Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » تین منٹ میں دریائے راوی پار
تین منٹ میں دریائے راوی پار

تین منٹ میں دریائے راوی پار

دوست: ’’ آپ کا شعری مجموعہ‘ کس نے چھپایا۔ شاعر: جی میں نے خود چھپاپا۔ دوست: کچھ بکابھی‘‘
شاعر: کیوں نہیں۔ میری سائیکل‘ گھڑی اور عینک بک گئی۔دُنیا میں ایک کتاب چھپتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہے لوگ کتاب خریدتے ہیں اور عام طور پر پرسڑک پر بھی پڑھتے جاتے ہیں۔ یہ ان کی علم دوستی ہے اور کتاب سے تعلق کی بات ہے پھر ایک ایک کتاب کے کئی کئی ایڈیشن چھپتے ہیں اور شاعروں‘ ادیبوں کوبے حساب رائلٹی ملتی ہے۔ عزت اور شہرت اس کے علاوہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ کتاب چھپتی ہے مگر بہت کم تعداد میں بکتی ہے۔ شاعر بیچارے اس آس میں کسمپرسی میں (چند ایک کونکال کر) زندگی گزاردیتے ہیں کہ کب معاشرہ یا حکومت انہیں ان کا جائز مقام دے اور ان کے دن پھرجائیں۔ (کچھ کااس انتظار میں دماغ پھر جاتا ہے)۔
آپ کوئی انوکھی شرارت کریں ادارے موجود ہیں آپ کی حوصلہ افزائی کیلئے۔ آپ اپنی چھت سے بھی بڑی پتنگ بنائیں آپ کو بسنت کے موقع پر سونے کی پتنگ انعام میں دی جائے گی۔ آپ ایک وقت میں تین مرغے‘ دس نان‘ بیس کباب‘ تین کھیرے‘ ایک تربوز کھائیں آپ کو انعام سے نوازا جائے گا (اگر ضرورت پڑی تومقابلہ کرانے والے علاج بھی کروائیں گے) آپ دریائے راوی سردیوں میں بھاگ کرپار کریں (ویسے کان ادھرکریں‘ راز کی بات بتاؤں آپ بھی بھاگ کر تین منٹ میں دریائے راوی پارکرسکتے ہیں کیونکہ آج کل تووہ سوکھ کرنالہ بن گیا ہے) آپ کوانعام سے نوازا جائے گا اور ایک تولیہ تحفے میں دیاجائے گا‘ تاکہ جوگرددریا بھاگ کرپار کرنے سے اڑ کرسر میں پڑے گی‘ گھر جا کر نہائیں‘ گردنکالیں اور انعام والے تولیہ سے سراور منہ وغیرہ صاف کریں۔ آپ ایک ہی سانس میں سگریٹ کی ڈبیہ پھونک ڈالیں آپ کو سگریٹ کوسونے کی ڈبیہ انعام میں ملے گی اور اس انعامی ڈبیہ پر بھی لکھا ہوگا۔ سگریٹ نوشی دل کے مریض اور کینسر کاباعث بنتی ہے۔
بیچارے کمپیوٹر پر الزام لگ رہاہے کہ اس نے لوگوں کوکتاب سے دور کردیا ہے حالانکہ ہم تو کتاب سے پہلے ہی دور ہوچکے ہیں پولیس والوں نے اور پٹواریوں نے سنا کرتے تھے کہ کرائے پر ریٹائرڈ بندے رکھے ہوتے ہیں جو انہیں انگریزی میں لکھے ہوئے آنیوالے خطوط پڑھ کر سناتے ہیں اور پھر انگریزی کا جواب انگریزی میں لکھواتے بھی ہیں (معاوضہ لیکر) اب تو یہ کام بہت سے دوسرے محکموں میں بھی شروع ہوچکا ہے۔ یہ سب کتاب سے دوری کے باعث ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اگر پڑھنے والوں کایہ حال ہے تو پھر ڈگریاں کہاں جارہی ہیں۔ میاں حیران نہ ہوں کتاب اور ڈگری کا آپس میں وہ تعلق نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اب جو کتابیں اُٹھائے پھرتا ہے ڈگری نہیں ہے۔ جس کاکتابوں سے کوئی خاص تعلق نہیں ڈگریاں اس کے پیچھے پیچھے ہیں اور نوکریاں بھی توایسے ہی لوگوں کے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں۔ وجہ‘ آپ خود غور کریں عقل مند وہی ہے جو اس دن اپنے نظریات بدل لے جس دن کہ حکومت بدلتی ہے۔ خیر جیسے تیسے بھی ہے آپ نے نظریات بدل تولینے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے بھی یہ سیاسی تربیت کا حصہ ہے کہ آدمی جماعتیں بدلے‘ نظر یات بدلے‘ لیڈربدلے‘ جیل بدلے۔ دن میں بدلے‘ رات میں بدلے‘ ہمیں اس سے سروکار نہیں؟
ادارے موجودہ ہیں مگر شاعروں ادیبوں کیلئے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے یہ سب ادارے گھبراتے ہیں۔ نہ جانے کیوں؟ کچھ پرائیوٹ ادارے بہت چھوٹے پیمانے پر یہ کام کررہے ہیں نئی نئی کتابیں چھپ رہی ہیں اور کمال کاادب وجود میں آرہاہے۔ یہ ادب اسکولی نصاب کی کتابوں سے دوررہتا ہے۔ بڑے ڈراور خوف سے لکھ رہاہوں کہ کیا آج کاشاعر اور ادیب وہ ادب تخلیق نہیں کررہا کہ جو نصاب کی کتابوں کی زینت بن سکے؟ یاشایداب کوئی پڑھنا ہی پسند نہیں کرے گا‘ قسطوں پراور نہ جانے کیاکیا کچھ قسطوں پر۔ مگر کتاب اور کتاب والوں کی حوصلہ افزائی کے سب دروازے بند ہوچکے ہیں۔ شاید ہمیشہ کیلئے قوموں کوبچانے کیلئے تربیت کاعمل جاری رہنا نہایت ضروری ہے ۔ یوں تو شاعر اور ادیب بہت ہیں ان کی فلاح ان کی حوصلہ افزائی اور اچھی کتاب اور نئی پڑھی لکھی نسل کے وجو دمیں لانے کیلئے رائٹرزگلڈ ادبی ایواڈز جیسا مفید سلسلہ نئے سرے سے شروع کرے تاکہ بیچارے شاعر اور ادیب اپنی بائیسکل‘ عینک اور گھڑی بیچ کرکتاب نہ چھپوائیں کہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اچھی تحریر لکھنے والے کے خون پسینہ ایک کرنے کے بعد ہی وجود میں آتی ہے اور اگر سرکاری سطح پراچھی شاعری‘اچھی نثر اور اچھے انسانوں کی حوصلہ افزائی ہونا مزید بندرہے گی توپھر شاید آنیو الے دنوں میں شاعر شاید پان کی دکان کھولناپسند کریں۔اشفاق احمد‘ ممتاز مفتی‘ قدرت اللہ شہاب‘ احمد ندیم قاسمی‘ منیرنیازی‘ فیض احمد فیض‘ احمد فراز۔ یہ سب لوگ کتاب کے لوگ ہیں۔ یہ لوگ نسلوں کی تربیت کرتے ہیں۔ نسلوں کو صحیح سمت بتاتے ہیں۔ یہ لوگ نئی نسلوں کو غلامی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلنے کے گربتاتے ہیں۔ اگرہمیں ایسے مزید عالم فاضل لوگوں کی ضرورت ہے تو پھر ہمیں کتاب کو بچانا ہوگا۔

Comments

comments