Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » خصوصی رپورٹ » خونِ مسلم کی ارزانی اورمسلم حکمراں!
خونِ مسلم کی ارزانی اورمسلم حکمراں!

خونِ مسلم کی ارزانی اورمسلم حکمراں!

آج عالم اسلام یا دُنیا بھر کے مسلمان جن بدترین حالات سے گذر رہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں شائد ہی ملے۔ چنگیز و ہلاکو خان کے دور میں بھی مسلمانوں پر زبردست مظالم ہوئے تھے لیکن اسلام اور اس کے ماننے والے آج جن خطرات کا سامنا کررہے ہیں ایسے خطرات سے ملت اسلامیہ کبھی دوچار نہیں ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ سے بعض حلقوں میں خیال کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کو صلاح الدین ایوبی جیسے کسی مرد مجاہد کا انتظار ہے۔ صلاح الدین ایوبی تو دور کی بات ہے آج ہم میں کوئی حجاج بن یوسف بھی نہیں ہے جو انتہائی ظالم وشقی القلب ہونے کے باوجود بھی دینی غیرت‘ ملی حمیت اور اسلامی اخوت سے نا آشنا نہیں تھا۔ سندھ کے راجہ داہر کی زیر سرپرستی سرگرم عمل بحری قزاقوں کے عرب تجارتی قافلوں پر حملے‘ قتل و غارت گری اور دیگر مظالم کی عرب بیواؤں اور یتیموں کی فریاد سن کر حجاج بن یوسف تڑپ اُٹھا اور محمد بن قاسم کو راجہ داہر اور اس کے ظالموں کی سرکوبی کیلئے فوری روانہ کیا تھا۔ آج 56-55 مسلم حکمرانوں میں بھلے ہی کوئی حجاج بن یوسف جیسا ظالم نہ ہو لیکن خون مسلم کی ارزانی پر تڑپ کر ظالموں کی سرکوبی کرنے اور سزا دینے والا حجاج بن یوسف جیسا کوئی حکمراں نہیں ہے جبکہ حجاج بن یوسف تو صرف گورنر تھا۔ آ ج کے مسلمان حکمراں خود مسلمانوں کے دشمن ہورہے ہیں۔ کوئی غیر مسلم حکمران کے نہیں بلکہ خود مسلم حکمرانوں کے ہاتھ خون مسلم سے تربتر ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں جو خون ریزی ہورہی ہے وہ مسلمان حکمراں خود کررہے ہیں یا مسلم حکمرانوں کی مرضی و رضا مندی سے غیر مسلم کررہے ہیں۔ امریکہ کی غلامی ان کیلئے باعث فخر ہے۔ شام میں امریکہ‘ روس کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام مسلمان حکمرانوں کی مرضی سے ہورہا ہے۔ امریکہ کے نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گویا تجارت چھوڑکر امریکہ کے صدر کا عہدہ لگتا ہے حاصل ہی مسلم دشمنی کیلئے کیا ہے! یوں تو صدر بننے کے بعد ان کے چند فیصلوں نے یوں تو ساری دُنیا کو حیرت زدہ ہی نہیں بلکہ خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔ فی الحال ٹرمپ کی مسلم دشمنی کی بات کریں گے۔ فلسطین و اسرائیل کے تعلق سے ان کے اور ان کے عہدیداروں کے بعض بیانات خاص طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے والی بات مسلم دشمنی کی ایک بد ترین مثال ہے۔ سات مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکی ویزے اور سفر کی پابندیوں کا حکم گوکہ عدالت کے فیصلے کی وجہ سے نافذ نہ ہوسکا تاہم یہ فیصلہ جتنا قابل مذمت تھا اس سے زیادہ قابل مذمت ٹرمپ کے اس فیصلے کی سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے اس کی تائید و تعریف کا فیصلہ تھا۔ ان ممالک میں اگر اس ناروا فیصلے کی مذمت یا مخالفت کی ہمت نہ تھی تو ٹرمپ نے اس فیصلہ کی تائید و تعریف کیلئے بھی ان میں سے کسی کو مجبور بھی نہیں کیا ہوگا۔ مسلم دشمنی کے اس فیصلے کی تائید تو محض مرعوبیت و خوشامد تھی اس کی مخالفت و مذمت کی ان ممالک سے توقع رکھنا تو حماقت ہی ہوتی! آج مسلم حکمرانوں کے آگے اپنے تخت و تاج اور اقتدار کی خاطر ملت کے مفادات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مسلم حکمرانوں یا اسلامی ملکوں کی وہ تنظیم جس کو شاہ فیصل شہید نے اسلامی اخوت کا عملی نمونہ بناکر پیش کرنے کیلئے بڑی محنت اور جدوجہد کے بعد شاہ ایران‘ جنرل ایوب خاں اور ملیشیاء کے ٹنکو عبدالرحمن کی مدد سے قائم کی تھی ‘ آج عضو معطل سے بھی بدتر ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ عالم اسلام کیلئے ایک نیا اور بے حد خطرناک خطرہ بن کر نمودار ہوا ہے اور مسلم حکمرانوں کو نہ خطرے کا احساس ہے اور نہ ہی اس کے تدارک کی کوئی فکر ہے۔ ان کیلئے امریکہ کی خوشنودی و تابعداری ہی سب کچھ ہے۔ مسلم حکمرانوں کی یہی کمزوری اغیار کی کامیابی ہے۔ خلیج کے عرب ممالک پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے اور ان کی تیل کی دولت پر قبضے کیلئے مغرب بڑی عیاری سے صدام حسین کو کویت پر حملہ کی ترغیب دے کر مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر خلیجی ممالک پر عراق کا خوف طاری کرکے خلیجی ممالک کی حفاظت و دفاع کے بہانے جزیرہ نما عرب کے تمام ملکوں میں امریکہ و برطانیہ کے فوجی اڈے قائم ہوگئے گویا سارا علاقہ امریکہ و برطانیہ کے کنٹرول میں آگیا اور اسرائیل کے خلاف عرب ملکوں کی کسی امکانی کاروائی اور تیل کے مقاطعہ (1973 کی طرح) کے امکانات ختم ہوگئے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کے فولادی عزائم اور صبر و برداشت‘ افغانستان اور خاص طور پر بوسینا کے مجاہدین کی کامیابیوں اور چیچنیا میں شکست کے باوجود چیچن حریت پسندوں کی استقامت و شجاعت نے اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے طاغوتی طاقتیں پریشان ہوکر مسلمانوں کو ساری دُنیا میں کمزور اور بے دست وپاکرنے کیلئے ساری دُنیا کے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے اور اسلام کی تعلیمات جہاد کو دہشت گردی کہہ کر بدنام کرنے کیلئے 9/11 کا ڈرامہ کیا گیا۔ دور اندیشی‘ تدبر و فراست سے محروم مسلم حکمراں ہی نہیں علمائے کرام نے مارے ڈر‘ خوف اور مرعوبیت بلکہ حماقت کے سبب نہ صرف9/11 کو اسلامی دہشت گردی اسامہ بن لادن اور ملا عمر جیسے مجاہدین ‘ یہود و نصاریٰ کے قلب میں پیوست ہوجانے والے خنجروں کی مانند دشمنان اسرائیل و امریکہ بہت بڑے دہشت گرد قرار دئیے گئے۔ جہاد افغانستان میں روس جیسے پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والوں کو دہشت گرد کہتے امریکہ کو شرم نہ آئی اور اس سے زیادہ بے شرمی و بے غیرتی کا مظاہرہ مسلم حکمرانوں نے کیا جنہوں نے بغیر ثبوت بغیر دلیل دہشت گرد تسلیم کرنے کے ساتھ ہی افغانستان میں طالبان کی حکومت کو جو اسلام کا مضبوط قلعہ بن رہی تھی‘ ختم کردیا اس کے بعد عالم اسلام پروار ہوتے رہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ یوروپی ممالک اور آسٹریلیا اور مشرق بعید کے ملکوں میں مقیم مسلمان مشکوک دہشت گرد ہوگئے کبھی داڑھی‘ کبھی حجاب‘ کبھی مساجد کی تعمیر حتیٰ کہ مساجد کے میناروں کی بلندی پر اعتراض ہونے لگے۔ دُنیا میں مسلمانوں کے ساتھ کہیں بھی کچھ بھی ہو مسلم حکمرانوں کے کان پر جوں نہ رینگے گی۔ مغرب کی اس اسلام دشمنی کے پیچھے اسرائیل اور صیہونیوں کا دماغ کام کررہا ہے۔
