Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » کچھ اور شادیاں
کچھ اور شادیاں

کچھ اور شادیاں

جس طرح برسات‘سردی اور گرمی کے موسم آتے ہیں یا اجناس کی فصلوں کے معاملہ میں خریف اور ربیع کے موسم آتے ہیں بالکل اسی انداز میں جب سماج میں نوجوانوں کی نسل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو وقفہ وقفہ سے شادیوں کے موسم بھی آتے اور جاتے رہتے ہیں جن میں شادی کے عنوان سے نوجوانوں کی تازہ فصل کاٹی جاتی ہے تا کہ سماج میں پھر سے نئی نسلوں کے پیدا ہونے کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ زندگی کے سفر کے اس گول چکر میں انسان اسی طرح گول گھومتا رہتا ہے۔ کائنات میں سیارے بھی اسی طرح گول گھومتے رہتے ہیں۔بہر حال شادیوں کا موسم آتا ہے تو اچانک باراتیں نمودار ہو جاتی ہیں‘ اچھے بھلے نوجوان شرم و حیا کے مارے سہروں میں اپنے منہ چھپانے لگتے ہیں‘انواع و اقسام کی دیگیں چولہوں پر چڑھائی جاتی ہیں‘شادی خانو ں کو سجایا جاتا ہے‘سانچق اور مہندی وغیرہ کے جوڑے تیار ہونے لگتے ہیں۔ قاضی صاحبان میں اچانک ایسی پھرتی اور چستی آجاتی ہے کہ ان پر چابی کے کھلونوں کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان کی لپک جھپک کا وہ عالم ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؔ کا وہ شعر بے ساختہ یاد آجاتا ہے۔
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے‘اُدھر نکلے‘اُدھر ڈوبے‘اِدھر نکلے
قاضی صاحبان کے بارے میں ہمارے ایک دوست کا ارشاد ہے کہ ان حضرات کا کام ہی دوسروں کی شادیاں کرانا ہوتا ہے۔ ہر دم نکاح نامہ کے کاغذات اور رجسٹر بغل میں دبائے بھاگتے رہتے ہیں۔چنانچہ جس موسم میں شادیاں نہیں ہوتیں ان دنوں قاضی صاحبان کی بے روزگاری اور بے کلی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہذا اس بیکاری کو دور کرنے اور پیشہ سے اُٹوٹ وابستگی کو برقرار رکھنے کی خاطر خود اپنی شادیاں تک کر لیتے ہیں اور یوں تھوڑی سی تحریف کے ساتھ خود علامہ اقبالؔ کے مندجہ بالا شعر کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔
جہاں میں اہلِ ایماں بیویاں بھی چار رکھتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے‘ اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
معاف کیجئے! ہم تو آج اپنے کالم میں اصلاً اور اصولاً شادیوں کے موضوع پر اظہار خیال کرنے کے ارادے سے ڈوبے تھے مگر حسب عادت بھٹک کر قاضیوں کی طرف نکل گئے۔ بہر حال شادیوں کا موسم اب اپنے عروج پر ہے۔ دولہا بننے کے خواہشمندوں کو قطاروں کو دیکھتے ہیں تو انشا کا شعر یاد آ جاتا ہے۔
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
اگرچہ انشاؔ نے یہ شعر ہم جیسے بزرگوں(جن کی شادی پر سے پورے پچپن برس کا عرصہ بیت چکا ہے) کے چل چلاؤ کے بارے میں کہا تھا لیکن اسی شعر کو حسب موقع تھوڑی سی تحریف کے ساتھ موسمی دولہوں پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔
باندھ کر سہرے چلنے کو ساری یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
اپنی شادی سے لے کر غیروں کی شادیوں کے نتائج و عواقب سے گہرے اور پرانے تعلق خاطر کی وجہ سے اب ہم شادی کے موضوع سے بالکل بے نیاز ہوچکے ہیں۔کسی کی شادی ہو اس کا بھلا اور کسی کی شادی نہ ہو اس کا بھی بھلا۔اس معاملہ میں ہماری بے نیازی‘کنارہ کشی اور بے تعلقی کا وہ عالم ہے کہ اب ہم نے شادیوں میں شرکت سے اجتنا ب برتنا شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چھ مہینوں میں بعض مشہور و معروف گھرانوں میں ہونیوالی شادیوں کی جو تصویریں اخباروں میں شائع ہوئی ہیں ان میں آپ نے ہمیں نہیں دیکھا ہوگا۔ یہ نہ سمجھئے کہ ہم ان میں مدعو نہیں تھے بلکہ یوں سمجھئے کہ ہم نے ان شادیوں کی دعوت کے دروازے خود اپنی مرضی سے اپنے اُوپر بند کر لئے ہیں۔ یوں بھی جوں جوں ہماری عمر میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ہم اسراف کے خلاف ہوتے جارہے ہیں‘پھر ہمارے پاس اب عمر کی اتنی نقدی بھی نہیں رہی کہ دولہوں‘قاضی صاحبان اور باراتیوں کے انتظار میں گنوا سکیں۔دعوتوں سے بھی اب ہمیں رغبت نہیں رہی کیونکہ ہماری ہر طرح کی بھوک(بشمول پیٹ کی بھوک کے) مرچکی ہے۔
بہر حال فقر و فاقہ‘صبر و قناعت‘تحمل و توکل کی قلندرانہ کنجوسی کے دور سے ہم گذر رہے ہیں ایسے میں ہمارے پاس کل شادی کا ایک ایسا دعوت نامہ آیا ہے جسے لگا تار دو گھنٹوں تک نہایت انہماک کے ساتھ پڑھنے کے باعث ہماری آنکھیں روشن‘ایمان تازہ اور نیت چکا چوند ہوگئی ہے۔دعوت نامہ کیا ہے ادب عالیہ کا نمونہ ہے۔ فکر انگیز اور خیال انگیز تحریر کا شاہکار ہے۔ دعوت نامہ تو ہم اسے مروتاً کہہ رہے ہیں ورنہ یہ ایک ایسی بے مثال کتاب ہے جس کی اشاعت کیلئے کسی بھی اُردو اکیڈیمی سے جزوی مالی تعاون حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی تحریریں کسی مصنف کی دین نہیں ہوتیں بلکہ قدرت کا عطیہ ہوتی ہیں۔ اگرچہ اصل دعوت نامہ اس ضخیم تصنیف کے صرف دو صفحوں پر مشتمل ہے لیکن ان دو صفحوں کے ساتھ جو سولہ صفحات منسلک ہیں وہی اس دعوت نامہ کی جان ہیں۔ اصل دعوت نامہ میں نہایت سادگی‘ عاجزی اور انکساری کے ساتھ شادی کی تقریب کے المنتظرین سید عبد الباسط اور ان کی بیگم کی طرف سے آپ کو اطلاع دی جارہی ہے کہ ان کی بیٹی سیدہ امرین باسط کی شادی فلاں تاریخ کو فلاں جگہ اور فلاں وقت پر عزیزی محب اللہ رفاعی کے ساتھ انجام پائے گی۔براہ کرم اس تقریب میں شرکت فرمائیں اور نئے جوڑے کو اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں سے نوازیں۔باقی کے سولہ صفحات میں جہاں نکاح کے شرعی احکام اور اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں جہیز کی لعنت‘ اسراف اور ظاہری نمود ونمائش اور طمطراق کی شدت سے مذمت بھی کی گئی ہے۔ اس اہم پہلو پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دعوت نامہ کی حیثیت‘ داعیانِ تقریب اور مدعوئین کے درمیان ایک سماجی معاہدہ کی سی ہوتی ہے جس کے مطابق داعیان اگر مقررہ وقت پر مدعوئین کی خدمت میں کھانا پیش نہیں کرتے تو وعدہ خلافی اور معاہدہ کی عدم تکمیل کے مرتکب قرار پاتے ہیں اور یوں ان پر دروغ گوئی کا الزام بھی عائد ہو سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دعوت نامہ کے مصنف نے ہمارے دل کی بات کہہ دی ہے۔
