Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » کرناٹک میں ایک اور کمسن لڑکی کی بلی
کرناٹک میں ایک اور کمسن لڑکی کی بلی

کرناٹک میں ایک اور کمسن لڑکی کی بلی

عصر حاضر میں جہاں انسان‘چاند کو تسخیر کرنے کے بعد مریخ پر پانی کے آثار تلاش کررہا ہے وہیں ہندوستانی سماج میں آج بھی اوہام یا توہم پرستی کا بول بالا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی بے تھکان جدوجہد کے باوجود ماورائی طاقت کے حصول کیلئے کالی ماتا کے چرنوں پر انسانی جانوں کو بھینٹ چڑھانے کی قبیح رسم ہنوز جاری ہے۔ توہم پرستی آج ہمارے سماج کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کرر ہی ہے اس میں ان پڑھ‘جاہل افراد ہی نہیں بلکہ تعلیمیافتہ اور ذی شعور افراد بھی شعوری و لاشعوری طور پر مبتلا نظر آرہے ہیں۔
جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں5یوم کے بعد ایک10سالہ لڑکی کو بلی چڑھانے کا دلسوز و المناک واقعہ پیش آیا۔ اس کیس کی ابتدائی تحقیق کے دوران کئی حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آتی گئیں۔ اپنے مستقبل سے عاری کمسن لڑکی کو کوئی اور نہیں بلکہ خود اس کے شقی قلب چچا نے اس کا گلا کاٹ کر بلی چڑھا دیا ہے‘ بتایا جاتا ہے کہ کسی ڈھونگی سادھو نے لڑکی کے چچا کو بتایا کہ اس لڑکی کے بھائی کی صحتیابی کیلئے جو فالج سے متاثر تھا‘ لڑکی کو بلی چڑھانا ہوگا۔ بس یہ سنتے ہی سنگدل چچا نے اپنی کمسن بھتیجی کا اغوا کرتے ہوئے اُسے بھینٹ چڑھا دیا۔ اس سلسلہ میں گرفتاری کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر جاری بلیک میجک(کالا جادو) اور توہم پرستی کا بھانڈا پھوٹ پڑا ہے۔ حکومت کرناٹک‘ریاست میں کالے جادو اور اوہام پرستی کے چلن کو روکنے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ریاستی حکومت نے انسداد اوہام پرستی سرگرمیاں بل2013 کے مسودہ کو قطعیت دیا تھا۔ موجودہ چیف منسٹر سدا رامیا نے انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا کہ برسراقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت‘ریاست سے کالا جادو اور توہم پرستی کی سرگرمیوں کے چلن کو یکلخت ختم کردے گی مگر سدارامیا نے اب جبکہ ان کی معیاد ختم ہونے کیلئے کم و بیش ایک سال کا عرصہ باقی ہے‘ہنوز اس بل کو اسمبلی میں منظور کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اکزیکٹیو صدر مہاراشٹرا اندو شواس نرمولن سمیتی اویناش پاٹل نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت میں قوت فیصلہ کی کمی سے اب تک انسداد توہم پرستی بل کو قانون کی شکل نہیں دیا جاسکا۔ اندو اشواس سمیتی کے ایک وفد نے جس میں اویناش پاٹل بھی تھے‘ سال گذشتہ ہی چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا کے بشمول ریاست کے دیگر وزراء سے ملاقاتیں کرتے ہوئے متذکرہ بل کو اسمبلی میں منظور کرتے ہوئے انسداد توہم پرستی کا سخت قانون لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ چیف منسٹر کے بشمول ان وزراء سے ترجیحی اساس پر اس بل کو منظور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے ریاستی وزیر داخلہ اور چیف منسٹر کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بل کے مسودہ کی تیاری میں ہم مدد کیلئے تیار ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ چیف منسٹر سدا رامیا نے اپنے اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں پھر اس بل کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔تا ہم اس بل کے مسودہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں دیگر23 سرگرمیوں کو شامل کیا گیا جو توہم پرستی کے زمرہ میں آتی ہیں ان تمام سرگرمیوں کو غیر قانونی بتایا گیا اور اب اس بل کو’’انسداد کالا جادو‘میجک بل2016 ‘‘ قرار دیا گیا۔پاٹل نے اس بل کے مسودہ پر تحفظات کا اظہار کیا اور بتایا جاتا ہے کہ اس بل کے مسودہ میں نرمی پیدا کرتے ہوئے کئی نام نہاد مذہبی رسومات کو توہم پرستی کے دائرہ میں نہیں رکھا گیا۔