Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » اجمیر دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ دو ہندو انتہا پسندوں کو سزاء !
اجمیر دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ دو ہندو انتہا پسندوں کو سزاء !

اجمیر دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ دو ہندو انتہا پسندوں کو سزاء !

راجستھان کے اجمیر شریف میں واقع عالمی شہرت یافتہ درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے احاطہ میں عین اس وقت جبکہ روزہ دار افطار کررہے تھے11فروری2007 کو بم دھماکہ ہوا تھا۔اس واقعہ میں3افراد جاں بحق اور15دیگر زخمی ہوگئے تھے خوش قسمتی سے درگاہ کے احاطے میں ایک اور مقام پر رکھا ہوا بم پھٹ نہیں سکا ورنہ جانی نقصان اور بھی زیادہ ہوسکتا تھا۔ اس واقعہ کے بعد راجستھان اے ٹی ایس نے ان دھماکوں کی تحقیقات شروع کی اور مسلم دہشت گرد تنظیموں پر اس کا الزام ڈال دیا۔جب مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے آنجہانی سربراہ ہیمنت کرکرے نے مالیگاؤں2008 بم دھماکوں میں ہندو دہشت گرد تنظیم ابھینو بھارت کے ملوث ہونے سے پردہ اُٹھایا تو اس تنظیم کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے معاملات سامنے آئے جن میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے‘ اجمیر دھماکے‘مکہ مسجد دھماکے بھی شامل تھے۔ اس معاملے میں ایک درجن ہندو انتہا پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور گجرات کی ایک مندر کے پجاری سوامی اسیما نند کو ان کا سرغنہ بتایا گیا۔6اپریل کو دہشت گردی کے معاملات کیلئے مخصوص این آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات اپنے ذمہ لی لیکن جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے مرکز میں اقتدار سنبھالا‘تحقیقات پٹریوں سے اُتر گئی۔ نتیجہ سامنے آگیا اور جئے پور میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے گزشتہ دنوں فیصلہ سناتے ہوئے اسیما نند اور چھ دیگر کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کردیا صرف3افراد کو جن کا تعلق راشٹریہ سوئم سنگھ یعنی آر ایس ایس سے رہ چکا ہے خاطی قرار دیا۔ ان میں سے ایک سنیل جوشی کو2007 میں ہی خود اس کے ساتھیوں نے ہلاک کردیا تھا۔
عدالت نے دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعہ میں جس میں ملک کی ایک مشہور درگاہ کو جہاں ہندو اور مسلمان دونوں جاتے ہیں نشانہ بنانے والے ایک درجن افراد میں سے صرف دو دیویندر گپتا اور بھاویش پٹیل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ بھاویش پٹیل نے ہی درگاہ کے احاطے میں ٹفن بم رکھے تھے سینل جوشی اور دیویندر گپتا پر سازش تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔اگرچہ این آئی اے نے سوامی اسیما نند کو بھی اس سازش کا حصہ دار بتایا تھا لیکن کئی گواہ منحرف ہوگئے۔ خصوصاً مرکز اور راجستھان میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد سے یہ مقدمہ کمزور ہوتا چلا گیا۔اسیما نند خود اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔اس نے بعد میں عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اس کو اذیت دے کر اس سے اقبال جرم کروایا ہے اس مقدمہ میں جملہ149 گواہان تھے ان میں29منحرف ہوگئے۔ پولیس کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ملا۔ این آئی اے نے ضمنی چارج شیٹ بھی پیش کی تھی اور451دستاویزات عدالت کے غور کیلئے پیش کئے تھے لیکن عدالت ان سے مطمین نہیں ہوئی اور اصل ملزم کو شبہ کا فائدہ دے کر بری کردیا۔ این آئی اے کو چاہیئے کہ جو ملزمین بری ہوئے ہیں ان کے خلاف پھر سے مقدمہ شروع کرنے عدالت سے درخواست داخل کرے ۔ 2007 میں دھماکے کے بعد2010 میں اے ٹی ایس نے 5مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا جن کا تعلق آر ایس ایس سے تھا۔ تحقیقات کے مطابق پٹیل اس5رکنی ٹولی کا سرغنہ تھا۔ چارج شیٹ میں پہلے ہرشد سولنکی‘مکیش وسانی کے نام بم نصب کرنے والوں کے طور پر پیش کئے گئے تھے۔ سریش نائر‘منت بھائی ان کے ساتھ تھے۔ان کا کام یہ تھا کہ اگر مذکورہ بالا دونوں افراد بم نصب کرنے میں ناکام ہوتے تو یہ دونوں ان کی جگہ دوبارہ بم رکھنے کی کوشش کرتے۔ تحقیقات کے مطابق سریش‘منت بھائی اور بھاویش نے سنیل جوشی سے دھماکو اشیاء حاصل کیں۔ سنیل نے یہ اشیاء گودھرا میں ان کے حوالے کیں۔اس کے بعد یہ لوگ بڑودہ پہنچے اور ادے پور جانے والی خانگی بس میں سوار ہوگئے۔ اجمیر پہنچ کر انہوں نے سولنکی اور واسانی کو بم رکھنے کیلئے دیا۔بھاویش پٹیل کا نام مابعد گودھرا گجرات میں ہونے والے فسادات کے مقدمہ میں بھی آیا ہے۔ این آئی اے نے پہلے بھاویش پٹیل کو چھوڑ دیا تھا لیکن سوامی اسیما نند کے اقبالی بیان کے بعد ایجنسی نے سندیپ ڈانگے‘ سریش بھائی‘رامچندر کلنسگرا‘بھرت بھائی کے ساتھ اس کو بھی گرفتار کر لیا اور اب اس کو عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اس معاملے میں بھرت بھائی پر ہندو تنظیم کو ایسے دھماکے کرنے کیلئے مالیہ فراہم کرنے کا الزام تھا ۔استغاثہ ان سب کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں اس لئے ناکام رہا کیونکہ گواہ منحرف ہوگئے۔
آنند راج کٹاریہ ایک جویلر ہے اور اس کا تعلق آر ایس ایس سے ہے اس نے پہلے اے ٹی ایس کو بتایا تھا کہ اس نے سادھوی پرگیہ کو دیو یندر گپتا اور اسیما نند سے شخصی طور پر ملوایا تھا تا ہم بعد میں وہ مکر گیا اور کہنے لگا کہ وہ صرف پرگیہ سنگھ کو جانتا ہے جو کوئی چنڈی میں یگیہ کرنے آئی تھی۔اس نے انکار کردیا کہ اس نے کبھی سادھوی کے ساتھ سفر کیا تھا یا وہ اسیما نند یا دیویندر گپتا کو جانتا ہے کئی مرتبہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ایسا بھی ہوا کہ5گواہوں کو طلب کیا جاتا صرف ایک یا دو ہی حاضر رہتے تھے۔ ان میں سے ایک الوک جین ہے جس کی جھارکھنڈ میں موبائیل کی دوکان ہے۔ دیویندر گپتا نے اس کی دوکان سے بڑی مقدار میں سم کارڈز خریدے تھے ایک اور گوا سبھاش گوڈرا ہے جو معطل پولیس انسپکٹر ہے اس کو دھماکے کے وقت اسپیشل آپریشن گروپ میں رکھا گیا تھا تا کہ شواہد جمع کرسکے۔بعد میں دارا سنگھ انکاونٹر معاملے میں اس کو معطل کردیا گیا۔گواہوں میں اے ٹی ایس میں متعین پولیس ملازمین بھی شامل ہیں اور ان میں فارنسک ماہرین بھی تھے جنہوں نے دھماکے کے مقام سے ملنے والی اشیاء کا معائینہ کیا تھا۔جتنے گواہان منحرف ہوئے ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ چونکہ ملزمین کا تعلق بھی آر ایس ایس سے ہے اسلئے این آئی اے نے ملزمین کا آپسی تعلق ثابت کرنے کیلئے ان گواہوں کو مقدمہ میں شامل کیا تھا اور ان کی گواہی کلیدی اہمیت رکھتی تھی۔