Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » شام میں چار لاکھ بے قصور مسلمانوں کا خون بہادیا گیا!
شام میں چار لاکھ بے قصور مسلمانوں کا خون بہادیا گیا!

شام میں چار لاکھ بے قصور مسلمانوں کا خون بہادیا گیا!

تاریخ اسلام کے اہم ترین ملک شام کو جس کا حوالہ احادیث میں بہت زیادہ آیا ہے‘ تباہ و برباد کرنے کے بعد ایران ‘روس اور ترکی کی ثالثی میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام کی بشارالاسد حکومت کے نمائندوں اورباغیوں کیدرمیان امن مذاکرات ہوئے جس میں اولین ترجیح جنگ بندی کو دی گئی شام کے حکمراں بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے خانہ جنگی چھ سال پہلے شروع کی گئی تھی اس دوران اب تک اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق4لاکھ بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ لاکھوں پناہ کی تلاش میں دُنیا بھر میں بھٹک رہے ہیں۔ مسلم ممالک کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار امریکی مصالحت نے جب اس کی کمر توڑ دی تو روس نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ اس وقت شام کے ایک شہر الباب کو جو کہ صوبہ ادلیب میں ہے‘ داعش سے آزاد کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 2014 میں ملک کے نصف حصہ پر قبضہ کرنیوالے داعش کا قبضہ اب صرف اس شہر تک محدود رہ گیا ہے۔ روسی فوج ترکی کی مدد سے اس شہر کو آزاد کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ تا ہم جب تک داعش کا ملک کے شمالی حصے پر قبضہ رہا اس نے نہ صرف تمام غیر مسلموں کو نکال دیا بلکہ رومن اور دوسری تاریخی یادگاروں کا نا م و نشان مٹا دیا جس میں پالیمرا بھی شامل ہے۔ آستانہ مذاکرات کا مقصد اس تباہ شدہ ملک میں مزید انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے روکنا تھا۔ ترکی ان مذاکرات میں باغیوں کی طرف سے حصہ لے رہا ہے۔ بشارالاسد کا تعلق شیعہ علوی فرقہ سے ہے۔ خطہ کے دیگر ممالک کی طرح جب یہاں بھی عوامی بغاوت کا آغاز ہوا تو اسد نے فوج کے ذریعہ اس کو کچلنے کی کوشش کی اس وقت ان کے پاس3لاکھ کی فوج تھی ۔ تا ہم کاروائی کو ظلم وستم قرار دیتے ہوئے سعودی عرب ‘قطر اور ترکی باغیوں کی مدد کو آگئے۔ اس طرح ایک خونریز تصادم کی شروعات ہوئی۔ باغیوں کی تائید امریکہ بھی کررہا تھا لیکن اس نے لیبیا کی طرح شامی باشندوں کی کوئی مدد نہ کی۔ جب باغیوں نے جو سنی مسلح گروپس پر مشتمل ایک گروپ تھا اسد کو صرف دمشق تک محدود کردیا تو داعش کا اچانک جنم ہوا۔ یہ گروپ بھی سنی باغی گروپ پر مشتمل تھا۔ اس میں کئی غیر ملکی جنگجو لڑ رہے تھے۔ داعش کے شام پر قبضہ کی وجہ سے سعودی عرب اور قطر نے باغیوں کی تائید و مدد بند کردی جو صرف لبنان سے متصل کچھ علاقوں اور دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں تک محدود ہوگئے تھے۔ اس طرح اب مقابلہ داعش اور بشارالاسد کی فوج میں شروع ہوا۔ داعش کی بیرون ملک تخریب کاری جیسے پیرس حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کو شام کے معاملے میں دخل اندازی کرنا پڑا۔ امریکہ نے 14 ممالک کا اتحاد قائم کرتے ہوئے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی لیکن جب سعودی عرب اور ترکی نے شام میں زمینی دستے بھیجنے کا اشارہ دیا‘ ایران نے فوری روس کی مدد حاصل کر لی اور روس بشارالاسد کی مدد کو آگیا ۔ اس وقت دیڑھ تا دو لاکھ بے قاعدہ فوج اور لبنان میں موجود عسکری تنظیم حزب اللہ کے5تا8ہزار جنگجو بشارالاسد کاساتھ دے رہے ہیں ان کی مدد کیلئے روس نے اپنے ایلیٹ سپاہی شام میں اُتارے ہیں۔ روس کی آمد کے بعد شام کے حالات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئیں اور داعش کا قبضہ اس وقت چند علاقوں تک محدود ہوگیا ہے۔روس کی ستمبر2015سے اب تک کی بمباری میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ اسد کی فوج نے حلب جیسے اہم شہر کے منجملہ کئی کلیدی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایران بشارالاسد کو نہ صرف مالی بلکہ ہتھیاروں سے بھی مدد فراہم کررہا ہے۔ اس وقت اسد کا ملک کے 34 فیصد علاقہ پر قبضہ ہے جس میں دارالحکومت دمشق اور حلب شامل ہیں۔ اس وقت16ملین شامی باشندے (یعنی 1.6 کروڑ ) ہنوز ملک میں ہیں۔ یہ آبادی بشارالاسد کے دور میں ملک میں مقیم آبادی کا65فیصد ہے۔
