Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » کشمیر میں ضمنی پارلیمانی انتخابات مخلوط حکومت کا وقار داؤ پر
کشمیر میں ضمنی پارلیمانی انتخابات مخلوط حکومت کا وقار داؤ پر

کشمیر میں ضمنی پارلیمانی انتخابات مخلوط حکومت کا وقار داؤ پر

یو پی انتخابات میں جیت کے بعد جشن منانے والی بی جے پی کی حلیف پی ڈی پی کیلئے ضمنی پارلیمانی انتخابات جو سرینگر‘بڈگام اور اننت ناگ‘پلوامہ کی دو نشستوں کیلئے بالترتیب9اپریل اور12اپریل کو ہونے والے ہیں عزت و وقار کا مسئلہ بن گئے ہیں دونوں نشستوں پر پی ڈی پی نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ سری نگر نشست کیلئے پی ڈی پی نے نذیر احمد خان کو ٹکٹ دیا ہے جنہوں نے حال ہی میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی ہے جبکہ اننت ناگ نشست کیلئے ریاستی چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے بھائی تصدق مفتی کو انتخابی میدان میں اُتارا گیا جبکہ ریاست کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پردیش کانگریس اتحاد نے سری نگر کی نشست نیشنل کانفرنس اور اننت ناگ کی نشست کانگریس کیلئے چھوڑ دی ہے۔ سری نگر سے نیشنل کانفرنس کے پارٹی سرپرست اور تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ میدان میں ہیں جبکہ اننت ناگ سے پردیش کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کو نامزد کیا گیاہے اس کے علاوہ دونوں نشستوں کیلئے چھوٹی موٹی سیاسی پارٹیوں کے تقریباً28امیدواروں نے بھی اپنے پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں۔ حالانکہ اصل مقابلہ برسراقتدار پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد میں ہوگا لیکن اگر ووٹنگ کی شرح بڑھ گئی تو برسر اقتدار پارٹی کو کسی حد تک نقصان ہوسکتا ہے ۔پہلی مرتبہ سیاست میں قسمت آزمائی کرنیوالے تصدق مفتی نے پہلے ہی کارکنوں کا دل جیتنے کیلئے کہا ہے کہ وہ الیکشن جتائیں لیکن اپنی جان پر کھیل کر نہیں‘ مبصرین کے بقول برہان وانی کی ہلاکت کے بعد مخلوط حکومت کی پوزیشن کشمیریوں میں کافی کمزور ہوگئی ہے اور اگر اپوزیشن پارٹیاں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیش آئے کشمیر کے پس منظر کو صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے میں کامیاب رہیں تو برسر اقتدار پارٹی کو امیدواروں کو شکست دینا ان کیلئے زیادہ مشکل نہیں ر ہے گا حالانکہ تلخ حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ اپوزیشن پارٹیاں بھی جب اقتدار میں تھیں تب بھی انہوں نے کوئی دودھ کی نہریں نہیں بنائیں اور نہ ہی عوام کو وہ سہولیات بہم پہونچائیں جن کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا رہا سوال علیحدگی پسندوں کا وہ تو ہر بار الیکشن کے موقع پر بائیکاٹ کا بگل بجا دیتے ہیں اور لوگ بائیکاٹ کا ل پر کتنا عمل کرتے ہیں یہ راز تو پوشیدہ نہیں ہے لیکن جس طرح اب کی بار خیالات کی جنگ کا دعویٰ کرنے والی محبوبہ مفتی کی حکومت نے مزاحمتی خیمہ کے خلاف جس طرح کریک ڈاؤن کر کے انہیں یا تو نظر بند کیا ہے یا سنٹرل جیل منتقل کیا ہے اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ محبوبہ مفتی کی زیر قیادت مخلوط حکومت نے خیالات کی جنگ پہلے ہی ہاردی ہے اور اب انتخابات میں سیاسی جنگ جیتنے کیلئے اگرچہ یہ سیاسی بازی جیت بھی سکتی ہے لیکن عوام کے دل جیتنے کیلئے ان کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔آخر کا ر مزاحمتی قائدین بائیکاٹ کی کال دے کر عوام کو کس طرح دھکیلنا چاہتے ہیں یہی سوال جب معروف حریت رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے نائب چیرمین سید اعجاز رحمانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مرکز‘ ریاست جموں و کشمیر میں انتخابات کاڈھونگ رچا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کررہا ہے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اب تک کئی مرتبہ ان انتخابات کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سید اعجاز رحمانی نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے رحمانی کے بقول جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا برصغیر میں پائیدار امن کی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی بھارت کا سپر پاؤر بننے کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ سید اعجاز رحمانی نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے جنازوں میں عوام کی بھاری شرکت سے نئی دہلی کو نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیئے کہ محض انتخابات منعقد کرا کے اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی ہے۔اُدھر حال ہی میں کانگریسی ہاتھ کو تھامنے والے دوست طاریق قرہ نے ضمنی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو مشروط حمایت دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کہا کہ اقتصادی پیکیج سے نہیں بلکہ سیاسی پیکیج سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل برآمد ہوگا۔طاریق حمید قرہ نے بتایا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا تب تک کشمیر میں غیر یقینی کا ماحول جاری رہے گا واضح رہے کہ طاریق حمید قرہ پی ڈی پی کے بانی لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں لیکن جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تو دل برداشتہ قرہ نے استعفیٰ دے کر سیاسی گلیاروں میں سیاسی طوفان مچا دیا تھا۔
