Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » آزاد فطرت کا شاعر ن م راشدؔ

آزاد فطرت کا شاعر ن م راشدؔ

ن م راشد‘اصل نام نذر محمد راشد 1910 میں ضلع گوجرانوالا کے قصبے وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے بہت متاثر رہے، اور باقاعدہ وردی پہن کر اور بیلچہ ہاتھ میں لئے مارچ کیا کرتے تھے۔
جدید اُردو شاعری کے اولین استاد ن۔م۔ راشد کی شاعری‘ اتنے طویل عرصہ میں تو آنکھوں دیکھی کانوں سنی باتیں خواہشات کی خوش گمانیوں کے ساتھ بری طرح گڈ مڈ ہونے لگ جاتی ہیں۔ پھر بھی ذہن کی بڑھتی ہوئی دھند میں ایک بلند و بالا فکر وفن کا پیکر اپنے پاؤں پر مضبوطی اور اعتماد سے ایستادہ نظر آتا ہے۔اس پیکر کا خمیر بدیہی طور پر نطشے اور اقبال اور علامہ مشرقی کے تصورات پر اُٹھایا گیا تھا۔ لیکن اس کی ڈھلائی میں خود صاحب پیکر کے علاوہ کس کس کا ہاتھ لگا ہوگا اور پہلی جنگ عظیم سے لیکر اقتصادی بد حالی تک کی عالمی اور مقامی صورتحال نے اس کس حد تک تپایا ہوگا‘ ان تفاصیل کا تعین بہت مشکل ہے۔ تا ہم اتنا ضرور ہے کہ اس دور میں بھی‘آج کی طرح‘فکر و نظر کی صلابت اور عزم و عمل کی جارحیت کے بغیر شائد سب کچھ ڈھے کے رہ جاتا‘وقت سے پہلے ہی‘کچھ کئے دھرے بغیر۔راشد جیسے با اُصول لوگ اس دُنیا سے رخصت ہوگئے اکثر سنا ہے کہ وہ اپنی اصول پسندی کو بڑی سہولت سے نبھا جاتے تھے انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی کہ یہ میرا اصول ہے اور میں اس سے سرِموانحراف نہ کروں گا۔اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ وہ بڑے ضدی اور مغلوب الغضب آدمی تھے۔
راشد کے بارے میں عموماً یہ تاثر ہے کہ اس کے ساتھ جدید شاعری کا باب کھلتا ہے۔’’ ماورا‘‘ نے 1941میں جس شہرت کے ساتھ قدم رکھا تھا ویسی شہرت بہت کم کتابوں کو ملی ہے۔ اور ’’ ماورا‘‘ جیسی شہرت بعد میں نہ تو’’ ایران میں اجنبی‘‘ کو نصیب ہوئی اور نہ ’’ لاؤ انسان‘‘ ہی کو ایسا مقام حاصل ہوا ۔ شہرت کا ایسا گراف انتہائی نقطے پر’’ ماورا‘‘ میں پہنچا اور پھر برابر اوسط شہرت کے توازن پر قائم رہا۔ اسلئے یہ کہنا کہ راشد کی شاعری میں کوئی ایسی شئے ہے جیسی’’ بانگ درا‘‘ اور’’ بال جبریل‘‘ میں ہے یقیناً درست نہیں ۔ راشد’’ماورا‘‘ کا شاعر تھا۔ اس نے اس فکری آب وہوا میں تعلیم پائی تھی‘بعد میں ساری عمر اس نے یہ جاننے کی بھی کوشش نہ کی کہ کیا کروں وہ فکری آب وہوا متروک تو نہیں ہو چکی؟
ن م راشداور میرا جی سے پہلے اردو نظم سیدھی لکیر پرچلتی تھی۔ پہلے موضوع کا تعارف‘پھر تفصیل اور آخر میں نظم اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ختم ہو جاتی تھی۔ نظم کے موضوعات زیادہ تر خارجی مظاہر سے عبارت ہوا کرتے تھے‘ جنھیں ایک لحاظ سے صحافتی نظمیں کہا جا سکتا ہے‘ واقعات کے بارے میں نظمیں‘ موسم کے بارے میں نظمیں‘ میلوں ٹھیلوں کا احوال‘ا حبِ وطن یا اسی قسم کے دوسرے موضوعات کا احاطہ نظم کے پیرائے میں کیا جاتا تھا۔راشد اور میرا جی نے جو نظمیں لکھیں وہ ایک طرف تو ردیف و قافیہ کی جکڑبندیوں سے ماورا ہیں‘ تو دوسری جانب ان کے موضوعات بھی زیادہ تر داخلی‘ علامتی اور تجریدی نوعیت کے ہیں‘ اور ان کی نظمیں قارئین سے کئی سطحوں پر مخاطب ہوتی ہیں۔
