Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » فلمی دنیا » بالی ووڈ کے بھائی جان محمود (قسط 5 )
بالی ووڈ کے بھائی جان محمود (قسط 5 )

بالی ووڈ کے بھائی جان محمود (قسط 5 )

جنوری1960میں محمود کی والدہ لطیف النساء بیمار پڑگئیں ایک دن محمود ان کی تیمار داری کیلئے بامبے ہاسپٹل پہنچے تو لطیف النساء نے روپیوں سے بھری ایک تھیلی ان کے حوالے کی اور کہا کہ یہ محمود کی کمائی ہے جو انہوں نے بچاکر رکھی رکھی تھی۔ انہوں نے محمود کو بھائیوں اور بہنوں کا خیال رکھنے کی نصیحت کی۔ محمود نے ماں کی حالت دیکھ کر ہسپتال میں ہی ٹہرنے کا ارادہ کر لیا اور اپنی شوٹنگ منسوخ کردی۔شام تک ان کی حالت اور بگڑ گئی اور انہوں نے آخری سانس لی۔ محمود اپنی ماں کی اس حالت کیلئے اپنے باپ کو ذمہ دار ماننے لگے۔انہوں نے باپ پر کافی برہمی کا بھی اظہار کیا لیکن گھر کا ماحول کچھ اور ہی تھا۔محمود کے افراد خاندان ماں کی اس حالت کیلئے محمود کی بیوی مدھو کو ذمہ دار ٹہرانے لگے۔میرین لائنس کے قبرستان میں لطیف النساء کی تدفین ہوئی۔ ان دنوں محمود فلم’’ سنجوگ‘‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ ماں کے انتقال کے بعد محمود اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو پیراڈائز بنگلہ میں لے کر آگئے۔ انہوں نے اپنی ماں سے سارے خاندان کی ذمہ داری اُٹھانے کا وعدہ کیا تھا اس کو وہ نبھانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس وقت تک محمود کے دو بیٹے ہوچکے تھے ایک مسعود علی اور دوسرے مقصود علی(موجودہ لکی علی) وہ ایک بیٹی چاہتے تھے اور اس کا نام اپنی ماں کے نام پر رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کو تیسرا بھی بیٹا ہی ہوا۔اس کا نام مخدوم علی رکھا گیا۔ان دنوں مدھو کافی بیمار پڑگئیں محمود اس کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔بچے کی دیکھ بھال میں لاپرواہی ہونے لگی۔مخدوم ایک مرتبہ بخار میں مبتلا ہوا اور پولیو کا شکار ہوگیا اس وقت تک پولیو کی بیماری عام نہیں ہوئی تھی۔ لوگ اس کوبہت بڑی لاعلاج بیماری تصور کرتے تھے مخدوم جس کو محمود محبت سے لکی کہتے تھے ٹھیک ہوگیا۔ محمود نے اس بیماری پر فلم بنانے کا عہدکیا تھا۔ انہوں نے لکی کو لے کر’’ کنوارہ باپ‘‘ بنائی۔ یہ وہ واقعات تھے جنہوں نے محمود کی نجی زندگی میں زہر گھولنا شروع کردیا تھا۔ وہ اپنی بیوی مدھو سے دور رہنے لگے تھے نتیجہ میں مدھو سے محمود کے بھائی عثمان علی کی ہمدردیاں بڑھ گئیں تھیں اور اس وجہ سے عثمان کی بیوی منی اور مدھو میں خوب جھگڑے ہوتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محمود نے مدھو کی حرکتوں کی وجہ سے اس کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا لیکن اس وقت تک ان کے4بچے ہوچکے تھے۔جانی واکر کے سمجھانے پر انہوں نے ارادہ ترک کردیا۔ اور اپنے ہی گھر میں ایک الگ کمرے میں رہنے لگے۔ انہوں نے مدھو کی صورت بھی دیکھنا پسند نہیں کیا۔نوکر ہی کھانا لاتے تھے۔محمود سے الگ ہونے کے بعد مدھو کی غیر اخلاقی حرکتیں بڑھ گئیں لیکن محمود اپنے بچوں کی وجہ سے ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ان حالات نے مدھو کو بھی نیم پاگل بنا دیا تھا۔ وہ راتوں کو گھر سے نکل جاتی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ مدھو منشیات کی بھی عادی ہوچکی ہے۔ اس معاملہ پر محمود نے مدھو کی پٹائی بھی کرنی شروع کردی۔منشیات کیلئے مدھو گھر کی قیمتی اشیاء بھی چرانے لگی تھی۔حالات سے مجبور ہو کر محمود نے ایک دن تمام سازو سامان اور مخدوم علی کے ساتھ مدھو کو مینا کماری کے گھر کے بھیج دیا۔
مدھو کی حرکتیں وہاں بھی کم نہیں ہوئی۔ ایک دن مینا کماری نے محمود کے بیٹے مخدوم علی کی ضد پر اس کو باپ کے پاس بھیج دیا۔محمود نے تینوں بچوں کو بورڈنگ اسکول میں بھرتی کرایا۔صرف پولیو سے متاثرہ مخدوم علی اس کے ساتھ تھا ۔ 1967 میں محمود نے مدھو کو اس وقت طلاق دیدی جب اس کو پتہ چلا کہ مدھو کسی اور کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ محمود کی زندگی میں پھر سے طوفان آگیا تھا وہ پھر سے خود کو تنہا محسوس کرنے لگے تھے۔یہاں سے اس دور کا آغاز ہوتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلمی دُنیا کی حقیقی رنگینیاں کیا ہوتی ہیں؟ محمود ٹوٹ چکے تھے۔وہ اس زندگی سے باہر نکلنا چاہتے تھے۔ا ن ہی دنوں ان کے قریبی دوست جیوتی سروپ’’ بن بادل برسات‘‘ بنا رہے تھے اس میں آشا پاریکھ اور بسواجیت کے ساتھ محمود بھی اہم کردار کررہے تھے۔وہ شوٹنگ کے سلسلے میں مہا بلیشور پہنچے۔وہاں امریکی طالبات کا ایک گروپ ایکسچینج پروگرام کے تحت پڑھنے آیا تھا۔شوٹنگ دیکھنے والوں میں یہ گروپ بھی شامل تھا۔اس میں ایک لڑکی تھی جس کا نام ٹریسی تھا۔(جاری)

Comments

comments