Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » ایشیاء » شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء نئے دوست بنانے سعودی عرب کی کوشش!
شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء نئے دوست بنانے سعودی عرب کی کوشش!

شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء نئے دوست بنانے سعودی عرب کی کوشش!

عام طور پر مصر یا یوروپی ممالک میں تعطیلات منانے والے سعودی حکمران ان دنوں انڈونیشیا کے ساحلی تفریح گاہ بالی میں دیکھے جارہے ہیں۔شاہ سلمان بن عبد العزیز ایک ماہ ایشیائی ممالک کے دورے پر ہیں اس کے دوران انہوں نے چار مسلم ممالک ملیشیا‘انڈونیشیا‘برونی اور مالدیپ کے علاوہ چین اور جاپان کا بھی دورہ کیا۔وہ ایسے وقت دورہ کیا جبکہ خطہ عرب میں روس کی آمد کے بعد شیعہ۔سنی طاقت آزمائی زور پکڑ رہی ہے۔شاہ سلمان کے دورہ ایشیاء کو مغربی میڈیا کی جانب سے کافی اہمیت دی جارہی ہے اور اس سنی بلاک کو مضبوط کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ شاہ سلمان کے دورہ چین کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے اگرچہ سعودی عرب کو ٹرمپ سے کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ کئی سعودی شہزادے‘خلیجی حکمراں ٹرمپ کے بزنس پارٹنررس ہیں‘اسلئے روس پر دباؤ بڑھانے کیلئے سعودی عرب چین سے قربت حاصل کررہا ہے۔چین اور روس میں گہری دوستی پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف چین اور پاکستان میں گہری دوستی ہے اور پاکستان ایشیاء میں سعودی عرب کا سب سے معتبر دوست ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی۔ایران تناؤ کو کم کرنے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے اہم رول ادا کیا تھا ایران‘پاکستان کو اس وجہ سے قدر کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس نے یمن کی لڑائی میں سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا۔ بات چین اور سعودی عرب کی قربت کی ہورہی تھی۔ٹرمپ کے انتخاب سے پہلے اوباما انتظامیہ اور سعودی حکمرانوں میں شام کے مسئلہ کو حل کرنے میں تساہلی اور ایران سے جوہری معاہدہ کی وجہ سے تعلقات میں کشیدگی آگئی تھی۔ اس کے بعد سعودی عرب کے جواں سال نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے ماسکو اور بیجنگ کاد ورہ کیا تھا۔محمد بن سلمان نے چینی قائدین سے ملاقات کے دوران سلامتی سے متعلق تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس ملاقات میں یہ طے کیا گیا کہ چین کے مقام چھینگڈو میں سعودی عرب کی اسپیشل فورس اور چین کے خصوصی دستے انسداد دہشت گردی مشقوں میں حصہ لیں گے۔چینی فوج کے عہدیدار خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) سے قریبی تعلقات کے خواہاں ہیں تا کہ آفریقہ تک پہنچنے میں ان کو آسانی ہوسکے۔ چینی فوج سعودی عرب اور اومان کی بندرگاہوں کا استعمال کررہی ہیں چین کی نظر میں خلیج کا خطہ تیل کی پیداوار کیلئے دُنیا کا سب سے بڑا علاقہ ہے اور تیل چین کی کمزوری ہے۔ تعلقات میں تیزی سے بہتری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان2000 میں جہاں10 بلین ڈالر کی تجارت ہوتی تھی وہیں2014 تک بڑھ کر158 بلین ڈالر ہوگئی۔ توقع ہے کہ جلد ہی چین۔ جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کردیئے جائیں گے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے تعلقات کا اندازہ لگانے کیلئے یہ اشارہ بھی کافی ہے کہ چین کی230 کمپنیاں دوبئی کے جبیل فری زون میں اپنے ہیڈ کوارٹرس قائم کررہی ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں عازمین حج کیلئے جو1.8 ارب ڈالر کا ریل پراجکٹ جاری ہے وہ چینی کمپنی انجام دے رہی ہے۔ ریاض میٹرو کا کام چینی کمپنی سنبھال رہی ہے۔متحدہ عرب امارات کے حبشان تیل کے میدان سے بحر ہند میں واقع فجیرہ تک پائپ لائن چینی کمپنی تعمیر کررہی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ چینی کمپنیوں نے30 ارب ڈالر مالیتی تعمیراتی اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کے معاہدے کئے ہیں۔ آنیوالے دنوں میں چین کو ان ممالک میں پراجکٹس‘ سڑکوں کی تعمیر کا کام بھی ملنے والا ہے۔ شاہ سلمان کے دورے کے بعد چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اشارہ دیا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں اہم سیاسی رول ادا کرے گا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ چینی فوج خطہ عرب میں قدم رکھے۔یعنی جنگ زدہ ممالک میں وہ امن کی بحالی کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہوسکتی ہے۔ ابھی تک کسی لڑائی میں چین نے نہ تو حصہ لیا ہے نہ کوئی مدد فراہم کی ہے۔ صدام حسین کے زوال سے داعش کے خاتمے تک چین نے کوئی رول ادا نہیں کیا۔ لیکن اب وہ اس علاقہ میں اپنا رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس پس منظر میں شاہ سلمان بن عبد العزیز کا دورہ بیجنگ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔
اس طرح جاپان کے ساتھ بھی سعودی عرب کی دوستی تجارتی نوعیت کی تھی ٹکنالوجی کی ترقی میں جاپان کی مدد حاصل کررہا تھا لیکن شاہ سلمان کے دورے کے بعد اس دوستی کو نئی بلندی دیتے ہوئے جاپان کو سیکوریٹی امور کی مدد میں شامل کر لیا گیا ہے اس موقع پر ہوئے معاہدے کے مطابق ریاض‘ٹوکیو میں اپنے سفارتخانے میں ایک ملٹری اتاشی کا تقرر کرے گا۔ جاپان‘مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے درمیان سمندری سکیوریٹی کو یقینی بنانے میں سعودی عرب کی مدد کرے گا۔ جاپان کے پاس ایک مضبوط بحریہ ہے۔
جہاں تک ملایشیاء اور انڈونیشیاء کے دورے کا سوال ہے شاہ سلمان سنی اتحاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دہشت گردی کے نام پر اُٹھنے والی طاقتوں کو کچلنے کیلئے وسیع تر اتحاد قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ملایشیاء اور انڈو نیشیاء ایسے ممالک ہیں جو انتہا پسندی سے متاثر ہیں۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام پر مسلم ملٹری فورس قائم کرنے کیلئے اپنے ملک میں مسلم ممالک کی فوجوں کی مشترکہ مشقیں منعقد کی تھیں جس میں20 ممالک نے حصہ لیا تھا۔ انڈو نیشیاء اور ملایشیاء کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تا کہ مسلم ملٹری فورس کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔مغربی میڈیا اس فورس کو ایران کے ممکنہ عزائم کے خلاف سعودی عرب کی ڈھال تصور کرتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اب سعودی عرب میں بھی خود کش حملے عام ہوچکے ہیں جہاں مسلمانوں کے اہم ترین مقامات مقدسہ موجود ہیں ایسے میں اگر ان مقامات پر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو سعودی عرب کو اس کیلئے پوری اُمت مسلمہ کو جواب دینا پڑے گا۔دہشت گردوں پر نظر رکھنے‘انٹلیجنس معلومات‘منصوبوں سے بروقت آگاہی اور ان کی روپوشی کیلئے محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ ہونے دینے کیلئے سعودی عرب مسلم ممالک کے ساتھ فوجی نوعیت کے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔
شاہ سلمان اپنے دورے کے پہلے پٹراؤ میں ملایشیاء پہنچے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1950 سے قائم ہیں گزشتہ سال مارچ میں ملایشیاء کے وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق نے ریاض کا دورہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی تھی۔ملایشیاء کو آزادی ملنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو60 برس مکمل ہورہے ہیں اپنے دورے میں شاہ سلمان نے ملایشیاء کے عازمین حج کے کوٹہ کو27 ہزار سے بڑھا کر30ہزار کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ملایشیاء میں شاہ سلمان کے دورے کے موقع پر مقامی پولیس نے7 مشتبہ یمنی عسکریت پسندوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر حملے کی ایک سازش کو بے نقاب بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ملایشیاء کی نیشنل پولیس کے سربراہ ابوبکر نے بتایا کہ یہ عسکریت پسند کار بم دھماکہ کر کے سعودی حکمران کو نشانہ بنانے والے تھے۔ ان کے مطابق4 یمنی عسکریت پسندوں کا تعلق حوثی باغیوں سے ہے ملایشیاء میں کسی بھی سعودی حکمران کا2006 کے بعد یہ پہلا دورہ تھا۔ اس وقت شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز مرحوم نے دورہ کیا تھا ان سے پہلے1970 میں شاہ فیصل بن عبد العزیز کوالالمپور آئے تھے اسلئے ملایشیاء سے سعودی عرب کے تعلقات ہونے کے باوجود ان میں گہرائی اور مضبوطی نہیں تھی تا ہم شاہ سلمان کے دورے سے تعلقات نہ صرف بہتر اور مضبوط ہوئے ہیں بلکہ ان میں ایک خاص قربت دیکھی گئی ہے۔ شاہ سلمان نے روایتی دورے سے ہٹ کر ملایشیاء کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور انہوں نے اس ملک کی مختلف بااثر شخصیتوں سے ملاقاتیں بھی کیں ان میں ملک کے مفتیان‘مذہبی علماء بھی شامل تھے۔شاہ سلمان کی اس ملک کے ساتھ قربت کا اندازہ لگانے کیلئے یہ اشارہ بھی کافی ہے کہ وزیر اعظم نجیب رزاق نے ان کے ساتھ کئی سلفیاں بنائی ہیں۔
ملا یشیاء کے دورے کے بعد شاہ سلمان جب انڈو نیشیاء پہنچے تو گزشتہ50برسوں میں اس ملک کا دورہ کرنیوالے وہ پہلے حکمران تھے۔ وہاں انہوں نے مختلف ترقیاتی کاموں کیلئے تقریباً ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے۔انڈونیشیاء کا شمار جنوب مشرقی ایشیاء کی ایک بڑی معیشت میں ہوتا ہے اور یہ مسلم اکثریتی ملک ہے انڈو نیشیاء میں شاہ سلمان کو9دن قیام کرنا تھا انہوں نے اپنی تعطیلات کیلئے ملک کی مشہور تفریح گاہ بالی کا انتخاب کیا تھا لیکن بالی میں انہوں نے اپنے قیام کی مدت میں مزید توسیع کی اور اس کو9سے بڑھا کر12دن کردیا۔ شاہ سلمان کا استقبال کرنے کیلئے ملک کے صدر جوکووڈ وڈو خود حلیم انٹر نیشنل ایر پورٹ پر موجود تھے اور جکارتہ کے وہ عیسائی گورنر باسو کو بھی موجود تھے جن پر مقدس قرآن مجید کی توہین کا الزام لگا تھا۔ اس دورے میں وسطی جاوا میں قائم ہونیوالی ریفائنری کیلئے سعودی آرامکو اور انڈونیشیا کی کمپنی کے درمیان6ارب ڈالر کا ایک معاہدہ ہوا۔ دونوں ممالک نے جملہ11معاہدات پر دستخط کئے۔ ملا یشیاء میں انہوں نے7 ارب ڈالر کے معاہدے کئے تھے۔ سعودی عرب‘ملایشیاء میں بھی ایک ریفائنری قائم کرنے جارہا ہے۔ انڈونیشیاء میں شاہ سلمان کی مصروفیات کا اگر جایزہ لیا جائے تو بالکل ایسا لگے گا جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قربت ہے۔ شاہ نے کئی مقامات پر پروٹوکول کو توڑا اور ملاقاتیوں کے ساتھ سلفیاں بنائیں ان میں ملک کے سابق صدر کارنو پتری کے اہل خاندان بھی شامل ہیں۔عام طور پر سکیوریٹی وجوہات کی بناء پر سعودی عرب کے شاہ کے قریب کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن شاہ سلمان انڈونیشیا میں لوگوں میں گھل مل گئے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سعودی عرب ان ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کن بلندیوں پر لیجانا چاہتا ہے۔ اس دورے کے موقع پر سعودی عرب کی جانب سے انڈو نیشیا کے عازمین حج کے کوٹے کو بحال کردیا گیا جو2لاکھ21ہزار ہے۔ انڈو نیشیاء ایسا ملک ہے جہاں ہر گھر میں حاجی موجود ہے۔ شاہ کے دورے کیلئے10ہزار پولیس جوان متعین کئے گئے تھے جس محل میں شاہ سلمان کا قیام تھا وہاں سے تمام قابل اعتراض تصاویر اور مجسمے ہٹا لئے گئے تھے۔بوگور محل کو ان کیلئے خاص طور سے سجایا گیا تھا۔ انڈو نیشیاء کو امید ہے کہ اس دورے سے سعودی عرب سے اس ملک میں جملہ25ارب ڈالر کی سرمایا کاری ہوگی۔
شاہ سلمان انڈو نیشیاء میں تفریح کیلئے اپنے پورے سازوسامان کے ساتھ پہنچے تھے جن میں ان کے 459 ملازمین اور459 میٹرک ٹن سامان بھی شامل ہے۔ ایر پورٹ پر ان کو اُترنے کیلئے الیکٹرک سیڑھیوں کا انتظام کیا گیا تھا ۔ 800 مندوبین بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہ سب ایک طیارے میں نہیں آسکتے اسلئے سعودی حکمران کا قافلہ 27 طیاروں پر مشتمل تھا۔ انڈو نیشیاء کے صدر مقام جکارتہ سے جب یہ شاہی قافلہ بالی کیلئے روانہ ہوا تو اس میں مزید 10 طیاروں کا اضافہ ہوگیا۔12دن تک قیام کے دوران9ہزار پولیس جوان دن رات مستعد رہے جبکہ اہم مقامات پر فوج کو بھی متعین کیا گیا تھا۔اس دورے میں 25 شہزادے‘ 10 وزراء اور800 تجارتی مندوبین شامل تھے۔انڈونیشیاء آمد سے قبل شاہ سلمان برونی بھی گئے جہاں ان کو ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا تھا برونی بھی ایک مسلم ملک ہے اور ایشیاء کی متمول معیشیتوں میں شمار کیا جاتا ہے انڈو نیشیاء میں جس کسی شاہراہ سے شاہ سلمان کا گذر ہوتا ہزاروں کی تعداد میں لوگ راستے کے دونوں طرف کھڑے ان کا استقبال کرتے نظر آتے اس سے سعودی حکمران کافی متاثر بھی ہوئے۔ پرنس خالد بن فیصل اور پرنس عبد الرحمن بن بدر نے اپنے سوشیل میڈیا اکاونٹس پر بالی کی کچھ تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ انہوں نے اس عالمی شہرت یافتہ تفریحی مقام کی کافی تعریف بھی کی ہے۔انڈو نیشیاء کے بعد شاہ سلمان ٹوکیو (جاپان) پہنچے جہاں انہوں نے3دن قیام کیا۔ جاپان کے ساتھ سعودی عرب اپنے تعلقات کو مزید بلندیوں پر لے جانے کی کوشش کررہا ہے تا کہ معاشی فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹکنالوجی کی ترقی میں مدد ہوسکے۔ شاہ سلمان مالدیپ بھی جانے والے لیکن وہاں سوائن فلو پھیلنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیا۔ مالدیپ میں سعودی عرب کے حکمرانوں کی دلچسپی اسلئے اہمیت کی حامل ہے کہ ابھی تک کسی سعودی حکمراں نے26 جزائر پر مشتمل4لاکھ کی آبادی والے اس مسلم ملک پر کوئی توجہ نہیں دی۔ دُنیا کی توجہ مغرب سے مشرق کی طرف مبذول ہورہی ہے۔شاہ سلمان کا دورہ کچھ نہ کچھ یہی ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب کی شاہی حکومت امریکہ اور مغربی ممالک کا ساتھ دے کر اُن کے ساتھ معاشی انحطاط کا بوجھ برداشت کرچکی ہے نتیجہ میں اس کو ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قرض حاصل کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ شاہ سلمان‘ بانی سعودی عرب شاہ عبد العزیز کے آخری بیٹے ہیں۔ ان کے بعد بادشاہت شہزادوں میں منتقل ہوجائے گی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے فرزند محمد بن نائف کو ولی عہد اور اپنے فرزند محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنایا ہے۔محمد بن سلمان ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں۔امریکہ کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی کرنے کی وجہ سے سعودی معیشت پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہے کہ ملک کو پہلی مرتبہ800ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے ایک دستاویز ویژن2030تیار کی گئی جس کے تحت ملک میں شاہی خاندان کے جملہ ایک اندازے کے مطابق15ہزار افراد پر مشتمل ہے اور اس کے شہزادوں کی تعداد ایک ہزار ہے اخراجات کو کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے سعودی نوجوانوں کو ملازمتوں کیلئے راغب کیا جارہا ہے ان کیلئے مواقع پیدا کرنے نطاقت قانون کے تحت لاکھوں غیر ملکیوں کو ملک سے نکال دیا گیا۔دوسری طرف ملک کی سلامتی کو ایک طرف یمن کے حوثیوں ‘دوسری طرف شامی داعش اور تیسری طرف ایران سے خطرہ لاحق ہے۔ ایران کی جانب سے مقامات مقدسہ کا انتظام مسلم ممالک کو سونپ دیئے جانیکا مطالبہ بڑھ رہا ہے ایسے میں سعودی عرب زیادہ سے زیادہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے خصوصاً وہ ایک مضبوط سنی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے تا کہ داعش اور القاعدہ کے خطرے سے نمٹ سکے۔امریکہ کے کہنے پر سعودی عرب داعش کی مدد کرچکا ہے لیکن یہ گروپ اب خود اس کے خلاف ہوگیا ہے۔ سعودی پولیس نے ملک میں درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو دولت اسلامیہ سے وابستہ ہوچکے ہیں۔سعودی عرب ناٹو کے طرز پر ایک مسلم اتحادی فوج قائم کرنے کا بھی خواہاں ہے ان کو ششوں میں وہ کتنا کامیاب ہوتا ہے اس کا دارومدار ملک کی سلامتی اور استحکام پر ہے۔ مغربی طاقتیں سعودی عرب میں بھی مصر اور تیونس کی طرح عوامی انقلاب لانا چاہتی ہیں لیکن سعودی حکمرانوں کے ساتھ ان کے تجارتی مفادات نے ان کو روک کر رکھا ہے اس وقت امریکہ خود ایک تبدیلی کے دور سے گذر رہا ہے اسلئے سعودی حکمرانوں کا ایشیائی ممالک کی طرف دیکھنا فطری بات ہے۔ یہ نئے تعلقات اسلامی دُنیا کیلئے کارآمد ثابت ہوں گے یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا تا ہم شاہ سلمان اپنے دورے کے بعد سیدھے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے اردن جائیں گے۔

Comments

comments