Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » حیدرآباد » حکومت تلنگانہ کا بجٹ انتخابات کی قبل از وقت تیاریاں
حکومت تلنگانہ کا بجٹ انتخابات کی قبل از وقت تیاریاں

حکومت تلنگانہ کا بجٹ انتخابات کی قبل از وقت تیاریاں

ملک کی29ویں ریاست کی حیثیت سے تلنگانہ کے قیام کو اس سال جون میں3برس مکمل ہوجائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں برسر اقتدار ٹی آر ایس اس وقت ریاست میں ایک ناقابل تسخیر قوت بن چکی ہے جس طرح مرکز میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کسی چیالنج کے بغیر حکمرانی کررہی ہے اسی طرح ریاست میں جبکہ کے سی آر کو چیالنج دینے والا کوئی نہیں ہے لیکن پروفیسر کودنڈا رام جن کا علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک میں نمایاں رول رہا ہے۔ کے سی آر کی طرز حکمرانی کو ڈکٹیٹر شپ قرار دے کر اپنی راہیں الگ کرچکے ہیں۔ کے سی آر کی عوامی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے اس کا انکشاف خود ان کی جانب سے دو مرحلوں میں کروائے گئے سروے میں ہوچکا ہے اسکے باوجود بھی وہ کوئی جوکھم مول لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات‘ عام انتخابات کیساتھ2019 میں ہوں گے۔اس طرح انتخابات کو دو سال کا عرصہ باقی ہے۔ کے سی آر انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے ابھی سے حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔حالیہ وزیر فینانس ای راجندر کی جانب سے ریاستی اسمبلی میں جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس کا بغور جائزہ لینے سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔
وزیر فینانس نے1.49لاکھ کروڑ روپے پر مشتمل بجٹ سال2017-18کا پیش کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نوٹ بندی کا ریاست کی معاشی ترقی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور ریاست کی بنیادی گھریلو پیداوار کی شرح ترقی10.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے نئی ریاست کے قیام کے بعد بنیادی ضرورتوں جیسے آبپاشی‘برقی اور پینے کے پانی کی فراہمی کو ٹی آر ایس حکومت نے اولین ترجیح دی ہے۔وزیر فینانس نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں برقی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اگر طلب موسم گرما کے دوران10ہزار میگا واٹ تک بھی پہنچ جائے تو اس طلب کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ہر گھر کو نل کے ذریعہ پینے کا پانی فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کئے گئے مشن بھگیرتا کیلئے3000کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔آبپاشی کے شعبہ کو25ہزار کروڑ روپے دیئے گئے جو مشن کاکتیہ پر عمل کررہا ہے۔محکمہ زراعت کیلئے5ہزار کروڑ روپے اور کسانوں کو قرض معاف کرنے کی اسکیم کے تحت آخری قسط کے طور پر4ہزار کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔برقی کے شعبہ کیلئے4ہزار کروڑ روپے‘پنچایت راج کیلئے4ہزار کروڑ روپے ‘سڑکوں کیلئے5ہزار کروڑ روپے ‘ تعلیم کیلئے12ہزار کروڑ روپے‘صنعتوں کیلئے985 کروڑ روپے‘ انفارمیشن ٹکنالوجی کیلئے253کروڑ روپے ‘ بلدی نظم و نسق کیلئے 5 ہزار کروڑ روپے‘صحت کیلئے5ہزار کروڑ روپے مختص کئے ہیں ۔
مختلف طبقات کی بہبودی کا جہاں تک سوال ہے ریاست کے اقلیتوں کیلئے1249 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔گزشتہ سال کے مقابلے بجٹ میں معمولی یعنی3.5فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ آئمہ اور موذنین کے ماہانہ اعزازی مشاہیر کو 1000روپے سے بڑھا کر1500روپے کردیا گیا ہے۔ حکومت نے201 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے آئندہ تعلیمی سال سے129اسکول کارکرد ہوجائیں گے۔ گزشتہ سال سے71 اسکول کام کررہے ہیں۔حکومت تلنگانہ نے ٹی ایس۔پرائم کے نا م سے ایک اسکیم متعارف کروائی ہے جو اقلیتی طبقہ کے نئے صنعتکاروں کیلئے ہے ۔ حکومت نے پوسٹ میٹرک اسکالر شپس آئندہ سال 1,08 لاکھ اقلیتی طلباء کو دینے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کی رقم بڑھا دی گئی ہے۔ ایس سی طبقات کی بہبودی کیلئے 14ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو گذشتہ سال کے مقابلے7ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے یعنی درج فہرست طبقات کے بجٹ میں50 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حکومت ایس سی طبقات کو زمین خریدنے کیلئے قرض دے رہی ہے اس طبقہ کے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دی جارہی ہے۔ کلیان لکشمی اسکیم‘اسکالر شپس کے علاوہ غریب ایس سی طبقہ کے افراد کو ماہانہ50یونٹ مفت برقی دی جارہی ہے۔ اراضی کی تقسیم کے سلسلے میں حکومت تلنگانہ نے نئی ریاست وجود میں آنے کے بعد3671 دلت خاندانوں میں9664ایکر اراضی تقسیم کی اس کیلئے حکومت نے406کروڑ روپے خرچ کئے۔ ایس سی طبقہ کیلئے130 اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں 103 اسکولوں نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ان میں لڑکیوں کیلئے 23اسکولس ہیں ۔آئندہ تعلیمی سال سے ایس سی اسٹیڈی سرکل شروع کیا جارہا ہے۔
جہاں تک ایس ٹی یعنی قبائیلی بہبود کا سوال ہے حکومت نے ان کیلئے8ہزار کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔گزشتہ سال ان کیلئے صرف3ہزار500کروڑ روپے ہی مختص کئے گئے تھے ۔آئندہ پنچایتی انتخابات سے قبل حکومت کئی قبائیلی تانڈوں کو گرام پنچایتوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ایس ٹی طلباء کیلئے بھی ایک اسٹیڈی سرکل قائم کیا جائیگا ریاست میں پسماندہ طبقات یعنی بی سی طبقہ کی بہبودی کیلئے حکومت نے بجٹ میں5ہزار کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ گزشتہ سال اس طبقہ کیلئے2ہزار500کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ حکومت نے ہر ایک اسمبلی حلقہ میں ایک بی سی اقامتی اسکولس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان اسکولوں میں توقع ہے کہ76ہزار طلباء کو پانچویں جماعت سے انٹر میڈیٹ تک معیاری تعلیم دی جائیگی ہر ایک طالبعلم پر ایک تا سوا لاکھ روپے خرچ کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ میں ماہی گیروں‘دھنگروں اور بنکروں کی بہبودی کیلئے کئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہینڈلوم اور پاور لوم کی صنعت میں کام کرنے والوں کیلئے معاشی امداددی جائیگی۔بکرے پالنے اور مچھلیوں کی افزائش کیلئے75فیصد سبسیڈی دی جارہی ہے۔ خواتین کیلئے بھی بجٹ میں کافی اسکیمات کا اعلان کیا گیا ہے۔ جہاں تنہا رہنے والی خواتین کیلئے آسراء وظائف کے تحت ماہانہ 1000 روپے وظیفہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے وہیں حاملہ خواتین کو سرکاری دواخانوں میں زجگی کروانے پر12ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ حکومت نے16اشیاء پر مشتمل ایک’’ کے سی آر کٹ‘‘ متعارف کروایا ہے جس میں بچے کے استعمال کی16اشیاء بشمول صابن ‘پاؤڈر‘ ڈائیپر ہوں گے۔اس کٹ کیلئے بجٹ میں605کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس طرح کے یہ کٹ تاملناڈو میں دیئے جارہے ہیں’’ اماں کٹ‘‘ کے طرز پر متعارف کروایا گیا ہے جس میں بچہ کی ماں کیلئے ایک پرس اور ایک کاٹن کی ساڑی بھی دی جائیگی۔چیف منسٹر کے دفتر اور محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ایک ٹیم نے تاملناڈو کا دورہ کیا تھا اور وہاں اس اسکیم کی عمل آوری کا جایزہ لیا تھا۔ حاملہ خواتین کو دی جانیوالی امداد میں ہاسپٹل میں شریک ہوتے ہی4000روپے دیئے جائیں گے۔ڈسچارج ہونے پر4ہزار روپے اور بچہ کی ٹیکہ اندازی کیلئے مزید4000روپے کی رقم فراہم کی جائیگی۔حکومت نے زچہ اور بچہ دونوں کیلئے آنگن واڑی مراکز کے ذریعہ سے سوپر فائن چاول سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ زچہ اور بچہ کو تغذیہ بخش غذا فراہم کی جاسکے۔ آنگن واڑی ورکرس کا نام بدل کر آنگن واڑی ٹیچرس کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں محکمہ بہبود خواتین و اطفال کیلئے 1731.5 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گزشتہ سال یہ رقم 1553کروڑ روپے تھی۔ صحت کے شعبہ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد میں مزید4سوپر اسپشیالٹی ہاسپٹلس قائم کرنے کے علاوہ ہر حلقہ اسمبلی میں بیماریوں کے معائنہ کیلئے ایک سنٹر قائم کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں کریم نگر میں بھی ایک سوپر اسپشیالٹی ہاسپٹل قائم کیا جارہا ہے۔ سرکاری دواخانوں سے زچہ اور بچہ کو ان کے مکانوں تک پہچانے کیلئے مزید50 گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔ تمام ہاسپٹلس میں خراب بستروں کو تبدیل کرنے کیلئے بھی بجٹ میں رقم فراہم کی گئی ہے۔
چیف منسٹر نے فیس کی باز ادائیگی کیلئے مارچ کے اواخر تک رقم جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس مقصد کیلئے بجٹ میں1940 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔حکومت نے بتایا ہے کہ ریاست میں روزگار کے مواقعوں کو فروغ دینے کیلئے345صنعتوں کو منظوری دی گئی ہے جو58ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز رکھتی ہے ان سے ریاست میں2.2لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہونیکا امکان ہے حکومت نے روزگار کو فروغ دینے والے محکمہ سیاحت کیلئے 198کروڑ روپے مختص کئے ہیں اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے بہبودی کے محکمہ جات کو زیادہ رقم مختص کرنے کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ حکومت نے ابھی سے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔ کے سی آر نے اپنے وزارء اور ارکان اسمبلی کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کے ارکان کی کارکردگی پر بھی ایک سروے منظم کرایا ہے اس کی بنیاد پر انہوں نے پارٹی قائدین کا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے کارکردگی کوبہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ 5 ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ کے سی آر مرکز کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے کی کوشش کریں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی تمام چیف منسٹروں کی کارکردگی او ر مقبولیت کا جایزہ لینے ایک سروے کروایا تھا جس میں کے سی آر کو سر فہرست بتایا گیا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی اپنے کیڈر کو مضبوط بنانے کی خواہاں ہے اس بات کا امکان ہے کہ آنیوالے دنوں میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان قربتیں بڑھ سکتی ہیں اور ریاست میں نیا سیاسی اتحاد قائم ہوسکتا ہے۔
دہلی پبلک اسکول حیدرآباد کی طالبہ کو اعزاز
دہلی پبلک اسکول حیدرآباد کی طالبہ ندا عدیل نے شہر میں منعقد ہونے والے اسپل بی مقابلوں کو جیت لیا تا ہم وہ فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے آخری16طلباء میں شامل نہ ہوسکی۔ یہ پروگرام ٹائمز اخبار اور ریڈیو مرچی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جس میں شہر کے112 ‘اسکولوں نے حصہ لیا۔ سب سے پہلے112 اسکولوں میں مقابلے ہوئے اور وہاں سے طلباء کو منتخب کر کے ان کے درمیان مقابلے کروائے گئے۔ ہر ایک اسکول سے بہتر مظاہرہ کرنے والوں کی ایک ٹیم منتخب کر کے آخری مرحلے کے مقابلے کروائے گئے ان میں ندا عدیل نے بہترین مظاہرہ کیا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں منعقد ہونے والے اسپل بی مقابلوں کیلئے طلباء کو تیار کرنا ہے۔ قومی سطح کے فائنل میں30شہروں سے16طلباء نے حصہ لیا۔قومی سطح کا مقابلہ جیتنے والوں کو دو لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا۔قومی مقابلے جیتنے والوں کو کو ان کے والدین کے ساتھ امریکہ جانے اور آنے کی سہولت دی جائیگی۔سیمی فائنل میں آنے والے4طلباء کو فی کس50ہزار روپے دیئے گئے ہیں۔اس مقابلے کو کلاس میٹ اسپل بی سیزن9کا نام دیا گیا ہے۔ کلاس میٹ نوٹ بکس تیار کرنے والی کمپنی ہے ان مقابلوں کو اسپانسر کررہی ہے۔ ندا عدیل اگرچہ ملک بھر سے منتخب ہونے والے 30 طلبہ میں شامل تھیں لیکن وہ آخری 16 میں جگہ نہیں بناسکی۔ ڈسکوری چیانل پر ان مقابلوں کو راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ہے۔ آئی ٹی سی ایجوکیشن کے چیف ایکزیکٹیو شلیندر تیاگی نے بتایا کہ ان مقابلوں کا مقصد طلباء کو امریکہ میں ہونے والے مقابلوں کیلئے تیار کرنا اور وہاں تک پہنچنے میں ان کی مدد کرنا ہے تا کہ ہندوستان کے اُبھرتے ٹیالنٹ کو دُنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ ہندوستان کے تمام بڑے شہروں کے عالمی درجہ کے اسکولوں سے اس کا آغاز کیا گیا ہے۔شہروں میں ہوئے مقابلوں میں منتخب طلباء کو نیشنل پلیٹ فارم پر لایا جائے گا اور قومی سطح پر جیت حاصل کرنے والے کو امریکہ جانے کا موقع دیا جائیگا۔ آخری16طلباء میں کولکتہ کی عائشہ احمد اور سلیگیوری کے امان احمد نے حصہ لیا تاہم کولکتہ کی پرتھیوشا ناتھ نے16طلباء پر سبقت لے جاتے ہوئے یہ مقابلے جیت لیئے۔

Comments

comments