Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » رجب المرجب کے فضائل و برکات
رجب المرجب کے فضائل و برکات

رجب المرجب کے فضائل و برکات

رجب توبہ کا مہینہ ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ نیکیاں دگنی فرما دیتا ہے۔حضور اکرمؐ کا ارشاد ہے :’’پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جن میں اللہ دعا کو رد نہیں کرتا ‘ ماہِ رجب کی پہلی رات ‘ ماہِ شعبان کی نصف رات ‘ جمعہ کی رات ‘ عیدالفطر کی رات اور قربانی کی رات‘‘۔(السید احمد الھاشمی مختار الا حادیث النبویہ و الحکم المحمدیہ ‘ حدیث نمبر : ۵۶۸)ماہ رجب بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ رجب لفظ ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنی تعظیم کے ہیں۔سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۶ میں ارشاد ہے :’’مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ‘ اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے ‘ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ نے ذی قعدہ ‘ ذی الحجہ‘ محرم اور رجب کو محترم قرار دیا۔ان حرمت والے مہینوں میں نافرمانی بہت ہی قبیح ہے۔ جس طرح مقدس مقامات اور مبارک اوقات میں نیکی کا ثواب زیادہ ملتا ہے اسی طرح ان مقاما ت اور اوقات میں نافرمانی کی سزا زیادہ ہوتی ہے۔
شب معراج کا واقعہ (27رجب) :ماہ رجب کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں پہلی بار حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے تھے۔ اسی ماہ تاریخ اسلام میں شب معراج کا واقعہ پیش آیا جو بہت اہمیت اور عظمت کا حامل ہے۔یہ واقعہ27 رجب کو پیش آیا۔ اس ماہ تکمیل عبودیت ہوئی تھی۔ یہ معجزہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی اور نبی کو نہیں ملا۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا : جس نے ستائیس رجب کو روزہ رکھا اس کیلئے ساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔ حضور اکرمؐنے فرمایا : یاد رکھو رجب اللہ کا مہینہ ہے۔ جس نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا ‘ ایمان کے ساتھ اور محاسبہ کرتے ہوئے تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی رضوانِ اکبر (یعنی سب سے بڑی رضا مندی) لازم ہو گئی‘‘(بحوالہ : امام غزالیؓ ‘امکاشفتہ القلوب ‘ صفحات : ۶۷۸۔۶۸۰)
نو سو برس عبادت کا ثواب :رجب کے پہلے جمعہ سے جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کیلئے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا : جس نے ماہ حرام میں تین روزے رکھے ‘ اس کیلئے نو سو برس کی عبادت کا ثواب لکھ دیا گیا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ سے نہ سنا ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں۔حضرت شیخ عبدالقادرجیلانیؓ اپنی تصنیف میں فرماتے ہیں کہ ایک بار رجب کا ہلال دیکھ کر حضرت عثمانؓ نے جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر فرمایا : کان کھول کر سن لو یہ اللہ کا مہینہ ہے اور زکوٰۃ اداکرنے کا مہینہ ہے۔ اگر کسی پر قرض ہو تو اسے ادا کر دے ، جو مال باقی ہے اس کی زکوٰۃ ادا کر دے۔
رجب کے روزوں کی فضیلت :اگر کوئی رجب میں ایک دن کا روزہ رکھے اور اس کی نیت اللہ تعالیٰ سے ثواب کی ہو اور خلوص سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہو تو اس کا ایک دن کا روزہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو بجھا دے گا اور آگ کا ایک دروازہ بند کرا دے گا اور اگر اسے تمام زمین بھر کا سونا دیا جائے تو اس ایک روزے کا پورا ثواب نہ مل سکے گا اور دُنیا کی کسی چیز کی قیمت سے اس کا اجر پورا نہ ہو گا۔ اگر یہ اجر پورا ہو گا تو قیامت کے دن ہی حق تعالیٰ پورا فرمائے گا۔ اس روزے دار کی شام کے وقت افطار سے پہلے دس دعائیں قبول ہوں گی۔ اگر وہ دُنیا کی کسی چیز کیلئے دعا مانگے گا تو حق تعالیٰ وہ اسے عطا فرمائے گا۔حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ ؐنے فرمایا : جو رجب کا ایک روزہ رکھ لے گویا اس نے ایک ہزار سال کے روزے رکھے اور گویا اس نے ایک ہزار غلام آزاد کئے اور جو اس میں خیرات کرے گویا اس نے ایک ہزار دینار خیرات کئے اور اللہ تعالیٰ اس کے بدن کے ہر بال کے عوض ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔ ایک ہزار درجے بلند فرماتا ہے اور ایک ہزار برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کیلئے رجب کے ہر روزے کے عوض اور ہر صدقے کے عوض ایک ہزار حج اور ایک ہزار عمرے لکھ لیتا ہے۔
عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ :حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے : جس نے ستائیسویں (27) کا روزہ رکھا ‘ اس کیلئے یہ روزہ تمام عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا اور اگر وہ اس سال مر جائے گا تو شہید ہو گا۔ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے رجب کے مہینے میں ایک بار سورہ اخلاص ( یعنی قل ھو اللہ شریف) پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دے گا۔ حضرت علیؓ پورے سال میں خاص طور سے عبادت کیلئے ان چار راتوں میں خوب سرگرم عمل رہا کرتے تھے۔ رجب کی پہلی تاریخ میں ‘ عید الفطر کی رات میں ‘ عید الاضحی کی رات میں اور نصف شعبان کی رات میں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ماہ رجب کی فضیلت میں بیان کیا گیاہے کہ یکم اور 27 رجب ) معراج شریف ( کو روزہ رکھا جائے۔ اس ماہ میں کثرت سے توبہ کی جائے۔ اس کے علاوہ تین روزے بروز جمعرات ‘ جمعہ اور ہفتہ ضرور رکھے جائیں اور زکوٰۃ دی جائے۔
ایک نیکی
سو سال کی نیکیوں کے برابر
رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنیوالے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی27ویں شب ہے جو اس میں12رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور 12رکعت ہونے پرسلام پھیرے‘اس کے بعد100بار یہ پڑھے سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الا اللہ و اللہ و اکبر ‘ استغفار100بار‘درود شریف100بار پڑھے اور اپنی دُنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ عزو جل اس کی سب دُعائیں قبول فرمائے سوائے اُس دُعا کے جو گناہ کیلئے ہو۔
خفیہ کیمروں کو دھوکہ دینے والا لباس تیار
سی سی ٹی وی کیمروں نے سارقوں‘مجرموں کو پکڑنے وانے میں اپنی مہارت اور اہمیت کو ثابت کردیا ہے۔ دُنیا میں ان کیمروں سے بچنے کی کئی تدابیر سامنے آئی ہیں لیکن جرمنی کے ایک فیشن ڈیزائنر نے ایک ایسا لباس تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کیمروں کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس لباس کی تیاری میں کوئی جدید ٹکنالوجی اختیار نہیں کی گئی اور نہ ہی اس میں کوئی آلہ نصب کیا گیا ہے یہ ایک عام سیدھا سادھا لباس ہے۔ ایڈم ہاروے نامی فیشن ڈیزائنر نے کمپیوٹر کی مدد سے انسانی چہروں کی شناخت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ایک ایسا لباس تیار کیا جس پر بنے نقش دور سے دیکھنے پر بھوتوں کے چہرے معلوم ہوتے ہیں۔ جب کوئی یہ لباس پہن کر خفیہ کیمروں کے سامنے آتا ہے تو چہروں کی شناخت کرنے والا نظام ایک ساتھ کئی چہروں کو سامنے لاتا ہے جس میں اصل چہرہ چھپ جاتا ہے۔ سکیوریٹی سے وابستہ ماہرین نے ایسے لباس پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ غیر سماجی عناصر خصوصاً دہشت گرد اس کا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اسلئے اس لباس کی تصاویر عام نہیں کی گئیں ہے تا ہم اس لباس کی شہرت دُنیا میں پھیل گئی ہے۔ مختلف رسالوں میں اس کی معلومات شائع ہونے سے یہ امکان ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے اب تک ایسے کئی لباس تیار کر لیئے ہوں گے۔

Comments

comments