Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » نائب ولی عہد محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے ملاقات
نائب ولی عہد محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے ملاقات

نائب ولی عہد محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے ملاقات

ایک طرف سعودی عرب کے حکمراں شاہ سلمان بن عبد العزیز مشرقی طاقتوں چین اور جاپان کا دورہ کررہے ہیں دوسری طرف ان کے فرزند تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کیلئے امریکہ کے دورے پر گئے اور وہاں نو منتخب صدر ڈونالڈٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے مسلم ممالک کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ ٹرمپ سے کہا کہ وہ اس ملک کی سلامتی کیلئے اقدامات کے طور پر دیکھتا ہے۔ سعودی عرب کے اس موقف سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ امریکہ سے دوستی ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔دوسری خاص بات جو اس ملاقات میں رہی وہ سعودی عرب کی امریکی انتظامیہ سے شکایت ہے کہ اس نے ایران کو6فریقی جوہری معاہدہ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ اس معاہدے کے بعد ایران اس خطہ میں ایک طاقتور ملک بن کر اُبھرا ہے اور روس کی مدد سے علاقہ کے شیعہ طاقتوں کو متحد اور مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اس خطہ میں سعودی عرب کی بڑے بھائی کی حیثیت ختم ہوجائیگی تا ہم ایران کے اس اقدام سے مشرق وسطیٰ شیعہ۔سنی گروپ بندی میں تقسیم ہونے لگا ہے۔ شہزادہ سلمان نے ٹرمپ سے خوشگوار ملاقات کے دوران باہمی تعلقات‘دفاع‘سلامتی‘فوجی ضرورتوں اور معاشی امور پر بات چیت کی۔ اس ملاقات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ جب شاہ سلمان چین اور جاپان کا دورہ کررہے تھے تو مغربی میڈیا اس کو غیر معمولی اہمیت دے رہا تھا۔ میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے نئے دوست بنانے مشرق کا رُخ کیا ہے۔تا ہم محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے ملاقات میں امریکہ کی تمام غلط فہمیوں کو دور کردیا۔در اصل ٹرمپ نے ہی سعودی وزیر دفاع کو وائٹ ہاوز میں ملاقات کیلئے مدعو کیا تھا۔عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ مختلف سربراہان مملکت کو ملاقات کی دعوت دے چکے ہیں۔سعودی عرب نے جیسے ہی دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی ستائش کی ٹرمپ نے بھی اسلام کی خوب تعریف کی اور اس کو امن کو پھیلانے والا مذہب قرار دیا۔یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی بمباری کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کی ہلاکت پر اوباما نے سعودی عرب کو عصری ہتھیار کی فروخت روکدی تھی۔ اس ملاقات میں ٹرمپ نے تیقن دیا ہے کہ وہ اس پابندی کو ہٹا دیں گے۔ سعودی عرب کا ماننا ہے کہ اوباما سے زیادہ ٹرمپ سے اس کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں اور وہ پرانی دوستی کا احیا کرسکتے ہیں۔

Comments

comments