Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » بے گناہ قیدی
بے گناہ قیدی

بے گناہ قیدی

ممبئی کے سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کیس سے بری ہونے والے عبدالواحد شیخ کی کتاب جس نے بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے معاملات میں پھنسانے کیلئے پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کی ’کارکردگیوں‘ کو اُجاگر کرکے تہلکہ مچا دیا ہے…….!
کیا 7/11 کے تمام ہی ملزمین بے گناہ ہیں؟ کیا ان کا ’مسلمان‘ ہونا ہی ان کا جرم ہے ؟ ممبئی کے سلسلہ وار لوکل ٹرین بم دھماکوں 7/11 کے مقدمے سے اکلوتے بری اور ’ بے گناہ قیدی‘ نام سے تہلکہ مچانے والی کتاب تحریر کرنے والے عبدالواحد شیخ کا یہی ماننا ہے‘ اور یہی اس ملک کے ایک بہت بڑے طبقے کا بھی ماننا ہے‘وہ طبقہ جو ظلم وجبر کے خلاف اور انصاف کی فراہمی کیلئے کل بھی سرگرداں تھا اور آج بھی سرگرداں ہے۔ اس طبقے میں مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ عبدالواحد شیخ تو 7/11 سے بری ہوگئے ہیں مگر مکوکا کورٹ نے ستمبر 2015ء میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ان بارہ افراد کو گنہگار قرار دیا ہے جنہیں عام طور پر ان کے عزیزواقارب‘ دوست واحباب اور انصاف کیلئے لڑنے والی ملک کی کئی غیر سرکاری تنظیمیں‘بشمول جمعیت علماء مہاراشٹرا (ارشد مدنی) بے گناہ سمجھتی ہیں۔(جس کا لیگل سیل گلزار اعظمی کی قیادت میں دہشت گردی کے کئی مقدمات لڑرہا ہے ) ان میں سے پانچ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اور سات کو عمر قید کی۔
عبدالواحد شیخ کی کتاب ’ بے گناہ قیدی‘ بس ابھی ابھی منظر عام پر آئی ہے ‘ اسے فاروس میڈیا ‘ نئی دہلی نے شائع کیا ہے جس نے مہاراشٹر اکے مستعفی انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس ایم مشرف کی محققانہ کتاب ’کرکرے کے قاتل کون؟‘ شائع کرکے آنجہانی اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کی موت کو ’سنگھی دہشت گردوں‘ سے جوڑنے اور 26/11کے ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کو ایک نیا تناظر فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ ’ بے گناہ قیدی‘ کیوں لکھی گئی ؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس کے مصنف عوامی عدالت میں اپنا بھی اور اپنے جیل کے ساتھی قیدیوں کا بھی مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ لوگ یہ دیکھ لیں کہ اس ملک کی سرکاریں ‘پولیس‘ تفتیشی ایجنسیاں اور قانونی نظام کیسے دہشت گردی کے معاملات میں بے قصوروں کو ملوث کردیئے جانے والوں کی طرف سے آنکھیں پھیر لیتا ہے یا باالفاظ دیگر کیسے خود بے قصوروں کو جھوٹے معاملات میں ملوث کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔ وہ ’ تمہید‘ کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں’’دل میںیہ بات تھی کہ 7/11 کے کیس میں جس طرح ہمیں پھنسایا گیا اس بارے میں تفصیل سے لکھ کر عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے‘ تاکہ خدانخواستہ اگر مستقبل میں پولیس کسی بے گناہ کو بم بلاسٹ کے کیس میں ڈالدے تو وہ کس طرح ذہنی طور پر تیار ہوکر کورٹ کچہری کا مقابلہ کرے تاکہ پولیس کے شر سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رہے اور پہلے روز سے بے خوف ہوکر کورٹ میں اپنا دفاع کرسکے۔
