Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » منڈو یا منڈوا گڑھ مدھیہ پردیش کا تاریخی سیاحتی مقام
منڈو یا منڈوا گڑھ مدھیہ پردیش کا تاریخی سیاحتی مقام

منڈو یا منڈوا گڑھ مدھیہ پردیش کا تاریخی سیاحتی مقام

مدھیہ پردیش‘ملک کی ایک مرکزی ریاست ہے۔ قدرتی نظاروں‘ پہاڑوں ‘جھرنوں‘ندیوں سے مالا مال یہ ریاست کئی راجاؤں اور بادشاہوں کے اقتدار میں جنگ کا میدان بھی بنی رہی۔مغربی مدھیہ پردیش میں مالوہ کے علاقہ میں واقع دھار ضلع کا ایک علاقہ ہے منڈو‘ جس کو منڈواگڑھ بھی کہا جاتا ہے۔یہ دھار مستقر سے35کیلو میٹر اور اندور سے تقریباً100کیلو میٹر دور ہے یہ علاقہ کوہ وندھیا چل کے دامن میں تقریباً13کیلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ سطح سمندر سے اس کی اونچائی2079فیٹ ہے۔ یہ علاقہ وادی نرمدا (دریائے نرمدا کے بہنے کا علاقہ) کی خوبصورتی کیلئے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں10ویں اور11ویں صدی عیسوی میں ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔1305 میں دہلی کے سلطان علاء الدین خلجی نے مالوہ پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے ریان الملک ملتانی کو مالوہ کا گورنر مقرر کیا۔ جب1401 میں تیمور نے دہلی فتح کیا اس وقت افغان دلاور خان مالوہ کے گورنر تھے انہوں نے خود مختاری کا اعلان کردیا اور منڈو کو اپنا دار الحکومت بنا لیا اور اس علاقہ کو کافی ترقی دی۔ ان کے فرزند ہوشنگ شاہ نے منڈو کو مزید ترقی دی۔ اس کا بیٹا محمد اس خاندان کا تیسرا اور آخری حکمراں تھا جس نے تخت نشینی کے بعد صرف ایک سال حکومت کی۔اس کے بعد محمدخلجی نے مالوہ میں خلجی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور 33برس تک حکمرانی کی۔ انہوں نے دہلی پر قبضہ کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی لیکن ناکام رہے اسکے علاوہ 1440میں میواڑ کے رانا کمبھ نے اس کو زبردست شکست دی ۔1469 میں غیاث الدین خلجی نے حکومت سنبھالی اور آئندہ31برس تک حکومت کی۔ وہ موسیقی اور عورتوں کا رسیا تھا۔ اس نے خواتین کیلئے ایک بہت بڑی حرم کی عمارت جہا ز محل کے نام سے تعمیر کی۔80برس کی عمر میں خود اس کے بیٹے نصیر الدین نے اس کو زہر دے کر مار ڈالا۔1526میں چھٹویں خلجی حکمراں محمود دوم گجرات کے بہادر شاہ کا مقابلہ نہ کرسکا اور منڈو پر اس کا قبضہ ہوگیا ۔ 1530میں ہمایوں نے جو مغلیہ سلطنت کے دوسرے بادشاہ تھے اس علاقہ کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ہمایوں کے دو ہی دشمن تھے ایک گجرات کے بہادر شاہ اور دوسرے شیر شاہ سوری ‘ بہادر شاہ کو پرتگالیوں کی بھی مدد حاصل تھی۔ اسلئے ہمایوں نے پہلے بہادر شاہ سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور اس پر تیزی سے حملہ کر کے شکست دیدی۔اس طرح1534میں منڈو مغلیہ سلطنت کے تحت آگیا۔ یہاں کی خوبصورتی سے ہمایوں کافی متاثر ہوا لیکن بعد میں خلجی سلطنت کے مالو خان نے پھر سے منڈو پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد دس سال تک اس علاقہ پر تسلط کیلئے لڑائیاں ہوتی رہیں بعد میں باز بہادر کامیاب رہے۔ اس وقت تک شیر شاہ سے شکست کھا کر ہمایوں ملک چھوڑ کر چلا گیا ۔1545میں شیر شاہ فوت ہوگیا اور اس کا بیٹا اسلام شاہ 1553 تک حکومت کرتا رہا۔اسلام شاہ کی موت کے بعد اس کے12سالہ فرزند فیروز خان کو حکمران بنایا گیا تھا لیکن 3دن کے اندر ہی عادل شاہ سوری نے اس کاقتل کردیا۔ عادل شاہ نے ہیمو وکرمادتیہ کو اپنا سپہ سالار اور پھر وزیر اعظم مقرر کردیا۔ ہمیو پہلے شیر شاہ کی فوج کو اناج سربراہ کرتا تھا بعد میں داروغہ چوگی بنایا گیا لیکن عادل شاہ کے دور میں وہ وزیر اعظم کے عہدے پر پہنچ گیا تا ہم عادل شاہ کے دور میں کئی بغاوتیں ہوئیں ہیمو کو ان بغاوتوں کو کچلنے کی ذمہ داری دی گئی۔ہیمو نے منڈو پر بھی حملہ کیا اور باز بہادر وہاں سے بھاگ گیا۔ اس عرصہ کے دوران ہمایوں ہندوستان میں واپس آگیا۔ہیمو نے اس عرصہ کے دوران اپنی حکومت قائم کر لی اور دہلی تک فتوحات کا ایک سلسلہ قائم کیا۔7نومبر1556کو اکبر نے پانی پت کی دوسری لڑائی میں ہیمو کو مار ڈالا۔1561میں اکبر کی فوج آدم خان اور پیر محمد کی قیادت میں مالوا پر حملہ آور ہوئی اور باز بہادر کو سارنگ پور کی لڑائی میں ہرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ منڈو میں رانی روپ متی کی خوبصورتی کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی یہی شہرت مغلیہ سپہ سالاروں کو یہاں کھینچ لائی تھی لیکن رانی روپ متی نے زہر کھا لیا اور باز بہادر خاندیش یہاں سے بھاگ گیا۔ اس کے تعاقب میں جانیوالا پیر محمد مارا گیا خاندیش کے میراں مبارک شاہ‘برار کے توفل خان اور باز بہادر کی فوجوں نے مغلوں کو دوبارہ مالوا سے نکال دیا۔ 1570میں باز بہادر نے مغلوں کے حملوں سے تنگ آکر اکبر کے دربار میں خود سپردگی اختیار کی۔1732میں پیشوا باجی راؤ اول کے حملے تک منڈو میں امن وامان رہا۔ مراہٹوں نے پایہ تخت کو منڈو سے نکال کر دھار منتقل کردیا اور دوبارہ ہندو حکومت قائم کی۔
منڈو قدرتی دفاعی مقام رکھتا ہے اس قلعہ کی حصار کی دیوار تقریباً37کیلو میٹر طویل ہے جس کے12دروازے ہیں ۔ اس دیوار کے اندر کئی محلات ہیں جہاں14ویں صدی کا جین مندر ہے تو1405میں تعمیر کی گئی جامع مسجد بھی ہے۔ یہاں پختوں فنکاری کے کئی نمونے ملتے ہیں جس میں فارسی طرز کی تعمیر کی جھلک بھی ملتی ہے۔ یہاں حکومت کرنیوالے ہر راجہ اور بادشاہ نے ایک ایک عمارت کا اضافہ کیا۔ منڈو تک رسائی کیلئے اندور سب سے قریبی ایر پورٹ اور ریلوے جنکشن ہے۔ اندور کو حکومت نے اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ مدھیہ پردیش کا سب سے گنجان آبادی والا معاشی و تجارتی مرکزہے۔ اندور سے بذریعہ ٹیکسی صرف2گھنٹوں میں منڈو پہنچاجاسکتا ہے۔ کیاب سرویس بھی دستیاب ہے۔ منڈو اندور سے100اور رتلام سے131کیلو میٹر دور ہے۔ جبکہ اجین سے اس کا فاصلہ150کیلو میٹر ہے۔ بھوپال سے یہ295کیلو میٹر دور ہے۔ ان مقامات سے منڈو کیلئے بسیں چلتی ہیں چونکہ اندور ہی سب سے قریبی شہر ہے اسلئے زیادہ تر سیاح وہاں کا ہی رُخ کرتے ہیں۔ ملک کے تمام بڑے شہروں سے اندور کیلئے ٹرینیں چلتی ہیں۔ منڈو کو حکومت مدھیہ پردیش نے اہم سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔منڈو میں آٹو رکشا بہت چلتے ہیں جبکہ سٹی بسیں بھی چلائی جاتی ہیں۔ صفائی اور سڑکیں ٹھیک ہیں۔
رانی روپ متی کا محل: تاریخ پر اگر یقین کیا جائے تو یہ اپنے دور کی خوبصورت گلو کارہ تھی۔باز بہادر کی اس پر نظر پڑگئی تو اس نے اس کو اُٹھا لیا۔ اس کو رانی کا نام دے کر اس کی دلجوئی کیلئے دریائے نرمدا کے کنارے ایک خوبصورت محل تعمیر کرادیا۔ اس محل کی تعمیر میں اپنی دولت لگا دی۔رانی روپ متی کو دریائے نرمدا سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ ندی کو دیکھے بغیر پانی نہیں پیتی تھی۔ جب مغلوں نے اس علاقہ کو فتح کیا تو رانی روپ متی نے زہر کھا کر اپنی جان دیدی۔یہ محل دریا کے کنارے کافی دور سے دکھائی دیتا ہے۔
باز بہادر کا محل:باز بہادر نے16ویں صدی میں یہ محل تعمیر کروایا۔ اس کے وسیع و عریض دالان‘کمانوں پر مشتمل راہداریاں اور باغات‘بالا حصار وغیرہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ رانی روپ متی کے جھروکے کے نیچے ہے جھرو کے سے یہ محل صاف دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تعمیر میں نہ صرف اسلامی بلکہ راجستھانی طرز تعمیر کی بھی جھلک ملتی ہے۔
ریوا کنڈ:یہ ایک ذخیرہ آب یا تالاب ہے جس سے رانی روپ متی کے محل کو پانی سربراہ کیا جاتا تھا۔باز بہادر نے ہی یہ ذخیرہ آب تعمیر کروایا تھا۔ یہ تالاب بھی روپ متی کے جھروکے کے نیچے ہے۔
دریا خان کا مقبرہ: دریا خان خلجی دوم کا ایک وزیر تھا۔ اس کا مقبرہ شہر کی دیوار کے ساتھ ہے۔ یہاں ایک مسجد‘حوض بھی ہے اس کے جنوب میں مشرق میں ہاتھی پاگا محل جس پر ایک بہت بڑا گنبد بنا ہوا ہے۔
جامع مسجد: دمشق کی جامع مسجد سے یہ عمارت کافی مماثلت رکھتی ہے۔ اس کا وسیع و عریض صحن ہے جس میں اس وقت سبزہ زار ہے۔ جامع مسجد کے سامنے اشرفی محل ہے محل کے شمال مشرق میں ایک7منزلہ یادگار بنائی گئی ہے۔ اس کے قریب1709میں مہارانی سرکار وار بائی پوار نے ایک رام مندر تعمیر کروایا تھا۔ جامع مسجد جو سرخ پتھر کی بنی ہوئی ہے دور سے دکھائی دیتی ہے۔ ہوشنگ شاہ نے اس کی تعمیر1405میں کی تھی۔شام کے دمشق میں واقع مسجد آسیہؓ کی شکل میں اس مسجد کی تعمیر کی گئی لیکن افسوس کہ ہوشنگ شاہ اس کی تعمیر مکمل ہونے تک زندہ نہ رہا۔ اس کی تعمیر میں49برس لگ گئے۔ محمودخلجی نے اس کی تعمیر مکمل کی۔
ہوشنگ شاہ کا مقبرہ: اس کو ہندوستان کی سب سے پہلے تعمیر ہونیوالی سنگ مر مر کی عمارت کہا جاتا ہے۔ افغان طرز تعمیر سے بنا یہ مقبرہ خوبصورت گنبد سے ڈھکا ہوا ہے۔ سنگ مر مر ہونے سے یہ پوری عمارت سفید ہے اس کے چاروں طرف کھلا میدان ہے جس اب سبز ہ زار میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تا ج محل کی تعمیر کی ترغیب اسی عمارت سے ملی تھی۔
