Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » جب اسرائیل کی پارلیمنٹ میں اذانیں گونجنے لگیں!؟
جب اسرائیل کی پارلیمنٹ میں اذانیں گونجنے لگیں!؟

جب اسرائیل کی پارلیمنٹ میں اذانیں گونجنے لگیں!؟

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے فلسطینی علاقوں بشمول مسجد اقصیٰ میں رات11بجے کے بعد سے صبح7بجے تک اذانوں پر پابندی لگانے کا قانون منظور کر لیا ہے۔ بیت المقدس یعنی مسلمانوں کے قبلہ اول پر اسرائیل کے قبضہ کے اس سال جون میں50برس مکمل ہورہے ہیں ۔ 8جون 1967 کو عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے غرب اردن پرقبضہ کر لیا تھا جس میں یروشلم بھی شامل ہے۔ مسودہ بل کو اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مزید دو اجلاسوں میں پیش کیا جائیگا جس کے بعد اس کو قانون کی شکل مل جائیگی۔یروشلم کے ایک عالم دین محمد شیخ عکرمہ صابری نے تمام موذنوں سے کہا ہے کہ انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اذانوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اگرچہ اس بل میں رات کے وقت اذانوں پر پابندی لگائی گئی ہے اور پابندی کا وقت عشاء کے بعد سے شروع ہوتا ہے ماہ رمضان کے دوران تراویح لاوڈ اسپیکر پر سنائی جاتی ہے اور تہجد کی نماز کیلئے بھی اذان دی جاتی ہے۔دو عیدین کے موقع پر بھی نمازیں لاوڈ اسپیکر پر ہی پڑھائی جاتی ہیں اور خطبہ دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کبھی موذنوں کی آوازوں کو خاموش نہیں کرسکتا گزشتہ 15 صدیوں سے یروشلم کے گلی کوچوں میں اذانیں گونج رہی ہیں۔حمص کے ترجمان حمزہ قاسم نے سوشیل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قانون ارض فلسطین کو مسلمانوں سے خالی کرانے صہیونی سازش کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اسی بل کو نسل پرستانہ قرار دیا اور کہا کہ اس بل کو نافذ العمل کیا گیا تو فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کا قبضہ مزید مضبوط ہوجائیگا۔
اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں اذانوں پر پابندی لگا کر خود اپنے پیر پرکلہاڑی مار لی۔ جس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ میں بل پر رائے دہی جاری تھی تو ایک عرب اسرائیلی رکن نے جو اس بل کے خلاف شدید احتجاج کررہے تھے مائک پر اذان دینا شروع کردیا۔ اس طرح اسرائیل کی پارلیمنٹ میں اذان گونجنے لگی جو شائد عام دنوں میں ناممکن بات تھی۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ کے ایوان میں اذان دینے کا تصور بھی شائد کوئی کر پاتا لیکن صیہونی حکومت کے اس اقدام نے ایسا کرشمہ کردیا کہ خود اس کی پارلیمنٹ میں اذان کی آواز گونجنے لگی دوسری طرف ایک اور دھکا اس وقت لگا جب یروشلم کے ایک گرجا گھر نے اس قانون کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ اظہار یگانگت اور خیر سگالی کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لاوڈ اسپیکر سے اذان نشر کرنا شروع کردیا۔ یہ بھی ایک قدرت کا کرشمہ ہی ثابت ہوا اور گرجا گھر سے اذان کی آواز آنے لگی۔ مشرقی یروشلم سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والے احمدتبی نے جیسے ہی اذان دینا شروع کردیا ان کیساتھ ایک اور رکن طالب ابو ارار بھی اذان دینے لگے۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے دوسرے ارکان نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اپنی اذان مکمل کر کے ہی دم لیا۔اس بل کے خلاف پورے فلسطین میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ فلسطینی قیادت(محمود عباس) نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ صدر کے ترجمان نبیل ابورونیہ نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے یہودیوں اور فلسطینیوں میں دشمنی اور بھی بڑھ جائیگی اور اس سے تشدد کو مزید ہوا ملے گی۔ قانون میں واضح کہا گیا ہے کہ جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کو ڈھائی ہزار ڈالر کے مساوی یعنی ہندوستانی کرنسی میں3لاکھ روپے کے مساوی جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ البتہ اس بل سے مسجد اقصیٰ کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ خود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو نے اس بل کی تائید کی تھی ان کا کہنا ہے کہ فجر کی اذان کی وجہ سے یہودیوں کی نیند میں خلل پڑ رہا ہے۔