شام کے باغی کئی گروپوں میں منقسم ہیں جن میں اعتدال پسند اسلامی گروپس بھی ہیں اور کٹر پسند مسلح تنظیمیں بھی ہیں ایک اندازے کے مطابق ان گروپس کے تقریباً ایک لاکھ جنگجو سرگرم ہیں۔ فری سیرین آرمی کے نا م سے انہوں نے اپنا اتحاد قائم کیا تا ہم ان میں پھوٹ پڑگئی اور داعش الگ ہوگیا۔ احرار السلام ایک طاقتور اعتدال پسند گروپ تھا جس کی تائید القاعدہ نے بھی کی تھی۔ اس نے حلب اور ادلیب جیسے بڑے شہروں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ جو اب اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں اور بشار الاسد کی فوج کا اس پر دوبارہ قبضہ ہوگیا ہے۔ فتح الشام نامی ایک اور گروپ ہے جو کٹر پسند ہے۔ ایک گروپ جسکو سعودی عرب کی تائید حاصل ہے جیش الاسلام ان مندوبین میں شامل ہے جنہوں نے آستانہ مذاکرات میں شرکت کی۔باغیوں کے قبضہ میں اس وقت صرف13فیصد حصہ ہے۔ شام کی12.5فیصد آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے ۔ دو کٹر پسند جہادی گروپس آپس میں لڑ رہے ہیں ایک دولت اسلامیہ اور دوسرا فتح الشام2014کے وسط میں نصف شام اور عراق پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہوگیا تھا یہی شام کی لڑائی میں ٹرننگ پوائنٹ یعنی اہم موڑ ثابت ہوا اور لڑائی کا رخ عوامی جدوجہد کی طرف سے دہشت گردی کی سمت مبذول ہوگیا۔ عراق اور شام کے مقبوضہ علاقوں سے دولت اسلامیہ نے خلافت کا بھی اعلان کردیا تا ہم پہلے امریکہ اور اب روس کی اندھا دھند بمباری نے اس کی کمر توڑ دی ہے اور اس کو نشانہ بنانے کیلئے بے دریغ استعمال کیئے گئے بموں کی زد میں آکر لاکھوں بے قصور اور معصوم شامی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ابھی تک اس کے خود ساختہ دارالحکومت الرقہ کو آزاد نہیں کرایا جاسکا ہے۔ فتح الشام جولائی2016میں اتحاد سے الگ ہوا تھا۔ تاہم روس اور امریکہ کی بمباری میں اس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ شام کی خانہ جنگی کا ایک اور فریق بھی ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں رہنے والے کردوں کو امریکہ اسلحہ اور تربیت دونوں فراہم کررہا ہے۔ ترکی‘ عراق‘ ایران کی مخالفت کے باوجود اس (امریکہ )نے کردوں کی خود اختیاری کو تسلیم کر لیا ہے ۔کردوں کی عسکری تنظیم پیپلز پروٹکشن یونٹ کا شام کے20فیصد علاقہ پر قبضہ ہے۔ ترکی کے ساتھ متصل سرحد کے شامی علاقوں کا اس نے 75فیصد کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ شام کی12.5 فیصد آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے اس وقت کرد جنگجو رقہ کو داعش سے حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ایسے میں سنی ممالک سعودی عرب‘قطر اور ترکی باغیوں کی تائید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں ترکی اور روس کے درمیان فضائی حملوں کے سلسلے میں معاہدہ ہوا تھا۔ 10 جنوری 2017 سے دونوں نے مشترکہ طور پر بمباری شروع کی ہے۔ داعش کے خلاف امریکہ اور روس کی بمباری جاری ہے۔ امریکی اتحاد میں آسٹریلیا‘ فرانس‘ کینیڈا‘ برطانیہ ‘ اردن‘ نیدر لینڈ‘سعودی عرب‘ترکی اور یو اے ای شامل ہیں۔