جہاز محل: یہ منڈو کی سب سے دلکش عمارت ہے۔یہ110میٹر طویل اور15میٹر عریض ہے یہ ایک دو منزلہ عمارت ہے۔ یہ منج تلاؤ اور کپور تلاؤ(حوض نما تالاب) کے درمیان ایک زمینی پٹی پر بنائی گئی ہے۔ اس لئے دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عمارت پانی پر تیر رہی ہے۔ اسلئے اس کا نام جہاز محل رکھا گیا ہے جہاز محل کا باب الداخلہ مشرق میں ہے اس کے ساتھ6کمانیں ہیں۔ اس کی نچلی منزل میں تین دالان ہیں۔ ہر ایک کے کونے یا کنارے پر جھروکے بنے ہوئے ہیں۔ اس محل میں حرم کی خواتین کو رکھا جاتا تھا۔ باہر سے ان پر کسی کی نظر نہ پڑے اسلئے پردے کا پورا خیال رکھا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس محل کو اپنی عیش و عشرت کیلئے غیاث الدین خلجی نے تعمیر کروایا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کے حرم میں15ہزار خواتین تھیں ان کی موثر رہائش کیلئے ایک بڑی عمارت کی ضرورت تھی۔ غیاث الدین کا پایہ تخت دھارمیں تھا۔ اس نے یہاں کے قدرتی حسین نظاروں کو دیکھ کر اپنا عیش محل یہاں تعمیر کرنے کافیصلہ کیا اور اس طرح15ویں صدی کے نصف میں جہاز محل تعمیر ہوا۔
ہنڈولہ محل:ہنڈولہ‘جھولے کو کہتے ہیں۔ہنڈولہ محل کا مطلب ہے جھولتا ہوا محل لیکن یہ محل جھولتا نہیں ہے صرف جھولے کی شکل کا بنا ہوا ہے۔ ایک طرف سے دبا ہوا ہونے کی وجہ سے اس کو یہ نام دیا گیا ہے۔1425میں ہوشنگ شاہ نے اس کو تعمیر کروایا۔ منڈو کے کئی ایک محلات میں یہ محل بھی شامل ہے اس محل کا استعمال شائد دربار سجانے کیلئے ہوتا تھا۔ہنڈولہ کے اس احاطے میں کئی عمارتیں ایسی ہیں جن کی تاریخ سے کوئی واقف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی جانتا ہے کہ یہ کس نے بنائی ہے اور کس کے استعمال میں رہی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ برسوں تک مسلم‘ہندو راجاؤں‘بادشاہوں کا پایہ تخت رہا۔اس لئے ان عمارتوں کی اپنی خصوصیت ہے۔ منڈو کے اس پرانے شہر تک جانے کیلئے بیرونی دیوار کے12دروازوں میں سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے۔
یہ تاریخی شہر ایک عرصہ تک لوگوں کی نظروں سے اُوجھل رہا تھا جس کی وجہ سے یہاں کی عمارتیں کالی پڑنے لگیں تھیں اور تالاب و حوض ہرے رنگ کے پانی سے بھر گئے تھے لیکن حکومت مدھیہ پردیش کے محکمہ سیاحت نے اس کی رونقیں پھر سے بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عمارتوں کی داغ دوزی کی اور محلات کے اردگرد جنگلی جھاڑیوں کو صاف کر کے سبزہ زار اور باغات لگائے۔لوگوں کی ان عمارتوں تک رسائی کو آسان بنانے کیلئے راستوں کی مرمت کی‘ریلنگ لگوائی‘تالابوں کو صاف کروایا۔اس طرح اب یہ مقام نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سیاحوں کی دلچسپی کا بھی مرکز بن گیا ہے۔

Comments

comments