Thursday , 21 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ
شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ

شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ

خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰیؓ کے فضائل و مناقب اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں جس سے لوگ قیامت تک ہدایت و رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔حضرت سعدبن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ حضورؐنے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میری طرف سے اس مرتبہ پر ہو جس مرتبہ پر حضرت ہارونؓ ، حضرت موسیٰؓ کی طرف سے تھے، مگر بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ (بخاری و مسلم)آپؓ کا نام علی‘ لقب حیدر و مرتضٰیٰ‘ کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپؓ کے والد ابو طالب اور حضورؐ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ دونوں حقیقی بھائی ہیں۔ آپؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ماں باپ دونوں کی نسبت سے سیدنا حضرت علیؓ میں ہاشمی سرداروں کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ چہرہ مبارک پر عبادت و ریاضت کے آثار پائے جاتے تھے۔ بڑی آنکھیں اورکشادہ پیشانی پر سجدے کے نشان تھے۔ معمولی لباس اور سادہ عمامہ زیب تن فرماتے۔ آپؓ کی گفتگو علم و حکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی۔ آپؓ نے بچپن ہی سے حضورؐ کی آغوشِ محبت میں پرورش پائی اور حضور ؐ کی سب سے چھوٹی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہؓ کے ساتھ آپؓ کا نکاح ہوا۔ حضرت علیؓ اعلیٰ درجہ کے خطیب ‘ میدانِ جنگ میں تلوار کے دھنی اور مسجد میں زاہدِ شب بیدارمانے جاتے تھے۔ آپ مفتی و قاضی اور علم و عرفان میں بے مثل خصوصیات کی مالک تھے۔ علی ابن ابو طالب نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے آپؓ کو نمک‘ کھجور،‘دودھ گوشت سے رغبت تھی‘ غلاموں کو آزاد کرتے اور کھیتی کی دیکھ بھال کرتے۔ اپنے دور خلافت میں آپ بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے‘ گداگری سے لوگوں کو منع فرماتے۔ جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا‘ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ’’اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں‘ زمین اور پہاڑوں پر اُتارا تو وہ اس بوجھ کو اُٹھانے سے عاجز ہو گئے‘‘۔ آپ میں تقویٰ اور خشیت الٰہی بہت زیادہ تھی‘ ایک بار آپ ایک قبرستان میں بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا کہ! اے ابو الحسن آپ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ فرمایا میں ان لوگوں کو بہت اچھا ہم نشین پاتا ہوں یہ کسی کی بدگوئی نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں ۔ایک مرتبہ آپ قبرستان میں تشریف لے گئے اور وہاں پہنچ کر قبر والوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ! اے قبر والوں! اے بوسیدگی والو! اے وحشت و تنہائی والو! کہو کیا خبر ہے کیا حال ہے‘ ہماری خبر تو یہ ہے کہ تمہارے جانے کے بعد مال تقسیم کر لئے گئے اور اولادیں یتیم ہو گئیں بیویوں نے دوسرے شوہر کر لئے یہ تو ہماری خبر ہے‘ تم بھی اپنی خبر سناؤ! اس وقت کمیل نامی شخص آپ کے ہمراہ تھے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علیؓ نے فرمایا کہ! اے کمیل اگر ان (مردوں) کو بولنے کی اجازت ہوتی تو یہ جواب دیتے کہ بہترین سامانِ آخرت پرہیز گاری ہے۔اس کے بعد حضرت علیؓرونے لگے اور فرمایا اے کمیل قبر اعمال کا صندوق ہے اور موت کے وقت یہ بات معلوم ہوتی ہے‘ایک مرتبہ جلیل القدر صحابی سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے اصرار پر ضرار اسدیؓ نے خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علیؓ کے اوصاف و صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ! ’’ اللہ کی قسم حضرت علی المرتضٰیؓ بڑے طاقتور تھے‘ فیصلے کی بات کہتے تھے اور انصاف کے ساتھ حکم دیتے تھے۔ علم و حکمت کے دریا ان کے اطراف سے بہتے جو دُنیا اور اس کی تازگی سے متوحش ہوتے تھے۔حضرت علیؓ رات کی تنہائیوں اور وحشتوں سے انس حاصل کرتے تھے ۔ روتے بہت تھے اور فکر میں زیادہ رہتے تھے‘وہ ہمیشہ اہلِ دین کی تعظیم کرتے تھے اور مساکین کواپنے پاس بٹھاتے تھے کبھی کوئی طاقتور اپنی طاقت کی وجہ سے ان سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کمزور ان کے انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا ‘‘۔یہ سن کر سیدنا حضرت امیر معاویہؓ رونے لگے اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو ابو الحسنؓ (علیؓ) پر اللہ کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔
سیدنا حضرت علی المرتضٰیؓ غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے‘ ہر معرکہ میں سیدنا حضرت علیؓ نے اپنی شجاعت و بہادری اور فداکاری کا لوہا منوایا احد و بدر‘ خندق و حنین اور خیبر میں اپنی جرأت و بہادری کے جوہر دکھائے۔ایک موقع پر حضورؐنے فرمایا کہ! ’’علیؓ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں‘‘ ۔ہجرت کی شب حضورؐ کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے‘ آپ نے آخری وقت میں حضورؐ کی تیمارداری کے فرائض سرانجام دیئے اور دیگر صحابہ کرامؓ کے ہمراہ آپ کو ’’غْسلِ نبویؐ‘‘ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ آپ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ جیسے خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں بھی شامل ہیں جن کو حضورؐ نے دُنیا میں ہی جنت کی بشارت و خوشخبری دیدی تھی۔
9ھ میں جب حضورؐ نے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ’’امیر حج‘‘ بنا کر روانہ کیا اور ان کی روانگی کے بعد سورہ برآت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ پر حضورؐ نے سیدنا حضرت علی المرتضٰیؓ کو مامور کیا، آپ کو بچپن میں قبولِ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی اور بچوں میں سے سب سے پہلے آپ ہی دولتِ ایمان سے منور ہوئے‘ آپ کو ’’السابقون الاولون‘‘ میں بھی خاص مقام اور درجہ حاصل ہے۔
آپ ’’بیعتِ رضوان‘‘ میں شریک ہوئے اور ’’اصحابْ الشجرہؓ‘‘ کی جماعت میں شامل ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں راضی ہونے اور جنت کی بشارت و خوشخبری دی۔ آپ ’’اصحابِ بدرؓ‘‘ میں سے بھی ہیں جن کی تمام خطائیں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیں۔حضورؐ نے حضرت علی المرتضٰیؓ سے بغض رکھنے کو محرومی کا سبب قرار دیا۔ آپ بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔ اْمّ المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ بہت زیادہ روزہ دار اور عبادت گزار تھے۔ آپ بہت زیادہ سخاوت کرنے والے تھے کوئی سائل و حاجت مند آپ کے در سے خالی نہ جاتا تھاآپ قرآن مجید کے حافظ اور اس کی ایک ایک آیت کے معنیٰ اور شانِ نزول سے واقف تھے۔ سیدنا حضرت علی المرتضٰیؓ ہی وہ خوش قسمت ترین انسان ہیں جن کو حضور ؐ نے جنگ خیبر کے موقعہ پر فتح کا جھنڈا عنایت فرمایا۔ آپ کی آنکھیں آشوب کی ہوئی تھیں حضورؐ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ کو بلاؤ‘پیش ہونے پر حضور ؐ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا‘پھر آپؓ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا (صحیح بخاری و مسلم) خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ نے تین ماہ کم پانچ سال تک تختِ خلافت پر متمکن رہے۔اس کے بعد عبد الرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں زخمی ہو کر 21رمضان المبارک کو شہادت پا کر کوفہ کے نز دیک مقام نجف میں دفن ہوئے۔
علم و فضل کے کمالات:حضرت علیؓ کو بچپن ہی سے حضورنبی کریمؐ سے تعلیم و تربیت کا جو موقع ملا تھا اس کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہا ۔ اکثر سفر میں بھی آنحضورؐکی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا رہتا تھا۔اسلئے سفر سے متعلق شرعی احکام سے واقفیت حاصل ہوجاتی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓسے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیاگیا تو انہو ں نے حضرت علیؓسے پوچھنے کیلئے کہا اور اس کی وجہ سے یہ بیان کی کہ وہ حضورنبی کریمؐکے ساتھ سفر کرتے تھے۔شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنی کتاب ’’ازال الخفاء‘‘میں حضور نبی کریمؐکے ساتھ حضرت علیؓکے تقرب اور تربیت کو ان کے فضائل کی اصلی بنیاد قرار دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے:۔’’آپ (حضرت علیؓ)کے تقرب و اختصاص کی بناء پر خودرسول اللہ ؐ آپ کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ بعض موقعوں پر قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر بھی فرماتے تھے۔ چند مخصوص احادیث بھی قلمبند کرلی تھیں۔ غرض حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابتداہی سے علم وفضل کے گہوارہ میں تربیت پائی تھی۔ اسلئے صحابہ کرامؓ میں آپ (حضرت علیؓ)غیر معمولی تجربہ اور فضل و کمال کے مالک ہوئے۔‘‘حضرت علیؓنے بچپن ہی میں لکھنے پڑھنے کی تعلیم حاصل کرلی تھی۔ چنانچہ اسلام لانے کے وقت اگرچہ آپؓکی عمر بہت کم تھی ‘ تاہم آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اسی لئے ابتداء ہی سے بعض دوسرے صحابہؓ کی طرح حضرت علیؓبھی نبی اکرمؐ کے تحریر ی امور انجام دیتے تھے۔ چنانچہ کاتبان وحی میں حضرت علیؓکا نام بھی شامل ہے۔ حدیبیہ کا صلح نامہ بھی حضرت علیؓ نے لکھا تھا۔ صلح نامہ کے شروع میں انہوں نے لکھا کہ یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ ؐ اور مکہ کے قریش کے درمیان طے پایا ہے۔ اس پر قریش مکہ کے نمائندوں نے اعتراض کیا کہ ہم تو محمد کو اللہ کا رسول نہیں مانتے تو حضور نبی کریمؐنے حضرت علیؓسے فرمایا کہ آپ رسول اللہ کے الفاظ کاٹ دیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ان الفاظ کو میں تو اپنے ہاتھ سے نہیں مٹاسکتا(کیونکہ یہ حقیقت پر مبنی ہیں)اس پر حضور نبی کریمؐ نے خود اپنے دست مبارک سے ان الفاظ کو کاٹ دیا۔

Comments

comments