Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » کھیل » کوہلی سینا کی فتوحات کا سلسلہ جاری
کوہلی سینا کی فتوحات کا سلسلہ جاری

کوہلی سینا کی فتوحات کا سلسلہ جاری

ہندوستان نے حیدرآباد میں کھیلے گئے واحد ٹسٹ میں بنگلہ دیش کو208رنز سے ہرادیا اور اس طرح سیریز بھی جیت لی۔کوہلی کی ٹیم نے اپنے پڑوسی ملک کی ٹیم کو اگرچہ آسانی سے شکست دیدی ہے لیکن اس قسم کے کئی ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں۔ کوہلی کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی یہ مسلسل چھٹویں کامیابی تھی۔ابھی تک کسی بھی کپتان کو تسلسل کے ساتھ ٹیم کو سیریز میں کامیاب بنانے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ ماضی میں اکتوبر2008 سے جنوری 2010تک ٹیم انڈیا کو مسلسل5سیریز جیتنے کا موقع ملا تھا۔ حیدرآباد میں بنگلہ دیش کو ہرانے سے قبل ٹیم انڈیا ٹسٹ سیریز میں سری لنکا‘ جنوبی آفریقہ‘ویسٹ انڈیز‘نیوزی لینڈ او رانگلینڈ کو ٹسٹ سیریز میں ‘ہراچکی ہے اس کے علاوہ ٹیم نے مسلسل19ٹسٹ میچس جیتنے کا بھی ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ تعداد بھی کسی کپتان کی قیادت میں حاصل کردہ فتوحات میں سب سے زیادہ ہے ۔ سنیل گواسکر کی قیادت میں ٹیم انڈیا کو 18ٹسٹ میچس میں مسلسل جیت حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ ویراٹ نے ان کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ٹسٹ میں ویراٹ کوہلی نے میان آف دی میچ کا بھی خطاب جیتا جس سے ان کی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح وہ ایک سیزن میں(2016-17)تین بار میان آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے والے دوسرے کپتان بن گئے ہیں۔ سچن تنڈولکر (1999-2000)کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ اس سیریز میں روی چندر اشون نے250 وکٹس مکمل کر لیئے ہیں۔ انہوں نے یہ سنگ میل45 ٹسٹ میچوں میں مکمل کیا۔ انہوں نے ڈینس للی‘ایلن ڈونالڈ اور وقار یونس کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ حیدرآباد ٹسٹ میں ایک اور بات بھی نوٹ کی گئی۔ٹیم انڈیا نے دو دہوں میں پہلی مرتبہ3تیز گیند بازوں سے استفادہ کیا۔ ایسا1997میں سری لنکا کے خلاف کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش نے آخری دن یعنی چوتھی اننگز میں250رنز بنائے ۔ یہ کسی بھی دورہ کنندہ ٹیم کی جانب سے چوتھی مرتبہ بنایا گیا کم اسکور ہے۔2003 میں نیوزی لینڈ نے272رنز بنائے تھے۔ حیدرآباد ٹسٹ میں بنگلہ دیش کے کھلاڑی مشفیق الرحمن نے3ہزار رنز مکمل کئے۔اس طرح انہوں نے حبیب البشر کا ریکارڈ توڑ دیا۔ان کو ہندوستان کے خلاف2سنچریاں بنانے کا بھی اعزاز ہے جو ابھی تک بنگلہ دیش کے کسی کھلاڑی کو نصیب نہ ہوسکا۔ پہلی اننگز میں انہوں نے127رنز بنائے جس کی مدد سے بنگلہ دیش کا پہلی اننگز کیلئے اسکور388 ہوا۔ ٹسٹ سیریز میں یہ بنگلہ دیش کی جانب سے ہندوستان کے خلاف بنایا گیا دوسرا بڑا اسکور ہے ۔ 2000 میں بنگلہ ٹیم نے ڈھاکہ میں انڈیا کے خلاف ایک اننگز میں400 رنز بنائے تھے۔ بنگلہ دیش کے کپتان مستفیض الرحمن نے انڈیا کے خلاف ٹسٹ سیریز میں شکست پر صرف اتنا کہا کہ ان کی ٹیم اس وجہ سے ہار گئی کیونکہ ان کی ٹیم میں کوئی ویراٹ کوہلی نہیں ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم پہلی مرتبہ ہندوستان کے خلاف کسی ٹسٹ میں پورے5 دن تک کھیلتی رہی۔ بنگلہ دیش کو ٹسٹ ملک کا درجہ17برس پہلے ملا تھا۔ گزشتہ اکتوبر میں بنگلہ دیش کی انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز ڈرا رہی تھی۔ جون2015 میں ہندوستان کے ساتھ سیریز بھی ڈرا رہی تھی۔ابھی تک بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان کوئی ٹسٹ سیریز یہاں نہیں ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش میں ابھی تک دو ممالک کے درمیان جو ٹسٹ سیریز کھیلی گئی ان میں8 کے منجملہ6 میں ہندوستان فاتح رہا جبکہ دو ٹسٹ ڈرا رہے۔ ہندوستان(حیدرآباد) میں ٹسٹ کھیل کر بنگلہ دیش نے تمام ٹسٹ کھیلنے والے ممالک کے ساتھ ان کے ہوم گراونڈ پر مقابلوں کی تکمیل کر لی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ٹسٹ سیریز میں انگلینڈکو ایک ٹسٹ میں شکست دینے کے بعد بنگلہ دیش کے حوصلے بلند ہوگئے تھے۔ لیکن اس کے بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھوں اس کو2-0 سے شکست ہوگئی۔
ہندوستان کی ٹسٹ میچس میں مسلسل19 ویں فتح نے ٹسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اس کو پانچویں مقام پر پہنچا دیا ہے۔ اس فہرست میں ویسٹ انڈیز سب سے اوپر ہے جس کو1982 سے1984 کے دوران مسلسل27 ٹسٹ میچس میں فتح حاصل ہوئی۔ سنیل گواسکر نے18 ٹسٹ میچس میں اور کپل دیو نے17 ٹسٹ میچس میں مسلسل فتح دلائی تھی۔ ٹسٹ میچس کی چوتھی اننگز میں اشون نے ابھی تک50 وکٹس حاصل کر لیئے ہیں۔ یہ اعزاز ابھی تک بشن سنگھ بیدی اور انیل کمبلے کے نام تھا۔
اگر ہم بنگلہ دیش اور ٹیم انڈیا کے درمیان کھیلے گئے ٹسٹ میچ کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ کپتان کوہلی کی ڈبل سنچری نے اہم رول ادا کیا ہے۔ پہلے بنگلہ دیش کی شروعات اچھی رہی اور ٹیم انڈیا کا پہلے ہی اوور میں ایک وکٹ گر گیا۔لیکن بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے جوش پر اس وقت سرد پڑ گیا جب مرلی وجئے نے سنچری اور چھتشیور پجارا نے 83رنز بنائے۔بنگلہ دیش کی طرف سے صرف تسکین احمد واحد گیند باز تھے جنہوں نے ہندوستانی کھلاڑیوں پر دباؤ بنانے کی کوشش کی ۔وجئے اور پجارا کے بعد کوہلی اور اجنکیا رہانے ‘ نے بھی بہترین شراکت داری نبھائی۔ ویراٹ کوہلی نے ایک اور سنچری جوڑ دی۔ دوسرے دن انہوں نے اپنی سنچری کو ڈبل سنچری میں بدل دیا۔چار مسلسل ٹسٹ سیریز میں یہ ان کی چوتھی ڈبل سنچری تھی۔ اس طرح انہوں نے ڈان براڈ میان اور راہول ڈراویڈ کا ریکارڈ توڑ دیا جن کے نام 3‘3ڈبل سنچریاں ہیں۔ اجنکیا رہانے اگر آوٹ نہ ہوتے تو ان کی بھی سنچری طئے تھی۔ وردھمان ساہا نے ٹیم میں واپسی کرتے ہی سنچری بنا دی۔ رویندر جڈیجہ نے تیزی سے نصف سنچری مکمل کی ۔ اس طرح دوسرے دن ہندوستان6 وکٹ پر687 رنز بنا کر اننگز ڈیکلر کردی۔بنگلہ دیش نے کھیل ختم ہونے تک اپنی بیاٹنگ کا آغاز کردیا تھا ۔تیسرے دن بنگلہ دیش کو ہندوستان کے اس ہمالیائی اسکور تک پہنچنے کیلئے بہترین مظاہرے کی ضرورت تھی۔ لیکن ٹیم نے جلد ہی109 رنز پر 4 وکٹ کھو دیئے ۔ شکیب الحسن اور مشفیق الرحمن نے ٹیم کو سنبھالا لیکن شکیب82 رنز پر آوٹ ہوگئے اور مشفیق نے سنچری مکمل کی۔ آف اسپنر مہدی حسن نے بھی نصف سنچری بنائی۔ چوتھے دن کو ہلی نے بنگلہ دیش کو فالو آن کیلئے مجبور نہیں کیا اس طرح پھر سے ہندوستان نے بیاٹنگ کی اور159 رنز مزید جو ڑ کر اننگز ڈیکلر کردی۔ پجارا نے58گیندوں میں54رنز مکمل کیئے۔ اس طرح بنگلہ دیش کیلئے آخری دن459 رنز کا نشانہ رکھا گیا۔ بنگلہ دیش نے پانچوں دن ہمت کا مظاہرہ کیا اور225 رنز جوڑے ۔ اشون اور جڈیجہ نے4‘4 وکٹ حاصل کیئے

Comments

comments