Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » ایشیاء » ایران سے ٹکر، ٹرمپ بھی بش کے نقش قدم پر!
ایران سے ٹکر، ٹرمپ بھی بش کے نقش قدم پر!

ایران سے ٹکر، ٹرمپ بھی بش کے نقش قدم پر!

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایسے وقت ایران پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ وہ6فریقی مذاکرات کے بعد نیو کلیر معاہدے کی روشنی میں اقوام متحدہ اور یوروپی یونین کی پابندیوں سے آزادی حاصل کر کے سعودی عرب اور ترکی کے مقابل ایک علاقائی طاقت بننے کی کوشش کررہا تھا۔ اس وقت جو پارٹی امریکہ میں برسر اقتدار آئی ہے اس کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران کو’’ بدی کا محور‘‘ قرار دیا تھا۔ٹرمپ نے اس کو ان7ممالک کی فہرست میں شامل کردیا جس نے ایران کے باشندوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ امریکہ کے رویہ نے پھر سے ایران کو وہی رُخ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک بین الاقوامی دباؤ کا شکار رہ چکا ہے۔ ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں میزائل تجربہ کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ان بندر بھپکیوں میں آنے والا نہیں ہے۔ ایران۔امریکہ دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے جب سے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں یہاں اسلامی انقلاب آیا ہے تب سے یہ ملک امریکہ اور مغربی طاقتوں کی نظروں میں کٹھک رہا ہے۔پہلے صدام حسین کے ذریعہ برسوں تک اس ملک کو جنگوں میں مشغول رکھا گیا پھر شیعہ ۔سنی اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے اس کو علاقہ میں یکا و تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اوباما نے اپنی صدارت کے آخری ایام میں نیو کلیر مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے ایران کو ایک بڑی راحت دی تھی لیکن ٹرمپ پھر سے اسی راستے پر چل پڑے ہیں جس میں ٹھہراؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس وقت ایران تنہا نہیں ہے ۔شام کے معاملے میں روس کے ساتھ اس کے تعلقات اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ ماسکو نے ایران کے خلاف کاروائی پر سعودی عرب کو بھی دھمکی دے رکھی ہے۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ تبدیلی کے دور سے گذر رہا ہے ۔ مختلف ممالک میں آمرانہ حکومتوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ابھی تک صرف سعودی عرب کو اس علاقہ ایک سرپرست کی حیثیت حاصل تھی لیکن مغرب کے پیدا کردہ شیعہ‘ سنی اختلافات کی وجہ سے ایران بھی ایک علاقائی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے اور شام و یمن میں ایران سعودی عرب کا کٹر مخالف ہے اور بشارالاسد اور حوثی باغیوں کو ہتھیار اور سپاہی فراہم کررہا ہے۔ عرب اور عجم کا جھگڑا بہت قدیم ہے یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے باعث سعودی عرب اور ایران میں سرد جنگ عرصہ دراز سے جاری ہے ۔ حال ہی میں آیت اللہ باقر النمر کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ایران‘عرب اختلافات کھل کر منظر عام پر آگئے ہیں یہ اختلافات اُمت مسلمہ کو مزید تباہی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ ایک طرف ایران کو اپنے خطہ میں ان مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے اس کی معیشت جس کے بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے تھے پھر سے تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔اگر ہم ماضی کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی ایران کو مسلسل بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔1979میں ایران میں جب رضا شاہ پہلوی کا دور ختم ہوا اور آیت اللہ خمینی کے ہاتھ میں اقتدار آیا تب عراق نے ایران پر حملہ کردیا۔عراق کے پاس کافی بہتر ہتھیار تھے لیکن صدام حسین کے سپاہی‘نو قائم شدہ پاسداران انقلاب کے جوانوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔کئی برسوں کی کوشش کے باوجود عراقی فوج ایران کے کسی ایک شہر تک بھی پہنچنے میں ناکام رہی۔عراق سے جنگ کے بعد ایران پر جو دوسری بڑی مصیبت آئی وہ بین الاقوامی پابندیاں تھیں۔ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اپنا قیمتی تیل ‘اناج اور دوسری اشیاء کے عوض فروخت کرنا پڑا۔ لیکن اس سے اسکی عسکری طاقت کمزور نہیں ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ایران اپنا عسکری ساز و ساما ن ‘ ہتھیار خود بنا رہا ہے۔ اس کی ان ہی طاقتوں کی وجہ سے بین الاقوامی طاقتوں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ نیو کلیر ہتھیار تیار کر لے گا اور وہ اس کو اسرائیل کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اوباما کے دور میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ اسرائیل کے طیارے ایران پر حملہ کرنے کیلئے تیار ہوگئے تھے لیکن سعودی عرب نے اپنے فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ایران نے مغرب کے آگے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔سخت معاشی پابندیوں کی وجہ سے جو مصیبت اور پریشانیاں آئیں ایرانی عوام نے صبر کے ساتھ انکا سامنا کیا لیکن ایران نے مذاکرات کا راستہ بھی کبھی ترک نہیں کیا جس کے نتیجہ میں بین الاقوامی پابندیوں کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ اگر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جنگوں اور اقدامات سے ایران کو ہی فائدہ پہنچا ہے۔2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا اور وہاں نوری المالکی کی قیادت میں شیعہ حکومت قائم کردی۔ایران نے عراق کے متحارب شیعہ گروپوں کو متحد کرتے ہوئے مقامی سیاست میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنایا۔اس کے ساتھ ہی اس کی علاقائی طاقت میں اضافہ ہوا اب جبکہ داعش کے خلاف مہم جاری ہے ایران کے تائیدی کئی شیعہ ملیشیا گروپ شمالی عراق میں دولت اسلامیہ کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔اُدھر شام میں ایران کی وجہ سے ہی روس کی آمد ہوئی ہے جس کے بعد بشارالاسد نے ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے جو ان کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔یمن میں حوثی باغیوں کو اس کی تائید اور مدد کسی سے پوشیدہ نہیں ہے مکہ مکرمہ تک نشانہ لگانے والے میزائل ایران کے ہی سربراہ کردہ ہیں لبنان میں حزب اللہ کو مضبوط بنا کر ایرا ن وہاں بھی اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جمہوریت قائم کرنے کے نام پر جو جو اقدامات کئے گئے ہیں ان کا فائدہ ایران کو ہوا ہے۔
ایران کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی سیاست پر مذہبی قائدین کا اثر بہت زیادہ ہے پاکستان کی طرح ایران کے عوام میں بھی امریکہ کے خلاف جذبات شدت سے پائے جاتے ہیں ایران ‘ امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں صرف دھمکیاں ہی دے سکتا ہے۔ ایران میں آزاد خیال یا جمہوریت پسند قائدین کو مغرب نواز کہا جاتا ہے ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی کافی تجربہ کار لیڈر ہیں۔ انقلاب کے وقت وہ آیت اللہ خمینی کے ساتھ تھے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیئے۔اسلئے انہوں نے اوباما کے ساتھ دوستی کرتے ہوئے معاشی پابندیوں کو ہٹانے میں بڑا رول ادا کیا تھا۔ ایران کے پہلے بعد از انقلاب وزیر اعظم مہدی بازرگان تھے۔ انہوں نے ایک مناسب‘سیکولر اور جمہوری دستور تیار کرنے کیلئے آیت اللہ سے اجازت حاصل کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں موجودہ نشیب و فراز کی بڑی وجہ اس کا دستور بھی ہے جس میں جمہوری طور پر منتخب ہونیوالے حکمرانوں پر مذہبی علما کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جہاں تک ایران کے امریکہ سے تعلقات کاسوال ہے شاہی حکومت کے دور میں دوامریکیوں کو خزانچی کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ اور روس دونوں نے ایران پر حملہ کیا۔امریکہ انکا حلیف ملک تھا۔اس کے بعد جب رضا شاہ پہلوی کا دور آیا تو امریکہ کے ساتھ تعلقات اور بھی گہرے ہوگئے۔1979کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ان تعلقات میں جو دراڑ پیدا ہوئی وہ اب مزید گہری ہوگئی ہے۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں قائم کی گئی تین یونیورسٹیوں‘ پہلوی یونیورسٹی‘شریف یونیورسٹی اور اصفہان یونیورسٹی کی بنیاد امریکی اداروں کے طرز پر رکھی گئی تھی1960کے دہے میں جب ایران میں تیل نکلنے لگا اس وقت سے ہی ایرانی عوام پر امریکہ کے اثرات کم ہونے لگے۔1970کے دہے میں اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے انسانی حقوق کے نام پر شاہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ شاہ نے ریڈ کراس سوسائٹی کو اپنی جیلوں کا معائنہ کرنے کی اجازت دی۔ کارٹر کے دور میں ہی امریکہ کی ایران کے تئیں پالیسی میں تضاد پیدا ہوا ایک طرف امریکہ شاہ کو یہ یقین دلاتا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف اقدامات اور پالیسوں کی تائید کرتا تھا۔
