Thursday , 22 February 2018
بریکنگ نیوز
Home » دیگر » ٹیکنالوجی » برڈ فلو انسانوں میں بھی پھیل سکتا ہے
برڈ فلو انسانوں میں بھی پھیل سکتا ہے

برڈ فلو انسانوں میں بھی پھیل سکتا ہے

عالمی سطح پر برڈ فلو کی وباء سے ہر سال لاکھوں مرغیوں اور دوسرے جنگلی و پالتو پرندوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک یہی تصور کیا جاتا تھا کہ سوائن فلو کی طرح برڈ فلو کا وائرس بھی انسانوں پر حملہ نہیں کرسکتا لیکن اب یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ یہ وائرس ہر سال آفریقہ اور ایشیاء کے کئی ممالک میں لاکھوں پرندوں کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ سائنسدانوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ برڈ فلو کے وائرس کی مختلف قسمیں دُنیا کے مختلف حصوں میں ایک ہی وقت میں پائی جاتی ہیں۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے کونسا وائرس انسانوں کیلئے خطرناک ہے برڈ فلو کا وائرس بھی تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گذر رہا ہے او ر یہ طاقتور بھی ہورہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے مختلف وائرس آپس میں ملنے کی وجہ سے نئے وائرس پیدا ہورہے ہیں ان میں نئی قسمیں بھی جنم لے رہی ہیں۔ امریکہ کی ریاست منی سوٹا کی یونیورسٹی میں جہاں متعدی امراض کی تحقیق کی جاتی ہے اسبات کا پتہ چلایا گیا ہے کہ یہ وائرس جس کو انفلوئنزا کہا جاتا ہے تیزی سے بدل رہا ہے۔ اگر ایسا کوئی وائرس انسانوں میں منتقل ہوگیا تو اس کو قابو میں کرنا بہت مشکل ہوجائیگا۔1990کی دہائی میں سائنسدانوں نے اس وائرس کا پتہ چلایا تھا جو سردیوں میں پھیلتا ہے اور اس کوHSNIکا نام دیا گیا تھا۔ یہ وائرس اگر کسی پولٹری فارم پر حملہ کرتا ہے تو اس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے فارم کی تمام مرغیوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ تصور کیجئے اگر ایسا انسانوں میں ہوا تو کیا ہوگا؟ ماضی میں برڈ فلو کی دو تین اقسام کو دریافت کیا گیا تھا اب وائرس کی نصف درجن قسمیں دریافت ہوئی ہیں۔

Comments

comments