15 گواہوں کے بیانات دفعہ164 کے تحت ریکارڈ کئے گئے تھے جن میں سے صرف3 نے ملزمین کے نام بتائے۔کئی گواہان اس دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد بھی تھے لیکن ان کی گواہی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ 2007 سے2011 یعنی4سال بعد یہ معاملہ این آئی اے کے ہاتھ میں آیا۔ اس کے بعد گواہان عدالتوں میں درخواستیں داخل کرتے ہوئے اپنی پیشی سے استثنیٰ حاصل کرتے اس طرح مقدمہ کی سماعت بڑھتی گئی اور گواہان نے این آئی اے کے ساتھ بھی تعاون نہیں کیا۔ گزشتہ سال جون سے200کے منجملہ صرف83 پر ہی جرح کی جاسکی۔ ان83 میں سے بھی14 گواہان منحرف ہوگئے ان میں سے ایک رندھیر سنگھ اس وقت جھارکھنڈ کا وزیر ہے۔ اس نے2010 میں اپنا بیان قلمبند کروایا تھا کہ سنیل جوشی ایک موٹر سیکل پر میرے گھر آئے تھے اور اکھل منڈل جانا چاہتے تھے میں نے ان کو اپنی گاڑی میں پہنچایا وہ مجھے وہاں سے ایک دیہات میں لے گئے۔اس گاؤں کا نام مجھے یاد نہیں ہے وہ ایک مکان میں جاکر بیٹھ گئے۔باہر آنے پر ان کے ساتھ دیویندر گپتا اور منوج تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک پستول تھا۔ اس کے بارے میں پوچھنے پر بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بعد میں اس نے اپنا بیان تبدیل کردیا اور پستول کا ذکر نہیں کیا۔ ایک اور گواہ مدھیہ پردیش کا رہنے والا وشنو پٹی دار ہے اس نے2010 میں اے ٹی ایس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ وہ چندر شیکھر کو جانتا ہے وہ میرے گھر آتا رہتا ہے اس نے بتایا کہ ایک دن چندر شیکھر نے اس کو3 فون دیئے اور کہا کہ اگر کوئی پوچھ تاچھ کیلئے گھر آئے تو اس کے بارے میں نہ بتانا۔بعد میں وشنو پٹی دار اپنے بیان سے مکر گیا۔ روہت کمار جھا‘جھارکھنڈ کا رہنے والا ہے اس نے سنیل جوشی اور دیویندر گپتا کی ملاقاتوں کی گواہی دی تھی بعد میں وہ بھی بیان سے منحرف ہوگیا۔اس طرح سے کیس کمزور ہوگیا اور سوامی اسیما نند اور اس کے دوسرے ساتھی بری ہوگئے۔دیویندر گپتا کو سازشی کی حیثیت سے سزا ہوتی ہے اگر بالائی عدالتوں میں ثبوت مزید کمزور پڑ گئے تو اس کو بھی رہائی مل جائے گی۔
اگر ملک میں دہشت گردی کا ایسا کوئی معاملہ ہوتا ہے جس میں مسلمان ملوث ہوتے ہیں تو یہ بات بھی سامنے نہیں آتی کہ کیا ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔کتنے گواہوں کو طلب کیا گیا۔عدالت میں کتنے شواہد پیش کئے
گئے۔ان مسلم نوجوانوں کا تعلق کئی معاملات سے بتاتے ہوئے قومی سلامتی کے نام پر ان کے ریمانڈ کی مدت میں اضافہ کر کے ان کو بے مقصد جیلوں میں رکھا جاتا ہے اور15‘17برس بعد یہ نوجوان بے قصور ثابت ہورہے ہیں۔ دوسری طرف ایسے ہی معاملے میں اگر کوئی ہندو گرفتار ہوتا ہے تو ہر گوشہ سے سوال کئے جاتے ہیں۔تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے کہ وہ قوم کے دشمن ہوں۔ ان حالات میں مسلمانوں پر لگا دہشت گردی کا داغ دھلنا مشکل ہے جبکہ سچائی اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی‘شمال مشرقی شورش پسندی ایک عرصہ سے ہے لیکن کبھی ان کو دہشت گرد کہہ کر مخاطب نہیں کیا جاتا ہے۔

Comments

comments