Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب » صاحب باتھ روم میں ہیں
صاحب باتھ روم میں ہیں

صاحب باتھ روم میں ہیں

ایک دن میں نے اپنے علاقہ کے نیتا بدری نارائن جی سے بات کرنے کیلئے فون کیا تو اُنکے پرائیوٹ سکریٹری نے کہا’’ صاحب باتھ روم میں ہیں۔ تھوڑی دیر بعد فون کریں۔‘‘ میں نے سوچا جب بدری نارائن جی باتھ روم میں ہیں تو کیوں نہ میں بھی باتھ روم ہو آؤں۔جیسا راجہ ویسی پرجا۔ کچھ دیر بعد اپنے باتھ روم سے نکل کر میں نے اُنہیں پھر فون ملایا تو جواب آیا’’ صاحب باتھ روم میں ہیں۔‘‘میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔’’ صاحب باتھ روم سے کب تک باہر آجائیں گے؟۔‘‘ سکریٹری بولا’’ عجیب آدمی ہیں آپ بھی۔موت اور آدمی کے باتھ روم سے نکلنے کا بھی بھلا کوئی وقت مقرر ہوتا ہے۔ وہ باتھ روم میں گئے ہیں تو کبھی نہ کبھی نکل ہی آئیں گے۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟‘‘۔
اور میں اُن اچھے دنوں کو یاد کرنے لگا جب نہ بدری نارائن جی کے گھر میں باتھ روم ہوا کرتا تھا اور نہ ہی میرے گھر میں۔کتنے اچھے دن تھے وہ جب کسی پرائیوٹ سکریٹری اور ٹیلی فون کی مدد کے بغیر کھلے میدان میں اُن سے صبح وشام ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔ بلکہ ہم لوگ تو ایکدوسرے سے کچھ دور بیٹھ کر کام کی باتیں بھی کر لیا کرتے تھے۔یہ ضرور ہے کہ بیچ بیچ میں کبھی’’ہیلو‘ہیلو‘‘ بھی کہنا پڑتا تھا۔
میں نے سوچا اتنی دیر میں کیوں نہ اُس افسر سے بات کر لی جائے جس کے پاس بدری نارائن جی سے سفارش کرانی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ اس افسر کا بھی ایک پرائیوٹ سکریٹری ہے اور کمبخت کے گھر میں وہ محفوظ جگہ بھی ہے جسے باتھ روم کہتے ہیں۔چنانچہ سیدھا سا جواب آیا’’ صاحب باتھ روم میں ہیں‘‘ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی پھر باتھ روم ہو آؤں۔مگر اپنے خیال پر ہنسی بھی آئی کہ عام اور معمولی آدمی کی قسمت میں اتنی دیر تک باتھ روم میں رہنا کہاں لکھا ہوتا ہے۔وہ بیچارہ تو دن بھر میں بڑی مشکل سے ایک بار ہی باتھ روم میں جانے کی ہمت کرسکتا ہے۔ اپنی پھوٹی قسمت کی وجہ سے اُسے تو ڈرائنگ روم یا بیڈ روم میں ہی رہنا پڑتا ہے۔اب بھلا بتائیے کہ گھر میں رہنے کی یہ بھی کوئی جگہیں ہیں۔ خیر یہ ایک اعتبار سے اچھا بھی ہے کیونکہ عام آدمی بھی اگر باتھ روم میں رہنے لگ جائیں تو ملک کیسے ترقی کرے گا اور مشکل یہ ہے کہ ملک کو باتھ روم میں بھیجا نہیں جاسکتا۔
خیر ایک گھنٹہ بعد میں نے بدری نارائن جی کو پھر فون ملایا۔ اس سے پہلے کے اُن کا پرائیوٹ سکریٹری اُنہیں پھر باتھ روم میں بھیج دیتا میں نے خود ہی پوچھ لیا’’ ہیلو! کہیں بدری نارائن جی باتھ روم میں تو نہیں ہیں؟‘‘۔ سکریٹری حیرت سے بولا’’ تمہارے سونگھنے کی طاقت بڑی زبردست لگتی ہے۔ اتنی دور سے پتہ چلا لیا کہ صاحب باتھ روم میں ہیں۔‘‘ میں نے کہا’’بھیا! ایسی بات نہیں ہے۔ ایک گھنٹہ پہلے جب میں نے فون کیا تھا تو پتہ چلا کہ وہ باتھ روم میں ہیں‘ میں نے سوچا اب تک وہ واپس آگئے ہوں تو بات کر لوں۔‘‘سکریٹری بولا’’ ایک گھنٹہ پہلے دوسرے پرائیوٹ سکریٹری نے اُنہیں وہاں بھیجا تھا۔ اب میری ڈیوٹی ہے۔‘‘ میں نے کہا’’ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب اُنہیں باتھ روم میں بھیجنے کی ذمہ داری تمہاری ہے۔‘‘ سکریٹری بولا’’ میری ڈیوٹی اس وقت شروع ہوگی جب وہ باتھ روم سے باہر آجائیں گے۔ابھی تو وہ وہیں ہیں۔‘‘ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے ٹیلیفون کا ریسور گر گیا۔جب یہ نیچے گر گیا تو اس میں سے قہقہہ بھری آوازیں آنے لگیں’’ رانگ نمبر۔رانگ نمبر۔‘‘میں سوچنے لگا کہ ہمارا ٹیلیفون سسٹم بھی عجیب ہے۔ ساری بات کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ نے رانگ نمبر ملایا تھا۔ اس دن بھی میں نے بدری نارائن جی کا فون نمبر تو صحیح ملایا تھا لیکن وہ غلط جگہ مل گیا تھا کیونکہ ہم نے بدری نارائن جی کو ایک عالیشان کوٹھی میں بھیجا تھا اور وہ باتھ روم میں جا کر بیٹھ گئے۔اس میں ہمارا ٹیلیفون سسٹم کا کیا قصور۔