الغرض کشمیرکے ضمنی چناؤ جہاں اپوزیشن پارٹیوں کیلئے اپنی سیاسی قوت کو دکھانے کیلئے ایک موقعہ ثابت ہوگا وہیں برسر اقتدار پی ڈی پی کا سیاسی مستقبل بھی ان انتخابات سے طے ہوگا حالانکہ برسراقتدار ہوتے ہوئے پی ڈی پی کو امید ہے کہ اب کی بار وہ دونوں نشستوں پر قبضہ قائم رکھ سکتی ہے لیکن زمینی صورتحال سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ پی ڈی پی کیلئے اب کی بار جیت درج کرانا کوئی آسان بات نہیں ہوگی کیونکہ اب کی بار لگ رہا ہے کہ بائیکاٹ کال کا اثر دونوں نشستوں پر خاصا غالب رہے گا اب جبکہ انتخابات قریب سے قریب تر آرہے ہیں کشمیریوں میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور پر امن انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف انڈیا کیلئے بھی ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے اب آنے والے وقت میں یہ بات صاف ہوگی کہ صورتحال کون سی کروٹ لے گی۔
انتخابات سے مسئلہ کشمیر غیر متاثر: جاوید میر
مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پورے جنوبی ایشائی خطے کی گردن پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار کی مانند ہے ان خیالات کا اظہار جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ(ح) کے چیرمین جاوید احمد میر نے ’’ وقارِ ہند‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ جاوید حقیقت ہے جسے انتخابات کا ڈھونگ رچا کر پس دیوار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طرف ہندوستان‘ سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے تو دوسری طرف مزاحمتی قائدین کو اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنی کی اجازت نہ دینے سے اس کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔
جب سے مرکز میں نریندر مودی نے زمام اقتدار سنبھالا ہے تب سے وہ ملک کو ایک ہندو راشٹرا بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور اب یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ جیسے فسطائی شخص کو چیف منسٹر بنا کر وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو پھیلانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ جاوید میر نے بتایا کہ ایک طرف ریاستی چیف منسٹر محبوبہ مفتی نوجوانوں کو اس کا پیامبر بننے کی صلاح دیدی ہے لیکن دوسری طرف ریاست اور خاص کر وادی میں گرفتاریوں کے نہ تھمنے والے سلسلے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ محبوبہ مفتی بھی اب زعفرانی رنگ میں رنگ گئی ہیں اور نئی دہلی کو خوش کرنے کیلئے محبوبہ اب ہر ہتھکنڈا استعمال کررہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نے اب اس کی سیاسی چال کو سمجھا ہے اور اب وہ کبھی فریب میں آنے والی نہیں ہے۔ جاوید میر نے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی پر دباؤ ڈالیں تا کہ کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روک لگ سکے۔علحدگی پسند کشمیری قائدین چراغ پا کیوں ؟
کشمیر کے علیحدگی پسند قائدین نے اپنے آقا پاکستان کے اُس اقدام کی سختی کے ساتھ مخالفت کی کہ نواز شریف کی حکومت نے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس اقدام سے علیحدگی پسند کشمیری قائدین سید علی شاہ گیلانی‘میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے مشترکہ بیان میں پڑوسی ملک کے اس فیصلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے گلگت‘ بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ قرار دینے کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر متنازعہ مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے اور عالمی برادری نے اس بات پر اتفاق بھی کیا کہ اس دیرینہ متنازعہ مسئلہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سیاسی حل دریافت کرنا چاہیئے جبکہ ہندوستان ‘ نصف صدی سے قبل منظورہ قرارداد کو موجودہ حالت میں بے فیض قرار دے چکا ہے اور ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اُٹوٹ حصہ ہے مگر اسکے باوجود پاکستان نے منصوبہ کو تقویت دینے کیلئے گلگت ‘ بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ قرار دینے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ہندوستان گلگت بلتستان میں جو مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے‘جس پر پاکستان قابض ہے۔ معاشی راہداری کی تعمیر کے خلاف ہے۔ علیحدگی پسند قائدین نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام ہی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں اور عوام اس ریاست کی سا لمیت اور اس کے جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کی کسی کو اجازت بھی نہیں دیں گے۔جموں و کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان میں انضمام کے آئیڈیا کو مسترد کرتے ہوئے ان قائدین نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس ہمالیائی ریاست کے حدود و اربع کو تبدیل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ گیلانی‘میر واعظ فاروق اور یٰسین ملک نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلگت ‘ بلتستان کو پانچواں صوبہ قرار دینے کے منصوبہ کو واپس لے لیں اور انہوں نے امید جتائی کہ نواز شریف حکومت‘ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے جموں و کشمیر کی سا لمیت کو برقرار رکھے گی ۔گلگت کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کے اقدام سے کشمیریوں میں بے چینی پیدا ہوگی جس کو دور کرنے کیلئے اسلام آباد کو اپنے اس فیصلہ سے دستبردار ہونا ہی بہتر رہے گا۔

Comments

comments