Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » ہندوستان اور مسلمان (قسط 14 ) ابو المظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیرؒ
ہندوستان اور مسلمان (قسط 14 ) ابو المظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیرؒ

ہندوستان اور مسلمان (قسط 14 ) ابو المظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیرؒ

مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر تھے جنہوں نے1526میں اپنی حکومت قائم کی تھی ان کے بعد ہمایوں ‘ اکبر ‘ جہانگیر‘شاہجہاں نے اس سلطنت کو ہندوستان کے طول و عرض میں وسعت دی۔ اورنگ زیب آخری حکمراں تھے جن کے دور میں اس سلطنت کو مزید وسعت حاصل ہوئی۔ اورنگ زیب کے بعد مغلیہ سلطنت کے 13 بادشاہ گذرے لیکن ان میں سے کوئی بھی سلطنت کا وہ جاہ وجلال برقرار نہ رکھ سکا جو اورنگ زیب کے دور تک موجود تھا ۔ مغلیہ سلطنت کا خاتمہ 1857کی بغاوت کے بعد جب انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو معزول کر کے رنگون ( موجودہ مائنمار)بھیج دیا۔اورنگ زیب نے بھی بغاوت کے ذریعہ سلطنت حاصل کی۔ جلال الدین اکبر کے بعد جتنے شہزادے بادشاہ بنے انہوں نے زبردستی تخت و تاج چھین لیا۔شاہجہاں کے4بیٹے تھے جب وہ1658 میں زبردست بیمار پڑگیا تو ہر بیٹے نے اپنے اپنے اثر و رسوخ اور وفاداروں کے علاوہ فوجی طاقت کا محاسبہ کرنا شروع کردیا ۔ دارا شکوہ بڑا بیٹا تھا او رشاہجہاں کے ساتھ آگرہ میں رہتا تھا اس کو ولیعہد کا درجہ بھی حاصل تھا۔شجاع بنگال کا گورنر تھا اڑیسہ اور بہار بھی اس کی جاگیر میں تھے۔ اورنگ زیب دکن کے گورنر تھے۔چوتھا بیٹا مراد گجرات اور مالوہ کا گورنر تھا ۔ جب شاہجہاں بیمار ہوا تو مراد نے اس کو پرانی دہلی(شاہجہاں آباد) منتقل کردیا۔اسکے ساتھ ہی شاہجہاں کے انتقال کی خبر پھیل گئی چھوٹے بھائیوں کو یہ خدشہ ہوا کہ دارا تخت و تاج پر قبضہ کرے گا۔ شاہ شجاع اور مراد نے اپنی اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا۔اورنگ زیب دکن میں تھے اسی دوران شاہجہاں کی صحت کچھ ٹھیک ہوئی تو دارا شکوہ نے باغی بھائیوں کی سرکوبی کا مشورہ دیا1658میں شجاع کی فوج کو بنارس میں شکست دی گئی۔ اس صورتحال کو دیکھ کر اورنگ زیب اور مراد نے آپس میں اتحاد کرلیا اور یہ طے ہوا کہ کامیاب ہونے پر سلطنت تقسیم کر لی جائے گی۔ 1658اپریل میں داراشکوہ کی فوج کو اورنگ زیب نے ہرادیا۔اورنگ زیب نے فوج کا تعاقب شروع کردیا ۔ داراشکوہ سے غلطی یہ ہوئی کہ اس نے فوج کو دو حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ بنگال کی طرف اور دوسرا گجرات کی طرف بھیجا ۔ اورنگ زیب کے آگرہ کا رُخ کرنے کی اطلاع ملنے پر دارا شکوہ نے بنگال سے فوج کو واپس آنے کا حکم دیا لیکن یہ فوج وقت پر نہ پہنچ سکی اور اورنگ زیب آگرہ پہنچ گیا۔دارا نے اپنے امراء کے اس مشورے کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھی بھگتا کہ فوج کی قیادت خود نہ کرے بلکہ شاہجہاں کو قیادت کرنے دے۔ اورنگ زیب نے دارا شکوہ کو ہرانے کے بعد شاہجہاں کو آگرہ کے قلعہ میں قید کردیا۔ شاہجہاں کی بیٹی جہاں آراء نے اپنے والد کی آخری وقت تک خدمت کی۔ اس کے بعد اورنگ زیب نے اپنے بھائی مراد بخش سے کیا ہوا وعدہ بھی توڑ دیا کہ سلطنت آپس میں تقسیم کر لی جائیگی۔مراد کو گرفتار کر کے گوالیار کے قلعہ میں بند کردیا گیا(4ڈسمبر1661میں اس کو قتل کردیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مراد نے گجرات کے ایک دیوان کا قتل کروایا تھا۔اورنگ زیب نے اس دیوان کے بیٹے کی مدد سے مراد پر مقدمہ چلایا اور اس کے قتل کا حکم دیدیا۔) داراشکوہ فرا ر ہوگیا تھا۔ اس نے دوبارہ فوج جمع کی اور پنجاب کی سمت پیش قدمی کی‘ شجاع کی سرکوبی کیلئے جو فوج بنگال گئی تھی وہ درمیان میں ہی رہ گئی تھی کہ اورنگ زیب نے آگرہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے سپہ سالاروں جئے شگو اور دلیر خان نے اورنگ زیب کی اطاعت قبول کر لی تھی لیکن دارا کا بیٹا سلیمان شکوہ بھاگ گیا۔ اورنگ زیب نے شجاع کی گورنری بحال کردی تھی۔ اسی طرح داراشکوہ تنہا رہ گیا۔اس طرح اورنگ زیب کو طاقت حاصل کرنے کا موقع مل گیا لیکن اقتدار کی ہوس نے شجاع کو پھر اورنگ زیب کے خلاف فوج کشی پر اُکسایا۔شجاع نے زنجیروں سے بندھے ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ حملہ کیا لیکن اورنگ زیب کی فوج ان پر بھاری پڑ گئی ۔ شجاع ارکان (برما) بھاگ گیا۔مقامی حکمراں نے وہاں اس کاقتل کرادیا۔ شجاع اور مراد راستے سے ہٹ چکے تھے۔اورنگ زیب کو داراشکوہ پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع مل گیا۔اورنگ زیب نے سلطنت میں مشہور کرادیا کہ داراشکوہ اب مسلمان نہیں رہا اور یہ کہ اس نے مغل وزیراعظم سعد اللہ خان کو زہر دیدیا ہے ان افواہوں نے دارا شکوہ کا سلطنت میں رہنا دشوار کردیا۔ پھر ایک دن اس کے سپہ سالاروں نے غداری کرتے ہوئے اس کو گرفتار کرادیا ۔ 1659 میں دارا شکوہ کو قتل کردیا گیا۔شاہجہاں کو اگرچہ آگرہ کے قلعہ میں قید کردیا گیا تھا لیکن اورنگ زیب اپنے باپ کی آرامی کا پورا خیال رکھتا تھا۔ اسی قید و بند کی زندگی کے درمیان1666میں شاہجہاں کا انتقال ہوگیا اور ا ن کی تدفین تاج محل میں ممتاز محل کے پہلو میں کی گئی۔
اورنگ زیب نے49برس تک حکومت کی۔ 3 نومبر 1618کو گجرات کے داہود میں انکی پیدائش ہوئی تھی شاہجہاں اور ممتاز محل کی6اولادوں میں سے انکا نمبر تیسرا تھا۔ 1626میں جب شاہجہاں نے اپنے والد جہانگیر کے خلاف بغاوت کی تو اورنگ زیب اور دارا شکوہ کو انکے دادا کے لاہور کے محل میں مختصر مدت کیلئے قید بھی کیا گیا تھا ۔ 1628 میں شاہجہاں نے مغلیہ تخت وتاج حاصل کر لیا تو اورنگ زیب کو آگرہ منتقل کردیا گیا یہاں اورنگ زیب کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا۔ سرکاری خزانے سے یومیہ500روپے شہزادے کے نام جاری ہوتے تھے ۔ اورنگ زیب بچپن سے ہی مذہبی رجحان کے حامل تھے۔1633میں اورنگ زیب ایک بے قابو ہاتھی کے پیروں تلے کچلے جانے سے بچ گئے۔انہوں نے ہاتھی کی سونڈ میں بھالا گھونپ کر اس کو قابو میں کر لیا۔شاہجہاں نے اس کی بہادری کی تعریف کی اور بہادر کا خطاب دیا۔2لاکھ روپے مالیتی زیورات اور موتیوں کا انعام دیا گیا ۔1635میں اورنگ زیب کو ایک باغی سردار کی سرکوبی کیلئے جانیوالی فوج کے ساتھ بھیجا گیا لیکن وہ فوج کے عقب میں رہے ۔ 1636 میں اورنگ زیب کو دکن کا گورنر مقرر کیا گیا ان دنوں احمد نگر کی سلطنت کافی وسعت اختیار
کررہی تھی ۔ 1637میں اورنگ زیب کی شادی دلراس بانو بیگم سے کردی گئی۔1644میں جہاں آراء(شاہجہاں کی بیٹی ) عطر چراغ پر گرنے سے جھلس گئی ۔ اس اطلاع کے ملتے ہی سب لوگ تیمارداری کیلئے آگرہ پہنچ گئے لیکن اورنگ زیب 3 ہفتوں کے بعد پہنچے اس پر شاہجہاں ناراض ہوگیا اور ان کو دکن کے گورنر کی حیثیت سے برطرف کردیا یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے دکن میں رہتے ہوئے شاہی زندگی ترک کر کے فقیری اختیار کر لی تھی ان کی برطرفی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ1645 میں شاہجہاں نے دوبارہ ان کو گجرات کا گورنر بنا دیا۔ اس علاقہ میں ازبیک اور ترک قبائل کے حملہ بہت زیادہ ہوتے تھے ۔ اس دوران اورنگ زیب کو ملتان اور سندھ کا بھی گورنر بنایا گیا تھا ۔ 1653میں اورنگ زیب کو پھر سے دکن کا صوبہ دار بنا دیا گیا ۔اورنگ آباد ان کا مسکن تھا۔ ان دنوں قطب شاہی جنرل سیپی خان کی قیادت میں12ہزار کے لشکر نے اورنگ زیب کے خلاف چڑھائی کردی۔ اورنگ زیب کے پاس8ہزار گھڑ سوار اور 20 ہزار پیادے تھے اس طرح دونوں میں زبردست مقابلہ ہوا۔