شائد ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جب میں کسی بڑے آدمی کو فون کروں اور مجھے یہ اطلاع نہ ملے کہ وہ باتھ روم میں ہے۔ اِدھر جب سے بڑے آدمیوں نے زیادہ سے زیادہ باتھ روم میں رہنے کی عادت ڈال لی ہے تب سے آدمی اور گھر دونوں کا تصور ہی بدل گیا ہے۔ پرسوں کی بات ہے۔ میں نے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی تو میری بیوی نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا۔’’ جی! وہ تو باتھ روم میں ہیں؟‘‘ میں نے حیرت سے اُ س کی طرف دیکھ کر پوچھا’’ کیا گھر میں کوئی مہمان آیا ہے؟میں تو تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔پھر باتھ روم میں کون ہے۔‘‘
وہ بولی’’ تم ہو تم۔اور کون ہوگا۔‘‘ میں نے غصہ سے کہا’’ مگر میں تو یہاں بیٹھا ہوں۔‘‘وہ بولی’’ وہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ تم یہاں بیٹھے ہو۔ لیکن میری خواہش ہے کہ تم بھی بڑا آدمی بنو۔تمہیں بھی بڑا آدمی بننے کا حق حاصل ہے۔میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ تم جب بھی کسی بڑے آدمی کو فون ملاتے ہو تو وہ ہمیشہ باتھ روم میں ہوتا ہے اور تم ہو کہ سارا دن ڈرائنگ روم میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہو۔آخر میں بھی تو بڑے آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہوں۔ آج سے تم باتھ روم میں رہنے کی کوشش کرو۔ اگر نہیں رہتے تو میں وہاں رہنے لگ جاؤں گی‘ میں تو صرف’’ پہلے آپ پہلے آپ‘‘ کے چکر میں ماری جاری ہوں۔‘‘
ایک زمانہ تھا جب گھر کے نقشہ میں باتھ روم ایسا ہی ہوتا تھا جیسے دُنیا کے نقشہ میں آسٹریلیا۔ بالکل الگ تھلگ۔مگر اب باتھ روم ہی اصل گھر نظر آنے لگا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک اخبار میں اشتہار پڑھا تھا جس میں لکھا تھا’’ ضرورت ہے ایک خوشنما بڑے باتھ روم کی‘ اس کے ساتھ اگر ایک اٹیچڈ بیڈ روم ہو تو ٹھیک رہے گا۔ نہ ہو تو بھی چلے گا۔ میں نے سوچا تھا اشتہار دینے والا یقیناًپیٹ کی کسی بیماری کا مریض ہوگا مگر اب پتہ چلا کہ وہ بڑا آدمی تھا۔پیٹ بڑا بدکار ہے۔ پیچش کے مریض اور بڑے آدمی دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیتا ہے۔ ایک بار ہمیں ایک بڑے آدمی کے باتھ روم میں جانے کا موقعہ ملا تھا۔ ہم نے تو اُسے دیکھ کر ہی دنگ رہ گئے تھے۔اتنا بڑا باتھ روم تھا کہ اس میں ہمارا سارا گھر آنگن سمیت سما سکتا تھا۔ کیا خوشنما ٹائیلیں تھیں۔کیا بھڑکیلے آئینے تھے۔ہم تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر اتنا دنگ رہ گئے کہ اسے استعمال کئے بغیر ہی واپس آگئے اور بڑے آدمی سے ڈرتے ڈرتے کہا’’ ہم آپ کی ہمت کو مان گئے کہ ایسی پیاری جگہ کو آپ باتھ روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں یہ حوصلہ نہیں ہے۔ اگر اجازت ہو تو ہم آپ کے بیڈ روم کو باتھ روم کے طور پر استعمال کر لیں۔‘‘ اور اس کے بعد اس بڑے آدمی نے ہمیں کبھی اپنے گھر میں آنے نہیں دیا۔
دوستو! ہماری باتوں کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم سرے سے باتھ روم کے ہی خلاف ہیں۔ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر آج کے بڑے آدمی نے اپنے رہن سہن کے طریقے بدل لئے ہیں اور وہ باتھ روم میں زیادہ رہنے لگا ہے تو پھر ٹیلیفون کا آلہ اپنے ڈرائنگ روم میں کیوں لگواتا ہے۔ باتھ روم میں ہی لگوالے بلکہ ڈائننگ ٹیبل بھی وہیں لگوالے تو کیا حرج ہے۔ کئی بار تو عوام پانچ پانچ برسوں تک بڑے آدمی کو ڈرائنگ روم اور اس کے دفتر میں ڈھونڈتے رہتے ہیں اور وہ باتھ روم میں بیٹھا رہتا ہے۔

Comments

comments