کتاب 459صفحات پر مشتمل اور چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا باب ’ پولیس کا افسانہ‘ کے عنوان سے ہے ‘ اس باب میں ضمنی عنوانات کے تحت کھارسب وے (باندرہ )بلاسٹ ‘جوگیشوری بلاسٹ‘بوریولی بلاسٹ اور میرا روڈ بلاسٹ کے ’ حقائق‘ اْجاگر کئے گئے ہیں۔ سرکاری دہشت گردی ‘ کے ضمنی عنوان کے تحت اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کا ذکر ہے ، اس کے بعد ’ اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کے مطابق جھوٹی کہانی‘ کے ضمنی عنوان سے چارج شیٹ کا ’تجزیہ‘ پیش کیا گیا ہے۔ چارج شیٹ میں ملزمین پر منصوبہ بند سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے سیمی اور لشکرطیبہ اور پاکستانی دہشت گردوں سے روابط کا الزام عائد کیا گیا ہے نیز یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں کو فرار کرانے میں ملزمین کا کردار رہا ہے۔ چارج شیٹ بارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ، اس میں دوہزار سے زائد گواہوں کی فہرست بھی شامل ہے۔ عبدالواحد شیخ تحریر کرتے ہیں ’’اے ٹی ایس کی یہ چارج شیٹ اور اس میں بیان کردہ کہانی سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ‘‘ وہ ’سفید جھوٹ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کئی سوال اٹھاتے ہیں ، مثلاً یہ کہ پولیس کسی ایک بھی پاکستانی کو زندہ گرفتار کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوئی ؟ چارج شیٹ میں بارہ پاکستانیوں کے نام دیئے گئے ہیں جو دومہینے تک ملزمین کے ساتھ رہے اور بم بلاسٹ کرکے چلے گئے پولیس کسی کو نہیں پکڑسکی! انہوں نے تمام تیرہ ملزمین کے ذریعہ عدالت کوزبانی اور تحریری طور پر یہ لکھ کر دینے کا کہ ’ ہم سب بے گناہ ہیں اور اس کیس میں غلط طریقے سے پھنسائے گئے ہیں ‘ بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ ’’اکثر ملزموں نے اپنا کال ڈیٹا ریکارڈ اور اسکی لوکیشن کورٹ میں پیش کرکے اپنی بے گناہی ثابت کی اور یہ بتایا ہے کہ بلاسٹ کے وقت وہ ممبئی میں نہیں بلکہ دوسرے شہروں میں تھے۔ ‘‘ سوال یہ ہے کہ ان کے ذریعہ دیئے گئے کال ڈیٹا ریکارڈ اور لوکیشن پر کیوں اعتبار نہیں کیا گیا ؟ انہوں نے ایک سوال یہ بھی اُٹھایا ہے کہ ملزموں کے موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ کیوں غائب کردیئے گئے ؟ بہت سارے سوالات کے ساتھ انہوں نے جھوٹی گواہیاں گڑھنے اور پولیس کے ذریعہ جھوٹے شواہد اور ثبوتوں کو جمع کرنے کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کایہ بھی دعویٰ ہے کہ اے ٹی ایس نے ان گواہوں کو ’ جن کی گواہی سے اے ٹی ایس کے ’افسانے‘ کی قلعی کھل جاتی کورٹ میں گواہی کیلئے بلایا ہی نہیں ! ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’پولیس آج تک عدالت میں یہ ثابت نہیں کرسکی ہے کہ گرفتار مسلم پابندی سے پہلے سیمی کے ممبر تھے۔‘‘ اس باب میں ملزمین پر ٹارچر ‘ دباؤ اور زوروجبر اور دھمکیاں دینے کا بھی ذکر ہے۔دوسرے باب کا عنوان’ اقبالیہ بیان کی حقیقت‘ ہے۔ عبدالواحد شیخ کا دعویٰ ہے کہ اعترافِ جرم ’ تیار کئے جاتے ہیں ‘ وہ لکھتے ہیں ’’ڈی سی پی نے کچھ لکھے ہوئے ‘ کچھ ٹائپ کئے ہوئے کاغذات ملزم کے سامنے بڑھادیئے کہ دستخط کرو۔ کسی ملزم نے کہا کہ مجھے پڑھنے دیا جائے تو ڈی سی پی نے انکار کردیا ور اے ٹی ایس والوں کو اشارہ کرکے کہنے لگا کہ تم لوگوں نے اس کو ’برابر گرم‘ (ٹارچر) نہیں کیا ہے۔ پھر ملزم نے احتجاج کیا تو اُسے بلیک میل کیا گیا‘ تیرے بھائی کو‘ تیری بیوی کو اُٹھاکر لائے ہیں اور وہ دوسرے کمرے میں بند ہیں‘ اگر تم نے دستخط نہیں کیا تو تیرے گھر والوں کو بم بلاسٹ کے کیس میں گرفتار کرلیں گے‘ یہ ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس باب میں اس وقت کے اے ٹی ایس سربراہ پی رگھوونشی کی ’ سرگرمیوں‘ کا بھی ذکر ہے۔تیسرے باب کا عنوان ہے ’ نان فکشن(حقیقی ) اس میں 7/11کے ملزمین کے وہ حلف نامے اور بیانات پیش کئے گئے ہیں جن میں انہوں نے خود کو بے گناہ کہا ہے اور پولیس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس نے انہیں جھوٹے کیس میں پھنسایا ہے۔ کورٹ میں پیش کئے گئے ان حلف ناموں کا مطالعہ رونگٹے کھڑے کریتا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ کریں۔ کمال احمد محمد وکیل انصاری کو کورٹ نے ’ گنہگار‘ قرار دیا ہے۔ کورٹ میں اس کا 17 جولائی 2012ء کا پیش کردہ حلف نامہ چونکانے والا ہے۔ ایک جگہ تحریر ہے ’’ مجھے اے ٹی ایس والوں نے تھرڈ ڈگری ٹارچر کرنے کے بعد لالچ دینا شروع کیا کہ ’ تو اس سے جھوٹی کہانی کیلئے ہاں کردی ‘ ہم تمہیں بہت روپئے دیں گے۔ ‘ اور کہا کہ تجھے ہم لوگ چارلاکھ روپئے دیں گے‘ تو سرکاری گواہ بن جا۔ میں نے ان کو منع کیا تو اے ٹی ایس والوں نے میرے ساتھی ملزموں کو روپیہ اور فلیٹ کا لالچ دیا اور اے ٹی ایس کے چیف کے پی رگھوونشی نے ڈرانا شروع کیا کہ ہم لوگ تمہارے گھروالوں کو بھی پھنسائیں گے۔‘‘ عبدالواحد شیخ ایک ملزم ڈاکٹر تنویر انصاری کا بیان لکھتے ہیں ’’21 نومبر 2006کو جیل افسر گووند پاٹل مجھے انڈابیرک سے نکال کر جیل سپرنٹنڈنٹ شریمتی سواتی ساٹھے کے آفس میں لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد رگھوونشی وہاں آیا‘ مجھے اس کے سامنے زبردستی بٹھایا گیا۔ رگھوونشی غصے میں تھا کیونکہ میں نے اس کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ چل کر کنفیشن کا انکار کردیا تھا۔ وہ مجھے سرکاری گواہ بناکر جلد جیل سے نکلنے کا مشورہ دیتا رہا۔ اس نے مجھے اور میرے گھروالوں کو گالیاں دیں ’ سوچ لو اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرلو ‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ ‘‘ احتشام قطب الدین صدیقی کے بیان میں حیرت انگیز طور پر ڈی جی ونجارا کا ذکر ہے۔ ملاحظہ کریں’’ ایک افسر نے مجھ سے پوچھ تاچھ کی اور کہا ’ ہم کسی مسلمان کو پکڑتے ہیں تو اس کو گولی سے اُڑادیتے ہیں‘ مئی2007ء میں اس افسر کا فوٹو میں نے اخبار میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ افسر گجرات اے ٹی ایس کا چیف ڈی جی ونجارا ہے جو سہراب الدین شیخ کے فرضی انکاؤنٹر کیس میں گرفتار ہوا ‘‘…. سوال یہ ہے کہ ونجارا بھوئی واڑ ہ لاک اَپ میں کیا کررہا تھا! اس باب میں اے سی پی ونود بھٹ کی سنسنی خیز خودکشی کا بھی ذکر ہے۔ ’ونودبھٹ کی خودکشی ‘ کے ضمنی عنوان سے تحریر ملاحظہ کریں‘ ونود بھٹ نے احتشام سے یوں گفتگو کی…اگست 2006ء کے آخری ہفتے میں مجھے بھوئی واڑہ اے ٹی ایس لاک اَپ کے دوسری منزل پر اے‘سی‘ پی ونود بھٹ کے سامنے لے گئے۔ جو بات چیت ہوئی وہ ذیل میں ہے :ونود بھٹ: میں نے اس کیس کے سارے کاغدات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ پایا کہ تم اور دیگر گرفتار ملزم 7/11بم بلاسٹ میں ملوث نہیں ہو۔احتشام: سر! بار بار ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں۔ پھر ہمیں اس کیس میں کیوں گرفتار کیا گیا ؟ بھٹ: اصل مجرم نہیں ملے اس لئے ۔ احتشام: یہ سب کس کے اشارے پر ہورہا ہے ؟ بھٹ: پولیس کمشنر اے این رائے اور اے ٹی ایس چیف کے پی رگھوونشی مجھ پر سخت دباؤ ڈال رہے ہیں کہ تمہارے خلاف بم بلاسٹ کیس کی جھوٹی چارج شیٹ تیار کرکے کورٹ میں داخل کرو ں۔احتشام:کیا آپ ایسا کریں گے؟بھٹ: نہیں‘حالانکہ وہ میری بیوی کو ایک کیس میں پھنسانے کی بات کررہے ہیں۔احتشام: کیا ہم چھوٹ جائیں گے ؟بھٹ: اللہ پر بھروسہ رکھو۔ میں مرجاؤں گا لیکن بے گناہوں کو اس کیس میں نہیں پھنساؤں گا۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد ونود بھٹ نے خودکشی کرلی۔چوتھا باب ’ پولیس ٹارچر(تعذیب)‘کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں چکی کے پٹّہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے ’’جسمانی ٹاچر کیلئے پولیس سب سے زیادہ چکی کے پٹّے کا استعمال کرتی ہے۔ٹارچر کے مختلف طریقے ہیں جن پر کتاب میں بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ لائی ڈیٹکٹیرٹسٹ اور نارکوٹسٹ کے ’ حقائق‘ بھی اجاگر کئے گئے ہیں….پانچواں باب ’ انڈین مجاہدین‘ کے عنوان سے ہے… انڈین مجاہدین جو ایک پراسرار تنظیم ہے۔ عبدالواحد شیخ نے جگہ جگہ کورٹ کے رویہ پر بھی سوال اُٹھایا ہے۔ ایک جگہ وہ تحریر کرتے ہیں ’’کورٹ میں بال کی کھال نکالی جاتی ہے اور ہر دستاویز کو باریکی سے جانچ پرکھ کر قبول کیا جاتا ہے ، پھر صادق( دفاعی گواہ صادق اسرار احمد شیخ) کے نام کے حلفیہ بیان کو اس کے دستخط کے بغیر کورٹ نے کیسے قبول کیا ؟ کورٹ نے صادق کو عدالت میں بلاکر یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ آیا یہ بیان تمہارا ہے یا نہیں ؟ اور تم نے اس بیان پر دستخط کیوں نہیں کئے ؟‘‘
چھٹا باب ’پولیس اسٹیٹ ‘ انتہائی اہم باب ہے۔ اس باب میں جرمن بیکری بلاسٹ سے لے کر ’ صحافی اشیش کھیتان کے اسٹنگ آپریشن ‘ مالیگاؤں بم بلاسٹ 2006ء اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس ‘ اورنگ آباد میں سابق فوجی کے گھر سے ہتھیار کی برآمدگی اور اکشردھام مندر حملہ تک‘ الگ ضمنی عنوانات سے مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہورہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’پولیس کسٹیڈی اور غیر قانونی حراست کے دوران کئی پولیس افسران نے ہم سے بار بار کہا کہ ’مسلمان ملک کے غدار ہیں‘ پاکستان کے خالق‘ دہشت گردی کے جنم داتا اور وطن پر بوجھ ہیں۔ انسپکٹر کھانولکر ‘ ورپے اور دھامنکر اکثر کہتے تھے کہ ہمیں اتنی پاور ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کو کسی بھی وقت انکاؤنٹر میں مارسکتے ہیں‘ بم بلاسٹ میں گرفتار کرکے پھانسی دلاسکتے ہیں ‘ زندگی برباد کرسکتے ہیں اور کوئی ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ اور یہی کام 7/11 کیس میں ہوا ہے۔‘‘

Comments

comments