اپنی بادشاہت کے دور میں بھی اورنگ زیب نے سلطنت کو دکن میں وسعت پر اصل توجہ مرکوز کی او راپنی زندگی کے 16 برس دکن میں گذار دیئے۔ اورنگ زیب جہاں جاتے تھے5لاکھ کی فوج ان کے ساتھ ہوتی تھی جن میں 50 ہزار اونٹ اور30ہزار ہاتھی شامل تھے۔اورنگ زیب مغلیہ سلطنت کے چھٹویں بادشاہ تھے۔ ان کی حکومت تقریباً نصف صدی تک قائم رہی۔ اورنگ زیب کو ہندو مخالف راجہ اسلئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پڑدادا(جلال الدین اکبر)دادا (جہانگیر) کے بر خلاف اسلامی مملکت قائم کرنے کی کوشش کی فتوؤں کو جمع کیا اسلامی سزائیں مقرر کیں ۔ ان کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت30لاکھ مربع کیلو میٹر پر پھیل گئی تھی۔ دکن سے محبت نے اورنگ زیب کو اسی سرزمین میں ان کی آخری آرامگاہ بھی بنا دیا۔ خلد آباد(اورنگ آباد) مہاراشٹرا میں ان کا کوئی مقبرہ نہیں ہے قبر صرف ایک سنگ مرمر کی جالی سے گھری ہوئی ہے جس پر کوئی گنبد نہیں ہے۔ اس سے ان کی سادگی کا پتہ چلتا ہے کہ باپ(شاہجہاں) تاج محل میں دفن ہے اور بیٹا دور دراز مقام پر گمنام لوگوں کی طرح مدفون ہے۔ اورنگ زیب کا وصال20 فروری 1707کو88برس کی عمر میں ہوا۔ ان کے بعد ان کے فرزند شاہ تخت پر بیٹھے لیکن بادشاہ بننے کے چند مہینوں میں ہی ان کا قتل کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔
اورنگ زیب نے اپنے احکامات کو فتاویٰ عالمگیری کا نام دیا تھا۔پوری مملکت میں اس پر عمل کیا جاتا یہ احکامات شریعت کی روشنی میں بنائے گئے تھے۔ شراب نوشی‘جوا‘ قحبہ گیری پر پابندی لگا دی گئی تھی جو محصول خلاف اسلام سمجھا جاتا تھا اس کو برخواست کردیا گیا تھا۔ اخراجات کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے تمام شاہی معاملات کو ترک کرکے سیدھی سادھی زندگی بسر کرنا شروع کردیا تھا۔بلکہ وہ قرآن مجید کے نسخہ لکھ کر اس سے ملنے والے معاوضہ سے اپنا گذارا کرنے لگے تھے۔ شاہی رسم و رواج ترک کردیئے گئے تھے جیسے بادشاہ کی سالگرہ پر جشن وغیرہ‘تہوار بھی سادگی سے منائے جانے لگے۔قابل غور بات یہ ہے کہ اسلامی طرز حکومت قائم کر نے کے باوجود بھی ہندو ان کی سلطنت میں امن وامان اور چین و سکون سے رہتے تھے۔ ایسی ایک بھی نظیر نہیں کہ انہوں نے منادر کو ڈھایا ہو یا اجتماعی قتل عام کا حکم دیا ہو۔ اگرچہ ہندو تاریخ داں ان کے نام سے کئی من گھڑت باتوں کو موسوم کرتے ہیں لیکن ان کی فوج میں ہندو‘سکھ سالاروں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ اکبر کے دربار میں جتنے ہندو وزیر اور منصب دار تھے اس سے کہیں زیادہ اورنگ زیب کے دربار میں تھے بلکہ اچھے عہدوں پر فائز تھے۔فتاویٰ عالمگیری میں انہوں نے خود لکھا تھا کہ قدیم منادر کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اورنگ زیب نے ایسی عبادت گاہوں کو ڈھانے کا حکم بھی دیا ہے جن کا استعمال حکومت کے خلاف کیا جاتا تھا۔ان منادر کے پجاریوں کی اپنی الگ حکومت ہوتی تھی۔انکے خزانے بھرے ہوتے تھے ان مندروں میں پجاریوں کا ہی حکم چلتا تھا ۔ مقامی آبادی پر ان کا ایسا اثر و رسوخ تھا کہ بادشاہ کو بھی ان پجاریوں کو خوش رکھنا پڑتا تھا۔ اسلئے اورنگ زیب نے ایسی چند منادر کو مہندم کرنے کا بھی حکم دیا جن کا استعمال عبادت کیلئے نہیں بلکہ ایک متوازی حکومت چلانے کیلئے کیا جارہا تھا۔(سلسلہ جاری ہے)

Comments

comments