اس بل میں انسانوں کی بلی کے سواء دیگر ممنوعہ رسومات جیسے جانوروں کی بلی چڑھانا ‘ دفینہ کیلئے مذہبی رسومات کی ادائیگی‘آگ کے شعلوں پر خود ساختہ بھگوانوں کا چلنا‘ منادر‘ گھروں‘ درگاہوں‘ گردواروں اور گرجا گھروں میں ذہنی طور پر علیل افراد کو جسمانی اذیت دینے کو اس بل کے مسودہ میں شامل نہیں کیا گیا۔اویناش پاٹل کا ماننا ہے کہ ریاست سے اوہام پرستی اور اس طرح کی غلط رسومات کو ختم کرنے کیلئے اس بل کو قانون کی شکل دینا بہت ضروری ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ڈاٹا کے مطابق انسانی جانوں کے بلی کے واقعات کی درجہ بندی ممکن نہیں ہے۔اس طرح کا کوئی قانون نہیں ہے کہ قتل کی درجہ بندی کی جاسکے۔ ریاست کرناٹک میں سال2016 کے دوران انسانوں کو بلی چڑھانے کے6سے زائد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اس طرح کے کئی واقعات منظر عام پر آچکے ہیں مگر ان واقعات کو قتل یا خودکشی قرار دیتے ہوئے کیس درج کئے جاچکے ہیں۔
صدرانڈین ریشنلسٹ اسوسی ایشن نریندر نائک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غلط رسومات کو بڑے پیمانے پر عرصہ دراز سے ادا کیا جارہا ہے۔ ضلع کپل کے ایلا برگہ تعلقہ کے موضع ککنور میں کالی ماتا کی مشہور مندر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 7ویں صدی کی اس مندر کے بارے میں مقامی عوام کا ایقان ہے کہ ماورائی طاقت کے حصول کیلئے کالی ماتا پر انسانی جان کی بلی چڑھانا پڑتا ہے۔ اس دیوی کے چرنوں پر لڑکا یا لڑکی کو بھینٹ چڑھایا جاتا ہے تو سب کچھ حاصل ہوجاتا ہے اور ان مردوں کی آتما‘ اس مندر کے نیچے قید ہوجاتی ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکار جب اس مندر کو کھودینے کی کوشش کی تو مقامی افراد نے اس کی سخت مزاحمت کی جس کے بنا عہدیداروں کو اپنا مشن ترک کرنا پڑا۔ کیونکہ ان افراد کا ماننا ہے کہ مندر کو کھودنے سے دیوی ماتا ہم سے ناراض ہوجائیگی۔ صدر سمودیا سریندر راؤ‘جو ایک غیر سرکاری رضاکارانہ تنظیم ہے ‘ اور توہم پرستی کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں‘کا ماننا ہے کہ اس طرح کے رسومات بالخصوص انسانی جانوں کی بلی کا واقعہ تقریباً ہر40 دنوں میں ایک بار ضرور پیش آتا ہے۔
پولیس نے10سالہ لڑکی جسے بھینٹ چڑھایا گیا‘کے رشتہ داروں جن میں وہ‘شخص بھی شامل ہے جس نے لڑکی کو ذبح کیا تھا اور اس کی بہن کے علاوہ ایک17سالہ لڑکے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر اس لڑکی کو اغوا کرنے اور بلی چڑھانے کا الزام ہے۔ اس جرم میں دیگر افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔ سینئر پولیس آفیسر بی رمیش نے یہ بات کہی۔ گرفتار رشتہ داروں نے تفتیش کے دوران جرم کا ارتکاب کر لیا۔
پولیس نے بتایا کہ اس لڑکی کا یکم مارچ کو اغوا کر لیا گیا اس کے دو دن بعد لڑکی کی سربریدہ نعش ایک پٹ سن کے تھیلہ میں مگادی ٹاؤن کے نواح سے دستیاب ہوئی۔ یہ ٹاؤن‘بنگلورو سے40کیلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس لڑکی کو ایک مقبرہ کے پاس لے گیا جو ساہیلی روڈ پر واقع ہے۔ اس مقبرہ پر شقی القلب چچا نے کمسن بھتیجی کا گلا کاٹ دیا یہ سب ایک توہم پرستی میں کیا گیا۔پولیس آفیسر رمیش بنوت کا کہنا ہے کہ اس قتل‘ کے پس پردہ کالا جادو ہوسکتا ہے کیونکہ لڑکی کی نعش کے ساتھ تھیلے میں ہلدی اور لیموں بھی پائے گئے تھے۔لڑکی عائشہ کی اینٹی نے بتایا کہ لڑکی کے چچا نے قتل کے بعد عائشہ کی بہ حفاظت واپسی کیلئے دکھاوے کیلئے دعائیں کرتا رہا اور یہ مشہور رکرایا کہ قریبی مسجد سے عائشہ لاپتہ ہوگئی ہے۔ کالے جادو کیلئے انسانوں کو بلی چڑھانا ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے پتہ نہیں آئندہ بھی کتنی عائشہ غلط‘مذہبی رسومات اور کالے جادو کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی اس بات پر حکمراں طبقہ کو غور کرنا ہے۔ صرف شعور بیداری یا عملی اقدامات سے عاری تیقنات سے غیر انسانی رسومات کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے موثر قانون بنانے کے ساتھ ساتھ اس قانون کو سختی کے ساتھ لاگو کرنا ہوگا تب ہی ہمارے سماج کا حقیقی وکاس ہوگا۔

Comments

comments