Wednesday , 17 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » پنجاب میں بادل چھٹ گئے! کانگریس کی نئی صبح نمودار !!
پنجاب میں بادل چھٹ گئے! کانگریس کی نئی صبح نمودار !!

پنجاب میں بادل چھٹ گئے! کانگریس کی نئی صبح نمودار !!

ملک کی سکھ اکثریت والی ریاست پنجاب میں مخالف حکومت لہر نے بی جے پی۔اکالی اتحادی حکومت کا بیڑہ غرق کردیا۔5ریاستوں کے ساتھ اس سرحدی ریاست کے اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ تا ہم یہاں نہ مودی میجک نے کام کیا اور نہ آر ایس ایس یا گاؤ رکھشکوں کا کوئی اثر ہوا۔ پنجاب کے حالات نے اگرچہ عام آدمی پارٹی کو موقع دیا تھا لیکن کجریوال موقع سے فائدہ نہیں اُٹھا سکے اور سدھو جیسے ترپ کے پتے کو ہاتھ سے جانے دیا۔دوسری طرف کانگریس لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ نے فوری ان کو اپنے ساتھ کر لیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے اگر کہا جائے تو پنجاب کی جیت نے کانگریس کو نیا حوصلہ دیا ہے اور سدھو نے کہا ہے کہ یہ ملک میں پارٹی کے احیاء کا آغاز ہے تا ہم دیکھا جائے تو جو جیت حاصل ہوئی ہے وہ صد فیصد امریندر سنگھ کی محنت کا نتیجہ ہے۔کانگریس نے اچھا کیا کہ ان کے فیصلوں میں مداخلت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پنجاب میں اکالی دل اور بی جے پی کی گزشتہ دس برسوں سے حکومت قائم تھی اس دوران بادل خاندان نے عوام کے بجائے اپنی حکمرانی قائم کرتے ہوئے ریاست کو لوٹنا شروع کیا۔ بالآخر پنجاب کی ڈرگ یعنی منشیات کی ریاست کی حیثیت سے پہچان مل گئی۔ چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل ان کے بیٹے اور ڈپٹی چیف منسٹر سکبھیر سنگھ بادل اور ان کی بہو اور مرکزی وزیر ہرسمرت نے اقتدار کو خاندانی حکومت میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عام آدمی پارٹی نے اکالیوں کے ووٹ کاٹے جس کا فائدہ بھی کانگریس کو ہوا ہے۔ آپ نے ان انتخابات میں کئی غلطیاں کی ہیں۔مرکزی قیادت نے ریموٹ کنٹرول کا جو کا م کیا ہے وہ پنجابیوں کو ناگوار گذرا ہے۔ کرکٹر سے سیاستداں بننے والے سدھو سے بات چیت میں ناکامی آپ کو بہت مہنگی ثابت ہوئی۔ آپ کی جانب سے امیدواروں کے انتخاب میں بھی احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔117 رکنی اسمبلی میں کانگریس نے 77 نشستیں حاصل کی ہیں اور سب سے زیادہ نشستیں اس نے مالوہ بیلٹ سے حاصل کی ہیں۔ اس پٹی کی69 نشستوں کے منجملہ40 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔دریائے ستلج کے جنوب میں واقع یہ علاقہ زرعی دولت سے مالا مال ہے۔ عام آدمی پارٹی کا بھی یہاں کافی اثر تھا۔2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اس نے اس علاقہ میں4نشستیں جیتی تھیں اس مرتبہ اس علاقہ میں اس کو صرف18نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ عآپ کی حلیف جماعت لوک انصاف پارٹی کو یہاں دو نشستیں حاصل ہوئی ۔اکالی دل کو جو اس علاقہ میں اپنا ووٹ بینک رکھتا ہے۔ صرف8نشستیں حاصل ہوئی ہیں اس کی حلیف جماعت بی جے پی کو صرف ایک نشست ملی۔ پنجاب کے دو اور علاقوں ماجھا۔دیویا جو دریائے ستلج اور بیاس کے درمیان ہے کانگریس نے پورے ماجھا علاقے پر قبضہ کر لیا۔ یہ علاقے امرتسر اور گرداسپور‘ ترن تارن اور پٹھان کوٹ پر مشتمل ہیں۔یہاں کانگریس کو22حلقوں میں کامیابی ملی۔ سکھوں کے مقدس شہر امرتسر میں سابق ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر سنگھ بادل نے یہاں گزشتہ4برسوں کے دوران زبردست ترقیاتی کام کئے۔ سنہرے گردوارہ کو عالمی شہرت یافتہ مرکز بنانے کی بھی کوشش کی لیکن ان کے یہ اقدامات کارگر ثابت نہ ہوئے۔اکالیوں کو یہاں کسی بھی نشست پر کامیابی نہ ملی‘ امرتسر میں تمام5نشستیں کانگریس کے حق میں چلی گئیں اس کے امیدواروں نے کم سے کم14 ہزار اور زیادہ سے زیادہ42 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔امرتسر کی لوک سبھا نشست بھی کانگریس کے پاس ہے۔
پنجاب میں کامیابی کانگریس کیلئے کئی ایک وجوہات کی بناء پر با معنی اور اہمیت کی حامل ہے۔ اس کامیابی نے ملک بھر میں پارٹی کے مایوس کارکنوں کو نیا حوصلہ ملا ہے۔ یہاں سے پارٹی نئی شروعات کرسکتی ہے یہ بات اور ہے کہ اکالیوں کی نا اہلی نے اس کو کامیابی عطا کی ہے۔ تا ہم کیپٹن امریندر سنگھ پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ پنجابیوں کا اعتماد برقرار رکھیں ۔ پنجاب میں منشیات کی اندھا دھند تجارت‘گاؤ رکھشکوں کی جانب سے مویشی تاجروں کو ہراسانی وہ وجوہات ہیں جو کانگریس کیلئے ماحول سازگار کرنے میں معاون ثابت ہوئے ایک اندازے کے مطابق پنجاب کی16 فیصد آبادی منشیات کی عادی ہوچکی ہے اس کے علاوہ مافیا راج بھی زور پکڑنے لگا تھا ۔ شراب کے تاجر شیو لال دوڈا کا غنڈہ راج اور اس کی حکومت کی سرپرستی نے مقامی عوام میں نفرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ پنجابیوں نے عآپ پر کانگریس کو ترجیح دی۔ اس کا واضح مقصد یہی نظر آتا ہے کہ تجربہ کار کانگریس‘عآپ سے زیادہ بہتر طریقے سے ریاست کو دوبارہ بہتر بناسکتی ہے۔ دوسری طرف عآپ نے ایک کامیڈین بھگونت مان کو اپنے چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش کیا اور سدھو جیسے سنجیدہ امیدوار کو مسترد کردیا اس کا پنجاب کے رائے دہندوں نے غلط مطلب نکالا ہے۔ جس وقت انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں عام آدمی پارٹی کا بہت زور چل رہا تھا۔لوگ اس کو ہی ایک بہتر متبادل کے طور پر تصور کرنے لگے تھے لیکن کیپٹن امریندر سنگھ نے گلی گلی کوچہ کوچہ پھر کر پنجابیوں کی رائے کو کانگریس کے حق میں استعمال کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اگرچہ راہول گاندھی نے دیگر ریاستوں کی طرح پنجاب میں بھی مہم چلائی لیکن کانگریس کو ووٹ صرف اور صرف امریندر سنگھ کی محنت کی وجہ سے ملے ہیں ۔ 2014کے عام انتخابات میں ہی یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ عوام برسراقتدار اکالی دل ۔بی جے پی حکومت سے ناراض ہیں۔ یہاں ان انتخابات میں عآپ کو4‘ اکالیوں کو 4‘ کانگریس کو3 اور بی جے پی کو ایک لوک سبھا نشست حاصل ہوئی تھی۔امرتسر سے مقابلہ کرنے والے ارون جیٹلی کو کانگریس امیدوار امریندر سنگھ نے ہرا یا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو کو امرتسر کی نشست سے ہٹا کر جیٹلی کو امیدوار بنایا گیا تھا۔ دو ماہ بعد سدھو کو راجیہ سبھا میں رکن بنا دیا گیا لیکن سدھو کے دل میں بی جے پی کیلئے کٹھاس پیدا ہوگئی تھی سدھو نے اکالیوں کی طرز حکمرانی کے خلاف کئی مرتبہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا اور دباؤ ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے ان کی نمائندگی پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اس سے دلبرداشتہ ہو کر سدھو نے بی جے پی چھوڑ دی۔پنجاب میں10سال بعد کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئی ہے۔ پارٹی کیلئے اگرچہ یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے لیکن جب مسلسل ہار کا سامنا رہتا ہے تو چھوٹی کامیابی بڑی معلوم ہونے لگتی ہے۔ کانگریس ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت ہے آج جتنی پارٹیاں ملک میں ہیں ان کے قائدین کانگریس کیلئے کام کرچکے ہیں۔2014 کے انتخابات اور اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے کانگریس کے صفایا کا عہد کیا تھا اور وہ اپنے اس عہد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں کانگریس کو ایسے وقت زوال کا سامنا ہے جبکہ اس کوبھنور سے نکالنے میں اس کے پاس کوئی قابل لیڈر نہیں ہے۔نوجوان لیڈر راہول گاندھی حتی المقدر کوششوں کے ذریعہ پارٹی کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔جس طرح ایک سوکھے درخت سے ایک ایک کر کے پتے گرنے لگتے ہیں اس طرح قائدین بھی کانگریس سے الگ ہورہے ہیں سوائے چند وفاداروں کے کوئی سونیا اور راہول کے ساتھ نہیں ہیں۔سونیا گاندھی حد سے زیادہ علیل ہونے کی وجہ سے یو پی میں مہم نہیں چلا سکیں ایسے میں اگر پنجاب میں اس پارٹی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار حاصل ہوتا ہے تو یہ انتہائی مسرت کی بات ہے ۔ کانگریس پنجاب میں انتخابات سے قبل کانگریس کیلئے حالات اتنے ساز گار نہیں تھے ۔ 2015 میں جب پرتاب سنگھ باجوا پنجاب کانگریس کے صدر تھے اور امریندر کو حاشیہ پر کرنے کی کوشش کررہے تھے تو امریندر نے دھمکی دی تھی کہ اگر پنجاب کانگریس کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں سونپی نہیں گئی تو آپ کو روکنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ان کا اشارہ پارٹی چھوڑنے کی طرف تھا۔تا ہم کانگریس نے فوری اپنی غلطی کو درست کرتے ہوئے امریندر کو پنجاب کانگریس کی ذمہ داری سونپ دی۔سدھو کے آجانے سے پارٹی کی طاقت میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اتحادی پارٹی کی لاج بچانے کیلئے مودی نے پنجاب میں ایک دو جلسوں سے خطاب بھی کیا لیکن رائے دہندوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پٹھان کوٹ پر دہشت گردوں کا حملہ بھی ہوا۔سرحد پر پاکستانی فوج کی شلباری کی وجہ سے کئی دیہاتوں کا تخلیہ بھی کرایا گیا لیکن ان واقعات نے رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں کیا۔ سکھ فسادات کے معاملات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی پھر بھی سکھوں نے کانگریس کے حق میں ووٹ دیا۔ پنجاب میں اس مرتبہ رائے دہی بھی بہت زیادہ ہوئی75تا80 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ کانگریس کو38.5 فیصد ووٹ ملے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ2012 کے انتخابات کے مقابلے1.5فیصد کم ہیں۔اکالی دل کو25.2 فیصد ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کو5.4فیصد ووٹ ہی حاصل ہوئے۔عام آدمی پارٹی نے23.7 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔اگر یہ پارٹی سدھو کو اپنے ساتھ شامل کر لیتی تو اس کی نشستیں بڑھ سکتی تھیں۔پنجاب میں سہ رُخی مقابلہ تھا۔ رائے دہندوں نے یہی سوچا کہ معلق اسمبلی کی صورت میں کوئی بھی پارٹی دوسری جماعت کا ساتھ دینے والی نہیں ہے اسلئے ایک ہی پارٹی کو واضح اکثریت سے کامیاب بنا دیا جائے۔اکالی ان کی پسند نہیں تھے اسلئے کانگریس ان کیلئے اولین ترجیح بن کر اُبھری۔

Comments

comments