ٹی وی پر پاکستان اور سعودی عرب سے نکالے گئے ایک ملعون شخص کا پروگرام’’ فتح کا فتویٰ‘‘ پیش کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔اس پروگرام کے خلاف عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا ہے افسوس اس بات کا ہے کہ اس شخص کو مسلمانوں کی دل آزاری کیلئے بالکل اسی طرح استعمال کیا جارہا ہے جس طرح سے سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کا استعمال کیا گیا۔ یہ وہی طارق فتح ہے جس نے اپنی جوانی کے دور میں ہندوستان کے کئی ٹکڑے کردینے کی بات کی تھی اور آج خود کو ہندوستان کا بہی خواہ بنا کر پیش کررہا ہے۔ سنگھ پریوار کی زبان میں بات کرنیوالے فتح کو میڈیا کی جانب سے شہرت دی جارہی ہے اپنی ذہنی منطق کے ذریعہ اسلام کا تصور پیش کرنیوالے اس شخص کی باتوں کو سنگھ پریوار ملک میں پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔طلاق ثلاثہ کے معاملے کو آر ایس ایس سے وابستہ مسلم خواتین کے ذریعہ سپریم کورٹ میں پہنچانے والی طاقتیں بھی وہی ہیں جو طارق کے فتنہ کو ہوا دے رہی ہیں۔ در اصل یہ دُنیا کا آسان فارمولہ بن گیا ہے کہ کسی ملک میں پناہ لینے اور ان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کیلئے اسلام کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا جائے۔ اس سے مسلم گروپس کی جانب سے دھمکیاں ملنا شروع ہوں گی اور مسلم دشمن ممالک آسانی سے پناہ‘ سکیوریٹی‘ گھر دار سب کچھ فراہم کردیں گے اپنی متنازعہ ناولوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دل آزاری کرنیوالا سلمان رشدی لندن میں پناہ گزین ہے۔ تسلیمہ نسرین جئے پور میں مقیم ہے۔ ہمارا ملک آزاد ہے‘اظہار خیال کی آزادی ہے لیکن دل آزاری کی آزادی نہیں ہے۔کسی بھی مذہب کے خلاف بولنے پر فوجداری مقدمہ درج کرایا جاسکتا ہے لیکن افسوس کہ طارق فتح کے خلاف ابھی تک ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا۔ طارق فتح پاکستانی ‘نژاد کینیڈیائی رائٹر ہے وہ کوئی عالم دین نہیں ہے جو اسلام کے طریقوں کی وضاحت کرتا پھرے یا پھر کوئی فتویٰ جاری کرے۔ ہندو میڈیا فتویٰ کی اصطلاح سے واقف نہیں ہے۔ طارق فتح ہم جنس پرستی کا حامی ہے وہ پردہ اور برقعہ کا سخت مخالف ہے شرعی قوانین کی مخالفت کرتا ہے۔ سیکولر اسلام کا تصور پیش کرتا ہے جس میں داڑھی اور ٹوپی کا کوئی وجود نہیں ہے پھر یہ شخص کس طرح مسلمان ہوسکتا ہے؟ اگر مسلمان نہیں ہے تو‘مسلمان کا نام رکھ کر کیوں گھوم رہا ہے اور مسلمان اس کی دل آزاری کرنیوالی باتوں کو کس طرح برداشت کررہے ہیں؟اگر کوئی بیرونی شخص مسلمانوں کی دعوت پر ہندوستان آتا اور ہندوؤں کے دیوی‘دیوتاؤں کی تضحیک کرتا یا ان کے مذہبی رسوم و رواج کو غلط بتاتا تو کیا یہ سنگھ پریوار‘آر ایس ایس‘بی جے پی‘بجرنگ دل‘وی ایچ پی‘ہندو وا ہنی اس حرکت کو برداشت کرتے؟ نہ صرف اس شخص پر بلکہ اس کو دعوت دینے والی تنظیم پر بھی پابندی لگ جاتی۔پھر مسلمانوں کے ساتھ ایسا سوتیلاسلوک کیوں‘ٹی وی پر ایسے شخص کی پذیرائی کیوں! جس کی تائید ملک کا ایک بھی مسلمان نہیں کرتا ہے۔ فتح کے آبا و اجداد پنجاب میں رہتے تھے‘ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوگئے۔ بائیو کیمسٹری میں ڈگری رکھنے کے باوجود صحافت سے وابستہ ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں غداری کے الزام میں پاکستان سے نکال دیا گیا۔7فروری 2017 سے زی ٹی وی پر طارق فتح کاشو آرہا ہے اس شو کے ذریعہ اسلام کی اہانت اور مسلمانوں کی دل آزاری ہورہی ہے۔مسلمانوں کے خلاف فتنہ پردازیاں نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں اس بات پر غور کرنیکی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے اُصولوں‘طریقوں کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنانیکا موقع کون فراہم کررہے ہیں؟ کیا ہم ہمارے مسلکی!اختلافات پر کھل کر ایکدوسرے کو بُرا بھلا نہیں کہتے؟مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر ایکدوسرے کو کافر نہیں کہتے؟ ہم جب تک یہ رویہ برقرار رکھیں گے ایسے فتنے پیدا ہوتے رہیں گے۔

Comments

comments