Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » قصہ، سردارجی کا
قصہ، سردارجی کا

قصہ، سردارجی کا

خبر پڑھتے ہی ایک قصہ یاد آ گیا۔خدا جانے کیوں ؟ قصہ پہلے کا پڑھا ہوا ہو،تو پھر بھی پڑھ لیجئے۔کیوں کہ خبر بھی کون سی ایسی ہے جو پہلے کی پڑھی ہوئی نہ ہو۔ایک سردار جی ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔ سفر بڑے مزے سے کٹ رہا تھا۔یکایک گاڑی ایک اسٹیشن پر جھٹکے سے رک گئی۔سردار جی نے گاڑی سے گردن نکال کر اسٹیشن کا نام پڑھا۔ایک جوش اور ولولے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔کود کر پلیٹ فارم پر اترے اور پاس کھڑے گارڈ سے پوچھا:یہاں گاڑی کتنی دیر کیلئے ٹھہرے گی؟جواب ملا۔
یہاں گاڑی رکتی تو نہیں ہے لیکن کسی خرابی کی وجہ سے گاڑی رک گئی ہے اور وہ خرابی ایسی ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے سے پہلے یہاں سے روانہ ہونا ممکن نہیں ہے۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔گاڑی کی خرابی میرے لئے خوبی بن گئی ہے۔ یہاں مجھے ایک بہت ضروری کام کرنا تھا۔میں ’’ہنڑ ای آیا ‘‘۔سردار جی نے کہا۔سردار جی بھاگم بھاگ اسٹیشن سے باہر نکلے اور ایک رکشے والے کو آواز دی۔’’فلاں جگہ چلو گے، بہت ضروری کام ہے؟‘‘سردار جی ! وہ علاقہ تو مسلمانوں کا ہے ۔ ’’ہے تے اسی کی کریے‘‘اسی وی سردار آں‘‘۔ سردار جی نے اپنی مونچھوں کو تاؤدیتے ہوئے بڑے بارعب انداز میں کہا۔مجھے وہاں بہت ضروری کام ہے۔تم وہاں مجھے کتنی دیر میں پہنچا دو گے؟گھنٹہ تو لگ جائے گا۔راستہ بہت دور ہے سردار جی۔رکشہ والا شاید جان چھڑانے کے چکروں میں تھا۔بے شک گھنٹہ لگ جائے۔میں تمہیں پیسے ڈبل دوں گا بلکہ’’ ٹرپل‘‘ پیسے لے لینا لیکن بس اب چل اور دیر نہ کر۔سردار جی نے آخر رکشہ والے کو منا ہی لیا۔تین گنا کرایہ کی پیشکش سنتے ہی رکشے والا سردار جی کو بٹھا کر ہوا ہو گیا۔ان کے بتائے ہوئے محلے میں پہنچا۔سردار جی نے رکشہ گلی کے ایک سرے پر رکوایا اور گلی کے اندر جا کر ایک گھر میں گھس گئے۔گھر میں گھستے ہی سردار جی سر کے بل باہر آ گرے۔پھر گھسے پھر باہر پھینکے گئے۔پھر کوئی شخص انہیں مارتا ہوا باہر نکال لایا۔اب جو سردار جی بدک کر رکشہ کی طرف بھاگے تو اس شخص نے ان کو مار مار کر رکشہ کی مخالف سمت میں دوڑا دیا۔ جب وہ مخالف سمت کو دوڑے تو اس شخص نے ان کو پکڑ کر پھر اسی سمت میں دوڑا دوڑا کر مارا جس سمت سے وہ آئے تھے۔وہ نڈھال ہوئے تو اس نے سردار جی کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور سینے پر چڑھ کر ان کی ٹھکائی کرنے لگا۔سردار جی پھر کسی داؤ سے اپنا آپ چھڑوا کر رکشے کی جانب بھاگے تو اس شخص نے پھر پکڑ لیا اور مار مار کر سردار جی کو ادھ مراکر دیا۔بس اب تو سردار جی کی جان نکلنے والی تھی۔تھوڑی دیر میں مارنے والا آدمی بھی مارتے مارتے ہانپنے لگا ۔ جب وہ سانس لینے کو رکا تو سردار جی سرپٹ بھاگے اور رکشہ میں آکر دم لیا۔دم لیتے ہی بولے:’’اب واپس چلنے کی کرو۔‘‘ ’’سردار جی کام ہو گیا‘‘رکشے والے نے پوچھا۔’’ہاں جی ہو گیا‘‘سردار جی بولے ۔سردار جی ! اگر آپ کو یہی ’’ضروری کام‘‘ تھاتو اس مقصد کے حصول کیلئے آپ نے ناحق’’ تین گنا کرائے‘‘ پر اتنی دور آنے کی زحمت کی۔یہ کام تو اس سے کہیں کم خرچے پر،اس سے کہیں کم وقت میں اور اس سے کہیں زیادہ مقدار میں،میں وہیں سر انجام دے سکتا تھا۔

Comments

comments