Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » امریکا و کنیڈا » ٹرمپ نے دنیا پر امریکہ کے دروازے کیوں بند کردےئے ؟
ٹرمپ نے دنیا پر امریکہ کے دروازے کیوں بند کردےئے ؟

ٹرمپ نے دنیا پر امریکہ کے دروازے کیوں بند کردےئے ؟

ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے بعد سے جو بھی اقدامات کئے ہیں‘دُنیا نے ان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر کے یہ اقدامات ان کی قوم کے مفاد میں ہیں لیکن اس وقت عالمی سطح پر امریکہ جو دول ادا کررہا ہے اس کی روشنی میں عالمی ممالک کے ساتھ وہ اپنے تعلقات کو محدود نہیں کرسکتا ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات پر خود ان کے ملک میں مخالفت کی جارہی ہے اور احتجاج کئے جارہے ہیں ۔عدالتوں کی جانب سے ان کے احکامات پر عمل آوری پر روک لگائی جارہی ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر بضد ہیں کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کریں گے جن کی وجہ سے ان کو دُنیا کی سوپر پاور کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں11ملین یعنی ایک کروڑ10 لاکھ ایسے افراد رہتے ہیں جن کے پاس رہائش کے مناسب کاغذات نہیں ہیں ان لوگوں کو رہتے ہوئے برسوں بیت چکے ہیں۔ان کے خاندان وہاں آباد ہوچکے ہیں اس کے علاوہ ان کی محنت امریکی معیشت میں اہم رول ادا کررہی ہے امریکہ میں اس وقت جو محنت کش طبقہ آباد ہے ان میں اکثریت میکسیکو اور وسطی آفریقہ کے ممالک کی ہے یہ بات درست ہے کہ ان کی اکثریت امریکہ میں غیر مجاز مقیم ہے لیکن ان کی محنت کے نتیجہ میں امریکہ کی معیشت نے ترقی کی ہے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ جو لوگ امریکہ میں مقیم ہیں وہ لوگ امریکیوں کے حقوق پر قبضہ کررہے ہیں۔ان کی ملازمتوں اور مواقع پر قابض ہیں اسلئے وہ ملک سے نکل جائیں تو امریکیوں کیلئے مواقع پیدا ہونگے۔
تا ہم ٹرمپ کے ان اقدامات کی وجہ سے فی الفور 3لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے یہی نہیں ٹرمپ کے اعلانات نئے امریکہ میں نفرت کی لہر بڑھ گئی ہے اور مسلمانوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔گزشتہ دنوں مسلمانوں کے دھوکے میں ہندوستانیوں پر بھی حملے کئے گئے ا ن میں سے دو کو گولی ماردی گئی۔میڈیا کی اطلاع کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں(جب سے امریکی صدارتی انتخابات کیلئے مہم شروع ہوئی) نفرت انگیز جرائم میں65 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ بات امریکی معاشرے کیلئے انتہائی سنگین ہے۔ اس کی گہرائی کو ٹرمپ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ قوم پرستی کا جذبہ رکھنے والے اگرچہ اپنی قوم میں ہیرو کہلاتے ہیں لیکن اگر اس ہٹلر جیسی سختی پیدا کردی جاتی ہے وہ قوم کیلئے بربادی ثابت ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجہ میں ان کے دوست ممالک جیسے ہندوستان نے یہ تشویش کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ٹرمپ کے احکامات کے مطابق کوئی بھی غیر مجاز تارک وطن جو کسی جرم کی سزا کاٹ چکا ہے یا جس پر شبہ ہے ان کو سب سے پہلے ملک بدر کیا جائیگا۔ امریکہ کے وزیر داخلہ جان کیلی اس سلسلہ میں اپنے محکمہ کے ایک حکم نامہ پر دستخط کر چکے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو غیر مجاز طور پر سرحد پار کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ چوری‘ڈرانے‘دھمکانے‘جھگڑا کرنے جیسے واقعات کیلئے اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہے تو ان کو بھی فوری ملک بدری کا خطرہ ہے۔ امریکہ نے ایسے غیر مجاز شہریوں کو ’’ ایلین‘‘ کا نام دیا ہے ان تارکین وطن میں ایسے شہری بھی شامل ہیں جو نامساعد حالات میں اپنے ممالک سے بھاگ آئے ہیں اور ان کو خدشہ ہے کہ ان کا ملک انہیں واپس قبول نہیں کرے گا۔ ان میں کئی افغانی‘پاکستانی‘عرب ممالک کے باغی کہلانے والے افراد بھی شامل ہیں۔ ان کو اپنے وطن میں خود گرفتاری کا سامنا ہے لیکن ٹرمپ نہ کسی کی بات مان رہے ہیں نہ کسی سے ہمدردی ظاہر کررہے ہیں۔ انہوں نے غیر مجاز تارکین وطن کی آمد کو روکنے کیلئے ویزا قواعد بھی سخت بنا دیئے ہیں۔
امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق3لاکھ سے زیادہ ہندوستانی رہتے ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر مجاز قیام کرنے والوں کے زمرے میں آتی ہے۔ اوباما انتظامیہ نےH1-B ویزا رکھنے والوں کی بیویوں کو بھی امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس اجازت کو منسوخ کردیا ہے ہندوستانی ٹکنالوجی ورکرس 90 فیصدH1-B ویزا استعمال کرتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے نئے قوانین کا ہزاروں ہندوستانی تارکین وطن پر غلط اثر پڑے گا۔موجودہ قانون کے مطابق کسی بھی ہندوستانی کو گرین کارڈ حاصل کرنے کیلئے10تا 35 برس انتظار کرنا پڑے گا۔قوانین کی سختی کی وجہ سے امریکہ جانے والوں کی تعداد آئندہ دس برسوں کے دوران زبردست کمی آسکتی ہے ۔ اگرچہ اوباما کے دور میں ہندوستانیوں سے امریکہ کے تعلقات میں زبردست مضبوطی آئی تھی ٹرمپ کے دور میں وہ گرمجوشی نظر نہیں آرہی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد امریکی پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہوئی ہے۔ ان میں کیلیفورنیا سے کملا پیرس‘سٹیل سے پرمیلا جئے پال‘روکھنہ‘آمی بیرا راجہ کرشنا مورتی شامل ہیں۔اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ہندوستانیH1B ویزا رکھنے والوں کے ساتھ رعایت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں معمولی جھگڑے پر ایک ہندوستانی سافٹ ویر انجینئر کو گولی مار دی گئی۔ ٹرمپ نے اس واقعہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تا ہم جب ڈپلومیسی کے ذریعہ دباؤ ڈالا گیا تو کانگریس سے خطاب کے دوران انہوں نے اس کا تذکرہ کیا اس کی وجہ سے نیو یارک ٹائمز کی وہ رپورٹ تھی جس میں ٹرمپ سے ہندوستانیوں کو ہونے والی مایوسی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔اس رپورٹ میں مودی حکومت کی تشویش سے امریکی انتظامیہ کو واقف کروانے کی کوشش کی گئی۔جب سے ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے انہوں نے مودی سے صرف ایک مرتبہ فون پر رسمی گفتگو کی تھی۔
غیر مجاز تارکین وطن ہر ملک میں رہتے ہیں تا ہم حالیہ معاشی انحطاط کے بعد سے مختلف ممالک اپنے باشندوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے تارکین وطن کو نکالنے پر غور کررہے ہیں۔امریکہ میں جملہ غیر مجاز تارکین وطن11.4 ملین ہیں ان میں سب سے زیادہ6.72 ملین میکسیکو کے باشندے ہیں۔ ان کے بعد ال سلوڈر کے6لاکھ‘گوتمالہ کے5لاکھ ہنڈروس کے3.60 لاکھ فلپائن کے3.10 لاکھ ہندوستان کے3لاکھ باشندے امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے رہتے ہیں۔ٹرمپ کے احکامات نے ان میں خوف و دہشت پیدا کردی ہے کچھ لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں اور کچھ لوگ پر تشدد مظاہرے بھی کررہے ہیں‘دوسری طرف قوم پرست امریکیوں کی جانب سے تشدد میں اضافہ ہورہا ہے ایسے میں امریکی معاشرے کا امن ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
2012 میں جہاں امریکہ میں غیر مجاز مقیم ہندوستانیوں کی تعداد2.6 لاکھ تھی وہ بڑھ کر2014 میں3لاکھ ہوگئی۔اس طرح دو برسوں کے دوران غیر مجاز ہندوستانیوں کی تعداد میں50 ہزار کا اضافہ درج کیا گیا ہے اگرچہ ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستانیوں کو ملک سے نکالنے کے بارے میں کوئی واضح یا مخصوص اعلان نہیں کیا ہے تا ہم جو قوانین بھی منظور ہوئے ہیں ان سے ہندوستانیوں کا متاثر ہونا لازمی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے ہندوستانیوں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کیلئے نمائندگی کی جارہی ہے لیکن ٹرمپ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستانیوں میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے۔ حالیہ نفرت انگیز واقعات کے بعد امریکہ میں ہندوستانی برادری کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں نے ہندوستانی نژاد امریکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہندی یا اُردو میں گفتگو نہ کریں۔ ماتھے پر بندیا لگائیں‘ہندو تلک لگائیں تا کہ ان کی پہچان ہوسکے۔ امریکی محکمہ داخلہ کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں صرف77,908ہندوستانی ہی قانونی اور جائز طریقے سے مقیم ہیں بقیہ کو کسی نے کسی طرح سے امریکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی تارکین وطن کو جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان کو ملک سے باہر کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ حالیہ جو قانون امریکی عدالت نے مسترد کیا ہے اس میں نا بالغ بچوں کے ساتھ رہنے والوں‘اپنے ملک میں گرفتاری کا خدشہ رکھنے والوں اور پناہ کیلئے درخواست دینے والوں کو استثنیٰ دیا گیا تھا لیکن امریکی عدالتوں نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔چنانچہ ٹرمپ انتظامیہ اس سلسلہ میں نیا قانون بنانے کیلئے مسودہ بل تیار کرچکا ہے جس کو عنقریب امریکی کانگریس میں پیش کیا جائیگا۔سب سے زیادہ و ہ تارکین وطن پریشان ہیں جو اس ملک میں برسوں سے مقیم ہیں۔اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ64 فیصد تعداد ایسی ہے جو دس سال سے زیادہ عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہے جبکہ14فیصد5سال یا اس سے زیادہ عرصہ سے یہاں رہ رہے ہیں۔

Comments

comments