Thursday , 21 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب » اور صبح ہوگئی
اور صبح ہوگئی

اور صبح ہوگئی

آج وہ جانے کس سوچ میں تھا بستر پر لیٹا ہوا آسمان کی چھت کو تک رہا تھا کہ’’ صدیوں سے پرانی یہ چھت جس کے زیر سایہ زمین پر بسنے والے لوگ کس امید پر اس سے لو لگائے ہیں کہ ان کے اپنے مکان کی چھت جگ جگہ سے نہ ٹپک پڑے۔‘‘کیوں؟ پھر وہ خاموش ہوگیا۔ جیسے اس کے جملے اِسے نوچ کھا رہے ہوں۔ یا پھر وہ شائد غفلت کی نیند سے جاگ اُٹھا ہو ورنہ اس کی اب تک کی زندگی بستر کی اس چادر جیسی تھی جو روز اس کے جسم سے تکیہ‘رضائی اور کاندھوں سے پراگندہ ہوجاتی اور ہفتہ کے ہفتہ دھل کر صاف ہوجایا کرتی تھی۔بالکل اس کے اپنے لباس کی طرح۔‘‘
پھروہ کروٹ بدل کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔ دور پھیلے اور بکھرے ہوئے چار راستوں کو جو چوراہے کی طرح ایک جگہ آکر مل گئے تھے۔ جس کے ارد گرد بجلی کے کھمبوں سے چاند کی سی روشنی پھیل رہی تھی۔ ان ہی راستوں پر کسی کے آتے ہوئے قدموں کے نقوش اور جاتے ہوئے قدموں کے نشان صاف اُبھرے نظر آرہے تھے۔
اسی اثناء میں اس کی آنکھوں سے آنسو اُمنڈ پڑے۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں کے سمندر میں کاغذ کی کوئی ناؤ غوطہ زن ہے۔ وہ اپنی تکلیف برداشت نہیں کرسکا۔ اس نے پھر آنکھیں موند لیں۔آنکھیں کھلی تو کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔ اس نے ایسا محسوس کیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک سایہ اس سے تقاضا کررہا ہے۔’’ وہیں رُک جاؤ سلمہ…رُک جاؤ سلمہ۔ میرے قریب نہ آؤ‘میں نے تمہارے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے۔ کاش مجھ سے وہ چار حرفی لفظ یکے بعد دیگرے تین بار نہ نکلا ہوتا‘‘۔ کاش میں جہیز کی لالچ اور فرمائش کے گندے گٹر میں گر کر اپنے ہوش نہ کھویا ہوتا…کاش…کاش میں تم سے الگ نہ ہوا ہوتا(جیسے اس کے اندر کا انسان اس کے گلے میں اس کے ضمیر کی بات اُگلوارہا ہو۔)
ابھی سلمہ اپنے دل کا دکھڑا سناہی رہی تھی کہ چوراہے کے دوسرے راستہ پر دو بچوں کے ہمراہ راحیلہ زار و قطار روتی ہوئی نظر آئی ایسے لگا جیسے آج ہی اس کے آشیا نہ کو کسی نے نذر آتش کیا ہو۔ اور وہ بیچاری اپنی اور اپنے چھوٹے بچوں کی جان بچا کر آسمان کے نیچے یا پھر کسی پیڑ کی لٹکی ہوئی ڈالی کے اُوپر اپنا گھونسلہ بنانے نکلی ہو۔ وہ یہ نظارہ دیکھ کر اِدھ مرا ہوگیا کیونکہ محض ناک و نقشہ کے تحت خانہ جنگی کر کے اُس نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس لئے نہ ہی اس کے لب ہلے اور نہ ہی اس نے کوئی حرکت کی لیکن اس کی آنکھیں آخری حد تک اُسے دیکھتی رہی۔
اب وہ بستر پر کروٹ بدل کر سوچ ہی رہا تھا….سامنے تیسرا راستہ مسکرارہا تھا۔ جس پر ایک ادھیڑ عمر کی خاتون بڑی للچائی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی اور وہ اس سائے کو بڑی دل پھینک نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا جیسے وہ اسے ابھی جھپٹ لے گا۔….مگر….اس کے بھڑکتے ہوئے جذبات‘دہکتی اور اُبلتی ہوئی خون کی گرمی تھوڑی ہی دیر میں ناریل کا تیل بن کر موم کی شکل اختیار کر گئی اور وہ بے بس ہو کر بستر پر پڑا رہ گیا۔ اپنی اس کمزوری کو چھپانے کیلئے اس نے اپنے اندر کے شیطان سے دوستی کر لی۔ اور زینت پر بانجھ کا الزام ٹھہرایا….اور اس سے بھی کسی طرح چھٹکارہ پالیا…..۔
’’ وہ شائد مسلمان تھا۔اس نے اپنی تمام شادیاں اسلامی شریعت کے مطابق کی تھیں مگر علیحدگی اس نے اپنے شیطانی ارادوں اور اُصولوں پر کی۔‘‘
پھر چوتھی شادی اس نے نکہت سے کی۔ اب بھی اس کی شادی میں بے شمار لوگ موجود تھے۔ اور اس کی ازدواجی زندگی اور خوشگوار لمحوں کیلئے آسمان کی چھت بنانے والے سے دعائیں مانگ رہے تھے۔ جس کی عمر نکہت کی عمر سے تین گنا زیادہ تھی۔ لیکن کیا؟ وہ پھولوں کی خوشبو بن کر ایک نیک خاتون کی طرح اس کے سماج‘اس کی زندگی اور اس کے گلشن کو ہرا بھرا کرسکے گی….اور کیا وہ اس گلشن کا مالی بن کر اس پودے کی نگہبانی کرسکے گا۔؟
اب وہ بستر پر پیٹھ کے سہارے لیٹا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں کے سامنے آئینہ کی طرح صاف پھیلا ہوا آسمان تھا۔دل میں پچھتاوا اور شرمندگی تھی۔ پھر جب اُسے اپنے آپ پر یقین ہوگیا کہ اس کی عبادت اس کے کپڑے کی طرح صاف اور چمکدار نہیں ہے….اس کی پیشانی تو دُنیا کے بازار میں اس طرح کے لوگوں کے سامنے بار بار جھکتی ہے..وہ زیر لب بڑ بڑائے جارہا تھا۔ صبح ہونے والی تھی اور قریب کی مسجد سے اللہ و اکبر کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔

Comments

comments