Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » ابوبکرؓ کامرض وفات اور سترہ نماز کی امامت
ابوبکرؓ کامرض وفات اور سترہ نماز کی امامت

ابوبکرؓ کامرض وفات اور سترہ نماز کی امامت

جب دین کی تکمیل ہوگئی‘ تو نبیؐ کا کام پورا ہوچکا ہے،کچھ اشارہ غیبی سے بھی اس طرف متنبہ کردیاگیا، اسلئے آپ ؐنے بھی ساری تیاریاں مکمل کرلی 18 یا 19صفر کو جنت البقیع تشریف لے گئے‘ مدفونین کیلئے دیر تک دعائے مغفرت کی‘ واپسی پر طبیعت ناساز ہوگئی، ابتدائی دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم خود تشریف لاتے اور نماز پڑھاتے‘ لیکن جب نقاہت زیادہ ہوگئی‘ تو حضرت ابوبکرؓ کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں‘ ہر چند کہ حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب تھے ان سے رسول اللہ کی موجودگی میں کھڑا ہونا دشوار تھا۔ حضرت عائشہ وصفیہ رضی اللہ عنہا بھی مصر تھیں کہ حضرت عمرؓ کو حکم دیا جائے‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے سختی سے حکم دیا کہ ابوبکرؓ نماز پڑھائیں‘اس طرح آپؓ کی زندگی میں ہی‘ رحلت سے قبل تک17 نمازوں کی امامت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی۔سب دریچے بند کردئیے جائیں سوائے ایک دریچے کے جیساکہ پہلے عرض کیاجاچکا ہے کہ مسجد نبوی کے اردگرد رہائشی پلاٹ سے حضرت ابوبکرؓ کو بھی ایک حصہ ملا تھا‘ جس میں انھوں نے ایک مکان بنوایا تھا، اس کی ایک کھڑکی مسجد کی جانب کھلتی تھی۔ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے دوران مرض ایک روز افاقہ محسوس کیا تو مسجد تشریف لائے‘اور منبر پر تشریف رکھ کر فرمانے لگے کہ اللہ پاک نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا کو اختیار کرے یا پھر آخرت کو ترجیح دے، چنانچہ اس بندۂ خدانے آخرت کو ترجیح دیا۔ یہ سن کر مجمع میں سے حضرت ابوبکرؓ کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو ابلنے لگے‘ حضورؐ نے فرمایاکہ: ابوبکرؓ! صبر سے کام لو، پھر فرمایا کہ: سب دریچے بند کردئیے جائیں صرف ابوبکرؓ کا دریچہ کھلا رہے گا‘ پھر حضرت ابوبکر کے احسانات حضورؐ نے گنوائے۔
عمرؓ بیٹھ جاؤ:حضرت ابوبکرؓ کے ذمے ایک تو نماز کی امامت کی ذمہ داری آئی‘ دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی علالت کی وجہ سے وہ اپنے گھر نہ جاسکے، ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضورؐ سے اجازت لے کر ’’سْنح‘‘ چلے گئے‘ اتنے میں حضورؐ کا وصال ہوگیا۔ یہ خبر آگ کی طرح پھیلی‘ حضرت ابوبکرؓ دوڑے ہوئے تشریف لائے‘ مسجد نبوی پہنچے تو دیکھا کہ صحابہؓ بدحواس ہیں‘ حضرت عمرؓ ننگی تلوار لئے کھڑے ہیں‘ اور اعلان کررہے ہیں کہ جو کوئی کہے گا کہ محمدؐ کی وفات ہوگئی ہے‘ اس کی گردن تن سے اڑادوں گا۔ حضرت ابوبکرؓ اولاً حجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئے‘رخ انور سے چادر ہٹائی‘ پیشانی کو بوسہ دیا اور باہر تشریف لائے۔ حضرت عمرؓ ابھی تک لوگوں کو دھمکارہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہاکہ: عمرؓ! بیٹھ جاؤ‘ حضرت نہ بیٹھے۔ حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کی کہ: اے لوگو! تم میں سے جو لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی عبادت کیا کرتا تھا‘ وہ سن لے کہ محمدؐ وفات پاچکے ہیں‘ اورجو کوئی اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا‘ تو اس کا معبود حی لایموت ہے۔ پھر آپ نے ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل اخیر تک پڑھی‘ مجمع یکایک چونک اٹھا‘حضرت عمرؓ میں سکت نہ رہی کہ کھڑے رہ سکیں، لڑکھڑاکر زمین پر گرگئے، اور اس طرح لوگوں کو یقین آگیا کہ حضورؐ کا وصال ہوچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضور نبی کریم ؐ کا صحابی فرمایا ہے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓنے نبی کریم ؐ کی معیت میں ساری زندگی گزاری۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایسا فعل سرانجام نہیں دیا جو نبی کریم ؐ کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ نبی کریم ؐ کے اعلان نبوت اور دعوت اسلام پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے سیدنا ابوبکرؓ ہی تھے۔