Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ

سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ

دور افتادہ پہاڑی شہر سادھوؤں‘ مہنتوں کا مسکن تھا جو پہاڑیوں‘ غاروں اور مندروں میں صدیوں سے مقیم چلے آرہے تھے۔ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی آمد سے اجمیر شریف کو برصغیر پاک و ہند میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی، آپؒ نے کفر و الحاد کی تاریکی میں ایمان کی شمع جلائی‘ آپکی نظر پْرتاثیر میں وہ جادو تھا جو عام لوگوں کو ولی اور بادشاہ بنا دیتا۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے روحانی تاجدار ہیں اور اس روحانی کہکشاں کا درخشندہ جھرمٹ‘ یوں تو آپکے سلسلہ کے بزرگ اولیاء کرام کی تعداد بے شمار ہے لیکن آپکے ہی چار سرکردہ بزرگان دین حضرت خواجہ بختیار کاکی‘ ؒ حضرت شیخ العالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ ‘ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ اور حضرت مخدوم خواجہ علاوالدین سید علی احمد صابرؒ کلیر شریف نے آپکے سلسلہ کو ایک عالم میں متعارف کرا دیا۔ آپکو ہند النبی‘عطائے رسولؐ‘ خواجہ اجمیر‘ ہندالولی‘ نائب رسول فی الہند کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ پیران پیردستگیر‘ غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ آپ نے حرمین شریفین‘ بغداد‘ شام‘ اصفہان‘ ہمدان‘ بصرہ‘ تبریز،‘ ثمرقند‘ بخارا ‘ ہیرات‘ بلخ‘کرمان‘ بدخشاں‘ کوہ حصار ‘غزنی ضلع حصار اور دورافتادہ ملکوں کا سفر بھی کیا۔
بچپن میں عیدگاہ جاتے نابینابچے کو اپنے کپڑے پہنائے:آپ کے والد محترم حضرت خواجہ غیاث الدین چشتی اور والدہ محترمہ بی بی ماہ نور المعروف بی بی ام الورع نے آپ کی تربیت اس عمدگی سے کی کہ بچپن میں ہی آپ کی طبیعت میں انسانیت اور رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی‘بہت چھوٹے تھے کہ عید کے روز نئے لباس میں تیار ہو کر عیدگاہ جارہے تھے راستے میں ایک نابینا بچے کو دیکھا جس کے جسم پر پھٹے پرانے اور میلے کچلے کپڑے تھے‘یہ دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے اپنے زیب تن کپڑوں میں سے کچھ اُتار کر اس نابینا بچے کو پہنائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ عید گاہ لے گئے۔
گلی کے ہم عمر بچوں کوگھر لا کر کھانا کھلاتے:آپ بمشکل تین سال کے تھے تو اکثر و بیشتر باہر گلی سے اپنے ہم عمر بچوں کو بلا کر گھر لے آتے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا کر ازحد خوش ہوتے۔ جب کوئی خاتون شیر خوار بچے کے ساتھ گھر آتی تو بچہ روتا تو آپ اپنی والدہ کو اشارہ کرتے جو فوراً سمجھ جاتیں اور اُسے اپنا دودھ پلاتیں اور ایسے میں آپ کے معصوم چہرے پر خوشی رقصاں ہوتی۔
پیرومرشد حضرت عثمان ہارونی سے خرقہ خلافت عطا ہوا:حضرت سلطان الہند‘ خواجہ غریب نواز‘خواجہ جواجگان کو روحانیت میں یہ اعلی و ارفع مقام اپنے پیرومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی نذرِکیمیا انکی خدمت اور راہ سلوک پر ان کے بتلائے راستے پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوا۔ آپ کو بیس سال تک اپنے مرشد کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔آپ کو مرشد نے باون سال کی عمر میں خرقہ خلافت عطا کی اور سجادہ نشین مقرر فرمایا اور آپ کو اپنا عصا‘ مصلی‘خرقہ‘لکڑی کی نعلین (کھڑاویں) عطا کیں اور فرمایا کہ پیارے نبیؐ کے یہ تبرکات پیران طریقت کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں۔ جسے مرد کامل پا ؤ ا سے ہماری یہ یادگار دے دینا‘سینے سے لگا کر ہدایت فرمائی اے معین الدین! خلق سے دور رہنا کسی سے طمع و خواہش نہ رکھنا۔