9/11 کے بعد افغانستان اور عراق میں اب شام میں لاکھوں مسلمان شہید کردئیے گئے خود کو اسلام کا محافظ وسپاہی کہنے والے حکمران‘ پاسبانان حرم‘ منبر و محراب میں یہ ہمت نہ تھی کہ دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگانے والوں کی خبر لیتے لیکن اُلٹا مسلمانوں کو ہی دہشت گردی سے دور رہنے کا درس اتنی کثرت سے دیا گیا کہ تاریخ میں شاہد ہی مسلمانوں کو کسی اور چیز کی تعلیم اتنی کثرت سے دی گئی ہو۔ فلپائن‘ قبرص‘ چیچنیا‘ وسطی ایشیاء کی سابق روسی مسلم مملکتوں میں اسلامی تحریکوں اور حریت پسندوں کو ہر جگہ دبادیا گیا۔ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت یا صدر محمد مرسی کی حکومت کو عرب ملکوں (خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات )کے ہاتھوں اسرائیل کو اس کے سب بڑے دشمن سے نجات دلادی گئی)۔ ایران نے یمن میں حوثی قبائل کو بغاوت پر اُکسایا اور سعودی عرب ان کے خلاف فوجی کاروائی کررہا ہے۔ اسرائیل ‘ یہودیوں اور صیہونیوں کو ختم کرنے کی جگہ مسلمان مسلمان کو عرب‘ عرب کو قتل کررہا ہے ۔ عالم اسلام کو کمزور کرنے کا کام مسلم ممالک اور مسلمانوں سے ہی کیا جارہا ہے۔ شام میں دشمن اسلام بشارالاسد کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو کچلنے کیلئے پہلے ایران میدان میں آیا اب روس بھی بشارالا سد کی مدد کررہا ہے۔ داعش کی قتل و غارت گری صرف مسلمانوں کیلئے ہے۔ شام میں ایک فریق انقلاب اسلامی کا داعی ایران‘ بشارالاسد اور روس کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف شامی باغی سعودی عرب‘ ترکی‘ قطر ہیں خون صرف مسلمان کا بہہ رہا ہے۔
شاہ فیصل‘ جنرل ضیاء الحق‘ مہاتیر محمد‘ احمدی نژاد اور محمد مرسی کے بعد ملت کا درد رکھنے والے حکمران ‘ترکی کے طیب اردغان ہیں جو ہر طرف سے طاغوتی طاقتوں کے نرغنے میں ہیں۔ بیشتر اسلامی ملکوں مگر خاص طور پر پاکستان‘ افغانستان‘ ترکی اور عراق میں آئے دن اور کچھ دوسرے ملکوں میں گاہے بگاہے بموں کے دھماکے ہوتے ہیں۔ ترکی ‘ایران‘ پاکستان‘ مصر‘ عراق و سعودی عرب اہم مسلم ممالک ہیں۔ ایران و سعودی عرب کا صیانتی نظام خاصہ مضبوط ہے پھر بھی سعودی عرب میں دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کا مقصد ملک میں بے چینی پیدا کرنا حکومت سے عوام کی برہمی بڑھانا اور عوام میں احساس تحفظ ختم کرنا ہے۔ یہ دھماکے امریکہ‘ مغربی ممالک سی آئی اے‘ صیہونی تحریک‘ اسرائیل کی موساد کے ایجنٹ مقامی لوگوں کو خرید کر کرواتے ہیں۔ نااہل انتظامیہ نہ چوکس و مستعد ہے اور نہ ہی ایجنٹوں اور ان کے نیٹ ورک کو پکڑنے اور پتہ چلانے کی فکر کرتا ہے بلکہ بعض جگہ خود بھی دشمنوں کا ساتھ دیتا ہے ۔ حکمران انتظامیہ پر گرفت کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ حکمران انتظامیہ سے ناجائز کام لیتے ہیں۔ جس کا انتظامیہ‘ ایجنسیاں اور سیکوریٹی کے ذمہ دار فائدہ اُٹھاکر غیر ملکی ایجنٹوں سے تعاون کرکے دولت کمارہے ہیں اور بدنام مسلمان اور اسلام ہورہا ہے۔ مساجد‘ عبادت خانوں درگاہوں کی بے حرمتی کا اسکولوں اور عام مقامات پر مظلوموں کے قتل کی بات عام مسلمان سوچ نہیں سکتا ہے۔ یہ دشمنان اسلام کی کاروائیاں ہیں جن پر نااہل حکمران قابو نہیں پارہے ہیں۔ نااہل‘ ظالم اور اسلامی غیرت و حمیت سے عاری مسلم حکمران اسلام کے‘ اغیار سے زیادہ بڑے دشمن ہیں۔

Comments

comments