Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » اللہ اپنے گھر کی حفاظت خود کرے گا !
اللہ اپنے گھر کی حفاظت خود کرے گا !

اللہ اپنے گھر کی حفاظت خود کرے گا !

مسلمانوں کے تمام مسالک اور فرقوں کیلئے مکہ مکرمہ سب سے مقدس مقام ہے اور کعبتہ اللہ کی عظمت اور حرمت سے کسی کو انکار نہیں ہے تا ہم گزشتہ ایک سال سے یہاں پیش آئے واقعات نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ گزشتہ دنوں ایک شخص نے خانہ کعبہ کے غلاف پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی ۔ وہاں موجود لوگوں اور سیکوریٹی کے جوانوں نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ وہ ذہنی بیمار ہے اور یہاں خود کشی کرنے کے ارادے سے آیا تھا اسکا ماننا ہے کہ اللہ کے گھر کے پاس مرنے سے سیدھے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اس سے پہلے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائیل مکہ مکرمہ کے حدود میں گر کر پھٹ گئے تا ہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔1970 کے دہے میں مسجد الحرام میں دہشت گردوں کے ساتھ خونریز تصادم بھی ہوا تھا۔ 2016 میں مسجد الحرام پر کرین گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ایک مرتبہ ایسا سیلاب بھی آیا کہ کعبتہ اللہ نصف پانی میں ڈوب گیا ۔ان تمام واقعات کے باوجود اللہ کا گھر اور مسلمانوں کا قبلہ جہاں ہے وہاں ہی کھڑا ہے۔ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اسی طرح اللہ نے اپنے گھر کے حفاظت کی ذمہ داری بھی لی ہے۔قرآن مجید کے سورہ فیل میں اللہ تعالیٰ نے معمولی ابابیل کے ذریعہ ابرہا کے ہاتھیوں کو مار بھگانے کے واقعہ کا تذکرہ کیا ہے جو کعبتہ اللہ کو ڈھانے یمن سے آیا تھا۔ ماضی کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ داعش کے ایک لیڈر نے بھی یہ کہہ کر کعبتہ اللہ کو اُڑانے کی دھمکی دی تھی کہ اس میں لگا حجر اسود ایک پتھر ہے اور اسلام میں پتھروں کو پوجنا کفر ہے۔کعبتہ اللہ یعنی اللہ کا گھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیلٰ علیہ السلام کے حکم سے اس وقت بنایا تھا جب دور دور تک کسی آبادی یا بستی کا نام و نشان نہیں تھا۔ دور جدید میں جو اندازے لگائے گئے ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ چاروں خانوں والا اللہ کا گھر دُنیا کے عین وسط میں ہے۔اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی اس کی بنیادوں پر ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر کی۔ ایک پتھر کم پڑ رہا تھا‘اللہ نے جنت سے حجر اسود کو اُتارا اور اس پتھر کو لگا کر تعمیر مکمل کی۔ حجر اسود دوبارہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے اللہ کے اس گھر میں اس وقت لگا جب قریش مکہ نے کعبتہ اللہ کی تعمیر نو کا کام انجام دیا۔ جس کو سیلاب کی وجہ سے نقصان ہوا تھا۔ حطیم بھی اسی وقت تعمیر کی گئی تھی تا کہ اس کو پانی سے بچایا جاسکے۔
کعبتہ اللہ کے طواف یعنی حج کیلئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان یہاں جمع ہوتے ہیں ۔ 24گھنٹوں میں صرف فرض نمازوں کے وقت ہی طواف روکا جاتا ہے۔ باقی دن رات کسی بھی لمحہ اس کا طواف جاری رہتا ہے۔ بیت اللہ کی اونچائی16میٹر اور چوڑائی ہر طرف سے کم و بیش12میٹر ہے۔ بیت اللہ کے جس کونے پر حجر اسود لگا ہوا ہے اسی کونے سے طواف شروع ہوتا ہے دوسرے کونے کا نام رکن عراقی ہے جہاں سے حطیم شروع ہوتی ہے۔تیسرے کونے کا نام رکن شامی ہے جہاں حطیم ختم ہوتی ہے۔چوتھے کونے کا نام رکن یمنی ہے۔ بیت اللہ کے اندر3ستون ہیں۔ اندر رکن عراقی کے پاس سے اُوپر جانے کی سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ کعبتہ اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جاتی ہے وہ قبول ہوجاتی ہے۔ سنت کے مطابق ہر سال اس کو غسل بھی دیا جاتا ہے۔ غلاف بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ عرب میں بنی شیبہ‘خاندان قریش کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔ عرصہ دراز سے بیت اللہ کی چابی اسی خاندان کے پاس ہے۔ ہجرت سے قبل اس کی چابی حضرت عثمان بن طلحہؓ کے پاس تھی جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے۔ بیت اللہ کا دروازہ صرف پیر اور جمعرات کو کھولا جاتا تھا ایک مرتبہ حضور ؐ نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ وہ دروازہ کھولیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر حضور اکرمؐ نے فرمایا اے عثمانؓ ایک دن ایسا آئے گا کہ بیت اللہ کی چابی میرے قبضہ میں ہوگی اور میں جسے چاہوں گا اس کو یہ چابی دوں گا۔کس جنگ کے بعد‘ مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آپؐ نے حضرت عثمانؓ سے وہ چابی منگوائی اور ان کو ہی کلید بردار مقرر کرتے ہوئے اپنے الفاظ یاد دلائے۔اس واقعہ کے بعد حضرت عثمان بن طلحہؓ نے اسلام قبول کر لیا۔بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر نو3مرتبہ ہوئی۔پہلی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی‘ دوسری تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ تیسری مرتبہ قریش نے کی اس وقت آپؐ کی عمر35برس تھی۔ اس کے صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے کعبتہ اللہ کے دروازے کو نیچے کردیا اور اس کے مقابل دوسرا دروازہ لگوایا تا کہ لوگ ایک میں سے گھس کر دوسرے سے باہر نکل سکیں لیکن83ہجری میں حجاج بن یوسف نے اللہ کے گھر کو اسی طرز کا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ دروازہ اونچا کردیا دوسرا دروازہ بند کردیا۔حطیم کی دیوار پیچھے کردی‘1021 میں سلطان احمد ترکی نے چھت دلوائی‘ دیواروں کی مرمت کروائی۔1039 میں بھی سیلاب کی وجہ سے کعبتہ اللہ کو نقصان ہوا تو سلطان مراد نے اس کی مرمت کروائی تھی۔ موجود دور میں شاہ فہد بن عبد العزیز کے دور سے مسجد الحرام کی توسیع و تعمیر کے کاموں کا آغاز ہوا۔

Comments

comments