Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » خموشی کا دائرہ
خموشی کا دائرہ

خموشی کا دائرہ

سہیل…کتنا سکون ہے اس نام میں بس یہی ایک ہستی نے اس نازک ترین لمحوں کی جلن سے ٹھنڈک بخشی تھی۔مگر کالج کی پڑھائی کے دوران وہ ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے۔اس نے میڈیکل میں داخلہ لے لیا اور سہیل زندگی کے ہنگاموں میں نہ جانے شہر کب چھوڑ کر کہاں چلا گیا۔ان ہنگاموں میں وہ پڑی پڑی ڈاکٹر بن گئی اور جلد ہی اُسے ایک ہسپتال میں ملازمت مل گئی۔
ایک دن اس کی لیڈی پروفیسر اس کے وارڈ میں آگئی۔شائد پرانا سال ختم ہورہا تھا۔اور وہ رات نئی صبح کا استقبال کرنے کوبے قرار تھی۔ لیڈی پروفیسر نے اس کی جگہ پر ایک دوسری لیڈی ڈاکٹر کو متعین کرکے اپنے ساتھ اُسے لے گئی۔
لیڈی پروفیسر کی کار مشہور و معروف شاہراہ سے گذرتی ہوئی سنسنان راستوں پر دوڑنے لگی اور ایک جدید قسم کے ریستوراں کے پاس آکر رُک گئی۔ جہاں چاروں طرف رنگ برنگی روشنیوں کے چھوٹے بڑے بلب روشن تھے۔ اور نیم عریاں ملبوسات میں حسینائیں اپنے نوجوان جوڑوں کے ساتھ رقص اور خوش گپیوں میں پیگ پر پیگ اُڑانے میں مصروف تھیں۔اس ماحول کو دیکھ کر اُسے گھن سی آنے لگی اور اس نے محسوس کیا کہ یہ بھی کوئی تفریح کی جگہ ہے۔
چلئے اب رات زیادہ گھنی ہورہی ہے۔ واپس لوٹ چلتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے چلتے ہیں۔لیڈی پروفیسر نے جواب دیا وہ اس کے موڈ کو سمجھ گئی تھی۔ لہذا کار چلاتے وقت انہوں نے گفتگو کے موضوع کو بدل دیا۔ لیکن ان کی باتوں سے بے پرواہ وہ اپنے اس ہیولہ کے خوابوں میں کھوئی ہوئی تھی اور یہ سوچ رہی تھی کہ دُنیا کتنی بدل گئی ہے۔
اس کے پاکیزہ خیالات کے خوبصورت شیشے پر کسی نے ایک بڑا پتھر مارا تھا۔ وہ یادوں کے فرش پر پڑے ٹکڑوں کو جوڑ رہی تھی‘سمیٹ رہی تھی۔ ان ٹکڑوں میں اس کے ماضی کی پاکیزہ کہانیاں تھیں۔اس کے جذبات اور سوچ و فکر کی بھی تصویریں تھیں اور کبھی اس نے ہیولہ کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے سرور حاصل کیا تھا اور اس کا وہ سرور کتنا بے زبان اور شرمیلا تھا۔
’’ زندگی ہے تو کیف و سرور بھی ہے۔ لیکن لذت ہی تو زندگی نہیں۔موجیں دریا کے سطح پر اُبھرتی ہیں لیکن موج دریا تو نہیں۔گویا سہیل اس کا ہمراز تھا۔راستہ چلتے وقت اس کے سوچ کے دائرے پھسلنے اور مسکرانے لگے’’ تم‘‘آج بہت اُداس معلوم ہورہی ہو۔شائد تمہاری پہلی محبت یاد آرہی ہے۔ لیڈی پروفیسر نے کہا…اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔جس میں لاشعوری طور پر اثبات کی دلیل تھی۔
’’ یہ ایٹمی زمانہ ہے روبی ہے‘‘چاند کیلئے تڑپنے والا چکور نہ جانے تھک ہار کے بیٹھا ہے۔ تمہارا سیارہ تو آسمان کی لا محدود اُونچائی پر جا کر نہ جانے کہاں گم ہوگیا ہے۔اب اس کا انتظار کرنا اس کیلئے بیقرار رہنا تمہاری کم عقلی ہے۔ آج کے حالات کااستقبال کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بدل ڈالو۔اس کا نام زندگی ہے۔
پھر ایک سال کے بعد….ایسی ہی رات آئی….وہ رات کہاں تھی وہ تو اس کی زندگی کی صبح کی تھی۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ہیولہ…ہا ں وہی سہیل کہاں‘ کب اور کیسے اس کے ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھا مسکرا رہا ہے۔ اس کے کمرہ کی تنہائیاں اس کے مانوس قہقہوں سے گونج رہی ہیں۔برسوں کے بعد آج اس کے مکان کا پر فضا ماحول‘ریشمی پردوں کی سرسراہٹ‘اس کے خوابوں کے جزیرے کی یاد دلا رہے ہیں۔
