Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » دہشت گردوں کی دھمکیاں ! آئی ایس آئی ایس کیا ہندوستان میں پہنچ گئی ہے ؟
دہشت گردوں کی دھمکیاں ! آئی ایس آئی ایس کیا ہندوستان میں پہنچ گئی ہے ؟

دہشت گردوں کی دھمکیاں ! آئی ایس آئی ایس کیا ہندوستان میں پہنچ گئی ہے ؟

مدھیہ پردیش میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے11ہندو نوجوانوں کو گرفتار کر کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک جاسوسی ریاکٹ کو بے نقاب کیا تھا۔ اس ریاکٹ پر الزام تھا کہ وہ دفاعی معلومات پڑوسی ملک کو پہنچا رہے ہیں۔ ساتھ ہی بہار پولیس نے نیپال سے دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو ہندو تھے ان پر بھی ٹرینوں کو پٹریوں سے اُتارنے کی سازش کا الزام لگا یاتھا۔ٹرینوں کے پٹریوں سے اُترنے کے واقعات کی تحقیقات این آئی اے نے اپنے ذمہ لی تھی۔ ان معاملات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں کہ مدھیہ پردیش میں ہی حال میں ایک ٹرین میں معمولی نوعیت کا دھماکہ ہوا جس میں دس افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ کی نوعیت ایسی تھی کہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی تا ہم چند گھنٹے بعد اُترپردیش میں پولیس نے ایک مکا ن کو گھیر لیا۔یہ بتایا گیا کہ مدھیہ پردیش میں جو دھماکہ ہوا وہ دہشت گرد کاروائی تھی اور اس کا سرغنہ لکھنو کے اس مکان میں چھپ کر بیٹھا ہے۔ پھر12گھنٹے بعد سیف اللہ کو انکاونٹر میں مار دیا گیا۔ مدھیہ پردیش ٹرین دھماکہ کے سلسلے میں نصف درجن افراد کی گرفتاری عمل میں آئیں۔پولیس اور انٹلیجنس کے عہدیداروں نے بتایا کہ یہ نوجوان اگرچہ داعش سے متاثر ہیں لیکن داعش سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔داعش کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے طرف سے انہوں نے تخریبی کاروائیاں کرنے کافیصلہ کیا تھا۔
بہار کے ایک دور دراز علاقہ میں ان واقعات کے چند دن بعد ہی ایک برقی پول پر ایک پوسٹر لگا ہوا دیکھا گیا جس پر داعش کا پرچم چھپا ہوا تھا اور اس پر بہار کے نوجوانوں سے داعش میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی۔ہماری انٹلیجنس ایجنسیاں چوکس ہیں۔ حالات پر نظر رکھ رہی ہیں۔ ان کی چوکسی کی وجہ سے کئی خطرات‘دہشت گردوں کے حملے ٹل جاتے ہیں۔ لیکن یہی سکیوریٹی ایجنسیاں اگر متضاد بیان بازی کرنے لگے تو عوام کا ان پر سے بھروسہ اُٹھ سکتا ہے ایک طرف لکھنو پولیس اور سکیوریٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے جو لوگ اس تنظیم سے رابطے میں ہیں( ایک اندازے کے مطابق200سے زیادہ ) ان پر سکیوریٹی اداروں کی نظر ہے جب بھی ان سے خطرہ محسوس کیا جائیگا ان کو گرفتار کر لیا جائیگا۔دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ داعش نہیں ہے۔داعش سے اپنے طور پر وابستگی رکھنے والے ملک میں سرگرم ہورہے ہیں اور تیسری طرف ایسے پوسٹرس منظر عام پر آرہے ہیں ان سب کا کیا مطلب نکالا جائے؟ اگر گزشتہ دو برسوں کے دوران پیش آنیوالے واقعات کا جائزہ لیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی نصف درجن ریاستوں میں داعش سے وابستہ افراد موجود ہیں۔تلنگانہ‘آندھرا پردیش ‘ کیرالا‘ کرناٹک‘ مدھیہ پردیش ‘اُتر پردیش‘ مہاراشٹرا‘ بنگال‘ راجستھان‘جموں و کشمیر ‘ تاملناڈو‘گجرات میں پولیس نوجوانوں کو گرفتار کر چکی ہے ان نوجوانوں کو کئی مہینوں کی نگرانی کے بعد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انٹلیجنس ایجنسیاں جب ان کے رابطوں سے واقف ہیں تو اس بات سے انکار کیوں کررہی ہیں کہ داعش ان سے رابطے میں نہیں ہے بلکہ یہ از خود وابستگی کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ سیکیوریٹی ایجنسیاں ہندوستان میں داعش کی موجودگی کا اعتراف کر کے اکثریتی طبقہ کو ڈرانا نہیں چاہتی جو مودی کے دور میں بے خوف ہوچکا ہے جس وقت داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی نے خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اس وقت انہوں نے تنظیم کو ایشیاء میں بھی وسعت دینے کی بات کی تھی۔ داعش‘افغانستان اور پاکستان میں سر گرم ہوچکی ہے اس کے بھی شواہد ملے ہیں۔داعش کے مقررہ ایجنٹس انٹر نیٹ کے ذریعہ مختلف ممالک کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ان کو تخریب کاری کیلئے تیار کرتے ہیں۔ پیرس حملوں میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ہندوستان میں بھی چند نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر داعش سے روابط کا الزام ہے تا ہم حالیہ گرفتاریوں میں خود ساختہ وابستگی کا نیا رحجان سامنے آیا ہے۔ انٹلیجنس اور سکیوریٹی ادارے برصغیر میں القاعدہ کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ابھی تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ نوجوان داعش کے رکروٹ ہیں۔
