Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » پنجاب کی واحد مسلم وزیر رضیہ سلطانہ
پنجاب کی واحد مسلم وزیر رضیہ سلطانہ

پنجاب کی واحد مسلم وزیر رضیہ سلطانہ

سرحدی ریاست پنجاب کے اسمبلی انتخابات میں ریاست کے واحد بااثر مسلم حلقہ مالیر کوٹلہ سے کانگریس امیدوار بیگم رضیہ سلطانہ نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اسمبلی میں واحد مسلم ایم ایل اے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے۔پنجاب پولیس کے ڈی جی پی محمد مصطفےٰ کی اہلیہ بیگم رضیہ سلطانہ نے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس حلقہ سے تیسری بار ایم ایل اے بن کر ایک ریکارڈ بنایا ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد رضیہ سلطانہ کو کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی کابینہ میں جگہ دیتے ہوئے مملکتی وزیر بنایا ہے۔مالیر کوٹلہ سے منتخب ہونے والی رکن اسمبلی رضیہ سلطانہ کی کابینہ میں شمولیت بہت سے لوگوں کیلئے ایک خوشگوار حیرت تھی۔رضیہ سلطانہ تیسری بار رکن اسمبلی بنی ہیں جبکہ گذشتہ 50 سال میں پنجاب میں وزارت کا قلمدان سنبھالنے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔50 سالہ رضیہ سلطان‘ امریندر سنگھ کی گذشتہ حکومت میں چیف پارلیمانی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات تھیں۔ یہ عہدہ وزیر کے برابر ہے تاہم اس کے پاس کسی وزیر جیسے اختیارات نہیں ہوتے۔ 2007 میں امریندر سنگھ کی حکومت کو شکست ہوئی تھی تاہم رضیہ سلطانہ نے کانگریس کے ہی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2012 کے انتخابات میں رضیہ سلطانہ کو دوسرے آئی پی ایس آفیسر کی اہلیہ فرزانہ شکست دینے میں کامیاب رہیں۔رضیہ سلطانہ کے شوہر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس محمد مصطفیٰ ہیں اور اس وقت ڈی جی پی پنجاب ہیومن رائٹس کمیشن تعینات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حلقہ میں رضیہ کو سخت مقابلہ درپیش تھا۔ شرومنی اکالی دل کے امیدوار محمد اویس اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار ارشدڈالی اور رضیہ سلطانہ میں کانٹے کا مقابلہ تھا۔رضیہ سلطانہ کے مد مقابل ان کے خاص بھائی ارشد ڈالی تھے جو چند ایک پنجابی فلموں میں بھی کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف و شرومنی اکالی دل کے امیدوار کو کم و بیش12702 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جبکہ ان کے بھائی کو تیسرا مقام حاصل ہوا۔50 سالہ رضیہ سلطانہ کو سال2012 کے اسمبلی انتخابات میں اس حلقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تب مالیر کوٹلہ سے ایک اور سابق پولیس آفیسر(ڈی جی پی) محمد اظہر عالم کی اہلیہ فرزانہ عالم منتخب ہوئی تھیں۔وہ شرومنی اکالی دل کے ٹکٹ پر منتخب ہوئی تھیں مگر اس بار اکالی دل نے فرزانہ کے بجائے ایک بزنس مین محمد اویس کو میدان میں اُتارا تھا تا ہم انہیں(اویس) کو شکست دیتے ہوئے رضیہ سلطانہ نے گذشتہ انتخابات میں اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔اس طرح حلقہ مالیر کوٹلہ ایک بار پھر ہاتھ میں آگیا۔ انتخابی مہم میں دختر آف پنجاب سے مشہور ہونیوالی رضیہ سلطانہ نے عوام سے وعدہ کیا کہ کامیابی کے بعد وہ مالیر کوٹلہ کو ضلع بنانے کیلئے ممکنہ سعی کریں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے‘حلقہ کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔ کانگریس امیدوار رضیہ سلطانہ کو 58,982ووٹ ملے۔ جبکہ ان کے قریبی حریف محمد اویس کو46,280 ووٹ ملے۔رضیہ سلطانہ کو ساجدہ بیگم کے بعد ریاست کی دوسری مسلم خاتون رکن اسمبلی بننے کا بھی اعزاز ہے۔ سب سے پہلے ریاست سے واحد مسلم رکن اسمبلی بننے کا اعزاز ساجدہ بیگم کے پاس تھا جن کا سابق صدر جمہوریہ گیانی ذیل سنگھ کے با اعتماد اور قریبی رفقاء میں شمار ہوتا تھا۔رضیہ سلطانہ کا انتخابات میں حصہ لینا اور وزارت حاصل کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے بھی ایک پیغام ہے جس نے 2014 کے لوک سبھا کے انتخابات اور حالیہ اُترپردیش کے انتخابات میں کوئی مسلمان امیدوار میدان میں نہیں اُتارا تھا۔ اس ضمن میں بی جے پی کا موقف تھا کہ انھیں کوئی ’مناسب‘ امیدوار نہیں ملا۔بہرحال‘مالیر کوٹلہ کی شناخت ملک کی تقسیم اور آزادی سے لیکر فرقہ وارانہ امن کے ایک چھوٹے سے جزیرے کے طور پر رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ ملک کی تقسیم کے وقت پنجاب کے بیشتر حصوں میں ہندوسکھ اور مسلمانوں کے درمیان خوں ریزی ہوئی تاہم مالیرکوٹلہ میں ایسے کوئی واقعات پیش نہیں آئے۔ اسی طرح بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی یہاں پرتشدد واقعات نہیں ہوئے۔بدقسمتی سے حالیہ انتخابات سے قبل کچھ شرپسند عناصر نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کے اوراق کی بے حرمتی کی کوشش کی۔ اس سے کچھ تناؤ پیدا ہوا اور اس کی وقت رکن اسمبلی فرزانہ عالم کے گھر کے باہر بھی حملہ کیا گیا۔

Comments

comments