Wednesday , 17 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » شہاب الدین کا سانحہ ارتحال ایک عہد کا خاتمہ
شہاب الدین کا سانحہ ارتحال ایک عہد کا خاتمہ

شہاب الدین کا سانحہ ارتحال ایک عہد کا خاتمہ

بیورو کریٹ سے سیاست داں بننے والے ہمہ جہت شخصیت کے مالک سید شہاب الدین سابق ایم پی‘مارچ کے اوائل میں دارفانی سے کوچ کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملے۔ وہ82برس کے تھے ۔ وہ ممتاز اسکالر‘دانشور‘سیاسی رہنما اور اپنے اندر ملی تڑپ رکھنے والے عظیم قائد تھے۔4نومبر1935کو رانچی(جھارکھنڈ) میں پیدا ہونے والے سید شہاب الدین نے آئی ایف ایس سرویس کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے کیرئر کا آغاز ڈپلومیٹ سے کیا۔ انڈین فارن سرویس کے تحت وہ دُنیا کے مختلف ممالک میں ہندوستانی سفیر کی حیثیت سے بھی بے مثال خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ وہ 1974-96 تین بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے شاہ بانو کیس میں سرگرم رول پر ان کو نئی پہچان ملی‘ وہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنونیئر‘آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر اور دیگر ملی تنظیموں سے بھی وابستہ تھے۔1989 میں انہوں نے سیاسی جماعت انصاف پارٹی کی داغ بیل ڈالی تا ہم دو برس بعد اس جماعت کو تحلیل کرنے کے بعد پھر اس کا احیاء کیا تھا۔ وہ‘ وفاقی ڈھانچہ سے اٹوٹ وابستگی رکھتے تھے وہ چاہتے تھے کہ عوام کا ہر شعبہ میں کلیدی رول رہے۔16نومبر2012 کو انہوں نے اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کو کھلا مکتوب روانہ کرتے ہوئے شہ سرخیوں میں آگئے تھے جس کے بعد انہیں ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل شہاب الدین کو بابری مسجد کے تحفظ میں ناکامی پر زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔1983تا2002 تک ان کی ادارت میں ماہنامہ تحقیقی جریدہ مسلم انڈیا پابندی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔ نئی نسل کو سید شہاب الدین کی اہمیت اور ان کے قد آور قائد ہونے کا ثبوت اس وقت ملا جبکہ ان کے تعزیتی اجلاس میں نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری‘سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بشمول ملک کے انتہائی معروف سیاسی سیکولر قائدین نے ممتاز مسلم رہنما کو زبردست خراج پیش کیا۔اس پروگرام میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار اور دیگر سیاسی قائدین کے ساتھ بیورو کریٹس کی ایک کہکشاں شریک تھی۔ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی تعزیتی تقریر میں کہا کہ بہت سارے قائدین کو جہاں شہاب الدین کی آئیڈیا لوجی سے اختلاف ضرور تھا مگر وہیں یہ قائدین ان کی صلاحیتوں کے معترف بھی ہیں۔ شہاب الدین نے فارن سرویس سے استعفیٰ دے کر سیاست میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔مسلمانوں کی سیاسی‘سماجی‘تعلیمی اور معاشی صورتحال کے سروے کیلئے سچر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔اس کمیٹی کی رپورٹ کی تیاری میں سابق ایم پی کا گرانقدر رول رہا ہے۔حامد انصاری کے بموجب شہاب الدین نے ہندوستانی سیاست کو ایک نئی سمت دکھانے کی کوشش کی وہ‘اپنے ریسرچ جریدہ مسلم انڈیا کی مدد سے ملک کی سیاسی صورتحال کو بے باکانہ انداز میں پیش کرتے رہے۔وہ ہمیشہ ملک اور آئین کی خدمت اور اس کے تقدس کو برقرار رکھا۔ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے والے شہاب الدین اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ان کے سانحہ ارتحال سے ہندوستانی مسلمانوں کے عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ نتیش کمار کا ماننا ہے کہ شہاب الدین کو عہدوں کی لالچ نہیں تھی وہ قوم کی خدمت کو عزیز رکھتے۔سمتا پارٹی کے قیام میں ا ن کا اہم رول رہا ہے۔ ہر دل عزیز مسلم قائد کو سابق وزیر اعظم نہرو کے خلاف1956 میں طلباء کے ہمراہ سیاہ جھنڈیوں کے ساتھ احتجاج منظم کرنے کا بھی اعزاز حاصل تھا۔بی جے پی قائد یشونت سنہا نے کہا کہ وہ آج جس مقام پر ہیں وہ‘شہاب الدین کا نتیجہ ہے۔ملک میں سلمان رشدی کی کتاب شیطانی کلمات پر امتناع عائد کرنے میں ان کا اہم رول رہا۔ مختصر علالت کے بعد سیاسی اُفق کا چمکتا ستارہ4مارچ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُوجھل ہوگیا۔ ’’بہت سے خوبیاں تھی مرنے والے میں‘‘

Comments

comments