Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا ء کا آتش فشاں
مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا ء کا آتش فشاں

مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا ء کا آتش فشاں

سجاد نور آبادی
سال1987کو منزگام نور آباد کولگامیں پیدا ہونیوالے سجاد نور آبادی کشمیر کے سیاسی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں ہیں پہلے مزاحمتی قیادت میں قسمت آزمائی کی اور بعد ازاں انجینئر عبد الرشید کی عوامی اتحاد پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور فی الوقت وہ کشمیر مسئلہ کے پر امن حل کیلئے کوشاں ہیں ۔’’ وقارِ ہند‘‘ کے شبیر بٹ کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں نور آبادی نے انکشاف کیا کہ فوجی سربراہ کے حالیہ بیان سے ریاست میں ایک بار پھر سال 2016 جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔
(س)۔فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان پر کشمیر سے کنیا کماری تک مچا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے آپ کیا کہیں گے؟
(ج)دیکھئے جنرل بپن راوت کے جارحانہ اور اشتعال انگیز بیان سے کشمیر میں بالخصوص ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔عوام یہ سمجھنے سے قاصرہیں کہ کس طرح دُنیا کی ایک بڑی فوج کا سربراہ ایسا بیان دے رہا ہے جس سے حالات سدھرنے کے بجائے بگڑ بھی سکتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ایسے بیانات سے وادی کشمیر میں سال 2016 جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔جہاں نئی دہلی بلند بانگ دعوے کر کے کشمیری نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی وکالت کررہی ہے وہیں ایسے اشتعال انگیز بیانات سے نئی دہلی کی کشمیر پالیسی پر کئی طرح کے خدشات پیدا ہورہے ہیں اور خصوصاً نوجوان طبقہ انتہائی مایوس ہورہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج کو حکم کی تعمیل کرنی چاہیئے نہ کہ فوجی حکام کو سیاست یا پس پردہ سیاست کرنی چاہیئے کیونکہ یہ جمہوریت اور ملک دونوں کیلئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔
(س)مسئلہ کشمیر اور اس کا حل‘آپ کیا نظریہ رکھتے ہیں؟
(ج) میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایک متنازعہ مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے اس مسئلہ پر ہند پاک ممالک کے درمیان کئی جنگیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں غریبی اور افلاس نے جنم لیا ہے۔ دونوں ممالک اس وقت بھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہیں سیاچن پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کی حالت زندگی میں بہتری نہیں آرہی ہے ۔ کشمیر جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے دردِ سر بنا ہوا ہے اور جب تک اس مسئلہ کو کشمیری عوام کے خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا تب تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی ہے جہاں تک اس مسئلہ کے حل کا تعلق ہے تو اس کیلئے ہند پاک قیادت کو با معنیٰ بات چیت کیلئے آگے آنا چاہیئے ستم ظریفی یہ ہے کہ آج تک جتنی بار مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی گئی ہر وقت کشمیریوں کو نظر انداز کیا گیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ مین اسٹریم سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ حریت قائدین اور عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت ہونی چاہیئے جب امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرسکتا ہے تو نئی دہلی کو صلاح الدین سے بات کرنے میں کیا حرج ہے؟۔
(س)بات چیت کس کے ساتھ کی جائے حریت تو کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے اور مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا ایجنڈہ آگے رکھ رہی ہیں اس صورتحال میں بات چیت کس کے ساتھ کی جائے؟
(ج)میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے تمام سیاسی‘سماجی اور مذہبی جماعتوں کے مابین آپسی مفاہمت وقت کی اہم ضرورت ہے جب پاکستان میں نواز شریف‘ بلاول بھٹو اور عمران خان ملک کی سا لمیت کیلئے یک جٹ ہوسکتے ہیں تو کشمیری لیڈر شپ کشمیریت کو بچانے کیلئے اکھٹے کیوں نہیں ہوسکتے ہیں۔
(س)۔حریت قائدین کی طرف سے ہڑتالی کیلنڈر جاری کرنا اب ایک معمول بن گیا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ کیلنڈر اپنی اہمیت کھو رہے ہیں کیا کہیں گے آپ اس بات پر ؟
