Wednesday , 12 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » سیاسی اُفق سے غائب ہوتے مسلمان!
سیاسی اُفق سے غائب ہوتے مسلمان!

سیاسی اُفق سے غائب ہوتے مسلمان!

یو پی اسمبلی ‘ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی از خود ایک بڑا المیہ ہے لیکن آدتیہ ناتھکا ملک کی سب سے بڑی ریاست کا (جہاں تقریباً 20 فیصد مسلمان رہتے ہیں) وزیر اعلیٰ بننا مسلمانوں کی نہیں ملک کی بد قسمتی ہے۔ یوپی کے انتخابات سے قبل یہ عام خیال تھا کہ یو پی میں اگر مسلم ووٹس منقسم اور منتشر نہ ہوں تو بی جے پی کی کامیابی ممکن نہ ہوگی لیکن ملک کے سب سے بڑے سازشی امیت شاہ (باور کیا جاتا ہے کہ اگر چانکیہ زندہ ہوتے تو امیت شاہ کی شاگردی اختیار کرتے!)نہ صرف مسلم ووٹ کو منقسم و منتشر کروایا بلکہ دلتوں اور جاٹوں کے ووٹ بھی تقسیم کروادئیے۔ یو پی اسمبلی میں اس بار 403 رکنی ایوان میں صرف 25 مسلمان منتخب ہوئے ہیں۔ یو پی اسمبلی میں مسلمانوں کی اتنی قلیل تعداد کبھی نہیں تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے 50 تا 55 حلقوں میں مقابلہ آرائی تھی اور نہ ہی مسلم قائدین‘ علمائے کرام یا اکابرین و عمائدین نے مسلم ووٹس کی تقسیم روکنے اور مسلم اکثریتی حلقوں میں کسی ایک مسلمان امیدوار کے حق میں رائے دہی کا اہتمام کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس کالم نویس نے ان ہی صفحات میں کئی بار مسلم ووٹس کی تقسیم روکنے پر کئی بار زور دیا تھا لیکن زعمائے ملت نے مجرمانہ تغافل اور بے عملی کی راہ اپنائی اور مسلمان ووٹرس کو بے یقینی اور انتشار کی حالت میں رہنے دیا نتیجہ یہ ہوا 140 ایسے حلقوں میں جہاں مسلم رائے دہندے جملہ رائے دہندگان کا 20 فیصد یااس سے زیادہ تھے جہاں 2012 کے انتخابات میں صرف سماج وادی پارٹی کے 72 اور بہوجن سماج کے 27کے مقابلے میں بی جے پی کے صرف 27 امیدوار جیت سکے تھے۔ اس بار ان 140 حلقوں میں بی جے پی کے 109 کے مقابلے میں سماج وادی پارٹی کے صرف 23 اور بہوجن سماج کے صرف2امیدوار منتخب ہوئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ 2012 کے 69 مسلم امیدواروں کے مقابلہ میں اس بار صرف 25 کو کامیابی ملی۔ اس سے بڑا حزنیہ یہ ہے کہ مسلم ووٹس کی تقسیم کی ساری ذمہ داری ایم آئی ایم پر عائد کردی گئی جبکہ مجلس نے مندرجہ بالا 140نشستوں میں سے صرف 36 پر اپنے امیدوار اُتارے تھے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کی ایک قدر مشترک اروند کجریوال کی عآپ اور اویسی کی ایم آئی ایم سے شدید دشمنی ہے۔ ایم آئی ایم یا اویسی کے خلاف بہتان طرازیوں کا دفاع نہ ہمارا مقصد ہے نہ ہی ضرورت کیونکہ نتائج کے اعداد و شمار نے ثابت کردیا ہے کہ یوپی کے نتائج پر ایم آئی ایم قطعی اثر انداز نہیں ہوسکی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ مایاوتی نے زائد از ایک سو مسلمانوں کو اور کانگریس و سماج وادی پارٹی نے مجموعی طور پر تقریباً 70(بلکہ اس سے بھی زیادہ) مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا۔ اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی‘ ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی اور کئی آزاد امیدواروں نے بھی مسلم ووٹس کو تقسیم یا ضائع کروایا تھا۔ مسلم نمائندگی میں کمی کی اور بھی وجوہات ہیں جس میں پریوار کی سازشیں‘ ایس پی اور بی ایس پی کی معرکہ آرائی کے علاوہ نہ صرف یوپی بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کی عمومی بے حسی اور بے عملی اور خاص طور پر مسلمان قائدین‘ علماء‘ دانشوروں اور صحافیوں کی نامناسب اور ملت کے مفادات کے خلاف روش اختیار کرنا بھی شامل ہے جنہوں نے یو پی کے انتخابات کو وہ اہمیت نہیں دی جوکہ دی جانی چاہئے تھی ۔ دوسری طرف بی جے پی نے ان انتخابات میں کامیابی کیلئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا تھا بلکہ وزیر اعظم مودی نے اپنے عہدہ کا وقار تک اپنے آپ کو بی جے پی کی انتخابی مہم کیلئے وقف کرکے لگادیا تھا۔
ماضی میں بھی یوپی کی دونوں علاقائی پارٹیوں یعنی بہوجن سماج پارٹی یا سماج وادی پارٹی میں سے کسی ایک کا بھی ساتھ مسلمان دیتے تھے وہی پارٹی عام طور پر برسر اقتدار آتی رہی ہے لیکن اس بار اس کا اندازہ ہی لگانا ممکن نہ تھاکہ مسلمان کا میلان کس پارٹی کی طرف ہے کیونکہ سماج وادی پارٹی (جس کو 2012 میں مسلمانوں کی زبردست حمایت کی وجہ سے اقتدار ملا تھا) سے مسلمان زیادہ خوش نہیں تھے۔ اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی کے بی جے پی سے کئی بار ہوئے اتحاد کی وجہ سے مسلمان اکثریت بی ایس پی کی طرف مائل نہ تھی۔ اس طرح کوئی اندازہ نہیں تھا کہ مسلمان کس کا ساتھ دے گا یا بالفاظ دیگر مسلم ووٹس کی ایس پی اور بی ایس پی میں تقسیم لازمی تھی اور ہوا بھی یہی‘ بی ایس پی اور ایس پی نے ایکدوسرے کو برسراقتدار آنے سے روک تو دیا اور دونوں کی مد د سے بی جے پی برسر اقتدا ر آگئی اور سارا الزام مسلمانوں‘ ایم آئی ایم اور پیس پارٹی پر آگیا جبکہ مسلمانوں کا رول اور ان کی مقابلہ آرائی اور کسی بھی پارٹی کی حمایت کا سارا کھیل ان 140 حلقوں تک محدود ہے۔ جہاں مسلمان ووٹرس کی تعداد 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ (403-140=363) 363 حلقوں میں کیا ہوا؟ یہاں کس نے کس کے ووٹ کاٹے؟ کیا کانگریس اور ایس پی نے اتحاد کے باوجود ’’دوستانہ مقابلوں‘‘ نے کیا گل کھلائے؟ اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی نے کتنے حلقوں میں ایس پی اور بی ایس پی کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا اور کتنے حلقوں میں بی ایس پی اور ایس پی نے آر ایل ڈی کے ووٹ کاٹے۔ سیکولر پارٹیوں کی ناکامی کے ذمہ دار مسلمان نہیں ہیں بلکہ خود سیکولر پارٹیاں ہیں جن کو بھاجپا کو ہرانے سے زیادہ ایکدوسرے کو ہرانے کی فکر نے کہیں کا نہ رکھا۔ ایس پی کا کانگریس سے اتحاد کمزور تھا ۔ آر ایل ڈی کا ایس پی سے اتحاد نہ ہوسکا۔ ظاہر ہے کہ ’’لو اور دو‘‘ کا جذبہ مفقود تھا۔ یوپی میں سیکولر پارٹیوں کا بہار کی طرح عظیم اتحاد نہیں ہوسکا اور اس کیلئے صرف سیکولر پارٹیاں ذمہ ار ہیں۔ نیز بھاجپا کی شاندار کامیابی کاراز یہی ہے۔
مسلمانوں کی یوپی اسمبلی میں قلیل تعداد مسلمانوں کیلئے لمحہ فکر ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست کی اسمبلی میں آج تک اتنے کم مسلمان کبھی نہ تھے۔ اس سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں۔ یوپی کے مسلمانوں نے ایس پی اور بی ایس پی کے مقابلے میں پیس پارٹی اور ایم آئی ایم اور دوسری مسلم پارٹیوں کو نظر انداز کیا لیکن ماضی کی طرح ایس پی یا بی ایس پی میں سے کسی ایک ہی کو بطور حکمت عملی ووٹ دیا۔ ایس پی اور بی ایس پی میں مسلم ووٹس کی تقسیم بڑے پیمانے پر ہوئی۔ چھوٹی مسلم جماعتیں ناکام رہیں ۔ پیس پارٹی جس کے 2012 میں چار ارکان اسمبلی تھے اب‘ ایک نشست نہیں جیت سکی۔ خود ڈاکٹر ایوب اور ان کے صاحبزادے ناکام رہے۔ ایم آئی ایم سے بڑی توقعات تھیں لیکن مسلم ووٹرس نے ایس پی اور بی ایس پی کو ترجیح دی۔ ان پارٹیوں کو اتنے کم ووٹ ملے ہیں کہ ان کو ووٹ کاٹنے والی پارٹی کہنا ذہنی دیوالیہ پن ہے۔ 2014 کے بعد بی جے پی نے ایک بار پھر یوپی میں مسلم ووٹ بینک کو منتشر و منقسم کرکے ہندووٹ بینک کو مستحکم کرنے بے نظیر کامیابی حاصل کی اگر (ای وی ایمس EVMs کی دھاندلی ثابت نہیں ہوتی ہے تو) ۔
بی جے پی نے یہ جھوٹا پروپگنڈہ شروع کررکھا ہے کہ مسلمانوں نے بھاجپا کو کثرت سے ووٹ دیا ہے۔ خاص طور پر تین طلاق کے مسئلہ پر بھاجپا کی پالیسی سے متاثر ہوکر مسلمان عورتوں کی بھاری تعداد نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔ بی جے پی کا یہ دعویٰ جھوٹا‘ اور بے بنیاد ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ بھاجپا کو مسلم ووٹس ملنے کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم اکثریتی حلقوں میں مثلاً دیو بند میں بی جے پی کامیاب ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں عرض یہ کرنا ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی میں مقابلہ آرائی کی وجہ سے مسلم ووٹس تقسیم ہوئے ۔ دلتوں میں بھی بی جے پی نے ’’یادو دلت‘ غیر یادو دلت‘جاٹودلت‘ غیر جاٹو دلت‘‘اور ذات برادری کی بنیاد پر ’’ذات‘‘ برادری کا ووٹ تقسیم ہوا اور مختلف قسم کی تقسیم کے عمل سے سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ دیوبند کی مسلم آبادی کا فیصد صرف34فیصد ہے ۔ دیوبند سے پچھلے پانچ انتخابات میں غیر مسلم افراد کو دیوبند میں کامیابی ملی ہے۔ 2012میں بھی یہاں سے ایس پی کے رکن راجندر سنگھ کی موت کے بعد ضمنی انتخاب میں ایس پی کے ایک مسلم امیدوار معاویہ علی نے ان کی جگہ لی تھی ورنہ اس سے قبل غیر مسلم ہی دیوبند کی نمائندگی کرتے رہے۔ اگر تمام حلقوں میں مسلمان صرف ایک ہی پارٹی کو ووٹ دینے اور پیس پارٹی اور مجلس اتحادالمسلمین کو ایس پی یا بی ایس پی نے اپنا حلیف بناتے تو مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور بی جے پی کو اتنی بھارتی اکثریت تو دور رہی شائد اکثریت نہ ملتی! کسی بھی مسلم پارٹی (خواہ وہ مسلم لیگ ہویا مجلس اتحادالمسلمین یا مولانا اجمل کا متحدہ محاذ ہو) کا علیحدہ وجود یا سیاسی طاقت بن کر ابھرنا کسی ہندتوادی یا سیکولر پارٹی کو گوارہ نہیں ہے۔ وہ اس کی شدید مخالف ہیں۔
غیر بی جے پی پارٹیوں کی کسی بھی کابینہ میں کم از کم دو یا تین مسلم وزیر ضرور رہتے تھے اکھلیش کی کابینہ میں اور بنگال میں ممتابنرجی کی کابینہ میں جتنے مسلم وزیر تھے یا ہیں اتنے زیادہ وزیر کبھی نہیں رہے۔ اب یو پی میں 325 حکمران پارٹی کے ارکان میں کوئی مسلمان نہیں ہے اور نہ ہی کابینہ میں کوئی شائد مسلم وزیر ہے۔ بس ایک مملکتی وزیر ہیں۔ یو پی میں مسلمانوں کے پہنچے نقصانات اور بی جے پی کے جھوٹے پروپگنڈے کو بھلاکر اس کے نتائج و عواقب اور سیاسی اُفق سے غائب ہوتے مسلمانوں کو نظر انداز کرکے آج مسلمان اکابرین و عمائدین ملت اسلامیہ کے عظیم تر مفادات کو نظر انداز کرکے ایکدوسرے پر تنقیدوں اور بہتان طرازیوں میں مصروف ہیں۔ یہ سب دیکھ کر خیال آتا ہے۔

Comments

comments