آپؓ نے اسلام کے ابتدائی دور میں انتہائی سخت حالات کو بڑی جاں فشانی سے برداشت کیا اور اپنا سب کچھ آقا ؐ کے قدموں میں ڈھیر کردیا۔ نبی کریم ؐ کے سفر و حضر‘ قیام و طعام‘ جہاد و حج حتیٰ کہ قبر مبارک کے ساتھی بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ ہر غزوہ میں نبی کریم ؐ کے ہم قدم رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ وہ واحد صحابی ہیں کہ جن کی چار پشتیں صحابی تھیں۔سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور نبی کریم ؐ کے حالات زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ نبی کریم ؐ اور ندیم باصفا جناب ابوبکرؓ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ نبی ؐ اور سیدنا ابوبکرؓ دونوں کی عمر مبارک تریسٹھ برس تھی۔ اسی طرح بیماری کا عرصہ بھی ایک ہی تھا۔ ہر دو حضرات کے وصال کے بعد سب سے بہتر شخصیت نے ان کی جگہ سنبھالی یعنی نبی ؐ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور بعد میں سیدنا عمرؓ مسند خلافت پر رونق افروز ہوئے۔ نبی کریم ؐ اور سیدنا ابوبکرؓ کی تدفین بھی اس جگہ ہوئی جسے جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نیکی کے کام میں ہمیشہ پہل کیا کرتے تھے۔ وصال نبوت کے بعد سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ بنائے گئے تو انہیں ’’خلیفہ رسولؐ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ لقب اُمت میں صرف سیدنا ابوبکرؓ کو حاصل ہے۔ جبکہ دیگر خلفاء کیلئے ’امیرالمومنین‘ کا لقب استعمال کیا گیا۔
سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوئے تو کسی نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ فلاں نابینا بوڑھے کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ تو سیدنا عمرؓ بھی اس نابینا بوڑھے کو کھانا کھلانے نکل گئے۔ وہاں پہنچ کر اس کے منہ میں کھانے کا لقمہ رکھا ہی تھا کہ بوڑھا بولا کیا ابوبکرؓ فوت ہوگئے؟ حضرت عمرؓ نے حیرت سے پوچھا کہ میں نے تو آپ سے کوئی بات نہیں کی تو آپ کو کیسے علم ہوا کہ میں ابوبکرؓ نہیں؟ اس بوڑھے نے جواب دیا میرے منہ میں دانت نہیں اسلئے ابوبکرؓ تو میرے منہ میں لقمہ ڈالنے سے پہلے چبا کر نرم کیا کرتے تھے۔مگر تم نے تو چبائے بغیر ہی لقمہ میرے منہ میں ڈال دیا۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے معیت نبوت ؐ اور اپنی خلافت میں اسلام کی وہ خدمت کی کہُ امت مسلمہ تاقیامت ان کے اس احسان سے سبکدوش نہیں ہوسکتی۔ مرض وفات میں فرمایا کہ جن کپڑوں میں میرا انتقال ہورہا ہے مجھے انہی کپڑوں میں کفنا دینا۔ تجہیز و تکفین کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہؓ کے حجرہ (جو کہ روضہؐ نبوی کہلاتا ہے) میں نبی کریم ؐ کے ساتھ تدفین کی گئی۔ اللہ پاک ہمیں صحابہ کرامؓ کی طرح نبی کریم ؐ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضور نبی کریم ؐ کا صحابی فرمایا ہے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓنے نبی کریم ؐ کی معیت میں ساری زندگی گزاری۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایسا فعل سرانجام نہیں دیا جو نبی کریم ؐ کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ نبی کریم ؐ کے اعلان نبوت اور دعوت اسلام پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے سیدنا ابوبکرؓ ہی تھے۔آپؓ نے اسلام کے ابتدائی دور میں انتہائی سخت حالات کو بڑی جاں فشانی سے برداشت کیا اور اپنا سب کچھ آقا ؐ کے قدموں میں ڈھیر کردیا۔ نبی کریم ؐ کے سفر و حضر‘ قیام و طعام‘ جہاد و حج حتیٰ کہ قبر مبارک کے ساتھی بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ ہر غزوہ میں نبی کریم ؐ کے ہم قدم رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ وہ واحد صحابی ہیں کہ جن کی چار پشتیں صحابی تھیں۔سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور نبی کریم ؐ کے حالات زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ نبی کریم ؐ اور ندیم باصفا جناب ابوبکرؓ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔

Comments

comments