Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » یار غار، لمحات زندگی
یار غار، لمحات زندگی

یار غار، لمحات زندگی

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے دوست‘ تجارتی سفروں کے رفیق‘ اور آپؐ کی پاکیزہ سیرت واخلاق کے عینی شاہد تھے‘ اپنی دور اندیشی‘ ومعاملہ فہمی اور اصابت رائے کی قوت سے حقیقت تک پہنچ گئے ‘ احباب سے فرصت پاکر درِ رسالتؐ پر پہنچے‘ وحی و نبوت سے متعلق آپؐ کی زبان سے سنا‘ اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔ بعض روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ نبوت ملنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم آپ کے گھر تشریف لے گئے‘ اور اسلام کی پیشکش کی‘ حضرت ابوبکرؓ نے بلا چوں و چرا مان لیا‘اسی لئے حضور اکرم علیہ الصلاۃ والسلام کہا کرتے کہ:جس پر بھی اسلام پیش کیا‘کچھ نہ کچھ ترودکا اظہار ضرور پایا‘سوائے ابوبکر کہ اس نے بلاچوں وچرا قبول کرلیا۔
صدیق وعتیق:اس مرد آہن میں کبھی جنبش نہیں آئی، ابتداء سے انتہاء تک ایسی ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا کہ کبھی تو صدیقیت کے خطاب سے نوازاگیا، تو کبھی عتیق من النار کا اعزاز بخشاگیا۔اس سلسلے میں گرچہ آراء مختلف رہی ہیں کہ آیا عتیق وصدیق کا خطاب‘ آپؓ کے نام کا جزء کب بنا، لیکن صحیح بات تو یہی ہے کہ یہ اسلامی دور کا اعزاز ہے، جس سے آپؓ نوازے گئے۔امام ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے، جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکرؓ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے پاس تشریف لائے‘ تو حضور ؐنے فرمایا: کہ تم اللہ کی جانب سے جہنم کی آگ سے آزاد ہو، چنانچہ اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑگیا۔
اسی طرح واقعہ معراج کی جب اطلاع‘ قریش مکہ کو ہوئی تو فاتحانہ انداز میں مذاق اڑایا‘اور سمجھا کہ محمدؐ کو جھٹلانے کا یہ موقع خوب ہاتھ آیا‘ دوڑے ہوئے حضرت ابوبکر کے پاس پہنچے‘ اور کہنے لگے؛ دیکھو! اب تمہارے دوست محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے نیا شوشہ چھوڑا ہے، کہتا ہے کہ راتوں رات بیت المقدس گیا، پھر وہاں سے آسمانی دنیا کا سیر کیا، رب سے مناجات ہوئی،اور پھر واپس بھی آگیا۔
حضرت ابوبکرؓ نے صرف اتنا معلوم کیا کہ کیا واقعی انھوں نے یہی بات کہی ہے تو سب نے بیک زبان تصدیق کی تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ اگر وہ کہتے ہیں تو بالکل سچ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو معلوم ہوا تو آپؓ کو صدیق کا لقب دیا۔طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قسم کھاکر کہا کرتے تھے کہ ابوبکرؓکا نام صدیق،آسمان سے اترا ہے۔قبیلہ تیم جس سے آپ کا نسبی تعلق تھا، قریش میں کچھ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا، اس پر مستزاد یہ کہ ابھی تک یہ قبیلہ اسلام کی حلاوت سے آشنا نہ تھا، کہ وقت پرکچھ کام آسکے، نیز آپؓ کی جسمانی ساخت بھی حضرت عمروحمزہ رضی اللہ عنہما کی طرح مضبوط نہیں تھی کہ بچاؤ کیاجاسکے، لیکن ان سب کے باوجود، نئے دین کے دور رس تقاضوں کو صدیق کی ذات انگیز کیوں کرکرسکتی تھی، لہٰذا نہ دل میں مکہ کے سرداروں کا خوف آنے دیا جو سارے عرب میں محض اسلئے باعزت سمجھے جاتے تھے کہ بیت اللہ کے پیروہت اور متولی ہیں، اور نہ ان کے دشمنانہ رویوں اور نہ مخالفانہ طرز سے آپؓ کے پائے مبارک میں لغزش آئی، بلکہ اپنی زندگی کا اصل مشن ہی تبلیغ اسلام کو بنالیا، اور نئے دین کی اشاعت میں کسی قسم کا رخنہ آنے نہیں دیا، خواہ اس سلسلے میں انہیں کتنا کچھ بھی ستایاجاتا، لیکن آپؓ تھے کہ اسلام کی تبلیغ کیئے جارہے تھے۔ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی مْعَیط آگیا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی گردن مبارک میں چادر کا گھیراڈال کر بل دینے لگا، حضرت ابوبکرؓ کو جب معلوم ہوا تو دوڑے آئے، عقبہ کو پکڑ کر دھکا دیا،اور کہا کہ اے لوگو! کیا تم اس شخص کو اسلئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ یہ کہا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ایک اور موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے صحن حرم میں جہاں قریش کا مجمع تھا‘ علانیہ تبلیغ شروع کی‘ کافروں نے حضرت ابوبکرؓ کو پکڑ لیا، اور بے تحاشا مارنا شروع کیا‘ عقبہ بن ربیعہ نے چہرے پر جوتے اتنے مارے کہ پہچانا نہیں جاتاتھا، جب قبیلہ تیم کو معلوم ہوا تو آکر چھڑایا، گھر لے گئے، لیکن حالت نازک ہوگئی جس پر قبیلہ کے لوگوں نے عتبہ کو دھمکی بھی دی، شام تک بے ہوشی رہی، جب ہوش آیا تو سب سے پہلے حضور ؐکی خیریت معلوم کی، اور اس وقت تک چین نہیں آیا، جب تک کہ خود آکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے دار ارقم میں ملاقات نہ کرلی۔
سفر ہجرت میں یار غار کی رفاقت:سن دس ہجری میں بیک وقت دو دو محسن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اورابوطالب کے اٹھ جانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو جو غم ہونا تھا، وہ ہوا۔ اسی لئے یہ سال ’’ عام الحزن‘‘ کے نام سے تاریخ کی کتابوں میں جانا جاتا ہے۔ پھر مزید طائف کے سفر میں جو ناروا سلوک، طائف والوں نے کیا، جس سے مکہ کے کفار اور بھی جری ہوگئے اورہر طرح سے ستانے ہی نہیں بلکہ ختم کرنے (نعوذ باللہ) کی ناپاک کوشش سے بھی گریز نہ کیا، لیکن اللہ پاک نے اس کا انتظام پہلے سے ہی کررکھاتھا۔ یثرب والوں نے اپنے یہاں آنے کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ ہر طرح کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لی‘ چنانچہ محرم ۳۱ نبوی سے ہجرت شروع ہوئی ‘اور دو مہینے میں دو سو خاندان کے قریب یثرب پہنچ گئے۔ صرف کمزور قسم کے لوگ ہی بچے تھے۔ یا پھر دربار رسالت‘اور خاندان رسالت کے لوگ مصلحتاً بچ گئے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اجازت طلب کی تھی‘ لیکن ان کو یہ کہہ کر روک دیاگیا تھا کہ: ہوسکتا ہے کوئی اچھا ساتھی مل جائے، حضرت ابوبکر نے اشارہ سمجھ لیا تھا۔ اسلئے اسی وقت سے تیاریاں شروع کردی تھیں۔ دو اچھی سی سواریاں بھی خریدلی تھیں‘ اور خوب کھلاپلاکر فربہ بھی کرلیاتھا‘ بالآخر صفر کے اواخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو بھی ہجرت کا حکم مل گیا‘ اُدھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا معمول تھا کہ روز صبح وشام حضرت ابوبکرؓ سے ملنے ان کے گھرتشریف لے جاتے‘ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز خلاف معمول‘ سرپرکپڑا ڈالے ہوئے دوپہر میں تشریف لائے‘ اور تخلیہ میں حضرت ابوبکرؓ سے اپنے ارادے کا اظہار کیا کہ آج رات ہجرت کیلئے نکلنا ہے اور رفاقت تمہاری ہی رہے گی۔ حضرت ابوبکرؓ تو اُچھل پڑے‘ دوسری طرف دارالندوہ کے ابلیسی مشورے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو اشارۂ غیبی سے ہوچکی تھی۔ اسلئے حضرت علیؓ کو آج رات بستر پر سونے کا حکم دیا اور تہائی رات کے بعد کفار کے مجمع پر جوگھیرا ڈالے‘ دررسالت کے ارد گرد اسلئے بیٹھے تھے کہ صبح ہوتے ہی اجتماعی حملہ کرکے ہمیشہ کیلئے اسلام کا قصہ تمام کردیا جائے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ان پر شاہت الوجوہ پڑھتے ہوئے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے باہر نکل گئے‘اور حضرت ابوبکرؓ کے گھرپہنچے‘ حضرت ابوبکرؓ سراپا انتظار بیٹھے تھے‘ جلدی میں سامان تیار کیا‘ توشہ دان باندھنے کیلئے کچھ نہ ملا تو حضرت اسماء نے اپنا پٹکا چاک کرکے باندھا (اس طرح وہ ہمیشہ کیلئے ذات النطاقین کے نام سے مشہور ہوگئیں) حضرت ابوبکرؓ نے باقی ماندہ 5 ہزار درہم لئے‘ عقبی کھڑکی سے دونوں رفیق نکلے ‘ شہر سے تین چار میل دور غار ثور میں ایک دو روز کیلئے چھپ گئے‘ اس دوران حضرت ابوبکر کے صاحبزادے حضرت عبداللہ‘ قریش کی تمام نقل وحرکت پہنچاتے رہے ‘جواں سال صاحبزادی حضرت اسماء تمام خطرات کو انگیز کرکے کھانا پہنچایا کرتی، اور غلام عامر بن فہیرہ بکریوں کو چرانے اسی طرح لے آتے ضرورت کے مطابق دودھ وگوشت پلاتے اور کھلاتے‘ اس طرح حضرت ابوبکرؓ کا پورا گھرانہ ہجرت کے عمل میں شریک رہا اورجونہ شریک رہا مثلاً عبدالرحمان بن ابی بکر (جو ابھی تک کفر کی گندگی میں ملوث تھے) انھوں نے بھی اس راز کو بالکل فاش نہ کیا۔
خادم و مخدوم میں فرق:اہل یثرب کو پتہ چل چکاتھا‘ اسلئے سراپا انتظار بن کر چشم براہ تھے‘ لیکن ان میں اکثریت ان حضرات کی تھی‘ جنھوں نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو کبھی بھی نہ دیکھا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی چادر حضور ؐکے سرمبارک پر دراز کردی‘ تاکہ سایہ بھی ہوجائے، اور خادم و مخدوم میں فرق بھی ہوجائے۔ اس طرح حضرت ابوبکرؓ کا پورا گھرانہ اس ہجرت میں شریک رہا۔
مدنی زندگی:حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی مواخات قبیلہ خزرج کے ایک سرکردہ مسلمان سے ہوئی جس کا نام خارجہ بن زید بن زہیر یا زید بن خارجہ علی اختلاف القولین ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے یہ مواخاتی بھائی‘ مدینہ کی مضافاتی بستی میں رہتے تھے‘ طبائع کی ہم رنگی اور دینی جذبے کا انجذاب اس طرح رنگ لایا کہ اس انصاری بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی جن کا نام یا تو حبیبہ تھا یا مْلَیکہ حضرت ابوبکرؓ سے کردی جن سے حضرت ام کلثوم پیداہوئی‘ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی رہائش وہیں مقام ’’سْنح‘‘ میں بنالی تھی‘ جب مسجد نبوی ؐکے اردگرد کے پلاٹ مخصوص صحابہ میں تقسیم ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حصے میں بھی ایک پلاٹ آیا‘جس میں حضرت نے مکان تعمیر کرواکر‘مکہ کے اہل وعیال کو وہیں رکھا‘ لیکن خود حضرت کے وصال تک مقام ’’سْنح‘‘ میں مستقل قیام پذیر رہے‘ وصال نبوی کے بعد جب خلافت کی ذمہ داری آئی‘ اور مقام سنح میں رہ کر امور خلافت میں کوتاہی ہونے لگی تو پھر مدینہ مسجد نبوی والے مکان میں منتقل ہوگئے۔ البتہ ہفتہ میں جمعرات کو مقام ’’سْنح‘‘ جایا کرتے تھے۔