(ج)۔ میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہڑتال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی ہڑتالوں سے مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے اگر ایسا ہوتا تو پھر کشمیر نے کتنے ہڑتال دیکھے لیکن میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر میں ہڑتال تب کی جاتی ہے جب عوام پر ظلم وستم کا پہاڑ توڑاجاتا ہے اور تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق لوگ ہڑتال کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ حریت لیڈر شپ کو بھی متبادل پر غور کرنا چاہیئے تا کہ قوم و ملت کو پسماندگی کی طرف نہ ڈھکیلا جائے۔
(س)کابینہ میں توسیع کے بعد ریاستی وزارء بشارت بخاری اور عمران رضا انصاری کے استعفوں سے سیاسی اُتھل پتھل مچ گئی کیا کہیں گے آپ اس سارے معاملے پر؟
(ج) پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحادکو روز اول سے ہی کشمیریوں نے رد کیا ہے اور جس طرح وزراء‘ قلمدانوں کے معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی پی کیلئے آنیوالا وقت اور کٹھن ہوگا۔
(س)پنڈتوں کی باز آباد کاری کے حوالے سے ہر سیاسی پارٹی بیانات دے رہی ہے موجودہ حکومت بھی بلند بانگ دعوے کررہی ہے آپ کو کیا لگتا ہے؟
(ج) دیکھئے پنڈتوں کو کشمیر سے بھگانے میں ریاست کے سابق گورنر جگموہن کا خاصا کردار رہا ہے حالانکہ کئی پنڈتوں کوپاکستان سے آئے ہوئے تربیت یافتہ ملی ٹینٹوں نے بھی مارا لیکن اس سماج کا اکثر حصہ جگموہن کے بہکاوے میں آگیا میں سمجھتا ہوں کہ پنڈت برادری ہمارے سماج کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ان کو اپنے آبائی علاقے میں فی الفور آنا چاہیئے ہم ان کو گلے لگانے کیلئے تیار ہیں لیکن ان کیلئے علیحدہ پنڈت کالونیوں کا قیام کشمیریوں کو قبول نہیں ہوگا کیونکہ علیحدہ کالونیوں کا قیام فرقہ پرستوں کی سازش ہے۔
(س)تعلیمیافتہ نوجوانوں کی عسکریت پسندوں کے صفوں میں شمولیت کے کیا اسباب ہیں؟
(ج) ایک وقت تھا جب نئی دہلی میں بیٹھے لوگ عسکریت پسندی کو غریبی اور ان پڑھ نوجوانوں کا مشغلہ بتا تے تھے لیکن اب اعلیٰ تعلیمیافتہ لوگ عسکریت پسندی میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ کشمیری نوجوانوں کو آج تک پس دیوار کیا گیا ہے اور جب تک ان نوجوانوں کو نئی دہلی کی حکومت اعتماد میں نہیں لے گی تب تک یہ لوگ برہان وانی کی تقلید کرتے رہیں گے۔’’ ہماری ریاست دُنیا کی سب سے زیادہ فوجی جماؤ والی ریاست ہے اور آج تک اس خطے میں فوجی تسلط کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جس نے بھی عوام کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اس کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا گیا۔ ‘‘
طاریق قرہ نے ملایا ہاتھ سے ہاتھ
کشمیر میں2016سے مسلسل تشدد اور اس کوروکنے میں ریاستی مخلوط حکومت کی مسلسل ناکامی پر استعفےٰ دینے والے پی ڈی پی کے بانی رکن اور سابق ممبر پارلیمنٹ طاریق حمید قرہ نے بالآخر18 فروری کو نئی دہلی میں کانگریس کے قومی صدر سونیا گاندھی‘نائب صدر راہول گاندھی اور پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر کی موجودگی میں باضابطہ کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی سونیا گاندھی نے قرہ کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قرہ کے آنے سے کانگریس ‘ریاست جموں و کشمیر میں مضبوط ہوگی۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طاریق حمید قرہ نے ریاستی مخلوط حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی پی اب ریاست میں آر ایس ایس کے منصوبوں کو عملی جامع پہنا رہی ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے گذشتہ سال ہی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا انہوں نے کہا کہ کانگریس قیادت پر ان کو بھر پور اعتماد ہے اور ریاست اور ملک میں جہاں بھی قیادت‘ چاہیئے مجھے استعمال کرسکتی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ طاریق قرہ کو کانگریس ٹکٹ پر سری نگر بڈگام پارلیمانی نشست سے منڈڈیٹ دیا جائیگا یا اُسے پردیش کانگریس کا صدر بنایا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ طاریق قرہ کا شمار ریاست کے مالدار سیاستدانوں میں کیا جاتا ہے اور کانگریس میں ان کی شمولیت سے جہاں سری نگر میں کانگریس مضبوط ہوگئی ہے وہیں پی ڈی پی کے ووٹ بینک پر اثر پڑنا لازمی بن گیا ہے اگر آنیوالے وقت میں قرہ پردیش کانگریس کے صد ر بنائے جاتے ہیں تو پی ڈی پی کے کئی ناراض لیڈران جن کے مراسم قرہ کے ساتھ بدستور قائم ہیں‘ کانگریس میں با ضابطہ شمولیت اختیار کرسکتے ہیں اُدھر ایک سینئر کانگریسی لیڈر نے بھی اس نمائندے کو اس ضمن میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ کئی پارٹیوں کے لیڈرس اب ریاستی کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔

Comments

comments