Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

محترم عظیم الرحمن صاحب مدیر اعلیٰ’’ وقارِ ہند‘‘ حیدرآباد۔
آداب’’ وقارِہند‘’ پابندی سے مل رہا ہے اس کی تشہیر کیلئے گوناں گوں شہروں کے عزیزوں اور احبابوں تک کوشش جاری رہتی ہے اور وہیں ہر ماہ یہ رسالہ نئے آفتاب کی طرح جلوہ افروز ہوتا رہتا ہے۔ جس کے ضامن جملہ اسٹاف ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ آپ تمام لوگوں کی جدوجہدکو ہمیشہ اسی طرح زندہ و تابندہ رکھے۔(آمین)
قیصر واحدی۔کامٹی ناگپور
ایڈیٹر صاحب السلام علیکم
امید ہے خیریت سے ہونگے۔غزلوں کے کالم میں جمال احمد کامٹوی کی غزل میں بے شمار غلطیاں دیکھ کر تعجب اس بات کا ہوا کہ آپ نے ان کی غلطیوں کو ان دیکھی سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ نیا نیا کا استعمال صرف ایک جگہ بہتر ہے۔ باقی اشعار غیر معنی و غیر موضوع ہیں۔ایسے معیاری رسالے میں اس قسم کے کلام کو جگہ دینا مناسب نہیں ہے پھر شاعر کو الفاظوں کو سجا کر کچھ کہنا ہے اور غزل معیاری بنتی ہے پرانی مونث ہے اس کا استعمال جمال صاحب نے یہ کیا ‘کیا ہے اسی طرح گرانی بھی مونث ہے انہیں ابھی اپنے استاد سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ امید کہ خط شائع کر کے جناب عالی جمال صاحب کو ہدایت دینے میں میری رہنمائی کرئیں گے۔
اقبال احمد قریشی۔ کامٹی
ایڈیٹر صاحب’’ وقارِ ہند‘‘ حیدرآباد
السلام علیکم آپ کا رسالہ باقاعدگی سے تین سال سے پڑھ رہا ہوں۔قیصر واحدی کی غزلیں اور افسانے’’ وقارِ ہند‘‘ میں وقار کو بلند کئے ہوئے رہتے ہیں وہ ایک مخلص انسان کے ساتھ اُردو کے خادم بھی ہیں ان کی غزلیں اور افسانے حالات حاضرہ پر ضرب بڑی عمدگی سے لگاتے ہیں وہ غریب النفس آدمی ہیں اس وجہ سے ان کی اب تک کوئی کتاب نہیں چھپی ہے اور وہ نہ ہی کسی اُردو اکیڈیمی سے تعاون کی غرض رکھتے ہیں وہ ہر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔نئے شعرا کو معیاری میگزین میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہاں قیصر واحدی سے میں‘ ناراض ہوں کہ جمال احمد جمالؔ ابھی اتنے عمدہ شاعر نہیں ہوئے ہیں جو ’’ وقارِہند‘‘ میں غزل شائع کرنے کے قابل بنیں کیونکہ پچھلی غزل ’’نیا نیا ‘‘کو وہ نبھا نہیں سکے۔’’وقارِہند‘‘ کا وقار اس سے ضائع ہوتا ہے ہم قارئین اس رسالے کی ضمانت ہیں۔انشا اللہ آپ اس کا خیال رکھیں گے۔
عبد الستار۔ناگپور
محترم جناب ایڈیٹر صاحب’’ وقارِہند‘‘
السلام علیکم! خیریت کا خواہاں! جب سے ’’ وقارِ ہند‘‘ شائع ہورہا ہے میں اسکا دلچسپی سے مطالعہ کرتا آرہا ہوں ۔ ویسے آپ کا میگزین3‘4روز میں مکمل پڑھ لیتا ہوں پھر بھی پڑھنے کا اشتیاق باقی رہتا ہے۔ یہ میگزین دین اور دُنیا کے معلومات سے بھر پور ہے۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ اُس میں مزید زائد صفحات کا اضافہ کیجئے اور قیمت بھی50روپے مقرر کریں۔ تا کہ مہینہ بھر پڑھنے کا موقع و مواد مل سکے۔ ہر ماہ مجھے’’ وقارِہند‘‘ کا انتظار رہتا ہے۔
سید امجد علی ہاشمی القادری۔ مہدی پٹنم
محترم و مکرم جناب عظیم الرحمن صاحب ایڈیٹر’’ وقارِہند‘‘
