Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » کھیل » قطر میں فیفا ورلڈکپ 2022 ء کی تیاریاں
قطر میں فیفا ورلڈکپ 2022 ء کی تیاریاں

قطر میں فیفا ورلڈکپ 2022 ء کی تیاریاں

قطر میں فٹبال کے ورلڈ کپ کے انعقاد کیلئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ملک کے وزیر خزانہ علی حمادی نے بتایا ہے کہ ان کا ملک اسٹیڈیم میں‘انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر ہر ہفتہ50کروڑ ڈالر خرچ کررہا ہے یہ کام اگلے تین تا چار سال کے دوران جاری رہیں گے۔ قطر کو2022 کے ورلڈکپ کی میزبانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جبکہ2018کا ورلڈ کپ روس میں منعقد ہوگا اس وقت قطر میں اسٹیڈیمس کے علاوہ موٹر ویز‘ ریل لنک‘ہاسپٹلس کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ کیلئے تمام انفرااسٹرکچر کی تعمیر و تیاری پر 200 ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ تا ہم وزیر خزانہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ یہاں ہونیوالا ورلڈ کپ دُنیا کا مہنگا ترین ٹورنمنٹ ہوگا۔ تا ہم اگر اخراجات کا جایزہ لیا جائے تو یہی بات واضح ہوتی ہے کہ برازیل نے2014میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔ وہاں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر صرف11بلین ڈالر خرچ ہوتے تھے۔ جبکہ روس میں جو ورلڈ کپ 2018 میں ہونے جارہا ہے اس کیلئے اخراجات میں صرف321ملین ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ قطر میں ایسا کیا ہورہا ہے کہ اس کو ورلڈ کپ کے انعقاد کیلئے200بلین ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ برازیل کو فٹبال اسٹیڈیمس کی تعمیر میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ روس کے پاس انفرااسٹرکچر پہلے سے موجود ہے۔ قطر کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تمام انفرااسٹرکچر بالکل نیا تعمیر کیا جارہا ہے اس کے علاوہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر کی ذمہ داری عالمی درجہ کی کمپنیوں کے سپرد کی گئی ہے جو بہت زیادہ چارجس وصول کرتی ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ وقت پر انفرااسٹرکچر کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے یہ معاہدے کئے گئے ہیں۔فٹبال کی تیاریوں کے سلسلے میں ہزاروں غیر ملکی قطر پہنچ رہے ہیں۔ اس طرح ان کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوگئے ہیں۔وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ تیل اور گیاس کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ورلڈ کپ کی تیاریوں کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
قطر خلیج کا وہ ملک ہے جس کی آبادی صرف20لاکھ ہے اور ان میں غیر ملکیوں کی اکثریت ہے تا ہم ملک بھی تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔قطر کی میزبانی کی وجہ سے فیفا ورلڈ کپ پہلی مرتبہ مشرق وسطیٰ میں منعقد کیا جارہا ہے ۔28 دن تک یہ مقابلہ چلے گا۔فائنل18ڈسمبر2022کو ہوگا جو کہ قطر کا قومی دن بھی ہے۔ اسلئے اس ٹورنمنٹ کے بڑے پیمانے پر انعقاد کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔2015 میں جب فیفا میں رشوت ستانی کا اسکینڈل سامنے آیا تھا اس وقت یہ کہا جارہا تھا کہ قطر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم ہوسکتا ہے تا ہم قطر کے خلاف رشوت ستانی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ مارچ 2010 میں ہی قطر نے ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ ظاہر کردیا تھا اور اس کیلئے 5 مقامات کی نشاندہی کردی تھی جہاں ٹورنمنٹ کیلئے انفرااسٹرکچر تعمیر کیا جارہا ہے۔اسٹیڈیمس کا ڈیزائن جرمن آر کیٹکٹ البرٹ اسپیئر نے تیار کیا ہے۔چونکہ قطر میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے اسلئے ٹورنمنٹ اپریل کے بجائے نومبر اور ڈسمبر میں منعقد ہوگا۔اس ٹورنمنٹ کیلئے جو اسٹیڈیمس تعمیر کئے جارہے ہیں ان سب سے بڑا اسٹیڈیم خلیفہ انٹر نیشنل اسٹیڈیم ہے جس میں اس وقت40ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اس کو86ہزار تک کرنے کیلئے اس کی تزئین نو کی جارہی ہے الخور اسٹیڈیم کی گنجائش45,330ہے اس کے علاوہ45ہزار کی گنجائش والا ایک اور اسٹیڈیم الوکرا کے نام سے بنایا جارہا ہے۔ یہ تمام اسٹیڈیمس ساحلی شہر لوسیل الخور‘مدنیتہ الشمال الوکرہ‘اور دارالحکومت دوحہ کے علاوہ اُمہ صلال اور الریان نامی شہروں میں بھی تعمیر کئے جارہے ہیں۔ ان اسٹیڈیمس کو بس اور ٹرین رابطوں سے مربوط کیا جا رہا ہے ۔ دوحہ میں تھانی بن جاسم اسٹیڈیم کی گنجائش44,950ہوگی۔ الریان میں21ہزار کی گنجائش والا اسٹیڈیم تعمیر کیا جارہا ہے۔پہلے12اسٹیڈیمس تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا لیکن ان کو گھٹا کر8اور9کردیا گیا ہے۔
ایک مسلم ملک کی جانب سے دُنیا کے سب سے مشہور ٹورنمنٹ کے انعقاد کو کئی ایک مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق گروپس نے تعمیراتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیئے جانیوالے مزدوروں کے حالات پر قطر کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

Comments

comments