Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » حسن و صحت » تبخیر معدہ اور طواف عاملین

تبخیر معدہ اور طواف عاملین

جب ہمارے گھر اور مسجدیں عبادت سے ویران رہیں گے‘ اور شا ہر ائیں‘ ہو ٹلیں آباد رہیں گے تو سمجھ لوڈاکٹر‘ حکیم اور عاملین نہایت ہی خوش و خر م ر ہیں گے کیونکہ ایسے افراد‘ امراض کا مجموعہ بن جانے کی صورت میں ڈاکٹر‘حکیم وعاملین سے ان کا رشتہ ہرروز مضبوط ہوتا رہے گا‘ جب ڈاکٹر ‘حکیم وعاملین تاجر‘ بن جائیں گے تب وہ ہمیشہ پیسوں کا فائدہ ہی سونچیں گے کیونکہ انسان روز مرہ کی زندگی جس طرح گذارے گا اور جس کی اہمیت ہمیشہ دل میں رہے گی ۔مرتے وقت اور قبر و حشر میں بھی دل کی بات زبان پر ضرور آئیگی ۔ جو بگونے میں رہیگا وہی چمچہ آئیگا جو دل میں رہیگا وہی زبان پر آئیگا ڈاکٹر حکیم و عاملین کو مریضوں کے مال میں میا نہ روی اختیار کرنا چا ہیے کہیں ان کا ضرورت سے زیادہ مال ہماری نسلوں کو بر باد نہ کر دیں ۔اگر میڈیسن میں میانہ روی نہ رہے تو اللہ میڈیسن میں سے شفاء کو ختم کر دے گا ۔ بہرحال تبخیر معدہ آج ایک عام مرض بن چکا ۔تبخیر کے لغوی معنیٰ کسی تر چیز کا بخارات بن کر اُڑ نا ‘ اور جس میں معدہ اور آنتوں میں بخارات اُڑکردل اور دماغ پر چڑھ کر ایسی علامت پیدا کر دیتے ہیں جو مریض کو مضطرب اور بے چین کردیتی ہیں‘اور یہ مرض ایک حدتک اُسے نو کر ی‘ تجارت وغیرہ سے دل برداشتہ کر دیتا ہے نفسیاتی طور پر اس کے اندر حبس نفس کی کیفیت پیدا ہوجاتی مریض‘ افراد خاندان والوں سے شک شبہات جادووغیرہ کے متعلق بد گمان ہوجاتا ہے۔ اور نہیں دشمن تصور کر نے لگتا ہے بعض اوقات یہ غلط فہمی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ گھر میں کسی کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں کرتا ۔ حتیٰ کہ وہ بیوی کے متعلق شکوک و شبہات کرنے لگتا ہے یا یوں کہ وہ کہیں وہ مائیکہ سے کسی باباو غیرہ سے دم کر کے مجھے کھلارہے ہیں۔حبس نفس کی حد یہ ہوتی ہے کہ جہاں کہیں دو‘ افراد کو کھڑا‘دیکھ کر اُسے یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ دونوں میرے متعلق ہی باتیں کر رہے ہیں محلے اور خاندان والے اسکی ان حرکات کی وجہ سے اُسے وہمی‘ شکی پاگل سمجھتے ہیں ۔مبا لغہ آرائی اسکا شیوہ بن جاتا ہے اپنے مرض کو بڑھا چڑھا کر سر سے لیکر پاؤں تک ایک ایک عضو کا نام لیکر بیان کر تا پھر تا ہے۔ ہر تبخیر معدہ والوں کو جادوہی ہو‘ یہ ضروری نہیں تبخیر کیا ہے اور کیوں پیدا ہو تا ہے یہ ایک نہایت ہی اہم سوال ہے ہرشخص کو اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسکا تعلق غذاء سے ہے ۔ غذاء جسم کیلئے ایسا ہے جیسے کسی انجن یا مشین کیلئے ایندھن پٹرول وغیرہ۔ اسی طرح انسانی مشین‘ معدہ بغیرغذاء کے رواں دواں نہیں رہ سکتا ۔اگر آلات ہضم مثلاََمعدہ‘ آنتیں‘ جگر طبعی طور پر تندرست وصحتمند ہوں‘ کھانے کی اشیا ء کھانے والے کے مزاج موافق اور مقدار میں متوازن ہو۔اور انسان کا عصبی نظام بھی تندرست ہو‘غم و فکر نہ ہواور کسی منشیات کا عادی نہ ہو ‘ تو یہ صحتمند ماحول اُسے تندرست رکھ سکتا ہے اگر مذکورہ ماحول کا کوئی حصہ خراب ہوجائے مثلاََکھانیکی چیز یں خالص نہ ہوں ۔ یا خالص ہو اور کھانے والے کے مزاج کے خلاف ہو ‘ یا خالص ہو اور مزاج کے موافق بھی ہو‘ لیکن کھانے والے مقدار سے زیادہ کھاجائے یا اگر ان میں سے کو ئی وجوہات نہ ہو‘ لیکن وہ شخص گھر یلو‘ یاکا روباری اُلجھنوںیا غم وفکرمیں ہو یا منشیا ت کا عادی یا جنسی بے اعتدالیوں کا مرتکب ہو تو یہ نہ موافق اور غیر پسندیدہ صورتحال اس کے ہاضمہ کو خراب کردیتی ہے اور بعد ازاں اس کے خیالات پرا گند ہ‘ اس کے قوت کو مضحمل کر کے اُسے زندگی سے بیزار گی پیدا ہوجاتی ہے ۔

Comments

comments