السلام علیکم ! چشم بدور فروری2017کا ’’ وقارِہند‘‘ اپنی آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ رنگ برنگی دیدہ زیب‘آنکھوں کو خیرہ کرنے والی رنگا رنگ سوغات لے کر حاضر ہوا ہے۔ محترمی و مکرمی میں نے16جنوری کو ایک خط آپ کو ایصال کیا تھا ۔ اداریہ بہت ہی جاندار رہا آپ کو بہت بہت مبارکباد۔ آپ نے ایک مشکل موضوع پر قلم اُٹھایا ہے وہ بھی بہت چابکدستی سے اسلاموفوبیا خطرناک رحجان پر اب بھی وقت ہے کہ ہم خود کو متحد کر لیں۔ تمام مضامین اپنی جگہ بہت وقار کے ساتھ دعوت فکر دے رہے ہیں۔ تین غزلیں پڑھنے کو ملی‘ قیصر واحدی شعر کہنے میں ماہر ہیں اور جمال احمد جمالؔ یہ کیا تکُ بندی سجائی ہے۔ ستار فیضیؔ اچھی قافیہ‘ردیف جمائے ہوئے ہیں۔تاریخ وسیاحت بے مثال ہے۔ مرزا شہاب الدین(شاہ جہاں) اور گجرات کا شہر سورت پڑھنے کے لائق ہے۔ ایسی اچھی معلومات کی فراہمی کیلئے’’ وقارِ ہند‘‘ کو سلام ہے۔
اقبالؔ احمد نذیر۔ممبئی
ڈیئر ایڈیٹر ’’ وقارِ ہند‘‘ آداب
فروری کا شمارہ مکمل آب و تاب کے ساتھ اُفق صحافت پر جلوہ گر ہونے سے خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ۔سرورق انتہائی دیدہ زیب اور متاثر کن رہا ہے۔ تمام گوشوں کے مضامین معلومات کا خزانہ لئے ہوئے ہیں۔ سیاسیاست میں بیورو رپورٹس کا کوئی جواب نہیں۔خصوصی رپورٹ کو بہتر اور معنی خیز پایا۔ اداریہ لاجواب ہے مشکل اور عصر حاضر کے سلگتے موضوعات پر اداریہ قلمبند کرنا آپ کی صحافتی کمال‘ فن و تجربہ کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اللہ سے دعاگو رہوں گا کہ مستقبل میں بھی ’’ وقارِ ہند‘‘ انتہائی وقار کے ساتھ معلومات کے خزانے لٹاتا رہے۔
عبد المتین قاسم۔بنڈلہ گوڑہ
جناب محترم‘ مدیر عظیم الرحمن صاحب
السلام علیکم فدوی کو’’ وقارِ ہند‘‘ کا قدیم قاری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ابتداء سے ہی گھر کے جملہ افراد پسندیدہ میگزین کا مطالعہ کرتے آرہے ہیں۔گھر کے تمام افراد کا یہ ایک لاجواب اور پسندیدہ میگزین ہے۔ فروری میں رشید انصاری اور شکیل رشید کے مضامین اچھے لگے۔گوشہ حسن و صحت میں ہنگولی کے حکیم حبیب الرحمن خاں فہمی معلوماتی مواد سے قارئین کے علمی خزانہ میں اضافہ کررہے ہیں۔صحت سے متعلق موضوعات پر وہ کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے اس دوران وہ پندو نصائح کے نشتر بھی چلاتے ہیں جو ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ بہتر علم وہی ہے جس کے پڑھنے کے بعد کسی کا بھلا ہوجائے۔ ہنگولی کے حکیم صاحب کے ہم بڑے قدردان ہیں۔ ان کے نصیحت آموز مشوروں کا انتظار رہے گا۔
عبد السلام۔بیدر کرناٹک
مکرمی ایڈیٹر ’’ وقارِہند‘‘
السلام علیکم’’وقارِہند‘‘ کا فروری کا شمارہ پسند آیا۔تمام مضامین کو بہتر پایا۔ گوشہ خواتین کے مضامین نصیحت آموز ہوتے ہیں جبکہ سرمایہ ادب کے مضامین یقیناًسرمایہ سے کم نہیں مزاحیہ خاکے بہت پسند آئے۔ مجتبیٰ حسین کے مزاحیہ مضامین‘ہمیں بے اختیار قہقہ لگانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جناب وقارؔ خلیل صاحب بانی ’’ وقارِہند‘‘ کی غزل’’ مخدومؔ ‘‘ بڑی اچھی لگی۔یادوں کے جھروکے سے مخدومؔ محی الدین پر اُن کے صاحبزادے ظفر محی الدین کا مضمون اچھا رہا۔ اسلامیات کے مضامین کو معیاری اور معلوماتی پایا۔ تاریخ و سیاحت کا سلسلہ اچھا ہے اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’’ وقارِہند‘‘ میں کئی دنوں سے معصوم مرادآبادی نظر نہیں آرہے ہیں اُن کے مضامین کا انداز اسلوب صاف ستھرا اور بہتر تھا۔ قوی توقع ہے کہ آنے والے ایام یقینا’’ وقارِہند‘‘ کیلئے اچھے رہیں گے۔
وسیم اللہ خاں غازی۔ناندیڑ

Comments

comments