Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » قوم پرست پارٹی کے قوم دشمن عناصر!؟ ہندو انتہا پسندی کا ایک اور چہرہ بے نقاب!
قوم پرست پارٹی کے قوم دشمن عناصر!؟ ہندو انتہا پسندی کا ایک اور چہرہ بے نقاب!

قوم پرست پارٹی کے قوم دشمن عناصر!؟ ہندو انتہا پسندی کا ایک اور چہرہ بے نقاب!

ایسے وقت جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس‘مالیگاؤں‘مکہ مسجد ‘ اجمیر دھماکوں کے ملزم ہندو انتہا پسندوں کو بچانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ایسے میں مدھیہ پردیش میں11افراد کی گرفتاری کے بعد ہندو انتہا پسندی کا ایک اور مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو ہمیشہ قوم پرستی وہ دیش بھکتی کا لبادہ اُڑھنے والی زعفرانی تنظیموں نے اس مرتبہ اس معاملے کو آئی ایس آئی کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے جن پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے دباؤ کا الزام عائد کیا جاتا ہے اس معاملے کے تار پاکستان میں ہونے کا انکشاف کیا ہے لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں13برس سے برسر اقتدار بی جے پی کی حکومت اس بات سے کس طرح غافل رہی ہے کہ اس کے کیڈر میں آئی ایس آئی کے ایجنٹ کام کررہے ہیں اور ان میں سے ایک اس کے آئی ٹی سیل کا رکن اور دوسرا گاؤ رکھشا سمیتی چلاتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے حالیہ عرصہ کے دوران پیش آنیوالے ٹرین حادثات کی تحقیق کے تار جوڑنے کی کوشش کی۔ آنجہانی ہیمنت کرکرے نے ابھینو بھارت کا پردہ فاش کیا تھا لیکن موجودہ بی جے پی حکومت اس کو کانگریس کی سازش قرار دیتی ہے اور سادھوی پرگیہ سنگھ ‘ سوامی اسیمانند جیسے ملزمین کی رہائی کو تقریباً یقینی بنا دیا گیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جس سادھوی کو مالیگاؤں دھماکوں کے الزامات سے بری کرانے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا تعلق بھی مدھیہ پردیش سے ہے۔سادھوی اور دیگر 7 کو آر ایس ایس پرچارک سنیل جوشی کے قتل کے مقدمہ سے بھی بری کردیا گیا ہے۔ سنیل جوشی‘سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کا ملزم تھا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ وہ معاملے کو بے نقاب کردے گا۔
مدھیہ پردیش میں ان گرفتاریوں کے بارے میں بھی میڈیا میں متضاد اطلاعات ہیں ریاستی پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ(اے ٹی ایس) نے پاکستان کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں 11 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ ان میں سے5کو گوالیار سے‘3کو بھوپال سے دو کو جبل پور سے اور ایک کو ستنا سے گرفتار کیا گیا۔ اے ٹی ایس سربراہ سنجیو شمی نے بتایا کہ مرکزی اور جموں و کشمیر کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے ان کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں گرفتار ستویندر اور داؤد نامی دو افراد جنہیں نومبر2016میں گرفتار کیا گیا دفاعی تنصیبات اور کیمپوں کی حساس معلومات رکھتے تھے تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ وہ آئی ایس آئی کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے لیڈر کی حیثیت سے بلرام کی نشاندہی کی جو کہ ستنا مدھیہ پردیش کا رہنے والا ہے اس شخص نے متوازی ٹیلیفون ایکسچینج بنایاہے جس کیلئے چین کے آلات کا استعمال کیا گیا ہے یہ سم باکس بھوپال ‘ گوالیار‘جبل پور اور ستنا میں لگائے گئے تھے۔ ان باکس کے ذریعہ کی جانیوالی انٹر نیشنل کالس بھی لوکل معلوم ہوتی ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال آئی ایس آئی سے روابط رکھنے اور ملک میں آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کو ہدایتیں پہنچانے کیلئے کیا جاتا تھا۔ گرفتار کئے گئے ان افراد میں ایک دھرو سکسینہ ہے جو بی جے وائی ایم کا لیڈر اور بی جے پی آئی ٹی سیل کا رکن ہے۔ آئی ٹی سیل فیس بک اور سوشیل میڈیا پر پارٹی کے مخالفین کے خلاف جوابی پروپگنڈہ پھیلانے کے علاوہ پارٹی کے کاموں کی تشہیر بھی کرتا ہے۔ ایک وشوا ہندو پریشد کا بھی لیڈر ملوث ہے۔ اس زعفرانی تنظیم نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ اس کا ضلع کنوینر اس ریاکٹ میں ملوث ہے اور اس نے ستنا ضلع گاؤ رکھشا سمیتی کے کنونیر آشیش سنگھ راتھوڑ کو تنظیم سے بر طرف کردیا ہے۔ راتھوڑ اور بلرام تجارتی شراکت دار ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران بلرام نے60لاکھ روپے راتھوڑ کے کھاتوں میں منتقل کیئے ہیں۔راتھوڑ اپنا نام منظر عام پر آتے ہی فرار ہوگیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔جب ضرورت پڑے گی طلب کیا جائیگا یہ بات واضح نہیں ہورہی ہے کہ یہ آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی کا کام کرنیوالا ریاکٹ ہے یا پھر حوالہ کاروبار انجام دینے والا ریاکٹ ہے جو معلومات سامنے آئی ہیں اور جو شواہد ملے ہیں اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹولی رقمی لین دین میں ملوث ہے کیونکہ اے ٹی ایس نے ان کے قریب سے ابھی تک کوئی حساس دفاعی معلومات برآمد ہونے کا انکشاف نہیں کیا ہے۔ دفاعی معلومات جموں وکشمیر میں گرفتار دو لوگوں کے قبضہ سے ملے تھے انہوں نے عہدیداروں کو بتایا تھا کہ اس کیلئے پیسے مدھیہ پردیش کے بلرام سے ملے تھے انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بلرام کے کہنے سے ہی انہوں نے حساس دفاعی معلومات حاصل کی تھیں۔
یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ یہ وہی مدھیہ پردیش ہے جہاں گزشتہ سال جیل سے فراری کے ڈرامہ میں سیمی کے8کارکنوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو دہشت گردی کے الزامات میں برسوں سے قید تھے اور عنقریب ان کی رہائی عمل میں آنیوالی تھی۔ حالیہ برسوں کے دوران عدالتوں نے کئی ایسے بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کردیا ہے جن کو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔ ان نوجوانوں کے خلاف ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا جو پیش کیا گیا وہ ناکافی تھا۔ اگرچہ ان نوجوانوں کو انصاف ملا لیکن ان کی زندگی کاقیمتی وقت جیل کی نذر ہوگیا۔20یا25سال کا نوجوان جب10تا12برس بعد جیل سے باہر نکلتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری میں مدھیہ پردیش بھی پیش پیش رہا ہے۔سیمی پر پابندی کے بعد سے یہاں1200سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ۔ پولیس سیمی پر واراناسی میں 2005 اور 2006 میں ہوئے دھماکوں کے علاوہ شرمجیوی ایکسپریس میں ہوئے دھماکوں کا الزام بھی لگاتی ہے ۔ 2007میں اُتر پردیش کے لکھنو‘فیض آباد کے دھماکوں کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کرتی ہے۔ اپریل2008میں مدھیہ پردیش پولیس نے رفیق مولانا نامی ایک شخص کے گھر پر چھاپا مارا اور9افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان میں5پڑوسی شامل تھے ۔ اخبارات کے تراشے جن میں سیمی کی خبریں چھپی ہوئی تھی۔مولانا کے گھر سے برآمد ہوئی اس کو دہشت گردی کا لٹریچر قرار دیا گیا۔ اندور کے محمد عمران انصاری نے ان ملزمین کا مقدمہ دس برس تک عدالت میں لڑا یہ ثابت کرنے کیلئے یہ افراد دہشت گرد نہیں ہیں ۔ ایک خاتون عائشہ خان کے قبضہ سے جو کھنڈوا میں رہتی ہیں تحریک ملت نام کا ایک میگزین برآمد ہوا۔ اس میگزین کو دہشت گردی کا مواد قرار دیا گیا جبکہ یہ میگزین آر این آئی(ہندوستان میں رسائل‘ اخبارات کے رجسٹریشن کا ادارہ) میں رجسٹرڈ ہے اور حکومت نے کبھی اس کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ 2001 سے 2012کے درمیان مدھیہ پردیش میں ایسے 75 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں پولیس سیمی سے روابط رکھنے کے الزام میں متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھوپال‘ اندور‘سیوتی‘کھنڈوا‘برہان پور‘اجین اور گونا کی جیلوں میں قید رکھا ہے۔دہلی کی ایک تنظیم جے ٹی ایس نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ تیار کی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ان مقدمات میں ا ن جیلوں میں200سے زیادہ مسلم نوجوان قید ہیں اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں ‘دہشت گردی کے الزامات ہیں اور ان کے مقدمات کی سما عت انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش کی جملہ آبادی میں مسلمان6فیصد ہیں جبکہ جیلوں میں ا ن کی تعداد 13فیصد ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کے خلاف مقدمات اگرچہ بی جے پی کی موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ درج ہوئے لیکن کانگریس کے جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ جب ریاست کے چیف منسٹر تھے اس وقت سے ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
گزشتہ سال سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منور سلیم کے شخصی اسٹنٹ کو جب جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تو بی جے پی نے رکن پارلیمنٹ اور سماج وادی پارٹی کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ اب بی جے پی اور زعفرانی تنظیموں کو سانپ سونگ گیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ میڈیا جو ہمیشہ ایسے موقعوں پر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کیلئے اپنے صفحات کالے کرتا رہتا ہے ۔ ٹی وی پر مباحثے کرواتا ہے اب چپ سادھ لی ہے۔ زعفرانی بریگیڈ کے کارکن جب بھی پکڑے جاتے ہیں میڈیا اسی طرح خاموشی اختیار کرلیتا ہے بلکہ اس معاملے میں توجہ آئی ایس آئی پر مرکوز کی جارہی ہے۔ اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے کہ کیا اس ریاکٹ کا نوٹ بندی سے بھی کوئی تعلق ہے کیونکہ گرفتار لوگوں کے قبضہ سے118 اے ٹی ایم کارڈز بھی ملے ہیں۔ یہ کارڈ مختلف کھاتہ داروں کے ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے یہ کھاتے ہیں وہ اپنے اکاونٹس خود نہیں دیکھتے بلکہ ان کھاتوں کے ذریعہ جسے کالا دھن کو سفید کیا جاتا ہے اس پر ان کو5فیصد کمیشن دیا جاتا ہے لیکن مقامی میڈیا میں ہی یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ قومی میڈیا میں اس پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
قومی انگریزی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مدھیہ پردیش پولیس نے اس ریاکٹ کو بے نقاب کر کے پاکستان کی آئی ایس آئی کے’’پلان60‘‘ کو بے نقاب کیا ہے۔ اے ٹی ایس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے اس پلان کا مقصد ہندوستان کے60شہروں میں ایسے نیٹ ورک قائم کرنا اور دس ہزار سے زیادہ ایجنٹ بنانا ہے۔ مدھیہ پردیش میں اے ٹی ایس نے11افراد کو گرفتار کیا ہے تا ہم اخبار کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی تعداد19ہے۔ان سے پوچھ تاچھ اور فون پر ہونیوالی گفتگو سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی ملک میں اپنا نیٹ ورک پھیلا رہی ہے اور اس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق مدھیہ پردیش‘راجستھان‘جموں و کشمیر‘اُتر پردیش ‘بہار‘د ہلی ‘ مہاراشٹرا‘ چھتیس گڑھ‘گجرات میں نیٹ ورکس قائم ہوچکے ہیں۔پولیس نے ان 19افراد کے گزشتہ دو برسوں کے کال ریکارڈز محکمہ مواصلات سے طلب کیئے ہیں۔ مدھیہ پردیش اے ٹی ایس نے جن کو گرفتار کیا ہے ان میں دھرو سکسینہ‘منیش گاندھی‘موہت اگروال‘منوج بھارتی ‘ سندیپ گپتا‘رتیش کھولر‘خوش پنڈت ‘ جتیندر یادو‘ترلوک بھادریہ اور جتیندر ٹھاکر شامل ہیں۔