خانہ کعبہ میں غیب سے نداہم نے معین الدین کو قبول کیا:آپ اپنے مرشد حضرت عثمان ہارونی کی سربراہی میں حرمین شریفین پہنچے‘ جب خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف کیا تو آپ کے مرشد نے آپ کا دست حق پکڑ کر اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہوئے خانہ کعبہ کے حطیم (پرنالہ) کے نیچے آپ کے حق میں بارگاہ ایزدی میں دعا فرمائی جو اللہ تعالی نے منظوروقبول فرمائی اور غیب سے ندا آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا۔
روضہ اطہرؐسے جواب!وعلیکم السلام یا قطب المشائخ بروبحر:جب آپ مدینہ منورہ میں مرشد کے ہمراہ روضہ اطہرؐ پر پہنچے توآپ کے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے آپ سے فرمایا کہ آپ پیارے نبیؐ کے حضور سلام عرض کریں‘ آپ نے احترام و عقیدت سے اسلام علیکم یا رسول اللہؐ عرض کیا تو روضہ اطہرؐ سے جواب آیا! ’’وعلیکم السلام یا قطب المشائخ بروبحر‘‘ آپکے مرشد نے یہ جواب سننے پر فرمایا کہ تیرا مقصد حل ہوا اور درجہ کمال کو پہنچ گیا۔ (انیس الارواح )
بارگاہ نبویؐ سے ولایت ہند عطا ہوئی اجمیر جانے کا حکم ملااور بہشت کا انار عطا ہوا:ایک مرتبہ جب فریضہ حج کیلئے آپ حجاز مقدس پہنچے تو آپ کے خلیفہ اور حضرت شیخ العالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ مکہ شریف سے آپ مدینہ منورہ پہنچے تو ایک طویل عرصہ تک وہاں مسجد نبویؐ میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہے اور اسی دوران آپ کو آقاے دوجہاںؐ کی بارگاہ سے یہ بشارت ملی کہ اے معین! تو میرے دین کا معین ہے‘ تجھے ولایت ہند عطا کی وہاں کفروظلمت پھیلا ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے ظلمت وکفر دور ہو گا اور اسلام رونق پذیر ہو گا۔ یہ سن کر آپ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا لیکن ساتھ ہی حیران بھی تھے کہ آخر یہ اجمیر کونسا مقام ہے اور کس ملک میں ہے؟ اسی دوران خواب میں آپ کو پیارے نبیؐ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپ کو اجمیر شریف کا محل وقوع دکھایا اور بہشت کا ایک انار بھی عطا فرمایا۔
درگاہ حضرت علی ہجویری پر چلہ کشی:جب آپ لاہور تشریف لائے تو شہر کے محافظ مخدوم حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے روضہ مبارک پر حاضری دی اور چلہ کشی کی اور انکی درگاہ عالیہ سے فیوض و برکات کی روحانی نعمتیں اور برکات حاصل کیں اور حضرت خواجہ نے آپکی درگاہ مبارک سے رخصت ہوئے۔
نوے لاکھ کفار کا قبول اسلام:لاہور سے اجمیر شریف کا سفر دو ماہ میں پیدل طے کیا‘ راستے میں سینکڑوں ہندوؤں کو مسلمان کیا اور جب اجمیر شریف پہنچے تو جس پر نظر پڑتی وہ مسلمان ہو جاتا، آپ کے دست حق پر نوے لاکھ کفار نے اسلام قبول کیا جس کی تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
پرتھوی راج کی ماں کی پریشانی:آپ کی اجمیر شریف آمد سے قبل پرتھوی راج رائے پتھورا کی ماں ‘ علم نجوم اور جادونگری میں بہت طاق تھی اس نے نجومیوں کی مدد سے بیٹے کو پیشن گوئی کی تھی کہ اس حلیے اور علامات کا ایک درویش ہندوستان آئے گا اور تیری حکومت کو ختم کر کے اپنے دین کو فروغ دے گا‘ تم اسکی تکریم و تواضع کرنا اور اس سے خوش خلقی اور منت سے پیش آنا ورنہ تم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے‘ رائے پتھورا نے ماں کی پیشن گوئی پر عمل کرنے کی بجائے اپنے تمام علاقوں کے حاکمین کو