جنگ بندی کے سلسلہ میں آستانہ میں جو مذاکرات ہوئے ہیں ان میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں صرف جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے۔ باغیوں نے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہونے کیلئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بشارالاسد کی حکومت کی طر ف سے پیش ہونیوالے مذاکرات کار بشار الجعفری نے کہا کہ بات چیت کو اس وجہ سے کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کہ جنگ بندی سے اتفاق کیا گیا ہے اس بات چیت کے وقت بشار الاسد کی فوج وادی براوا پر حملے کررہی تھی جس کو روک دیا گیا تھا۔یہ مقام دارالحکومت دمشق سے صرف15کیلو میٹردور ہے تا ہم الجعفری نے بتایا کہ یہ حملے جاری رہیں گے۔ اسلئے یہ بات غیر یقینی لگتی ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو جنگ بندی کس طرح ہوگی۔
مذاکرات اور مفاہمت کے اس ماحول میں ان لاکھوں شامی باشندوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جن کی مدد کیلئے 4.63 ارب ڈالر کی رقم فراہم کرنے کی اقوام متحدہ اپیلیں کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جو لوگ شام میں رہ گئے ہیں وہ بھی خوراک‘پانی اور دوسری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ان کی مدد کیلئے بھی3.4ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ 2011سے جب سے شامی خانہ جنگی کا آغاز ہوا ہے۔ پڑوسی ممالک کے علاوہ لاکھوں پناہ گزیں یورپ میں رہ رہے ہیں۔یہاں کئی ممالک نے ابھی تک ان کو قبول نہیں کیا ہے اور اگر کیا بھی ہے تو صرف چند ایک ہزار لوگوں کو ہی سہولت دی گئی ہے ۔ گزشتہ 6 برسوں سے شام کے مسئلہ کا نہ تو سیاسی حل تلاش کیا جاسکا نہ فوجی حل نکالا گیا جس کی وجہ سے شام میں مقیم افراد جو وطن چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا یا امن کی آس لگائے ہوئے ہیں شہریوں کیلئے ایک محفوظ زون بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں یہ زون بنانے کی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ شام کے پڑوسی ممالک نے مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اردن‘ عراق ‘ لبنان‘مصر‘سعودی عرب میں گنجائش سے زیادہ پناہ گزیں آباد ہیں۔
یوروپ میں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کی مخالفت میں زبردست اضافہ ہورہاہے ۔ اگرچہ یوروپی یونین نے اس مسئلہ کوحل کرنے کیلئے متعدد اجلاس منعقد کئے لیکن کوئی بھی ملک پہل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پناہ گزینوں کے بارے میں انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے افواہیں پھیلائے جانے کی وجہ سے یونان ، آسٹریا ، ہنگری یہاں تک کہ فرانس میں بھی حملے ہورہے ہیں اور ان کے کیمپوں کو آگ لگائی جارہی ہے۔ بشارالاسد باغیوں کے علاقہ میں موجود شامی لوگوں کو باہر نکالنے کیلئے جو حربے اختیار کر رہے ہیں ، وہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور انسانیت کی روح کے خلاف ہیں۔ بشارالاسد کی فوج جن علاقوں کا بھی محاصرہ کرتی ہے ، وہاں روسی طیاروں کے ذریعہ اسکولوں ، اسپتالوں اور مارکٹوں کو تباہ کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح لوگوں کو کھانے پینے کا محتاج بنادیا جاتا ہے تاکہ لوگ مجبور ہوکر باہر آجائیں۔ خیال ہے کہ باغی بشارالاسد کی فوج یا روسی حملوں سے بچنے کیلئے عوام کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ اس طرح شامی عوام چکی کی طرح پس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے ناٹو کی مدد سے شامی عوام کیلئے ایک سیف زون بنانے پر غور کیا تھا ۔تاہم جب یہ اندازہ لگایا گیا کہ اس کیلئے 15 تا 30 ہزار امریکی سپاہیوں کی ضرورت ہے اور ہر مہینہ اس پر ایک ارب روپیوں کا خرچ آئے گا تو اس تجویز کو مسترد کردیا گیا ۔ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد جنہوں نے روس کے ساتھ دوستی کا اشارہ دیا ہے ، امید کی جارہی ہے کہ شام کے عوام کو کچھ راحت ملے گی ۔ تاہم شیعہ سنی اختلافات امن کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے فی الفور جنگ بندی کے امکانات موہوم ہوگئے ہیں۔

Comments

comments