خدا و رسول کا نام چھوڑآیا ہوں:اس طرح اسلامی مملکت پھیلتی گئی‘ لیکن ۹ھ رجب میں‘ سرحد کے شمال کی جانب سے تشویشناک خبریں موصول ہونے لگیں کہ بازنطینی بادشاہ ہرقل‘ مسلمانوں پر حملہ آور ہونیوالا ہے‘ادھر شدید گرمی‘بلکہ ہوکا عالم ہے۔ صحابہؓ بے سروسامانی کے عالم میں ہیں۔ ابھی تو مختلف جنگوں سے فارغ ہوئے ہیں‘ جس میں جسم کا انگ انگ ٹوٹ رہا ہے‘ابھی سب سے زیادہ ضرورت تجارت و معیشت کی بحالی کی تھی‘ لیکن اسی عالم میں ایک منادی مسجد نبوی ؐسے اعلان کرتا ہے کہ : لوگو! دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے تیارہوجاؤ‘ اور جو بھی نقد اثاثہ ہو جہادی فنڈ میں جمع کردو‘لوگوں نے تمام ضرورتوں کو بالائے طاق رکھ کر‘ اپنی اپنی بساط کے مطابق مال و اسباب جمع کرنے شروع کئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کے ایک ثلث کا پورا خرچ اپنے ذمہ لیا‘ نیز ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے‘ اور ایک ہزار طلائی دینارنقد پیش کئے‘ حضرت عمر بن الخطاب کے پاس بھی اس موقع پر غیرمعمولی اسباب تھے‘ سب کا نصف لاکر حضور کی خدمت میں پیش کردیا‘ اور اس طرح ایک گونہ اطمینان محسوس کیا کہ آج اپنے ساتھیوں سے سبقت لے جائیں گے‘ لیکن دوسرے ایک نحیف و کمزور صحابیؓ دور سے اپنے سارے سامان لادے ہوئے آرہے ہیں‘ حضورؐ دریافت فرماتے ہیں کہ اہل وعیال کیلئے کتنا چھوڑا ہے‘انتہائی سادگی سے فرماتے ہیں کہ اللہ و رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ وہ صحابی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
پہلا امیر حج:۹ہجری کو عام الوفود بھی کہا جاتا ہے‘کیونکہ اب اسلام کا غلغلہ ہوچکا ہے اور لوگوں کا ایک تانتا ہے‘ جو وفود کی شکل میں مدینہ آرہے ہیں۔ پھر دین اسلام سے روشناس ہوکر حلقہ اسلام سے وابستہ ہورہے ہیں۔ اسی سن میں حج فرض ہوا‘ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے امیر حج کیلئے ابوبکرؓ کا انتخاب کیا اور تین سو صحابہؓ پرامیر حج بناکر مکہ روانہ کیا۔ مسلمانوں نے آپؓ کی امارت میں آزادانہ طورپر مناسک حج ادا کئے۔
آنکھوں سے اشک رواں:پھر آئندہ سال ایک ہجری میں اعلان عام ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم بنفس نفیس حج کیلئے تشریف لے جارہے ہیں‘ اسلئے لوگوں کا ایک انبوہ بعض روایتوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کا مجمع مکہ میں جمع ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا یہ آخری حج تھا‘ اسلئے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ حضور ؐنے اس موقع پر کئی وقیع خطبے دئیے‘ جن میں دین تمام اہم اصولوں کو کھول کھول کر بیان کئے اسی موقع پر الیوم اَکامَلاتْ لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً، نازل ہوئی حضور نے لوگوں کو اس آیت کی خوش خبری دی، سب لوگ خوش بھی ہوئے، لیکن بندۂ ابوبکرؓ تھا، جو پھوٹ پھوٹ کر روئے جارہا تھا‘ ساتھیوں کو تعجب بھی ہورہا تھا کہ ابھی تو اشک رواں کا کوئی موقع نہیں، لیکن وہ تو سمجھ رہا تھا کہ دین کی تکمیل کے بعد اب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی اس دار فانی میں کیا ضرورت ہے۔ اب اللہ پاک اپنے پاس بلانے والا ہے۔

Comments

comments