اس بل کی منظوری سے پہلے ہی اسرائیلی فوج نے یہودیوں کے مذہبی تہوار’’ عید غفران‘‘ کے موقع پر یہودیوں کی عبادت میں خلل نہ ہونے دینے اور ان کے مذہبی رسومات کی ادائیگی میں سہولت دینے کیلئے فلسطین کے شہر الخیل میں واقع تاریخی مسجد ابراہیمی میں نماز اور اذان پر غیر معینہ مدت کیلئے پابندی لگا دی تھی یہ پابندی تہوار مکمل ہونے تک برقرار رہی تھی۔ ماہ مارچ میں بھی3‘4 اور6تاریخ کے علاوہ18 اور 19کو بھی مسجد ابراہیمی میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔مسجد ابراہیمی میں مسلمانوں کے داخلے پر اس طرح کی پابندی فلسطینی مسلمانوں کے مذہبی امور میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ مسجد ابراہیمی اس لحاظ سے مسلمانوں کیلئے مقدس ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قیامگاہ تھی ۔ احیاء اسلام کے بعدجب یروشلم فتح ہوا تو مسجد الاقصیٰ میں سب سے پہلے اذان حضرت عمر بن خطابؓ نے 15ھ 636ء میں دی تھی۔ اس واقعہ کو 15صدیاں بیت چکی ہیں اور آج تک بیت المقدس سے اذانوں کو بلند ہونے سے کوئی روک نہیں پایا۔ جب اسرائیل کی پارلیمنٹ کیبنٹ میں یہ بل منظور کیا گیا تو120 رکنی ایوان میں48نے اس کی مخالفت کی جبکہ تائید میں 55 ووٹ ڈالے گئے۔
اذان پر پابندی اسرائیل کے فلسطینیوں کو اسی ارض مقدس سے نکالنے کیلئے اختیار کئے جانے والے ان متعدد حربوں میں سے ایک ہے جو صیہونی حکومت اختیار کرتی ہے ۔ فلسطینیوں پر آئے دن نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے کبھی ان کی نقل و حرکت پر کبھی ان کا دوکانوں‘مکانوں پر مختلف پابندیاں لگا کر ان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی عدالت کے حکم پر بیت المقدس کے سلوان قصبہ میں رہنے والے8 فلسطینی خاندانوں کے بینک کھاتے بند کردیئے گئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ خاندان بطن الھودی کالونی میں مکانات تعمیر کئے جانے کے باوجود وہ منتقل نہیں ہورہے ہیں اسلئے ان پر کرایہ کی عدم ادائیگی کا الزام لگا کر ان کے بینک کھاتے منجمد کردیئے گئے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں وہ اس کی اجازت کے بغیر قیام پذیر ہیں اسلئے ان کو ذاتی مکان رکھنے کے باوجود کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل کے مطابق اس کی بستیوں میں جو بھی فلسطینی قیام کرے گا اس کو کرایہ دینا ہوگا اگرچہ کہ وہ مکان اس کا ذاتی ہی کیوں نہ ہو۔
اسرائیل کی اس سازش کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت جاری ہے۔ عالمی برادری سے ان کی اپیل ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر ان بستیوں کی تعمیر روکیں لیکن افسوس کہ عالمی یا مسلم برادری اس طرف انجان بن رہی ہے۔ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب(اسرائیل کا دارالحکومت ) سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کر کے ان فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب الشیخ محمد حسین نے کہا کہ اگر امریکہ اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرتا ہے تو یہ فلسطین کے ہی نہیں دُنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کی کوشش کرنا انتہائی خطرناک ہے اس کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ میں مزید ابتری اور بدامنی پھیل جائیگی اور قیام امن کی کوششوں کو شدید دھکا لگے گا ۔امریکہ سفارتخانے کی منتقلی عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔ مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضہ کے اس سال جون میں50برس مکمل ہوجائیں گے ان علاقوں میں غرب اردن‘ مشرقی بیت المقدس یا مشرقی یروشلم‘گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔غرب اردن اور مشرقی یروشلم کے علاقے 1948-49 عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد اردن کے پاس تھے اس پر 1969کی جنگ میں اسرائیل نے دوبارہ قبضہ کر لیا اور اب تک ان علاقوں میں وہ131 نئی بستیاں تعمیر کر کے 3لاکھ 85 ہزار یہودیوں کو آباد کرچکا ہے جن کو دُنیا کے مختلف ممالک سے لایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ97 ایسی بستیاں ہیں جو غیر مجاز بنائی گئی ہیں یعنی ان کو اسرائیلی حکومت کی بھی منظوری حاصل نہیں ہے۔ مشرقی یروشلم میں ایسی12 بستیاں ہیں جن میں دو لاکھ یہودی رہتے ہیں۔ 1967 کی ہی جنگ میں اسرائیل نے مصر کے ساتھ جنگ میں غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہا ں بھی بستیاں قائم کی تھیں لیکن2005 میں یہاں سے اپنی فوجوں کو نکالنے کے بعد ان بستیوں کو مسمار کردیا۔ صحرائے سینا میں بھی اس کی بستیاں تھیں جن کو1932 میں مصر کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا۔ اسی جنگ میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا گیا جو شام اور لبنان کی سرحد سے متصل ہیں۔ ان پہاڑیوں پر بھی کئی بستیاں تعمیر کردی گئیں ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے نہ صرف فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ کیا ہے بلکہ ان کے کھیتوں پر بھی قبضہ کیا ہے۔ اسرائیل کے یہ اقدامات صاف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ایک الگ مملکت کے طور پر قائم ہونے دینے کا حامی نہیں ہے۔ وہ پورے علاقہ پر قبضہ چاہتا ہے۔ اگر یروشلم پر بھی اسرائیل کا قبضہ ہوجاتا ہے تو فلسطینیوں کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہیگا۔ اسلئے فلسطینی اب کسی بھی مذاکرات میں ان بستیوں کی تعمیر روکنے کے مطالبے کو اولین شرط کے طور پر پیش کررہے ہیں جبکہ اسرائیل ان بستیوں کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے کئی بہانے بناتے ہوئے بات چیت سے گریز کررہا ہے۔ دونوں ممالک نے اوسلو میں جو معاہدہ کیا تھا اس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان قطعی معاہدہ نہیں ہوتا تب تک بستیاں تعمیر نہیں کی جاسکتیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جن فلسطینیوں کو ان کے مکانات چھوڑنے کیلئے مجبور کرنے بینک کھاتوں کو بند کیا گیا ہے وہ کرایہ کی شکل میں گزشتہ8برسوں کے دوران6لاکھ52 ہزار شیکل(اسرائیلی کرنسی) ادا کرچکے ہیں۔ فلسطینیوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کو انصاف کیلئے بھی اسرائیلی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔اس معاملے میں بھی عدالت نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ بیت المقدس میں فلسطینیوں کو گھر سے بے گھر کرنے کی مہم در اصل ایک یہودی تنظیم عطیرت کو ہنیم نے شروع کی ہے۔ یہ تنظیم کسی بھی فلسطینی کے مکان یا کھیت پر دعویٰ کر کے معاملہ عدالت میں لیجاتی ہے اور وہاں سے فیصلے اپنے حق میں کروالیتی ہے جن کرایہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے انکے مکانات کے بارے میں بھی اس تنظیم نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ اراضی1881میں یہودیوں کی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تنظیم1978 میں قائم کی گئی اور تب سے اب تک یہ ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کرچکی ہے۔ جعلی دستاویزات اس کا اہم ہتھیار ہیں ایک طرف اسرائیل فلسطینی نوجوانوں کے غم و غصہ کو دہشت گردی قرار دیکر ان پر گولیاں برسا کر ان کو موت کے گھاٹ اُتارتا ہے اور دوسری طرف اس کے خاندان کا گھر مسمار کر کے ان کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے دوسری طرف یہ تنظیم اس طرح سے فلسطینیوں کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کر لیتی ہے اس طرح بیت المقدس (یروشلم) سے فلسطینیوں کو آہستہ آہستہ باہر نکالا جارہا ہے۔اگرچہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ1967 کی جنگ میں حاصل کردہ تمام علاقے واپس کردے لیکن امریکہ کی سرپرستی کی وجہ سے ابھی تک اسرائیل نے ان کو واپس نہیں کیا ہے ۔دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے اسرائیل کے حوصلے اور بھی بلند ہوگئے ہیں وہ اب بستیوں کی توسیع کو روکنے یوروپی ممالک کے انتباہ کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا ہے اس نے بیت المقدس سے فلسطینیوں کو نکالنے کے اقدامات تیز کردیئے ہیں۔حال ہی میں اس نے یروشلم میں یہودی باز آباد کاروں کیلئے مزید ڈھائی ہزار مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اس وقت اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے علاقہ میں مختلف شہروں اور بستیوں میں تقریباً ساڑھے3 لاکھ یہودی آباد ہیں۔ دولاکھ یہودی مشرقی بیت المقدس میں مقیم ہیں ان کے علاوہ مغربی کنارے میں پہاڑوں پر یہودی کی 100 سے زیادہ چھوٹی بڑی بستیاں ہیں۔1967 کی جنگ میں اسرائیل نے ان علاقوں پر قبضہ کر کے یروشلم پر جہاں مسجد اقصیٰ موجود ہے اپنا دعویٰ پیش کردیا تھا لیکن اقوام متحدہ اس کو تسلیم نہیں کرتی۔اسرائیل توریت اور زبور کے حوالے سے بیت المقدس کو اپنے لئے انتہائی مقدس شہر قراردیتا ہے اور یہاں وہ ہیکل سلیمانی کی بحالی(دوبارہ تعمیر) کا منصوبہ بھی رکھتا ہے اسلئے مسجد اقصیٰ کے اطراف و اکناف سے فلسطینیوں کی بستیوں کو ہٹا کر یہودی بستیاں قائم کرنا چاہتا ہے اور اس پر عمل بھی کررہا ہے۔ فلسطینیوں کو پرانے شہر میں اس طرح سمیٹ کر رکھ دیا گیا ہے کہ وہ قلعہ بند ہوگئے ہیں۔اذانوں پر پابندی بھی اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔

Comments

comments