Friday , 17 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » بابری مسجد کا مذاکراتی حل ممکن نہیں
بابری مسجد کا مذاکراتی حل ممکن نہیں

بابری مسجد کا مذاکراتی حل ممکن نہیں

سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے وقت جبکہ تین چوتہائی اکثریت سے اُتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوچکی ہے اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے ہندو توا کے علمبردار گورکھ ناتھ پیٹھ کے پجاری کو ریاست کا چیف منسٹر بنا دیا گیا ہے سبرامنیم سوامی کی درخواست پر بابری مسجد‘رام جنم بھومی تنا زعہ کو عدالت کے باہر آپسی بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کا جو مشورہ دیا گیا ہے وہ اپنی نوعیت میں بہت اچھا ہے لیکن اس حساس ترین مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی ماضی میں کی گئی تمام کوششوں پر نظر ڈالنے کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ معاملہ حق ملکیت کا ہے اور دونوں فریقین ہندو اور مسلمان ملکیت کے حق سے محروم ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ سبرامنیم سوامی جو کسی طور سے اس معاملے کے فریق نہیں ہیں ‘اپنی قانونی تعلیم کے ذریعہ خود کو مقدمہ کا فریق بنا کر مسلمانوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعہ آپ اپنی مسجد کہیں اور تعمیر کر لیں اور ہم کو بابری مسجد کے مقام پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دیدیں یہ ہٹ دھرمی اور دوسرے فریق پر اپنا فیصلہ تھوپنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کے مشورے کا پہلے دن خیر مقدم کرنے والی آر ایس ایس دیگر جماعتوں نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں حکومت اور مذہبی تنظیموں بشمول شنکر آچاریہ کی جانب سے کی گئی مصالحت کی کوشش کارگر نہ ہوسکی۔ یہ کوشش آئندہ بھی کارگر ہونے کا یقین نہیں ہے کیونکہ فریقین اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں۔مسلمان کہتے ہیں کہ ایک مقام پر جب مسجد تعمیر ہوجاتی ہے تو تا قیامت یہ مسجد ہی رہتی ہے۔دوسری طرف ہندوؤں کا کہنا ہے کہ جس مقام پر مسجد ہے وہی رام کی جائے پیدائش ہے۔رام جنم بھومی۔بابری مسجد تنازعہ67ایکر اراضی کی حق ملکیت کا تھا جو اب سمٹ کر صرف2.7ایکر اراضی تک محدود ہوگیا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے جو فیصلہ دیا اس میں اراضی کو3حصوں میں تقسیم کردیا ایک حصہ را م للا یعنی ننھے رام کو دیا گیا (ان کی نمائندگی ہندو مہا سبھا کررہی ہے) دوسراحصہ سنی وقف بورڈ کو اور تیسرا حصہ نرموہی اکھاڑے کو دیا گیا جب اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیالنج کیا گیا تو عدالت عظمیٰ نے اس فیصلہ پر عمل درآمدکو روک دیا ۔الہ آباد ہائیکورٹ نے سنی وقف بورڈ کو جو حصہ دیا اس میں بابری مسجد شامل نہیں ہے۔ فریقین نے حالیہ سپریم کورٹ کے مشورے کی روشنی میں کہا ہے کہ اس معاملے پر مذاکرات اس وقت ممکن ہوسکتے ہیں جب اس میں کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی شامل نہ ہو اور بات چیت کی نگرانی سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیا جانیوالا ججس کا پیانل کرے گا۔ اکثریتی طبقہ کی جانب سے مذاکرات میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ان بیانات سے ہوتا ہے جن میں یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ بی جے پی 2018 میں راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل کر لے گی اور اس وقت قانون سازی کے ذریعہ رام مندر تعمیر کر لی جائیگی۔سبرامنیم سوامی نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ2024 تک کاشی اورمتھراکی متنازعہ مساجد کو بھی حاصل کر کے وہاں بھی منادر تعمیر کی جائیں گی۔ایک طرف مصالحت اور مذاکرات کی بات کی جارہی ہے اور دوسری طرف اس طرح کے دھمکی آمیز بیانات جاری کئے جارہے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی نگرانی میں اس مسئلہ پر بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مشہور وکیل ظفر یاب جیلانی اس کی طرف سے عدالت میں پیروی کررہے ہیں۔سپریم کورٹ کے مشورے پر اس کمیٹی نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا اور سپریم کورٹ اس معاملے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمارے لئے قابل قبول ہوگا۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا اس پر کافی بحث ہوئی تھی کیونکہ عدالت نے اکثریت کی رائے اور مرضی کا حوالہ دیا تھا۔سپریم کورٹ بھی اگر ایسا ہی فیصلہ دیتی ہے تو ملک کے قانون پر سے اقلیتوں کا بھروسہ اُٹھ جائیگا۔اسلئے سپریم کورٹ میں فی الفور‘سال یا دو سال میں اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ آنے کا امکان نہیں ہے۔

Comments

comments