ن م راشد کی زیادہ تر نظمیں ازل گیر و ابدتاب موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں‘ جو ان پرحتمی رائے قائم نہیں کرتیں بلکہ انسان کو ان مسائل کے بارے میں غور کرنے پر مائل کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی شاعری کیلئے زبردست مطالعہ اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیتیں اورتیکھی ذہنی اپچ درکار ہے جو ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ راشد کے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک اظہار کی نارسائی ہے۔ اپنی غالباً اعلیٰ ترین نظم حسن کوزہ گر‘میں وہ ایک تخلیقی فن کار کا المیہ بیان کرتے ہیں جو کوزہ گری کی صلاحیت سے عاری ہو گیا ہے اور اپنے محبوب سے ایک نگاہِ التفات کا متمنی ہے جس سے اس کے خاکستر میں نئی چنگاریاں پھوٹ پڑیں۔ لیکن راشد کی بیشتر نظموں کی طرح حسن کوزہ گر بھی کئی سطحوں پر بیک وقت خطاب کرتی ہے اور اس کی تفہیم کے بارے میں ناقدین میں ابھی تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔راشد کے بڑے موضوعات میں سے ایک خلائی دور کے انسان کی زندگی میں مذہب کی اہمیت اور ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا زمانہ ہے جہاں روایتی تصورات جدید سائنسی اور فکری نظریات کی زد میں آ کر شکست و ریخت کا شکار ہو رہے ہیں اور بیسویں صدی کا انسان ان دونوں پاٹوں کے درمیان پس رہا ہے۔ راشد کئی مقامات پر روایتی مذہبی خیالات کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بعض نظموں پر مذہبی حلقوں کی طرف سے خاصی لے دے ہوئی تھی۔راشد کے تین مجموعے ان کی زندگی میں شائع ہوئے تھے‘ ماورا‘ ایران میں اجنبی‘ اور لا ؤانسان‘ جب کہ گمان کا ممکن ان کی موت کے بعد شائع ہوئی تھی۔ ن م راشد کا تقابل اکثر فیض احمد فیضؔ کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ لیکن صاف ظاہر ہے کہ نہ صرف فیض ؔ کے موضوعات محدود ہیں بلکہ ان کی فکر کا دائرہ بھی راشد کے مقابلے میں تنگ ہے۔ ساقی فاروقی بیان کرتے ہیں کہ فیضؔ نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ راشد کی طرح نظمیں نہیں لکھ سکتے کیونکہ راشد کا ذہن ان سے کہیں بڑا ہے۔
اردو شاعری کو روایتی تنگنا سے نکال کر بین الاقوامی دھارے میں شامل کرنے کا سہرا ‘ن م راشد اور میرا جی کے سر جاتا ہے۔ 1942 میں ن م راشد کا پہلا مجموعہ ’ماورا‘ شائع ہوا جو نہ صرف اُردو آزاد نظم کا پہلا مجموعہ ہے بلکہ یہ جدید شاعری کی پہلی کتاب بھی ہے۔ ماورا سے اُردو شاعری میں انقلاب بپا ہو گیا‘اور یہ انقلاب صرف صنفِ سخن یعنی آزاد نظم کی حد تک نہیں تھا‘ کیونکہ تصدق حسین خالد پہلے ہی آزاد نظمیں لکھ چکے تھے‘ لیکن راشد نے اسلوب‘ موضوعات اور پیشکش کی سطح پر بھی اجتہاد کیا۔
راشدؔ کا انتقال 9 اکتوبر 1975 کو لندن میں ہوا تھا۔ ان کی آخری رسومات کے وقت صرف دو افراد موجود تھے‘ راشد کی انگریز بیگم شیلا اور ساقی فاروقی‘ جب کچھ لوگ عبداللہ حسین کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ ساقی لکھتے ہیں کہ شیلا نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے راشد ؔ کے جسم کو نذرِ آتش کروا دیا اور اس سلسلے میں ان کے بیٹے شہریار سے بھی مشورہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی‘جو ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے بروقت آتش کدے تک پہنچ نہیں پائے۔ ان کی آخری رسوم کے متعلق یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ راشد چونکہ آخری عمر میں صومعہ و مسجد کی قیود سے دور نکل چکے تھے‘ اس کے باعث انہوں نے عرب سے درآمد شدہ رسوم کے بجائے اپنے لواحقین کو اپنی آبائی ریت پر‘ چتا جلانے کی وصیت خود کی تھی۔ ان کے دوسرے بھائی بھی آخری عمر میں ہندو دھرم قبول کر چکے تھے۔

Comments

comments