لکھنو انکاونٹر کی اگر بات کی جائے تو اس پر جتنے بیانات سکیوریٹی ایجنسیوں یو پی پولیس کی جانب سے سامنے آئے ہیں ان میں کافی تضاد پایا جاتا ہے اور یہ تضاد ہی انکاونٹر کے حقیقی ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سیف اللہ اس مکان میں کیوں اور کیسے پہنچے۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا جس کی وجہ سے ان کا جھگڑا ہوتا تھا۔ وہ گھر سے چلا گیا اور ایک دن فون کر کے بتایا کہ وہ دہلی میں ہے اور دوبئی ملازمت کیلئے جارہا ہے۔پھر اچانک سیف اللہ لکھنو میں کیا کرنے آیا۔ پولیس نے اس کے قبضہ سے درجنوں پستول‘بارود‘بم بنانے کا ساز و سامان‘سیل فونس اور لاکھوں روپے نقدی کے علاوہ داعش کا ایک پرچم بھی برآمد کیا۔ یہ سامان سیف اللہ کو کہاں سے ملا۔ اس مکان میں کیا کسی نے اس کو اس ساز و سامان کے ساتھ نہیں دیکھا۔جب پولیس نے مکان کو گھیر لیا تو مقامی افراد کا ایک ہجوم مکان کے پاس جمع ہوگیا۔تصاویر میں ایک پولیس جوان کو مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر سیل فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے یہ پولیس جوان اندر کیسے پہنچا جہاں سیف اللہ ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھا۔صبح سے شام تک یہی تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس دوران اس کے بھائی سے فون پر رابطہ بھی کروایا گیا لیکن جانی کا کہنا ہے کہ فون کی دوسری طرف سے اس کو کوئی آواز نہیں آئی تو دن بھر عوام کے اژدھام کے درمیان پولیس کوئی کاروائی نہ کرسکی اور رات کا اندھیرا پھیلتے ہی سیف اللہ کو مار گرایا گیا یہ انکاونٹر لکھنو کے نواح میں واقع ٹھاکر گنج کی حاجی علی کالونی میں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سیف اللہ کو باہر نکالنے کیلئے مرچی بم‘اسٹن گرینڈیس کا استعمال بھی کیا لیکن سیف اللہ باہر نہیں آیا۔ کیوں کیا وہ باہر آنے کیلئے زندہ نہیں تھا۔ بھوپال۔اجین ایکسپریس میں ہوئے دھماکہ سے سیف اللہ کا تعلق بتایا جاتا ہے اس دھماکے کے بعد مدھیہ پردیش پولیس ہوشنگ آباد سے 3افراد کو گرفتار کیا۔ مدھیہ پردیش کے شہاہجہاں پور سے اُترپردیش کے لکھنو تک3سڑک راستے ہیں۔فاصلہ796کیلو میٹر کا ہے یہاں سے لکھنو پہنچنے کیلئے ایک راستے سے13گھنٹے ‘ ایک راستے سے15گھنٹے اور ایک راستے سے17گھنٹے لگتے ہیں۔ٹرین میں دھماکہ شاہجہاں پور کے قریب ہوا ۔ اور یو پی پولیس نے اس کا الزام سیف اللہ پر لگا دیا۔تین نوجوانوں محمد فیصل خان‘محمد عمران‘فخر عالم کو شام5بجے کانپور میں پکڑا گیا۔ تین دیگر دانش‘میر حسین اور آتش مظفر کو پیپریا سے گرفتار کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان سب کا تعلق ایک ہی گروپ سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس گروپ کے لوگ 700 کیلو میٹر دور ٹرین میں دھماکہ کرنے کے بعد کیا اُڑ کر اپنے اپنے مقامات پر پہنچ گئے تھے؟ اس گروپ کے آخری3ارکان جو پیپریا سے گرفتار کئے گئے مقام سے7گھنٹوں کے فاصلے پر رہتے ہیں۔7مارچ کی صبح دھماکہ ہوا اور10بجے دن ان کو گرفتار کر لیا گیا ان کے کہنے پر کانپور سے مزید3افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔
اس طرح پولیس کی تضاد بیانی اور واقعات کے درمیان رابطہ نہ ملنا شکوک و شبہات کو پیدا کرتا ہے۔ پیپریا میں پہلی گرفتاری ہوئی اور کانپور میں دوسری اسی اثناء میں سیف اللہ کو گھیرا گیا یہ سب اتنی تیزی اور پھرتی سے ہوا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تلنگانہ‘کیرالا پولیس کی بھی مدد لی گئی۔انکاونٹر کے دن موبائیل کلپ سامنے آئی جس میں دو افراد کو بیاگس کے ساتھ اُترتے دکھایا گیا۔ دونوں بس کے پیچھے سے ہوتے ہوئے سڑک پار کررہے تھے۔ اس دوران ایک شخص موبائیل اور ان دونوں کے درمیا ن آجاتا ہے اور موبائیل والا ایک پلر کے پیچھے چلا جاتا ہے۔مدھیہ پردیش پولیس کا ایک کانسٹبل303رائفل کے ساتھ ان پر نشانہ لگائے ہوئے ہے۔اس ویڈیو میں غور سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ بس مدھیہ پردیش کی ہے جس پر نمبر4 MP0 PA2876 ہے ۔یہ کلپ ایک بجکر43منٹ پر ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ٹھاکر گنج انکاونٹر سے اس کلپ کو جوڑا جارہا ہے جو شائد درست نہیں

Comments

comments