اے ٹی ایس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ26سالہ بلرام مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع سوہاش موضع کا رہنے والا ہے ۔ دو سال پہلے وہ ایک لاٹری کے دھوکہ دہی معاملے میں بھی ملوث رہ چکا ہے اس اسکام کا تعلق بھی سرحد پار سے تھا ۔ پاکستان کی آئی ایس آئی نے ہندوستان میں اپنی تخریب کاری سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے رقمی لین دین کیلئے اس شخص کا انتخاب کیا۔بلرام کے ذریعہ سے وہ اپنے ایجنٹوں تک رقومات پہنچاتے تھے اسی کے ذریعہ جموں و کشمیر میں پکڑے گئے دو ہندو انتہا پسندوں تک رقومات پہنچائی گئی جن کے ذریعہ دفاع اور فوج کی خفیہ معلومات پہنچائی جارہی تھیں ۔ ان دونوں کو سوچیت گڑھ میں ایک شمشان گھاٹ پر مشتبہ حالت میں گھومتے ہوئے پکڑ لیا گیا تھا۔ تفتیش پر انہوں نے سارا معاملہ بیان کردیا کہ وہ رقومات کیلئے آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی کرتے ہیں اور یہ معلومات واٹس اپ گروپ کے ذریعہ پہنچائی جاتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ رقم حاصل کرنے کیلئے ان کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ رقم ان کے کھاتوں میں خود بخود جمع ہوجاتی ہے۔ جب پولیس نے ان کے بینک کھاتوں کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ ان کے کھاتوں میں رقومات مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع سے جمع کی جاتی ہیں۔مدھیہ پردیش اے ٹی ایس سے رابطہ کرنے پر اس نے تحقیقات کیں اور ڈپازٹ سلپ پر تحریر کو بلرام کی تحریر سے ملا کر دیکھا اور مماثلت پائے جانے پر بلرام پر نظر رکھنا شروع کیا۔ ان کا فون بھی ٹیپ کیا جانے لگا۔ معلوم ہوا کہ پاکستان سے کسی کے کہنے پر بلرام نے 3یا4 اقساط میں 2تا 4 لاکھ روپے جمع کروائے۔اس طرح مکمل معلومات اور ثبوت جمع کرنے کے بعد یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔بلرام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نے کبھی ستویندر سے ملاقات نہیں کی۔ اس کو صرف بینک اکاؤنٹ دیا گیا تھا اور رقم جمع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بلرام کو رقومات حوالہ ریاکٹ کے ذریعہ ملتی تھیں۔بلرام گزشتہ3برسوں سے ستنا میں ایک کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔اس کے باپ کے پاس18ایکر اراضی ہے لیکن وہ اپنے بیٹے کی کرتوت سے واقف نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بلرام ملازمت کی تلاش میں دوبئی بھی گیا تھا ۔ دسویں جماعت میں ناکام ہونے پر اس نے تعلیم ترک کردی تھی۔ لیکن انگریزی اچھی طرح بول لیتا ہے۔ اس نے بی جے پی لیڈر دھرو سکسینہ کو اپنی ٹولی میں شامل کرتے ہوئے رقومات اس کے کھاتے میں جمع کروائی‘دھرو سکسینہ کی بی جے پی کے کئی قائدین بشمول چیف منسٹر شیو راج سنگھ چوہان کے ساتھ تصاویر منظر عام پر آئی ہیں اس کے علاوہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ کے ساتھ بھی اس کی تصاویر ہیں ۔ دھرو‘سوشیل میڈیا پر پارٹی پروپگنڈہ مہم چلاتا ہے حال ہی میں اس نے یوم جمہوریہ کی تصویر فیس بک پر ڈالی تھی جس میں اس نے دکھایا تھا کہ قومی ترانہ بجنے کے دوران نائب صدر حامد انصاری سلیوٹ نہیں کررہے ہیں جبکہ دوسرے قائدین سلیوٹ کررہے ہیں یہ حقیقت ہے کہ قومی ترانہ بجنے کے دوران سلیوٹ کرنا لازمی نہیں ہے لیکن اس پروپگنڈہ کے ذریعہ حامد انصاری کی حب الوطنی کو مشکوک بتانے کی کوشش کی گئی اور وہی سکسینہ اب آئی ایس آئی کا ایجنٹ نکلا ہے جس کی وجہ سے بی جے پی قائدین کی بولتی بند ہوگئی ہے۔ دھرو سکسینہ نے انٹر نیٹ پر چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال کے خلاف بھی زبردست پرو پگنڈہ مہم چلا رکھی تھی۔ نوٹ بندی کے خلاف جب چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی نے دہلی میں اپوزیشن کے احتجاج کی قیادت کی تو اس نوجوان نے ان کے خلاف بھی نفرت انگیز مہم چلائی۔ گزشتہ دنوں جب یو پی میں ایک ملعون پاکستانی فتح کی پروپگنڈہ مہم کو میڈیا نے شہرت دی تو اس فتح کی تائید و تعریف کرنے میں بھی یہی سکسینہ پیش پیش تھا۔ سکسینہ کے علاوہ اے ٹی ایس نے گوالیار سے جتیندر سنگھ کو گرفتار کیا ہے اس کے بی جے پی کے کئی قائدین سے تعلقات ہیں بلرام سنگھ کا تعلق جو اصل سرغنہ ہے بجرنگ دل سے ہے چوتھا شخص آشیش سنگھ راتھوڑ وشوا ہندو پریشد کا لیڈر ہے۔ اس طرح اس ریاکٹ کو چلانے والے تمام اہم لوگ زعفرانی بریگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا میڈیا‘ہمارے ٹی وی چیانلس نے اس کو بالکل نظر انداز کردیا۔ بنگلہ دیش میں دہشت گردوں کا حملہ ہوتا ہے۔ایک نوجوان کو شبہ کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ ذاکر نائک کی تقاریر سے متاثر ہوا تھا تو پورے ملک کا میڈیا ذاکر نائک کو ڈاکٹر ٹرر کا خطاب دیتا ہے۔ ان کے ادارے‘کھاتے سب منجمد کر لیئے جاتے ہیں ان سے تعلق رکھنے والوں کو‘ان کے اداروں میں کام کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن جب ایسا کوئی معاملہ اکثریتی طبقہ کے ساتھ ہوتا ہے تو میڈیا اس کو بالکل نظر انداز کردتیا ہے ۔ اگر کہیں کوئی مسلم نوجوان پکڑا جاتا ہے تو اس کو دہشت گرد تصور کر لیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں ایسی ایسی کہانیاں بتائی جاتی ہیں کہ لوگوں کو اس کے دہشت گرد ہونے کا یقین ہوجاتا ہے جبکہ ہندو انتہا پسندوں کے ہر معاملے پر پردے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ 1999 میں اڑیسہ میں آسٹریلین عیسائی مشنری اور ان کے دو بچیوں کو زندہ جلا دینے والا بجرنگ دل کا ہی لیڈر رداما سنگھ تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس‘ مالیگاؤں‘مکہ مسجد حیدرآباد اور اجمیر شریف میں دھماکے کرنیوالے زعفرانی بریگیڈ کے ہی لوگ تھے۔اجمیر دھماکوں میں جن5افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے4کا تعلق آر ایس ایس سے تھا۔ لیکن ان سب کو بے قصور قرار دینے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں پیش آئے ٹرین حادثات کی تحقیقات کرنیوالی این آئی اے نے اگرچہ ان واقعات میں بھی آئی ایس آئی کا نام لیا ہے لیکن جن لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے وہ سب ہندو ہیں اور ان میں سے ایک کا تعلق نیپال سے ہے۔ تا ہم نیپال کی پولیس نے دوبئی میں رہنے والے ایک شخص شمس الہدیٰ نامی شخص کو گرفتار کیا ہے اور اس کو اصل سرغنہ قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نیپال کے رہنے والے برج کشور گیری نے شمس الہدیٰ کی ہدایت پر اوما پٹیل‘مکیش یادو اور موتی پاسوان کو پٹریوں پر بم نصب کرنے کیلئے رقومات دی تھیں۔ ان کو بتایا گیا کہ اگر منصوبہ کامیاب ہوگیا تو3کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔پیشگی کے طور پر8لاکھ روپے دیئے گئے۔پاسوان نے ابتداء میں پریشر کوکر بم استعمال کیا ۔ یہ بم اس نے یکم اکتوبر2016کو موتیہاری کے قریب گھورسان کے مقام پر نصب کیا لیکن مقامی افراد کی اس پر نظر پڑگئی اور انہوں نے پولیس کو اس کی اطلاع کردی اس طرح سانحہ ٹل گیا اس کے بعد پاسوان نے گیاس کٹر کی مدد سے پٹریاں کاٹنا شروع کیا کوششوں میں ناکامی پر جب ان کو نیپالی ایجنٹ سے رقومات ملنا بند ہوگئی تو انہوں نے جھگڑا کیا اور یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔

Comments

comments