ہمارا جی تو یہ چاہ رہا ہے کہ اسی ایک نکتہ پر اظہار خیال کریں کیونکہ ماضی میں ہم نے جتنی بھی شادیوں میں شرکت کی ہے ان میں ننانوے فیصد شادیاں ایسی تھیں جن میں کبھی معلنہ وقت پر مدعوئین کی خدمت میں کھانا پیش نہیں کیا گیا۔اگر دعوت نامہ میں آٹھ بجے کھانے کا وقت لکھا گیا تھا تو ہمیں بسا اوقات ساڑھے دس بجے اور گیارہ بجے کے بعد ہی کھانا مل سکا۔بعض اوقات تو ہم کھانا کھائے بغیر ہی دعوت سے نکل گئے۔یہ روایت صرف حیدرآباد میں نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی رائج ہے۔ ہمیں اس وقت امروہہ کی یاد آگئی جہاں بیس سال پہلے ہم ایک دوست کی بہن کی شادی میں شرکت کیلئے گئے تھے اُتر پردیش میں شادیاں عموماً دن میں ہوتی ہیں اور مہمانوں کو صبح سے نصف النہار تک کھانا کھلایا جاتا ہے۔ موٹر سے امروہہ تک کا سفر ڈھائی تین گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے۔ ہم نے اپنے ڈرائیور سے کہا علی الصبح دہلی سے امروہہ چلیں گے۔ راستہ میں کوئی ہلکا سا ناشتہ کر لیں گے اور نصف النہار سے پہلے کھانا کھا کر سہ پہر تک واپس آجائیں گے۔ خیر شادی ہوگئی اور نصف النہار کا وقت بھی آگیا مگر کھانے کی نوبت نہیں آئی۔ بیشتر مقامی مدعوئین مایوس ہو کر واپس جانے لگے تو داعیان نے اپنی حویلی کا دروازہ باہر سے بند کردیا۔ ہم تو خیر مجبور تھے اسلئے چپ چاپ بیٹھے رہے۔ حویلی کے صحن میں کچھ نوجوان دیوار پر چڑھ کر دیکھنے لگے کہ کھانے کی آمد کے کیا امکانات ہیں۔ ایک مرحلہ پر بے چین نوجوانوں نے مل کر فرط مسرت سے نعرہ لگایا’’ آگئے آگئے‘‘ ہم نے سوچا کے غالباً باورچی حضرات کھانا لے کر آگئے ہیں۔ تا ہم ہم نے از راہ احتیاط ان سے پوچھ لیا’’ میاں! کیا آگئے؟‘‘ ہمیں خوشی خوشی جواب ملا’’ حضور! بکرے آگئے۔بکرے آگئے‘‘ گویا اب بکرے آگئے ہیں جنہیں پہلے ذبح کیا جائے گا او ر اس کے بعد ان کے گوشت کو پکا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔یہ سنتے ہی ہم نے وحشت کے عالم میں اپنے ڈرائیور کے ہمراہ صحن کی دیوار پھلانگی اور بھوک کی قید سے آزاد ہو کر پہلے تو امروہہ کے ایک اوسط درجہ کے ہوٹل میں کھانا کھایا اور دہلی چلے آئے۔
غرض اس وقت جو دعوت نامہ ملا ہے اس میں اور بھی بہت سی اچھی اچھی باتیں کہی گئی ہیں جن پر عمل کرنے کی شدت سے تلقین کی گئی ہے۔ اس دعوت نامہ کو پڑھتے ہوئے ہمیں پاکستان کے مشہور ادیب اشفاق احمد یاد آگئے جو’’ تلقین شاہ‘‘ کے قلمی نام سے ایک زمانہ میں ریڈیو پاکستان سے پروگرام پیش کیا کرتے تھے جس میں وہ بڑے دلچسپ پیرائے میں ایسی ہی اچھی اچھی باتیں کہا کرتے تھے۔ دعوت نامہ کے مصنف نے کھانوں کے سلسلہ میں ایک اور اچھی بات یہ بھی لکھی ہے کہ مدعوئین کو دعوت دینے سے پہلے یہ دیکھ لینا بھی ضروری ہے کہ مدعوئین میں شوگر کے مریض کتنے ہیں کیونکہ شوگر کے مریض کو وقت پر کھانا نہ ملے تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ایک اعتبار سے مصنف نے یہ تجویز بھی رکھی ہے کہ شوگر کے مریضوں کے دستر خوان یا ٹیبل الگ سے مختص کئے جائیں تا کہ شوگر کے مریض اطمینان سے اپنے پر ہیزی کھانے کھا سکیں۔ہماری تو خواہش یہ ہے کہ ہر شادی میں بالا التزام کھانوں کے دستر خوان مدعوئین کی بیماریوں کے حساب سے رکھے جائیں جیسے قلب کے مریضوں کا دستر خوان‘ آرتھرائٹس کے مریضوں کا دستر خوان‘ اسی طرح گردے‘جگر‘پتھری وغیرہ کے مریضوں کا بھی خیال رکھا جائے تا کہ ہر حقدار مریض کو اس کے حصہ کا رزق اور حق مل سکے۔دعوت نامہ کے مصنف نے ایک نکتہ یہ بھی اُٹھایا ہے کہ نکاح اور رخصتی کی تاریخ ایک ہی ہونی چاہیئے۔ نکاح عموماً رات میں بارہ بجے سے پہلے تو ہو ہی جاتا ہے لیکن رخصتی خصوصاً بارہ بجے کے بعد ہی عمل میں آتی ہے اور بارہ بجے کے بعد دوسرا دن شروع ہوجاتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا ہے کہ نکاح تو ایک دن پہلے ہوجائے اور رخصتی دوسرے دن عمل میں آئے۔ یہ نکتہ نہایت سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دعوت نامہ کھانے کی دعوت نہیں بلکہ مدعوئین کو صرف اور صرف دعوت فکر کے سوائے کچھ بھی نہیں دیتا۔ ہمیں ابھی سے اندازہ ہے کہ اس شادی میں ہمیں کھانا کس قسم کا ملے گا مگر ہم اس شادی میں ضرور جائیں گے۔حالانکہ عرصہ ہوا کہ ہم نے دعوتوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہم صرف یہ دیکھنے کیلئے جائیں گے کہ داعیان کے قول و فعل میں کتنا تال میل ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ جب ہمیں یہ دعوت نامہ ملا تھا تو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ دعوت نامہ کس کی طرف سے آیا ہے۔ بعد میں ہم نے دعوت نامہ کے لفافہ کا بغور مطالعہ کیا تو ایک کونے میں ہمارے پرانے دوست جلیل قادری(شکاگو والے) کا نام نظر آیا۔فون کیا تو معلوم ہوا کہ دلہن ان کی نواسی ہوتی ہے۔خدا ہر نواسی کو جلیل قادری جیسا نانا عطا کرے تا کہ نواسی کی شادی کی آڑ میں ہر صاحب حیثیت نانا ایک دعوت نامہ تصنیف کر کے’’ صاحب تصنیف‘‘ بن جائے۔ایں سعادت بزوربازونیست۔جلیل قادری جو کام بھی کرتے ہیں‘اس میں قوم کو بیدا کرنے کے مثبت پہلو کو ضرور شامل رکھتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ ان کے کاموں سے یقیناًبیدار تو ہوجاتے ہیں لیکن ہمارا ضمیر اتنا بیدار نہیں ہوتا جتنا کہ اسے ہونا چاہیئے(عمر کا تقاضا بھی تو ہے)ذرا دیکھیں تو سہی کہ بیچارہ ضمیر زندہ بھی ہے یا مرگیا۔دکنی زبان کے عظیم شاعر حمایت اللہ نے اپنی ایک نظم میں نانی ماں سے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم’’ مرگئے سو مردے کے کررئیں علاجاں‘‘۔قوم کے اس طرز عمل پر خود جلیل قادری جیسے نانا کو بھی مزید غور کرنا چاہیئے۔

Comments

comments