اس درویش کا حلیہ لکھ بھیجا تھا اور آپ کی دہلی آمد کے بعد ہی پرتھوی راج رائے پتھورا کو اسکے مخبروں نے آپ کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ دہلی کے بعد قصبہ سمانا ضلع پٹیالہ میں قیام کے دوران رائے پتھورا کے آدمیوں نے آپ کو چاپلوسی سے وہاں قیام کے بندوبست کی پیش کی۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے مراقبہ کیا تو پیارے نبیؐ نے انکی بدنیتی سے آگاہ کیا اور وہاں قیام سے منع فرمایا جس کے بعد آپ اجمیر روانہ ہوئے اور 10 محرم الحرام 561ھ کو چالیس درویشوں کے ہمراہ اجمیر پہنچے۔
تمہارے اونٹ بیٹھے رہیں گے:اجمیر شریف آمد پر آپ نے ساتھیوں کے ہمراہ سایہ دار درخت کے نیچے قیام فرمایا‘ساربانوں نے کہا کہ یہ جگہ ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کیلئے ہے آپ نے فرمایا اونٹوں کو دوسری جگہ بٹھا دو‘ساربان نہ مانے‘ آپ نے فرمایا ہم تو اُٹھتے ہیں لیکن تمہارے اونٹ بیٹھے رہیں گے‘ بعدازاں ساربانوں نے اونٹوں کو آرام کرنے کے بعد اٹھانا چاہا تو انہوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا اور وہ دو روز تک لاکھ جتن کے باوجود نہ اٹھے۔ ساربان لاچار ہو کر آپ کے پاس پہنچے اور معافی کے خواستگار ہوئے آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اللہ تعالی کے حکم سے تمہارے اونٹ اٹھ جائیں گے ساربان واپس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اونٹ کھڑے تھے۔
آپ کی نعلین ہوا میں اڑتے اجئے پال جوگی کے سر پر برسنے لگیں:اجمیر شریف میں اجئے پال جوگی جو سفلی علوم کا بہت بڑا ساحر تھا آپ کو متاثر کرنے کیلئے ہرن کی کھال پر بیٹھ کر ہوا میں اڑنے کا مظاہرہ کرتا رہا۔ حضرت نے اپنی نعلین مبارک کو حکم دیا کہ اجئے پال کو نیچے اُتار لاؤ‘ چنانچہ نعلین ہوا میں بلند ہوئیں اور اس کے سر پر برستی ہوئی اس تکبرونخوت کے پتلے کی تواضع کرتی ہوئیں اُسے زمین پر اُتار لائیں۔ اجئے پال جوگی خاک پر گرا اور پھر آپ کے قدموں میں گر کر معافی کا خواستگار اور مشرف بہ اسلام ہوا‘ آپ نے اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا۔ اسی اجئے پال نے اناساگر سے وضو کیلئے پانی نہیں لینے دیا تھا جس کے بعد سلطان الہند کی کرامت سے جھیل کا سارا پانی ایک پیالے میں آ گیا تھا‘ اور شہر کے تمام تالاب‘ کنوئیں‘حوض خشک ہونے لگے جبکہ چار پایوں اور خواتین کا دودھ بھی خشک ہونا شروع ہو گیا تھا۔
سادھو رام دیو کا قدموں میں گر کر اسلام قبول کرنا:اجمیر شریف میں راجہ کا مندر اناساگر اور بلبلہ تالاب کے درمیان تھا‘ جس کا منتظم سادھو رام دیو تھا‘ مسلمانوں کو یہاں نماز پڑھتے اور وضو کرتے دیکھ کر تنگ نظر ہندو سیخ پا ہوئے اور کچھ نے مل کر آپ پر حملہ کر دیا آپ نے زمین سے مٹھی میں ریت اُٹھا کر آیت الکرسی دم کرکے شرپسندوں کی جانب پھینکی ریت کے ذرات جس کے جسم پر لگے اس کا جسم فوراً سوکھ کر بے کار ہو گیا‘ سادھو رام دیو بھی اپنے جادوگروں کے ہمراہ آپ کے نزدیک پہنچا تو آپ کی بزرگی کی جلال کی تاب نہ لا سکا اور نہایت عاجزی اور لاچاری سے آپ کے قدموں پر گر کر معافی کا خواستگار ہوا اور آپ کے دست حق پر مسلمان ہوا اس کا اسلامی نام شادی دیو رکھا گیا۔ اورآپ نے اُسے تبلیغ کیلئے دیگر علاقوں میں بھیجا۔ شہزادی جہاں آراء کے مطابق وہ ایک جن تھا جسکی اجمیر کا راجہ اور رعایا پرستش کرتے تھے۔ ان کے خیال میں دُنیا کی ساری دولت رام دیو کے پاس تھی۔ اسکے اسلام قبول کرنے پردولتمند ہندوؤں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔
پرتھوی راج کو جواب ہم تو جاتے ہیں‘تمہیں نکالنے والا آنیوالاہے:اجمیر کے حاکم پرتھوی راج نے قاصد کے ذریعہ آپ کو اور ساتھیوں کو اناساگر جھیل سے مچھلیاں پکڑ کر کھانے سے منع کیا‘ بعدازاں پیغام بھیجا کل تک اجمیر چھوڑ کر چلیں جائیں‘ پیغام سن کر آپ نے فرمایا کہ ہم تو جاتے ہیں مگر تمہیں نکالنے والا آنے والا ہے۔
تھانسیر کے میدان میں شہاب الدین غوری کا پرتھوی راج کو شکست دینا:سلطان شہاب الدین غوری ترائین کی شکست کھانے کے بعد غزنی چلا گیا وہ شکست کے بعد بستر پر نہیں سویا اور ہمیشہ شکست کا بدلہ لینے کا سوچتا‘ ایک روز خواب میں آپ کو ایک نورانی چہرے والے بزرگ کی زیارت ہوئی جنہوں نے اسے یہ بشارت اور خوش خبری سنائی کہ اللہ تعالی نے ہندوستان کی حکومت تجھے بخش دی وہ 1193 میں ایک لاکھ سات ہزار کی فوج کے ساتھ تھانسیر کے میدان میں دریائے سرسوتی کے پار میدان جنگ میں پہنچ گیا۔ پرتھوی راج رائے پتھورا تین لاکھ سوار فوجیوں‘تین ہزار جنگی ہاتھیوں اور سولہ ہزار سازوسامان کی گاڑیوں کے ساتھ مقابل میں آیا۔ ڈیڑھ سو راجوں مہاراجوں کی افواج اس کے ہمراہ تھی۔ شہاب الدین غوری کے حوصلے بلند تھے اور اُسے خواب میں خواجہ پیر کی مدد کی بشارت بھی یاد تھی۔ شہاب الدین کے ماہر تیر اندازوں نے تین ہزار جنگی ہاتھیوں کی سونڈوں کو نشانے پر لیا جنہوں نے اپنی ہی فوج کو پلٹتے ہوئے روند ڈالا‘ پرتھوی راج کے قتل اور گرفتار ہو کر غزنی پہنچنے کی روایات ہیں۔
شہاب الدین غوری حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کے قدموں میں:اجمیر کی فتح کے بعد شام ڈھلے شہاب الدین غوری شہر میں داخل ہوا تو اذان کی آواز سن کر تعجب ہوا‘ وہ نماز کی ادائیگی کیلئے وہاں پہنچا تو تکبیر کے ساتھ نماز کھڑی ہو رہی تھی‘ وہ بھی صف میں کھڑا ہو گیا‘ سلام پھیرا تو امامت کرانے والے بزرگ پر نظر پڑی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کے سامنے خواب میں فتح کی بشارت دینے والی برگزیدہ ہستی تشریف فرما تھی‘ وہ وفوراً شوق اور ادب اور پرنم آنکھوں کے ساتھ آپ کے قدموں میں گر کر دعاؤں کا طالب ہوا۔ آپ نے اُسے سینے سے لگایا اور دعاؤں سے نوازا۔
خدام مصلّے کے کونے سے لنگر کیلئے رقم اٹھا لیتے:آپ کا لنگر خانہ اجمیر کے مساکین اور غرباء کیلئے ہمیشہ جاری و ساری رہتا اور آپکی حیات مبارک میں بھی وہاں اژدھام لگا رہتا۔ لنگر خانے کیلئے کسی سے سوال زبان پر نہ لاتے۔ جب خدام کو لنگر کیلئے رقم درکار ہوتی وہ آپ کے پاس تشریف لاتے اور آپ مصلّے کا کونہ اُٹھا کر فرماتے جس قدر رقم درکار ہے اُٹھا لو سو خدام اتنی رقم اُٹھا لیتے اور یہ سلسلہ برسہا برس جاری رہا۔
پاپوش پاک سے آگ سرد ہو گئی:ایک شب آپ جنگل سے گزر رہے تھے‘ آپ نے دیکھا سات آدمیوں نے الاؤ روشن کر رکھا ہے اور اس کی پوجا کر رہے ہیں۔ ان آگ کے پجاریوں کی دھاک علاقے پر پھیلی ہوئی تھی۔ وہ چھ چھ ماہ تک کچھ کھائے پئیے بغیررہتے اور لوگوں کو انکا حال بتاتے۔ آپ نے ان سے آگ کی پوجا کے بارے میں دریافت فرمایا تو بولے کہ روزِ قیامت کے ڈر سے اس آگ کی پوجا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آگ اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اللہ کی عبادت کرو گے تو کوئی بھی آگ تمہیں نہ جلائے گی۔ پجاریوں نے آپکی بات پر یقین نہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آگ مجھے تو کیا میری پاپوش کو بھی گزند نہیں پہنچا سکتی۔ یہ کہہ کر آپ نے پاؤں سے نعلین اُتار کر الاؤ میں پھینکی جس سے آگ بجھ گئی اور جوتش ویسے ہی سلامت رہی۔ یہ کرامت دیکھ کر وہ ساتوں آتش پرست مسلمان ہو گئے۔

Comments

comments