Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » سچائی کی جیت
سچائی کی جیت

سچائی کی جیت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں سے حصول تعلیم کیلئے لڑکوں کا ایک گر وپ دوسرے شہر جارہا تھا اس گروپ میں ایک غریب لڑکا تھا۔یہ لڑکا ‘محنتی اور متقی تھا جبکہ اس کی ماں پاکباز خاتون تھیں۔ خاتون ‘ اپنے بیٹے کو ہمیشہ سچ بات کہنے کی ہدایت دیتی رہی۔ غریب بچہ حصول تعلیم کیلئے گاؤں کے دیگر بچوں کے ساتھ شہر جانے کیلئے تیار ہورہا تھا۔ اس لڑکے کی ماں نے اپنے بیٹے کو کھانے کیلئے خشک روٹیوں کا توشہ تیار کیا اور سوت کات کر محنت سے کمائی رقم کے چند سونے کے سکے بیٹے کی جیب میں رکھ دیئے۔ اور اس جیب کو سی دیا۔
گھر سے وداع ہوتے وقت ماں نے اپنے بیٹے سے کہا بیٹا! ہمیشہ سچ بات ہی کہنا‘جھوٹ کے قریب بھی نہ جانا‘ نمازوں کا اہتمام کرنا‘اساتذہ کا احترام کرنا۔ اس لائق بیٹے نے ماں کی دعائیں لینے کے بعد گروپ کے ساتھ شہر کیلئے نکل پڑا۔ راستہ میں اس گروپ کو ڈاکوؤں نے روک لیا اور اس غریب بچے کے پاس بھی ڈاکوآئے اور کہنے لگے بتا! تیرے پاس کیا کیا ہے۔اس غریب نے صاف صاف بتا دیا کہ میرے جیب میں سونے کے چند سکے ہیں جو میری ماں نے رکھے ہیں۔ اس بچے کی حق گوئی پر شک کرتے ہوئے ڈاکوؤں نے اس بچہ کو سردار کے پاس لئے گئے اور سارا ماجرا سنا دیا۔ ڈاکوؤں کے سردار نے سختی کے ساتھ سوال کیا کہ تیرے پاس کیا ہے۔ بچے نے کہا کہ میرے جیب میں سونے کے چند سکے ہیں۔ کئی بار سوال کرنے کے باوجود بچہ سے یہی جواب آیا آخر کار سردار کے حکم پر ڈاکوؤں نے بچے کے جیب کی تلاشی لی تو یقیناًاس میں سے سونے کے چند سکے برآمد ہوئے ۔ سردار نے اس بچہ سے کہا کہ تم‘ دیگر بچوں کی طرح جھوٹ بول کر آگے نکل سکتے تھے؟ مگر جھوٹ کیوں نہیں بولا اس بچہ نے کہا کہ میری ماں کی ہدایت ہے کہ ہمیشہ سچ بولنا اسلئے میں نے سچ کہہ دیا ہے اور سچائی کی ہی جیت ہوگی۔ بچے کی یہ باتیں سننے کے بعد سردار رونے لگا اور اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ غلط کاموں سے توبہ کر لی اور سچا مسلمان بن کر زندگی گذارنے لگے۔بچو! بتاؤ وہ بچہ کون تھا‘ حضرت عبد القادر جیلانی ؒ ۔ بچو! ہمیشہ سچ بات کہیں‘جھوٹ نہ بولیں۔

Comments

comments