1979کے انقلاب کی ایک بڑی وجہ یہی امریکہ تھا ۔ امریکہ کے شاہ پر اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے اسلام پرستوں خصوصاً طالب علموں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ ایران سی آئی اے کے ہاتھوں کھلونا بن سکتا ہے۔ انقلاب کے دوران جب امریکہ نے شاہ کو پناہ دی تو برہم طلباء نے تہران میں واقع امریکی سفارت خانے کا محاصرہ کر لیا۔444دنوں تک52امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنائے رکھا وزیر اعظم مہدی بازرگان کی حکومت بے بس تھی۔ امریکہ نے ’’ آپریشن ایگل کلا‘‘ کے نام سے کاروائی کی۔ اس کاروائی میں8امریکی سپاہی ہلاک ہوئے۔ تاہم یرغمالیوں کو بچایا نہ جاسکا۔ 1981میں الجریا میں ایک معاہدہ ہوا جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔ اپریل 1980 میں امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیئے۔ انقلاب سے پہلے ایران۔امریکہ کے درمیان معاشی وفوجی تعلقات کافی گہرے تھے۔30ہزار امریکی تہران میں مقیم تھے۔ امریکی سفارتخانے کے محاصرے کے نتیجہ میں اس نے ایران کے12ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیئے۔ پابندیوں کی وجہ سے ایرانیوں کو امریکہ سے ادویات‘فاضل پرزوں‘غذائی اشیاء کی سربراہی منجمد ہوگئی۔ ایران پر پابندیاں 1995میں صدر بل کلنٹن نے لگائی تھیں۔ ان کا احیاء صدر جارج ڈبلیو بش نے کیا۔ البتہ بش نے ایران کو امریکہ کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے دوسرے ممالک کو بھی ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کیلئے مجبور کیا۔
1980کے دہے میں امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کی یہ جنگ9سال تک جاری رہی ۔ جنگ کے دوسرے نصف میں ریگن انتظامیہ نے بھی ایران کے خلاف کئی پابندیاں لگائیں تھیں جبکہ صدام حسین کی حکومت سے تعلقات کو مضبوط بنایا گیا۔ایک امریکی رپورٹ کے مطابق ریگن اور بش کے دور میں امریکہ نے عراق کو کئی کیمیکل اور دوسرے مہلک ہتھیار سربراہ کیئے۔1983میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارتخانے میں بم دھماکہ ہوا جس میں17امریکی مارے گئے۔امریکہ نے اس کا الزام حزب اللہ پر لگایا اور کہا کہ ایران کی مدد سے اس عسکری تنظیم نے یہ کاروائی کی ہے۔1998میں اعتدال پسند محمد خاتمی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل بحال کرنے کی کوشش کی ۔ 2000 میں امریکہ کے 4سینٹرس نے ایران کے کئی قائدین سے بات چیت کی تا ہم2001میں القاعدہ کے حملوں نے ایک مرتبہ پھر ان تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ کھڑی کردی۔ اگرچہ خاتمی نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کو یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ اس کاروائی کی ایران مذمت کرتا ہے اس کے باوجود9/11کے4مہینوں بعد ہی جارج ڈبلیو بش نے اپنی ایک تقریر میں ایران کو ’’ بدی کا محور‘‘ قرار دیدیا۔ اور خبردار کیا کہ اس کے میزائل تجربات اس کو مہنگے پڑسکتے ہیں ۔ 2003میں ایک بغیر پائلٹ کے طیارے کے ذریعہ جو کہ عراق سے بھیجا گیا تھا کہ ایران کے نیو کلیئر مقامات کی تصاویر حاصل کی گئیں۔اس عرصہ کے دوران عراق میں موجود امریکی فوج نے ایران کی سرحدوں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے کردستان تحریک کو ہوا دینے کی کوشش کی۔2005میں بش کی صدارت کا دوسرا دور شروع ہوا۔اس عرصہ میں ایران پر حملہ کرنے کی کئی تیاریاں کی گئیں۔خلیج میں بحری بیڑوں کو جمع کیا گیا لیکن ایران ان اقدامات سے کسی طرح پریشان نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنے طور پر اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بناتا رہا۔ جب احمدی نژاد صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ایران کے نیو کلیئر پروگرام کو پوری طاقت سے آگے بڑھایا۔ اور اس کو ایک جوہری ملک بنانے میں اہم رول ادا کیا۔گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہر طرح سے ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکہ کی تمام کوشیش ناکام ہوگیا تو بش انتظامیہ نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تھا۔

Comments

comments