Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزنس » نئے بجٹ میں انکم ٹیکس چند معلومات
نئے بجٹ میں انکم ٹیکس  چند معلومات

نئے بجٹ میں انکم ٹیکس چند معلومات

وزیر فینانس ارون جیٹلی نے عام بجٹ2017-18پیش کرنے کے دوران انکم ٹیکس کی حدمیں کوئی اضافہ نہیں کیا جس کی نوٹ بندی کے فیصلے کے پیش نظر توقع کی جارہی ہے تا ہم متوسط طبقہ پر بوجھ کو کم کرنے کیلئے انہوں نے انکم ٹیکس کی شرح کو سالانہ3لاکھ روپے تک کی آمدنی کیلئے10فیصد سے گھٹا کر5فیصد کردیا ہے۔ اس طرح ڈھائی لاکھ سے 3 لاکھ کے درمیان آمدنی رکھنے والوں پر صرف 5 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ حکومت کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ آمدنی ہونے پر آمدنی محصول یعنی انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ انکم ٹیکس4طرح کی آمدنی پر ادا کرنا پڑتا ہے کسی آجر سے حاصل ہونیوالی تنخواہ جس میں الاونس اور دیگر بھتے شامل ہیں۔مکان سے حاصل ہونیوالی آمدنی‘تجارت پیشہ سے حاصل ہونیوالی آمدنی‘اثاثہ جات جیسے جائیدادوں‘حصص‘جیولری‘میچول فنڈ وغیرہ کی فروخت سے ہونیوالی آمدنی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے بھی اگر آمدنی حاصل ہوتی ہے تو اس پر بھی انکم ٹیکس عائد ہوگا۔
انکم ٹیکس سے استثنیٰ:
اگر آپ کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو آپ کو انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنا لازمی ہے۔ اس میں آپ کو ٹیکس کیلئے کاٹی ہوئی رقم واپس پانے کیلئے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت جن اخراجات کو استثنیٰ دیا گیا ہے ان کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔ مکان کاکرایہ‘علاج پر ہونیوالے اخراجات‘مکان کی خریدی کیلئے لیا ہوا قرض(قرض کی قسط میں صرف سود رقم کو استثنیٰ حاصل ہے اصل رقم پر نہیں) تجارت یا پیشہ میں نقصان ہونے پر۔
انکم ٹیکس کن پر واجب الادا ہے:
انکم ٹیکس اُن لوگوں پر بھی واجب الادا ہے جنہوں نے18سال سے کم عمر بچے کے نام پر سرمایہ کاری کی ہے اور اس سے آمدنی حاصل کررہے ہیں اگر ٹیکس دہندہ نے اپنی آمدنی کو بیوی کے نام سے سرمایہ کاری میں لگایا ہے تو اس سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر بھی ٹیکس دینا پڑے گا اگر کوئی دوسرا مکان ہے‘اگرچہ کہ وہ خالی ہے لیکن اس سے حاصل ہونیوالی آمدنی کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائیگا۔مکان کا کرایہ اگر ادا کررہے ہیں تو استثنیٰ اسی صورت میں ملے گا اگر مکان کا کرایہ تنخواہ کا10فیصد سے کم ہے اگر مکان دہلی‘ممبئی‘کولکتہ یا چینائی میں ہے تو مکان کا کرایہ تنخواہ کا 50 فیصد بھی ہوسکتا ہے دیگر شہروں کیلئے یہ40فیصد ہے۔
تنخواہ کا مطلب انکم ٹیکس ایکٹ میں بنیادی تنخواہ یعنی بیسک اور ڈی اے ہے۔اسلئے جب بھی ریٹرنس داخل کیا جاتا ہے آپ کسی ماہر ٹیکس مشیر سے رابطہ کریں تو مناسب ہوگا۔
اگر آپ اپنے افراد خاندان کے ساتھ سالانہ چھٹیوں میں تفریح کیلئے جاتے ہیں تو (ہندوستان کے اندر) یہ اخراجات بھی ٹیکس سے منہا کئے جاسکتے ہیں۔تا ہم ہوٹل میں قیام اور ٹیکسی کا کرایہ اس میں شامل نہیں ہے صرف سفر پر ہونے والے اخراجات جیسے ایر ٹکٹ‘ریل ٹکٹ وغیرہ‘ٹیلیفون اخراجات‘ انٹر نیٹ اخراجات کو بھی انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے ۔طبی اخراجات کی حد سالانہ15ہزار روپے ہے۔ بچوں کی تعلیم پر ہونیوالے اخراجات جیسے فیس‘ہاسٹل کی فیس کو استثنیٰ حاصل ہے تا ہم اس میں ٹیوشن فیس شامل نہیں ہے۔

Comments

comments