Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » عراق سے داعش کا خاتمہ ابوبکر البغدادی کا اعتراف شکست
عراق سے داعش کا خاتمہ ابوبکر البغدادی کا اعتراف شکست

عراق سے داعش کا خاتمہ ابوبکر البغدادی کا اعتراف شکست

دولت اسلامیہ یعنی داعش نے جس تیزی سے شام اور عراق کے علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور خود ساختہ خلافت قائم کرتے ہوئے پوری دُنیا میں اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اتنی ہی تیزی سے اس کا خاتمہ ہورہا ہے۔ عراق میں اس کے آخری گڑھ موصل کو رہا کروانے کیلئے لڑائی فیصلہ کن موڑ پر آگئی ہے۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنے جنگجوؤں کو عراق سے چلے جانے کی ہدایت دیتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ تا ہم انہوں نے اپنے پسپائی اختیار کررہے سپاہیوں کو خودکش حملے کرنے کی ترغیب دی ہے۔ امریکہ کی مدد سے عراقی فوج جس کے ساتھ شیعہ با قاعدہ فورس بھی ہے تیزی سے داعش کے علاقوں پر قبضہ کررہی ہے۔ برطانیہ اور دوسرے ممالک نے اس لڑائی میں فضائی حملوں کے ذریعہ مدد کی ہے۔ برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فالن نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2017 کے آخر تک عراق کے تمام بڑے شہروں سے داعش کا صفایا ہوجائیگا۔ موصل‘ عراق میں داعش کا ہیڈ کوارٹر تھا ۔ اس پر قبضہ کیلئے گزشتہ3ماہ سے لڑائی جاری تھی۔ شہر کے مشرقی حصے پر عراقی فوج کا قبضہ ہوچکا ہے اور مغربی حصے پر کنٹرول کیلئے لڑائی جاری ہے۔ گزشتہ3ماہ کے دوران موصل سے تقریباً10لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے اس سال کے اوائل میں کہا تھا کہ ملک سے دولت اسلامیہ کو نکالنے میں مزید چند مہینے لگ جائیں گے۔
در اصل داعش کو دو محاذوں پر لڑائی کا سامنا ہے۔ ایک طرف عراق اور دوسری طرف شام‘علاوہ ازیں گزشتہ ایک برس کے دوران امریکہ‘روس اور ان کے اتحادیوں کی بمباری میں داعش کے کئی بڑے کمانڈرمارے جاچکے ہیں۔زمینی لڑائی میں اس کو ایک طرف عراق‘کردوں سے لڑائی کا سامنا ہے تو دوسری طرف شام اور ترکی اس سے نبرد آزما ہیں۔ اس کے علاوہ دُنیا بھر سے اس کو رکروٹ ملنا بند ہوگئے ہیں یوروپ اور دوسرے ممالک نے داعش سے رغبت رکھنے والے نوجوانوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔ شامی حکومت کے مضبوط ہوجانے اورروس کے میدان جنگ میں آجانے سے داعش کیلئے اب تیل فروخت کر کے ہتھیار حاصل کرنا بھی دشوار ہوچکا ہے۔ اس صورتحال میں داعش نے اپنے کئی کمانڈرس کو لیبیا اور دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا ہے۔ خود داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے بارے میں یہ اطلاعات آئی ہیں کہ وہ لڑائی میں شدید زخمی اور مفلوج ہوچکا ہے ۔ اگرچہ ان کے مارے جانے کی اطلاع بھی آئی تھی لیکن پنٹگان نے گزشتہ سال ڈسمبر میں کہا تھا کہ وہ زندہ ہے۔امریکہ کی تلاش نے ان کو روپوش ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ جنوری میں ہی عراقی فوج نے موصل پر حملے شروع کئے تھے اب انہوں نے شہر کے مشرقی علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے۔
شام کے محاذ پر بھی داعش کو ایک کے بعد ایک شہروں سے نکالا جارہا ہے۔ فروری میں ترک فوجیوں نے الباب نامی شہر سے ا س کو نکالا تھا۔ روس کے وزیر دفاع سرگئی شیوگو نے مارچ میں بتایا تھا کہ شامی فوج نے روس کی مدد سے پالیمرا پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ ڈسمبر2016 میں داعش نے اس تاریخی شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ داعش کو ہر طرف سے شکست دینے کے باوجود مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ دولت اسلامیہ کا صفایا ہوگیا ہے۔ شام اور عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اسٹیفین ٹاون سینڈ نے بتایا ہے کہ صرف ایک موصل میں اب بھی 2 ہزار سے زیادہ داعش کے سپاہی موجود ہیں ان سے زبردست مزاحمت کا سامنا ہے شہر میں انہوں نے سرنگیں کھود رکھی ہیں۔ویران عمارتوں میں وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں یہ پتہ لگانا مشکل ہے۔ اسلئے عراقی فوج آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔
دولت اسلامیہ کا دوسرا شہر اور دارالحکومت الرقہ شام کے مشرق میں ہے شام کی فوج بھی مختلف محاذوں پر لڑ رہی ہے اسلئے رقہ پر فیصلہ کن حملہ کرنے سے قاصر ہے ترک اور کرد داعش کے خلاف لڑنے کے بجائے آپس میں لڑنے میں وقت ضائع کررہے ہیں ترکی کو اندیشہ ہے کہ اس لڑائی کی آڑ میں امریکہ کردوں کو جو مدد کررہا ہے وہ دراصل ان کو ترکی کے خلاف مضبوط بنا رہا ہے۔ ایک علیحدہ کردستان کی امید میں کرد نسل کے جنگجو جن میں خواتین بھی شامل ہیں داعش کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ عراق اور ایران نے علیحدہ کردستان کیلئے اپنی رضا مندی دیدی ہے۔ شمالی عراق اور شمالی شام کے علاوہ کرد ترکی کے علاقوں پر بھی اپنا دعویٰ رکھتے ہیں اسلئے ترکی ان کرد جنگجوؤں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلئے اس پر داعش کو مدد کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ ترکی فوج گزشتہ سال اگست سے شام میں زمینی حملے کر رہی ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اشارہ دیا ہے کہ شام سے داعش کے خاتمہ کے بعد ان کا نشانہ منبخ ہوگا یہ شہر اس وقت کرد فوج کے قبضہ میں ہے۔ ترکی کے ان ارادوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے اپنی خصوصی فوج کو منبخ کے قریب تعینات کردیا ہے تا کہ ترکی کے حملہ کرنے پر کردوں کی مدد کی جاسکے۔یہ صورتحال تشویشناک ہے اگر ترکی حملہ کرتا ہے تو اس کو نہ صرف کردوں سے بلکہ امریکہ سے مقابلہ کرنا پڑے گا ۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرنے جارہا ہے؟ ان حالات میں شام میں جنگ تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے اسلئے داعش پر توجہ کم ہوگئی ہے روس نے بھی پہلے بشار الاسد کے باغیوں پر توجہ مرکوز کی بعد میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرنا شروع کیا۔روس کے آنے کے بعد شامی فوج حلب اور حمص جیسے بڑے شہروں پر قبضہ کے علاوہ دارالحکومت دمشق میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
دولت اسلامیہ کے خلاف پوری دُنیا متحد ہونے اور اس کو جلد سے جلد ختم کرنے کیلئے اس پر حملہ آور ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ دولت اسلامیہ نے تیزی سے عراق اور شام کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں سے غیر مسلموں کو نکالنا شروع کیا۔ سخت سزاؤں پر عمل آوری کے ویڈیوز جاری کئے۔ مسلم حکمرانوں کو دھمکیاں دینی شروع کیں اس وجہ سے مغرب کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کو بھی انہوں نے اپنا دشمن بنا لیا۔ داعش کی آمد نے علاقہ شیعہ قوتوں کو متحد اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ روس سے قریب ہونے کا موقع فراہم کیا نتیجہ میں روس جو اپنی سابقہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگا اور اس نے سعودی عرب کو بھی شام کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ایران سے لبنان تک شیعہ غلبہ بھر چکا ہے جس کے ایک طرف سعودی عرب اور دوسری طرف ترکی ہے اور یہ دونوں ممالک روس اور امریکہ کے نشانے پر ہیں ۔ اسلئے داعش کے خاتمہ کے بعد کیا حالات معمول پر آجائیں گے یہ ایک نئی جنگ کی شروعات ہوگی یہ کہنا ابھی مشکل ہے اگر سعودی عرب اور ترکی کے خلاف محاذ آرائی ہوتی ہے تو پورا مشرقِ وسطیٰ تباہ و برباد ہوجائیگا جو مسلم معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک دوسرا بڑا خطرہ جو سر اُبھار رہا ہے وہ داعش کے بھاگتے ہوئے جنگجو ہیں جو ابھی تک امریکی اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے لیبیا کے مقام سیرتے کو اپنا اڈہ بنا لیا ہے اور دیگر علاقوں میں قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن روسی اطلاعات پر یشان کرنیوالی ہیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق داعش کے عسکریت پسند جو عراق اور شام چھوڑ رہے ہیں وسطی ایشیائی ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔ داعش میں سب سے زیادہ چیچینا اور وسطی ایشیائی ممالک تاجکستان اور ازبکستان کے عسکریت پسند بھرتی ہوئے تھے۔یہ لوگ اب واپس اپنے مقامات پر جارہے ہیں تاہم وہاں ان کے دوبارہ منظم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان ممالک کے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق تاجکستان کی فوج کے خصوصی دستوں نے جن کی تعداد تقریباً45ہزار ہے بھاری جنگی ہتھیاروں کے ساتھ مشقیں کیں ۔ ان مشقوں میں روس کے2ہزار سپاہیوں نے حصہ لیا۔ یہ مشقیں انسداد دہشت گردی مہم کے سلسلے میں تھیں اور ان کا مقصد داعش کے ان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنا ہے جو اس ملک میں واپس آرہے ہیں۔مشقیں خصوصاً ایسے علاقوں میں کی گئیں جو دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے بد نام ہیں ان میں ایک ایسا علاقہ بھی شامل تھا جو افغان سرحد سے صرف15کیلو میٹر دور تھا۔ اسلئے یہ سمجھا جارہا ہے کہ داعش کے ان عناصر کو جو افغانستان پہنچ گئے ہیں یہ انتباہ دینا ان مشقوں کا مقصد تھا کہ تاجک فوج چوکس ہے۔روس نے جب سے شام میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا ہے تب سے وہ داعش کے عسکریت پسندوں پر نظر رکھنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ کہاں جاتے ہیں؟ داعش نے لیبیا میں اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ دُنیا کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ وہ شام سے نکل کر لیبیا کا رُخ کررہی ہے لیکن وہ تاجکستان ‘ ازبکستان ‘ ترکمنستان‘کر غزستان‘ قازقستان کے بشمول افغانستان اور پاکستان کو اپنا اڈہ بنانے پر غور کررہی تھی جہاں کی پہاڑیاں اور غر بت اور برسوں تک اس کو مغرب کی نظروں سے روپوش رکھ سکتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق داعش کیلئے لڑنے والے وسطی ایشیائی ممالک کے عسکریت پسندوں کی تعداد4700 ہے ان میں2ہزار روسی شہری ہیں ان میں اکثریت شمالی قفقار کے علاقہ سے ہے ایک اور اندازے کے مطابق گزشتہ دیڑھ برس کے دوران ان علاقوں کے عسکریت پسندوں کی تعداد تین گناہ بڑھ چکی ہے صرف ایک ازبکستان اور کر غزستان کے عسکریت پسندوں کی تعداد ایک ہزار بتائی جاتی ہے جو داعش کیلئے عراق اور شام میں لڑ رہے ہیں۔
2013 اور2014 میں دولت اسلامیہ کو حب عراق اور شام کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع ملا تو دُنیا کے تقریباً80 ممالک سے نوجوان خلافت اسلامیہ کے قیام میں اس کی مدد کرنے پہنچے تھے۔ لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ داعش اصل میں کیا ہے تو انہوں نے اس کو چھوڑنا بھی شروع کیا ۔ لڑائیوں نے ہزاروں عسکریت پسندوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ہے۔ داعش کا وجود جب عراق اور شام میں نمودار ہوا تو امریکہ سمیت عرب ممالک نے بھی اس کی اس خیال سے مدد کی کہ وہ بشار الاسد کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکے گا لیکن یہ تنظیم ان کیلئے ایک ایسے سانپ کی شکل اختیار کر گئی جس کو دودھ پلا کر بڑا کیا جاتا ہے یہ تنظیم پوری طرح صفحہ ہستی سے مٹ جانے پر ممکن نہیں ہے کیونکہ اسامہ بن لادن کے بعد بھی القاعدہ موجود ہے۔آفریقہ اور دوسرے علاقوں کی کئی عسکری تنظیموں نے داعش سے الحاق کا اعلان کیا ہے اس لئے اگر یہ تنظیم عراق اور شام سے نکل بھی جائے تو دُنیا کے دوسرے حصوں میں باقی رہے گی اور اس سے سب سے بڑا خطرہ یوروپ کو ہوگا۔

Comments

comments