Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » چور کی توبہ
چور کی توبہ

چور کی توبہ

کسی شہر میں ایک مولوی صاحب رہا کرتے تھے ان کے 3بیٹے تھے بڑے بیٹے کو ہر نئی چیز خریدنے کا شوق تھا مگر والد کی غریبی کے سبب وہ اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل سے قاصر رہتا تھا جبکہ اس کے دونوں چھوٹے بھائی اسکول میں پڑھتے تھے۔ مولوی صاحب اپنے بڑے بیٹے اکبر کو بہت سمجھایا کہ بیٹا!حد میں رہا کرو‘محنت کر حلال کما اور خواہشات کو پورا کر‘ اکبر کہتا ابو! حلال کمائی میں خواہشات کہاں پوری ہوتی ہیں؟ غیر ضروری خواہشات کی تکمیل کیلئے اسے پیسوں کی ضرورت رہتی تھی ایک دن ‘ وہ بس اسٹاپ پر دیگر افراد کے ساتھ بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ سامنے والے شخص کی پاکٹ پر اس کی نظر پڑی‘اُس نے پہلی بار ڈرتے ڈرتے اُس شخص کی پاکٹ اُڑا دی جس میں ہزاروں روپے تھے۔ اب اکبر کو پیسہ کی لالچ میں ماہر پاکٹ مار بن گیا۔ وہ اب ماہر پاکٹ مار کہلانے لگا۔ وہ‘روزآنہ کسی نہ کسی کی پاکٹ مارتا اور ناجائز طریقہ سے پیسہ کمانے لگا۔اب شہر میں اکبر کے کئی شاگرد بن گئے۔دن بھر وہ لوگوں کی پاکٹیں مارتے اور رات میں اکبر کے اڈہ پر پہنچ کر حساب کتاب کرنے کے بعد مسروقہ رقم آپس میں بانٹ لیتے۔ مولوی صاحب نے اپنے بیٹے کو بہت سمجھایا کہ چوری کرنا بند کردے اور محنت کر کے کما مگر والد کی نصیحت‘بیٹے پر کچھ اثر نہیں کرتی۔ آخر کار مولوی صاحب نے اکبر کو اپنے گھر سے بیدخل کردیا اور کہا کہ ایک چور‘میرا بیٹا نہیں ہوسکتا۔اکبر روتے ہوئے گھر چھوڑ دیا مگر اُسے اپنی امی اور چھوٹے بھائیوں کی یاد ستانے لگتی۔ایک دن وہ بس اسٹاپ پر گیا جہاں ایک شخص بس کے انتظار میں کھڑا تھا‘ اس شخص کے پائنٹ کی پچھلی جیب میں پاکٹ تھی اکبر کی تمام تر نظر اس پاکٹ پر ہی تھی۔ اُس نے توجہ ہٹا کر اُس شخص کی پاکٹ اُڑا لی اور اپنے اڈہ پر پہنچنے کے بعد اس پاکٹ کو کھولا جس میں سے200روپے ‘ فون نمبر کے علاوہ ایک کاغذ برآمد ہوا اس کاغذ پر حدیث تحریر تھی کہ’’ حضور حضرت محمد صلعم کا فرمان ہے کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہے جس کے ہاتھ زبان سے مومن اور پڑوسی محفوظ نہ رہے۔‘‘ حدیث پڑھنے کے بعد وہ رونے لگا‘اس کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔پھر اُس نے فون نمبر پر اُس شخص سے بات کی اور اس کے گھر پہنچ کر ان کا بٹوا چوری کرنے پر معذرت خواہی کی اور اُن کے پیروں پر گرپڑا اُس شخص نے اکبر کو معاف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اپنے والدین پھر اللہ سے معافی مانگ لو ورنہ آپ کی آخرت تباہ ہو جائیگی ۔اکبر‘ اپنے تمام دوستوں کو یہ واقعہ سنایا اور سب نے توبہ کرتے ہوئے چوری نہ کرنے کا عہد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ محنت کریں گے اور کمائیں گے ۔ اکبر اپنے گھر گیا والدین کے پیر چھونے کے بعد ان سے معذرت خواہی کی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ چوری نہیں کرے گا۔والدین نے اکبر کو معاف کرتے ہوئے گھر میں بلوایا اب اکبر اور اس کے تمام دوست محنت کرنے لگے اور معاشرہ میں عزت سے رہنے لگے۔

Comments

comments