’’ روبی‘‘کھونے میں جو لذت ہے وہ پانے میں نہیں۔زندگی کے جام سے اپنے لئے دو گھونٹ چرا لینا آسان ہے۔ مگر دوسروں کیلئے اس میں اپنے حصہ کی شیرینی ملا دینا بہت مشکل امر ہے‘‘۔ سہیل نے نہایت متانت اور اطمینان سے جواب دیا۔
لیکن وہ کچھ نہ کہہ سکی۔پھر لفظوں کا جال بنتے بنتے سہیل نے روبی کو اپنی بانہوں کے دائرے میں جکڑ کر خموشی کا دائرہ کھینچ دیا۔ اس وقت روبی نے محسوس کیا کہ’’ وہ سیارہ آسمان کی بلندیوں سے گزرتا ہوا اچانک ٹوٹ کر سمندر میں غرق آب ہوگیا ہے۔‘‘!
شہر خموشاں کا مسیحا
وہ شہر کا ایک اچھا سوشیل ورکر تھا۔ساتھ ہی ایک اہم پارٹی کا بہترین ورکر بھی مانا جاتا تھا۔کیونکہ پارلیمنٹ الیکشن کے دوران بھی اس کے کام کرنے کا طریقہ نرالا اور انوکھا تھا وہ اپنے حلقہ سے کھڑے ہونیوالے امیدوار کو کبھی ہار کا سہرا نہیں پہنا سکا تھا۔ پارٹی اور امیدوار اس کے کام سے بہت خوش تھے۔پارلیمنٹ الیکشن منسوخ ہونے کے بعد اس کی امیدوں اور محنتوں پر جیسے پانی پھر گیا تھا۔ جو آئندہ ماہ کردیا گیا تھا۔اُسے ایک ماہ کے درمیان پھر وہی کام کرنا تھا جو وہ پچھلے ماہ کرچکا تھا ۔ خیر!
ہاتھوں میں ووٹر لسٹ دبائے وہ شہر کے بجائے گاؤں کی جانب نکل پڑا۔جب وہ گاؤں پہنچا تو اس نے گاؤں کی حالت بدلی بدلی سی دیکھی۔اُس نے ایک مکان پر دستک دی لیکن جب کوئی جواب نہ مل سکا تو قریب کے پان کے ٹھیلے پر پہنچا۔ارے باپو صاحب آپ! پان ٹھیلے والے نے کہا۔’’ بھئی یہ مکان والے کہاں گئے! الیکشن اگلے ماہ ہورہا ہے اسلئے سیر و تفریح کیلئے نکل گئے کیا؟‘‘ نہیں بابو جی۔ بات ایسی نہیں ہے۔ آپ نے ان کے مکان کو پچھواڑے سے نہیں دیکھا کیا؟ دو روز پہلے یہاں کچھ نئے لوگ آئے تھے۔مسجد اور مندر کے نام پر ایکدوسرے کو لڑا دیا۔ہوا یہ کہ آنا فاناً میں گاؤں کا گاؤں جل گیا۔کل تک اس میں آٹھ زندگیاں کھیلا کرتی تھیں…مگر آج سب خاک ہوگیا۔‘‘
کچھ فاصلے پر اس نے او ربھی مکانوں کی حالت دیکھی۔گاؤں کے مکھیا کا پکا مکان جیسا کا ویسا تھا اور اس کے قرب و جوار کی جھونپڑیاں سب کی سب نذر آتش ہوچکی تھیں۔وہیں پر اس نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو شباہت سے نیم پاگل دکھائی پڑتا تھا۔’’ بابو جی‘‘…ان مکانوں میں آپ اب کیا ڈھونڈنے آئے ہیں؟ کس کا پرچار کرنے آئے ہیں۔کل تک یہاں زندگی کی فصلیں لہلہاتی تھیں‘زندگیوں میں شباب تھا لیکن آج شمشان گھاٹ بنا ہوا ہے۔انکا قصور کیا تھا؟صرف مکھیا کے خلاف پارٹی کا جھکاؤ….انجام دیکھ لیا نا بابو جی….آج یہ لوگ زندگی کا الیکشن ہار گئے ہیں۔ ان کی ضمانتیں بھی ضبط ہوگئی ہیں۔‘‘پہلی بار اُسے علم ہوا کہ’’ زندگی کا بھی الیکشن ہوتا ہے۔‘‘ اور وہ سوچنے لگا کہ پارلیمنٹ کا الیکشن کرنیوالوں کو یہ معلوم ہے کہ ہمارے یہاں زندگی کا بھی الیکشن ہوتا ہے۔ جس میں کئی گاؤں کے لوگوں کی ضمانتیں ضبط ہوجاتی ہیں۔
اس نے سرخ سیاہی والے قلم سے ووٹر لسٹ میں سے ان ناموں کو کاٹنا شروع کیا تو اس نے محسوس کیا کہ’’ یہ قلم نہیں ہے بلکہ کوئی تیز دھار چاقو ہے جو گاؤں کے ان بھولے بھالے لوگوں کے دلوں میں وہ اُتار رہا ہے اور گاڑھا گاڑھا خون اُبل اُبل کر زمین پر پھیل رہا ہے۔‘‘’’بابو جی میرا نام بھی اس لسٹ سے کاٹ دیجئے‘‘بوڑھا چّلا اُٹھا۔’’ نہیں…تم تو زندہ ہو‘‘۔’’ نہیں بابو جی! میں پاگل ہوں اور لوگ کہتے ہیں۔ پاگل کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہوتا آپ تھوڑا احتیاط کر لیجئے گا کیونکہ دوسرے گاؤں میں بھی میری طرح کے پاگل ملیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بوڑھا زور زور سے ہسنے لگا۔ تب اُسے لگا کہ’’ وہ نہ تو سوشیل ورکر ہے اور نہ ہی کسی اہم پارٹی کا بہترین ورکر بلکہ وہ ہتھیاروں کا سربراہ ہے۔‘‘

Comments

comments